اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-04-10

جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر78کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
حدیثوں میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے ایک بندے سے کہیگا کہ دوزخ میں کود جا ۔بندہ بے دھڑک دوزخ میں کو د جائیگا اور کہیگا جب مجھے میرے ربّ کا یہی حکم ہے کہ میں دوزخ میں کود جائوں تو مجھے دوزخ ہی منظور ہے ۔مگر جب وہ اُس میں کو دے گا تو دوزخ اُس کے لئے نہایت آرام دہ جنت بن جائیگا اور وہ آگ سے کھیلنے لگ جائیگا۔اللہ تعالیٰ اس پر کہے گا دیکھو میرا بندہ آگ سے کیسا خوش ہو رہا ہے ۔یہ مثال درحقیقت اسی بات کی ہے کہ وہ لوگ جو خداتعالیٰ کے دین کیلئے قربانی کر کے بظاہر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں ،اللہ تعالیٰ اُنہی ہلاکت کے سامانوں میں اُن کیلئے ترقی کے سامان پید ا کر دیتا ہے ۔بظاہر دنیا سمجھتی ہے کہ وہ آگ میں کودے ہیں مگر جب وہ اس آگ میں کود جاتے ہیں تو وہی آگ اُن کیلئے جنت بن جاتی ہے ۔دیکھ لو جب رسول کریم ﷺ کی وفات ہوئی تو اُسوقت سارا عرب مرتد ہوگیا اور حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ جیسے بہادر بھی اس فتنہ کو دیکھ کر گھبرا گئے ۔وفات کے قریب رسول کریم ﷺ نے ایک لشکر رومی علاقہ پر حملہ کر نے کیلئے تیار کیا تھا اور اسامہ ؓ کو اُس کاافسر مقرر کیا تھا ۔ مگر ابھی وہ لشکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات ہو گئی ۔ آپ کی وفات پر جب قریباً سارا عرب مرتد ہوگیا تو صحابہ ؓ گھبراگئے اور انہوں نے سوچا کہ اگر ایسی بغاوت کے وقت اسامہ ؓ کا لشکر بھی رومی علاقہ پر حملہ کرنے کیلئے بھیج دیا گیا تو پیچھے صرف بوڑھے مرد بچے اور عورتیں ر ہ جائیں گی اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں ہوگا ۔چنانچہ انہوں نے تجویز کی کہ اکابر صحابہ ؓ کا ایک وفد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جائے اور ان سے درخواست کرے کہ وہ اس لشکر کو بغاوت کے فرو ہونے تک روک لیں ۔چنانچہ حضرت عمر ؓ اور اکابر صحابہ ؓ مل کرایک وفد کی صورت میں حضرت ابوبکر ؓ کے پاس گئے اور اُن سے عرض کیا کہ کچھ عرصہ کیلئے اس لشکر کو روک لیا جائے جب بغاوت فرو ہو جائے تو پھر بے شک اسے بھیج دیا جائے۔جب حضرت ابوبکر ؓ کے پاس یہ وفد پہنچا تو آپ نے نہایت غصہ سے اس وفد کو یہ جواب دیا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد ابو قحافہ کا بیٹا سب سے پہلا کام یہ کرے کہ جس لشکر کو روانہ کرنیکا رسول کریم ﷺ نے حکم دیا تھا اُسے روک لے ( ابوقحافہ حضرت ابوبکر ؓ کے باپ کا نام تھا اور وہ مکہ کے بہت ہی معمولی آدمیوں میں سے سمجھے جاتے تھے )حضر ت ابو بکر ؓ کی عادت تھی کہ جب وہ اپنی تحقیر کرنا چاہتے تو اپنے باپ کا نام لیتے یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ میری کیا حیثیت ہے جو میں ایسا کرو ں ۔اس موقعہ پر بھی آپ نے اپنے باپ کا نام لے کر کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ابو قحافہ کا بیٹا سب سے پہلا کام یہ کرے کہ جس لشکر کو رسول کریم ﷺ نے روانہ کرنے کیلئے تیار کیا تھا اُسے روک لے ۔پھر آپ نے فرمایا اگر سارا عرب باغی ہو گیا ہے تو بے شک ہو جائے خدا کی قسم اگر دشمن کی فوج مدینہ میں گھس آئے اور ہمارے سامنے مسلمان عورتوں کی لاشیں کتے گھسیٹتے پھریں ، تب بھی میں اس لشکر کو ضرور روانہ کرونگا جس کو رسول کریم ﷺ نے روانہ کرنے کیلئے تیار کیا تھا ۔اگر تم دشمن کی فوجوں سے ڈرتے ہو تو بے شک میرا ساتھ چھوڑ دو میں اکیلا تمام دشمنوں کا مقابلہ کرونگا ۔ یہ جرأت اور دلیری حضرت ابوبکر ؓ میں کہا ں سے پیدا ہوئی ؟ یہ وہی ارْکَعُوْ ا وَاسْجُدُوْا والے حکم کی تعمیل کا نتیجہ تھا ۔ جس طر ح بجلی کے ساتھ معمولی تار بھی مل جاتی ہے تو اس تارمیں عظیم الشان طاقت پیدا ہو جاتی ہے ، اسی طرح جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔بجلی سے علٰیحدہ کرلو تو تار کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ۔مگر اُسی تار میں جب بجلی کی رَو آئی ہوئی ہو ۔اور تار کے اوپر سے ربڑ اُترا ہوا ہو تو اگر ایک قوی سے قوی پہلوان بھی اُسے چھوئے گا تو مُردہ چوہے کی طرح گِر جائیگا اور اس کی طاقت اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکے گی ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ102 تا 103 ، مطبوعہ قادیان 2010)