سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر68کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
کئی لوگ مجھے ملے جنھوں نے کہا کہ ہم نے بیس بیس تیس تیس سال سے شراب نہیں پی کیونکہ ہم اسے بُرا سمجھتے ہیں ۔اسی طرح پہلے پردہ پر اعتراض کیا جا تا تھا مگر اب خود یورپ میں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو پردہ کی ضرورت کو تسلیم کر تے ہیں ،بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جب میں یورپ گیا تو وہی میوزیشن جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اُس نے مجھ سے کہا کہ میں نے آپ کا دیباچہ تفسیر القرآن پڑھا ہے جس سے میرے دل میں ایک شبہ پیدا ہو ا ہے۔میں نے کہا فرمائیے کیا شبہ پیدا ہوا ہے ۔کہنے لگا اس کتاب میں آپ نے لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ ایک دفعہ مسجد میں عبادت کیلئے بیٹھے تھے کہ آپ کی ایک بیوی آپ سے ملنے کیلئے آگئیں چونکہ واپسی کے وقت رات ہوگئی تھی اس لئے آپ اپنی بیوی کو گھر پہنچانے کیلئے ساتھ چل پڑے ۔ راستہ میں آپ کو ایک آدمی ملا اُسے دیکھ کر آپ کو شبہ ہوا کہ کہیں اسے ٹھوکر نہ لگ جائے اور یہ خیال نہ کرے کہ مَیں کسی اور کو ساتھ لئے جا رہا ہوں ۔چنانچہ آپ نے اپنی بیوی کے مُنہ پر سے نقاب اٹھا دی اور اُسے کہا کہ دیکھ لو یہ میری بیوی ہے۔ وہ کہنے لگا جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میرے دل میں اعتراض پیدا ہوا کہ پرد ہ تو اسلام کے نہایت اعلیٰ درجہ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے اور یہ پاکیزگی کی جان ہے ۔اگر کوئی بد بخت شخص ایسا تھا جس کے دل میں رسول کریم ﷺ کی پچاس ساٹھ سالہ زندگی کو دیکھ کر بھی شبہ پیدا ہوا تو وہ بیشک جہنم میں جاتا ۔ اس کی کیا حیثیت تھی کہ محض اس کا ایمان بچانے کیلئے اپنی ایک بیوی کے مُنہ پر سے پردہ اٹھا دیا جاتا ۔جس شخص نے اتنی مدت دراز تک رسول کریم ﷺ کی خدمات کو دیکھا، آپ کی قربانیوں کو دیکھا، آپ کے ایمان کو دیکھا ،آپ کے اخلاص کو دیکھا ،آپ کی محبت الٰہی کو دیکھا اور پھر بھی اس کے دل میں شبہ پیدا ہوا، وہ بدبخت اگر مرتا تھا تو بے شک مرتا اس کے لئے کیا ضرورت تھی کہ آپ اپنی کسی بیوی کے مُنہ پر سے نقاب اُٹھا دیتے ۔مَیں نے اُسے کہا آخر آپ کو یہی اعتراض ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے ایک چھوٹی چیز کیلئے بڑی چیز کو کیوں قربان کر دیا ۔بیشک اُس کا ایمان بھی ایک قیمتی چیز تھی مگر بہرحال وہ ایک کمزور انسان کا ایمان تھا کیونکہ اُس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی پاکیزگی پر شک کیا اُس شخص کے ایمان کے بچانے کیلئے اپنی ایک بیوی کا پردہ اُٹھا دینا ایک بڑی چیز کو چھوٹی چیز کیلئے قربان کر دینا ہے۔کہنے لگا ہاں میرے دل میں یہی شبہ پیدا ہوا ہے۔ مَیں نے کہا تو پھر اس کے معنے یہ ہیں کہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز کیلئے قربان کر دینا چاہئے۔ مگر اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اس مخصوص واقعہ کو دیکھا جائے تو اس میں اُس شخص کا ایمان بچا نا بڑا کام تھا اور بیوی کے مونہہ سے نقاب اُلٹ دینا چھوٹی بات تھی ۔ کہنے لگا کس طرح ؟ میں نے کہا یہ تو تم جانتے ہو کہ پردہ کا حکم پہلی شریعتوں میں نہیں تھا اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ پردہ کا حکم رسول کریم ﷺ کی زندگی کے آخری سالوں میں نازل ہوا ہے ۔تیرہ سال تک رسول کریم ﷺ مکّہ میں رہے اور پردہ کا حکم نازل نہ ہواپھر مدینہ تشریف لائے تو وہاں بھی چار پانچ سال تک پردہ کا حکم نہیں اُترا ۔گویا رسول کریم ﷺ کی دعوائے نبوت کے بعد جو 23 سالہ زندگی گذری ہے اُس میں سے سترہ اٹھارہ سال تک آپکی بیویوں نے پردہ نہیں کیا ۔