سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر73کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
تاریخوں میں لکھا ہے کہ غزوۂ حنین میں مکّہ کا ایک مخالف شخص جس کا نام شیبہ تھا مسلمانوں کی طرف سے اس ارادہ کے ساتھ جنگ میں شامل ہو گیا کہ جب دونوں لشکر آپس میں ملیں گے تو میں موقعہ پا کر محمد رسول اللہ ﷺ کو قتل کر دونگا جب لڑائی تیز ہوئی اور دشمنوں کی تیر اندازی کی وجہ سے اسلام لشکر میں بھاگڑ مچ گئی اور ایک وقت ایسا آیا جب رسول کریم ﷺ کے گرد صرف چند صحابہ ؓ رہ گئے تو شیبہ نے تلوار کھینچی اور رسول کریم ﷺ کے قریب ہونا شروع کیا وہ خود کہتا ہے کہ جب میں رسول کریم ﷺ کی طرف بڑھا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرے اور آپکے درمیان آگ کا ایک شعلہ بھڑک رہا ہے اور اگر میں اور قریب ہوا تو وہ شعلہ مجھے بھسم کر کے رکھ دیگا اتنے میں رسول کریم ﷺ نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا شیبہ اِدھر آئو ۔جب میں آپ کے قریب گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینہ پر پھیرا اورفرمایا ۔اے خدا! شیبہ کو ہر قسم کے شیطانی خیالات سے نجات عطا فرما وہ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ کا ہاتھ پھیرنا تھا کہ خدا کی قسم میرے دل سے آپ کی ساری دشمنی اور عداوت جاتی رہی اور میرا دل آپ کی محبت سے بھر گیا ۔پھر آپ نے فرمایا شیبہ اَب آگے بڑھو اور دشمن سے لڑو۔تب میں آگے بڑھا اور میں نے دشمن سے لڑنا شروع کر دیا میرے دل میں اُس وقت سوائے اس کے اور کوئی خواہش نہیں تھی کہ میں اپنی جان قربان کر کے محمد رسول اللہ ﷺ کو بچائوں اور خدا کی قسم اگر اُس وقت میراباپ بھی زندہ ہوتا اور وہ میرے سامنے آجاتا تو میں اس کا سر اتارنے سے بھی دریغ نہ کرتا ۔پس مخالفتوں پر صبر اور دُعائوں سے کام لینا چاہئیے ۔ اور مایوسی کو کبھی اپنے قریب بھی بھٹکنے نہیں دینا چاہئیے ۔رسول کریم ﷺ کو دیکھ لو باوجود اس کے کہ مکہ والوں نے آپ کا مقابلہ کیا اور آپ کی تعلیم پر ہنسی اُڑائی پھر بھی آپ مایوس نہیں ہوئے ۔بلکہ آپ نے تبلیغ کے کام کو برابر جاری رکھا ۔آپ کا طریق تھا کہ جہاں بھی آپکو کچھ آدمی اکٹھے بیٹھے نظر آتے آپ اُن کے پاس پہنچ جاتے اور فرماتے کہ اگر آپ لوگ اجازت دیں تو مَیں آپ کو کچھ خدا کی باتیں سُنا ئوں۔ چونکہ مکہ والوں نے لوگوں میں یہ مشہور کر رکھا تھا کہ یہ شخص نعوذ باللہ پاگل ہو گیا ہے اس لئے جب آپ اُن کے پاس جاتے تو وہ ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہوئے کہتے کہ یہ پاگل ہے اور آہستہ آہستہ وہاں سے کھِسک جاتے ۔کئی لوگ آپ کے سر پر مٹی ڈال دیتے۔ کئی آپ کا تمسخر اور استہزا ء سے پیش آتے ۔ مگر آپ برابر رات اور دن اُن کو خداتعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں مصروف رہے اور آخر اُنہی میں سے ایسے لوگ پیدا ہوگئے جنہوں نے اسلام کے لئے اپنی جانیں تک قربان کر دیں ۔پس استقلال کے ساتھ تبلیغ میں مشغول رہنا اور دعائوں کے ساتھ خداتعالیٰ کی مدد اور اُس کی نصرت کو کھینچنا یہی کامیابی کا ذریعہ ہوتا ہے ۔ جب تک کسی قوم میں اس قسم کی دیوانگی پیدا نہ ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ94 تا 96 ، مطبوعہ قادیان 2010)