انسانیت کی عزت و تکریم کا عالمی منشور
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ حجۃ الوداع
ہجرت کے نویں سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج فرمایا اور گیارہ ذی الحجہ کو منیٰ کے مقام پر آپؐ نے جو بصیرت افروز خطبہ ارشاد فرمایا وہ انسانیت کی عزت وتکریم کے لحاظ سے رہتی دنیا تک ایک عالمی منشورکی حیثیت رکھتا ہے ۔ جسے قارئین بدر کے استفادہ کے لئے ذیل میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دیباچہ تفسیر القرآن سے درج کیا جاتا ہے ۔فرمایا :
’’اے لوگو! میری بات کو اچھی طرح سنو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اِس سال کے بعد کبھی بھی میں تم لوگوں کے درمیان اِس میدان میں کھڑے ہو کر کوئی تقریر کروں گا۔ تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں کو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے کے حملہ سے قیامت تک کے لئے محفوظ قرار دیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے وراثت میں اُس کا حصہ مقرر کر دیا ہے۔ کوئی وصیت ایسی جائز نہیں جو دوسرے وارث کے حق کو نقصان پہنچائے۔ جو بچہ جس کے گھر میں پیدا ہو وہ اُس کا سمجھا جائے گا اور اگر کوئی بدکاری کی بناء پر اُس بچے کا دعویٰ کرے گا تو وہ خود شرعی سزا کا مستحق ہوگا۔ جو شخص کسی کے باپ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے یا کسی کو جھوٹے طور پر اپنا آقا قرار دیتا ہے خدا اور اُس کے فرشتوں اور بنی نوع انسان کی لعنت اُس پر ہے۔ اے لوگو! تمہارے کچھ حق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حق تم پر ہیں۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ عفت کی زندگی بسر کریں اور ایسی کمینگی کا طریقہ اختیار نہ کریں جس سے خاوندوں کی قوم میں بے عزتی ہو۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم ( جیسا کہ قرآن کریم کی ہدایت ہے کہ باقاعدہ تحقیق اور عدالتی فیصلہ کے بعد ایسا کیا جا سکتا ہے) انہیں سزا دے سکتے ہو مگر اس میں بھی سختی نہ کرنا۔ لیکن اگر وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کرتیں جو خاندان اور خاوند کی عزت کو بٹہ لگانے والی ہو تو تمہارا کام ہے کہ تم اپنی حیثیت کے مطابق ان کی خوراک اور لباس وغیرہ کا انتظام کرو۔ اور یاد رکھو کہ ہمیشہ اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کرنا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے۔ عورت کمزور وجود ہوتی ہے اور وہ اپنے حقوق کی خود حفاظت نہیں کر سکتی۔ تم نے جب ان کے ساتھ شادی کی تو خدا تعالیٰ کو ان کے حقوق کا ضامن بنایا تھا اور خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت تم ان کو اپنے گھروں میں لائے تھے ( پس خدا تعالیٰ کی ضمانت کی تحقیر نہ کرنا اور عورتوں کے حقوق کے ادا کرنے کا ہمیشہ خیال رکھنا) اے لوگو! تمہارے ہاتھوں میں ابھی کچھ جنگی قیدی بھی باقی ہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو وہی کچھ کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور ان کو وہی پہنانا جو تم خود پہنتے ہو۔ اگر ان سے کوئی ایسا قصور ہو جائے جو تم معاف نہیں کر سکتے توا ن کو کسی اَور کے پاس فروخت کر دو کیونکہ وہ خدا کے بندے ہیں اور ان کو تکلیف دینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔اے لوگو! جو کچھ میں تم سے کہتا ہوں سنو اور اچھی طرح اس کو یاد رکھو۔ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تم سب ایک ہی درجہ کے ہو۔تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور کسی حیثیت کے ہو انسان ہونے کے لحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو۔یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں ملاد یں اور کہا جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی اُنگلیاں آپس میں برابر ہیں اِسی طرح تم بنی نوع انسان آپس میں برابر ہو۔تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں۔تم آپس میں بھائیوں کی طرح ہو۔پھر فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے آج کونسا مہینہ ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ علاقہ کونسا ہے؟ کیا تمہیں معلوم ہے یہ دن کونسا ہے؟ لوگوںنے کہا ہاں!یہ مقدس مہینہ ہے ، یہ مقدس علاقہ ہے اور یہ حج کا دن ہے۔ہر جواب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جس طرح یہ مہینہ مقدس ہے، جس طرح یہ علاقہ مقدس ہے، جس طرح یہ دن مقدس ہے اِسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اُس کے مال کو مقدس قرار دیا ہے اور کسی کی جان اور کسی کے مال پر حملہ کرنا ایسا ہی ناجائز ہے جیسے کہ اس مہینے اور اِس علاقہ اور اِس دن کی ہتک کرنا۔یہ حکم آج کیلئے نہیں، کل کیلئے نہیں بلکہ اُس دن تک کیلئے ہے کہ تم خدا سے جا کر ملو۔پھر فرمایا۔یہ باتیں جو میں تم سے آج کہتا ہوں اِن کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دو کیونکہ ممکن ہے کہ جو لوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں اُن کی نسبت وہ لوگ اِن پر زیادہ عمل کریں جو مجھ سے نہیں سن رہے‘‘
(منقول از دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 345تا347شائع کردہ نظارت نشرواشاعت قادیان ،فروری 2002ء)