اور جب پردہ کاحکم مدینہ آنے کے بھی چار پانچ سال بعد نازل ہوا ہے تو تمہیں یہ ماننا پڑیگا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ہر بیوی کو قریباً ہر صحابی نے دیکھا ہوا تھا ۔اب بتائو جس بیوی کو وہ سو دفعہ پہلے دیکھ چکا تھا اگر ایک موقعہ پر اُس کا ایمان بچانے کیلئے آپ نے اپنی اُس بیوی کا نقاب اٹھا دیا تو اس میں کیا حرج ہوا ۔وہ آپ کی بیویوں کو جوانی کی حالت میں دیکھ چکا تھا ۔ اور اب تو وہ بڑی عمر کی ہو چکی تھیں اس عمر میں اگر رسول کریم ﷺ نے اپنی کسی بیوی کے مونہہ سے نقاب اُلٹ دیا تو چاہے وہ کتنا ہی کمزور ایمان والا شخص ہو اس کے ایمان کو بچانے کیلئے آپ کا تھوڑی دیر کے لئے نقاب اُلٹ دینا بالکل بے حقیقت بات تھی کیونکہ اُس بیوی کو اُس نے جوانی کی حالت میں بھی دیکھا ہوا تھا اور اب وہ بڑی عمر کی ہو چکی تھیں ۔جوانی میں سو دفعہ دیکھنے والے شخص کے سامنے اگر آپ نے بڑی عمر میں اپنی ایک بیوی کے مونہہ سے اُس کا ایمان بچانے کیلئے تھوڑی دیر کیلئے پردہ اٹھا دیا تو آپ نے بڑی چیز کو چھوٹی چیز پر قربان نہیں کیا بلکہ چھوٹی چیز کوبڑی چیز کیلئے قربان کیا ۔اس جواب سے وہ خوش ہو گیا اور کہنے لگا اب میری سمجھ میں یہ بات آگئی ہے ۔
اب غور کرو یہ کتنا بڑا تغیر ہے کہ یا تو یہ کہا جاتا تھا کہ چونکہ اسلام پردہ کا حکم دیتا ہے اس لئے جھوٹا ہے ،اور یا یہ کہا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺنے رات کے وقت ایک شخص کا ایمان بچانے کیلئے اپنی بیوی کے مونہہ پر سے ایک منٹ کیلئے بھی نقاب کیوں اُتارا؟ ڈسمنڈشا انگلستان کے بہترین مصنفوں میں سے ہے کم ازکم وہ خود اپنے آ پ کو ایچ . جی ویلز سے بھی بڑا سمجھتا ہے ۔وہ مجھے ملا تو کہنے لگا کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ امن پھیلانے والا جو نبی آیا اُس کو لڑائی کرنے والا نبی کہا جاتا ہے اور پادری اُس پر اعتراض کرتے ہیں۔پھر وہ کہنے لگا شاید آپ مجھے پاگل قرار دیں گے کہ عیسائی ہو کر مَیں ایسی باتیں کرتا ہوں ۔یہ ٹھیک ہے کہ میں عیسائی ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ مسیح ناصری سے بڑے تھے اور محمد رسول اللہ ﷺ جو اعلیٰ تعلیم دنیا میں لائے وہ مسیح ناصری نہیں لائے۔آپ حیران ہو ں گے کہ میں عیسائی ہو کر ایسی بات کر رہا ہوں لیکن میں سچی بات کا انکار کیسے کر سکتا ہوں ۔پھر جب میں اُسے رخصت کر کے اپنے کمرے کی طرف آیا تو مجھے محسوس ہو اکہ کوئی شخص میرے پیچھے پیچھے آرہا ہے ۔میں نے مُڑ کر دیکھا تو ڈسمنڈ شا آرہا تھا ۔ کہنے لگا میرے دل میں ایک سوال پیدا ہوا تھا میں نے چاہا کہ آپ سے پوچھ لوں ۔میں نے کہا کیا سوال ہے ۔ کہنے لگا جب میں یہ تقریر کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ ﷺ سب سے بڑے نبی تھے تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری زبان سے خدا بول رہا ہے۔مگریہ عیسائی لوگ پھر بھی نہیں مانتے ۔میں نے کہا مسٹر ڈسمنڈشا! یہ لوگ صرف تمہاری آواز سُنتے ہیں ۔خداتعالیٰ کی آواز نہیں سُنتے ۔لیکن جب یہ لوگ بھی خدا تعالیٰ کی آواز سُننے لگ گئے اور خداتعالیٰ ان کے دلوں میں بھی بولا تو اِن پر بھی اثر ہو جائیگا ۔اور یہ بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی عظمت کے قائل ہوجائیں گے اس پر اُس کی تسلی ہو گئی ۔
غرض اللہ تعالیٰ نے اِنَّکَ لَعَلٰی ھُدًی مُّسْتَقِیْمٍ میں محمد رسول اللہ ﷺکی صداقت کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ دنیا ہزار انکار کرے وہ زمانہ کی ٹھوکریں کھانے کے بعد آخراس تعلیم کی طرف آئیگی جو تیری طرف سے پیش کی جارہی ہے کیونکہ تُو سیدھے راستہ پر قائم ہے اور لوگ ضلالت اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ89، مطبوعہ قادیان 2010)