سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر73کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
جو لوگ شرارتی ہوتے ہیں حق بات سُن کر اُن کو غصہ آجاتا ہے اور وہ مومنوں پر حملہ کرنے لگ جاتے ہیں اور ہر قسم کا دبائو ڈال کر انہیں تبلیغ سے روکنا چاہتے ہیں ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ حق بات کو ماننا خود ان کے فائدہ کا موجب ہے ۔اور اگر وہ اسے نہیں مانیں گے تو دُکھ پائیں گے ۔وہ صرف جوش میں فتنہ و فساد پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور مومنوں کو دکھ دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ چنانچہ دیکھ لو بانی سلسلہ احمدیہ نے جب یہ دعویٰ پیش کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوسرے تمام انبیاء کی طرح وفات پا چکے ہیں تو کس طرح سارے
ہندوستان میں ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ایک آگ لگ گئی اور مخالفت کا ایک طوفان اُمڈ آیا۔ علماء اپنے بستے کھول کر بیٹھ گئے اور لکھتے لکھتے اُن کی قلمیں گھس گئیں ۔ اور تقریریں کرتے کرتے اُن کی زبانوں پر آبلے پڑ گئے۔انہوں نے بانی سلسلہ احمدیہ کو
کافر اور اکفر اور دجّال اور ضال اور مفصل کہنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور عرب تک کے علماء سے آپ پر کفر کا فتویٰ لگوایا۔مگر نتیجہ کیا ہوا ہر دن جو نیا چڑھا اُس میں اُن کے چند ماننے والے اگر احمدی نہیں ہوئے تو حیاتِ مسیح کا انکار ضرور کرنے لگ گئے اور آج یہ کیفیت ہے کہ نئے تعلیم یافتہ آدمیوں میں سے ایک بھی حیاتِ مسیح کا قائل نظر نہیں آئے گا بلکہ عام طور پر مسلمانوں سے اس مسٔلہ پر گفتگو کی جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس مسٔلہ میں رکھا ہی کیا ہے چلو اسے چھوڑو ۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے دل اس مسٔلہ کی صداقت کو تسلیم کرنے لگ گئے ہیں ۔
اسی طرح جب بانی سلسلہ احمدیہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ملک میں اپنے انبیاء مبعوث فرمائے ہیں تو ساری دنیا میں ایک آگ لگ گئی اور لوگوں نے کہا۔ دیکھو یہ رام اور کرشن کو بھی نبی قراردے کر کافروں کو خدا کا رسول قرار دیتا ہے لیکن آج شدید ترین مخالف بھی اس مسٔلہ کی صحت کو تسلیم کر چکے ہیں ۔اور مخالف اخبارات میں اس بات پر کئی دفعہ مضامین شائع ہو تے رہتے ہیں کہ اسلام پہلے انبیاء کی صداقت کا بھی قائل ہے خواہ وہ یہودیوں کی طرف آئے ہوں یا ہندوؤں اور زرتشتیوں وغیرہ کی طرف آئے ہوں ۔اسی طرح بانی سلسلہ احمدیہ نے جب قرآن کریم کے کامل ہونیکا دعویٰ پیش کیا اور بتایا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں تو علماء کہلانے والے اتنے جوش میں آگئے کہ اُن کے مونہوں سے جھاگ اور اُنکی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگ گئے ۔مگر آج علماء یا اُن عوام سے جو اسلام سے دلچسپی رکھتے ہیں پوچھ کر دیکھ لو ۔وہ قرآن مجید کی تمام آیتوں سے استدلال کریں گے اور کسی آیت کے منسوخ ہونے کا نام بھی نہیں لیں گے ۔ یہی کیفیت ہر زمانہ میں رہی ہے جب بھی خداتعالیٰ کا کوئی نبی دنیا میں آیا اور اس نے خداتعالیٰ کا پیغام پہنچایا ۔ لوگوں نے اُس کی مخالفت شروع کر دی اور اُسے سخت سے سخت اذیتیں پہنچائیں ۔مگر آخر دنیا کو وہی تعلیم ماننی پڑی جو خداتعالیٰ کے انبیاء کی طرف سے پیش کی گئی تھی اور انہیں اپنی شکست تسلیم کرنی پڑی ۔مخالفین کے اس معاندانہ رویہ کا اللہ تعالیٰ اس آیت میں ذکر کرتے ہوئے بتا یا ہے کہ جب مخالفین کے سامنے ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں تو تُو منکروں کے چہروں میں نا پسندیدگی کے آثار دیکھتا ہے اور قریب ہوتا ہے کہ وہ اُن لوگوں پر حملہ کر دیں جو انہیں ہماری آیات سُناتے ہیں ۔کیونکہ دلائل وبراہین اور عقل و نقل کے میدان میں اُن کا عجز ظاہر ہوتا ہے ۔و ہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان لوگوں پر دلیل کے ساتھ تو غالب نہیں آسکتے۔ہمارے غلبہ کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم ڈنڈا اٹھا لیں۔ اور ان لوگوں کا سر پھوڑنا شروع کر دیں جو ہمیں اپنے عقائد سے منحرف کرنا چاہتے ہیں۔ مگر مومن اُن کے مظالم پر صبر سے کام لیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہی سُنت ہے کہ وہ اپنے بندوں کو پہلے ابتلائوں کے دریائوں میں سے گذارتا ہے اور پھر انہیں اپنے قرب سے نوازتا ہے ۔ آج تک دُنیا میں کوئی نبی بھی ایسا نہیں آیا جس کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے سخت سے سخت ابتلائوں میں ڈال کر اس کا امتحان نہ لیا ہو ۔ یا مصائب کی بھٹی میں ڈال کر اُسے صاف نہ کیا ہو ۔ جب اللہ تعالیٰ کے بندوں نے اپنے خون سے یا اپنے مال اور اپنے وطن اور اپنے عزیز و اقراباء کی قربانی سے اپنے صدق پر مہر لگائی تب انہیں خداتعالیٰ کے حضور عزت بخشی گئی ۔اور وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوئے اور آخرت میں بھی انہیں بلند درجات عطا کئے گئے ۔ پس مخالفین کی اذیتوں سے کبھی گھبرانا نہیں چاہئیے بلکہ صبر اور برداشت سے کام لیتے ہوئے دعائوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنی چاہئیے ۔ تمام دل اللہ تعالیٰ کے قبضہ و تصرف میں ہیں اور وی جب چاہے اُن کو ہدایت دے سکتا ہے ۔ ٭٭٭
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ93، مطبوعہ قادیان 2010)