سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر75کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
فرماتا ہے ۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں انہوں نے خدائی صفات کا کبھی پورا اندازہ نہیں کیا۔ اور یہی وجہ اُن کے ٹھوکر کھانے کی ہے چنانچہ دیکھ لو جو لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل نہیں یا وہ لوگ جو بعض اور ذرائع کو بیچ میں لانا چاہتے ہیں اُنکے اس عقیدہ کو نبیاد ہی اس امر پر ہے کہ ان کا دماغ یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا کہ ایک ایسی ہستی بھی ہے جو سب دنیا کو دیکھ رہی ہے اور سب لوگوں کی آوازوں کو سُن رہی ہے ۔وہ خیال کرتے ہیں کہ بعض ایسے درمیانی واسطوں کی ضرورت ہے جن میں خدائی طاقتیں تقسیم ہوں اور جو اپنی اپنی جگہ اُن طاقتوں کو استعمال کر رہے ہوں اس دھوکا کی بڑی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے خداتعالیٰ کی طاقتوں کا اندازہ اپنی طاقتوں کے لحاظ سے کیا ۔اور خدائی طاقتوں کا انسانی طاقتوں پر قیاس کر لیا انہوں نے دیکھا کہ انسان جب ایک طرف نگا ہ کرتے ہیں تو دوسری طرف کی چیزیں انہیں نظر نہیں آتیں ۔پس انہوں نے خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ کی نظر بھی محدود ہے ۔ پھرجب انسانوں نے دیکھا کہ ہم ہر جگہ کی آواز ایک وقت میں نہیں سُن سکتے تو خیال کر لیا کہ خداتعالیٰ بھی ہر جگہ کی آواز ایک وقت میں نہیں سن سکتا ۔غرض انسانی طاقتوں پر خدائی طاقتوں کا جب انہوں نے قیاس کیا تو انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ خداتعالیٰ کے بعض شریک مقرر کریں ۔اسی خیال کے نتیجے میں بعض فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو کلی علم ہے ۔جزئی نہیں ۔یعنی اُسے یہ تو پتہ ہے کہ انسان روٹی کھایا کرتا ہے مگر اُسے یہ پتہ نہیں کہ زیداس وقت روٹی کھا رہا ہے ۔اُسے یہ تو علم ہے کہ انسانوں کے گھروں میں بچے پیدا ہوا کرتے ہیں مگر اُسے یہ علم نہیں کہ اس وقت زید یا بکر کے گھر میں بچہ پیدا ہوا ہے ۔ اب اس خیال کی نبیاد اسی امر پر ہے کہ انسان اپنی محدود طاقتوںسے خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اندازہ لگا تا ہے۔مگر آج دیکھو وہ کمزور انسان جو خداتعالیٰ کی طاقتوں کو گِرا رہے تھے انہیں خدا نے کہا کہ تم ہماری طاقتوں کا تو اندازہ ہی نہیں لگا سکتے آئو میں تمہاری اپنی طاقتوں کو اُبھارتا ہوں اورتمہیں بتا تا ہوں کہ تم اپنی آواز کو کہاں کہاں تک پہنچا سکتے ہو ۔اور تم کتنی دُور دُور کی آواز بخوبی سُن سکتے ہو ۔چنانچہ اُس نے وائرلیس ایجاد کروا کے بتا دیا کہ جب تمہاری جیسی ذلیل اور حقیر ہستی ساری دنیا کی آوازیں وائر لیس کے ذریعہ سُن سکتی اور ساری دنیا میں اپنی آواز پہنچا سکتی ہے تو کیا وہ خدا جو تم کو پیدا کرنے والا ہے وہ تمہاری آواز یں نہیں سُن سکتا ؟ آج جب انگلستان کا ایک ڈوم یا میراثی یا
ایک گانے والی کنچنی ساری دُنیا میں اپنی آواز پہنچا رہی ہوتی ہے تو فضا کی ہر حرکت اور آواز کی ہر جنبش یورپ کے فلسفیوں پر قہقے لگا رہی ہوتی ہے اور کہتی ہے کمبختو ! اب بتا ئو کیا خدا تعالیٰ ساری دنیا کی آوازیں نہیں سُن سکتا؟ اسی طرح اب بڑی بڑی دُور بینیں نکل چکی ہیں جن سے لاکھوں میل دور کے سیاروں کی حرکات کا بھی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے اور اب تو وائر لیس نے ترقی کرتے کرتے یہ صورت اختیار کر لی ہے کہ شکلیں بھی دُور دُور تک دکھا دی جاتی ہیں غرض وہ جو واہمہ پیدا ہو گیا تھا کہ خدا کس طرح ساری دنیا کو دیکھ سکتا ہے اور کس طرح ساری دنیا کی آوازیں سُن سکتا ہے اس ترقی نے اسے دُور کر دیا اور بتا دیا کہ جب معمولی انسان میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی قابلیت رکھی ہے کہ وہ اپنی آواز تمام دنیا کو سُنا سکتا ہے اور دنیا کے دوسرے کنارے کے
آدمی کی بات کو با ٓسانی سُن سکتا ہے اور نہ صرف آواز سُن سکتا ہے بلکہ اُس کی شکل بھی دیکھ سکتا ہے تو کیا خدائے ذوالجلال جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے وہ ہر چیز کو نہیں دیکھ سکتا اور ہر شخص کی آواز کو نہیں سُن سکتا ؟ اور جب وہ ہر چیز کو دیکھتا اور ہر شخص کی آواز کو سُنتاہے تو اُس کیلئے کسی اور مدد گار خدا کی کیا ضرورت رہی ؟ وہ اکیلا ہی ساری دنیا پر حاوی ہے اور اکیلا ہی سب پر حکومت کر رہا ہے ۔
غرض مَاقَدَرُواللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بنیادی غلطی کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ انسانی طاقتوں پر قیاس کر کے خدائی طاقتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اس طرح شرک جیسے گندے عقیدے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ97 تا 98 ، مطبوعہ قادیان 2010)