سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر68کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اس آیت میں اِنَّکَ لَعَلیٰ ھُدًی مُّسْتَقِیْمٍ فرما کر اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرما دی ہے کہ دنیا خواہ کس قدر مخالفت کرے آخر وہی تعلیم دنیا میں غالب آئے گی جو محمد رسول اللہ ﷺ پیش فرما رہے ہیں اور تمام مذاہب کے جھنڈے ایک دن اسلامی جھنڈے کے مقابل میں سرنگوں ہو جائیں گے ۔چنانچہ دیکھ لو جب محمد رسول اللہ ﷺ نے عقیدۂ توحید کو پیش کیا اُس وقت دنیا کی کیا کیفیت تھی۔عیسائی تین خدائوں کے قائل تھے ۔زرتشتی نور اور ظلمت کے الگ الگ دیوتا قرار دیتے تھے۔ مجوسی آگ کی پرستش کر تے تھے ۔ بتوں کے پجاری لات و منات کو اپنا خدا قرار دے رہے تھے اورتمام دنیا شرک سے بھری ہوئی تھی مگر آج اسلام کی پیش کردہ توحید دنیا پر اس قدر غالب آچکی ہے کہ عیسائی بھی اپنے آپکو موحد کہتے ہیں اور بتوں کے پجاری بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خدا تو ایک ہی ہے یہ بُت
محض ایک واسطہ ہیں جن کے ذریعہ الٰہی دربار تک پہنچا جاتا ہے ، حالانکہ جب اسلام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ خدا ایک ہے تو اس وقت مکّہ کے لوگوں کو اس دعویٰ پر اس قدر حیرت ہوئی تھی کہ انہوں نے یہ کہنا شروع کرد یا تھا کہ اَجَعَلَ الْاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًاجاِنَّ ہٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ( ص ع ۱ ) یعنی کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے جو کبھی سُنی نہیں گئی۔گویا انہوں نے یہ سمجھا کہ معبود تو کئی ہیں مگر یہ شخص جو ایک خدا کہتا ہے تو شائد اس نے سب معبودوں کو کوٹ کاٹ کر ایک معبود بنا دیا ہے مگر اب ساری دنیا اسلامی توحید کو اپنا رہی ہے اور مشرک قومیں بھی شرک کرنے کے باوجود توحید کا انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتیں ۔یہی حال دوسرے مسائل کا ہے ۔یورپ ایک بڑی مدت تک اسلامی مسائل پر اعتراض کرتا رہا مگر اب وہاں کے بعض اچھے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ طبقہ کے لوگوں میں وہی باتیں جو پہلے اسلام کے خلاف سمجھی جاتی تھیں اب اُس کی صداقت کا ثبوت سمجھی جانے لگی ہیں۔ میں جب اپنے علاج کے سلسلہ میں لنڈن
گیا تو میرے وہاں پہنچنے سے چند دن پہلے وہاں کا ایک مشہور میوزیشن جو لنڈن کے ایک بہت بڑے اوپیرا میں کام کرتا اور پیانو وغیرہ بجاتا ہے اس کے دل میں اسلام کی رغبت پیدا ہوئی ۔اور مجھے وہاں کے مبلغین نے بتا یا کہ اس شخص کی اسلام کی طرف رغبت کی ایک عجیب وجہ ہے جو عام وجوہات سے بالکل اُلٹ ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دماغوں میں تغیر پیدا کر رہا ہے ۔کوئی زمانہ ایسا تھا کہ اسلام کے راستہ میں سب سے بڑی روک تعدد ازواج کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا اور یورپ کے لوگ اصرار کرتے تھے کہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا سخت ظلم ہے مگر اب یہ حالت ہے کہ جب اس کے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہوئی تو وہ پہلے بعض اور مسلمانوں کے پاس گیا اور اُس نے اُن سے پوچھا کہ اسلام کا تعدد ازواج کے متعلق کیا خیال ہے ۔انہوں نے کہا توبہ توبہ یہ بات تو دشمنوں کی طرف سے سخت بگاڑ کر پیش کی جاتی ہے اسلام میں کوئی ایسا حکم نہیں ۔یہ تو خاص خاص مجبوریوں اور شرطوں
اور قیدوں کے ساتھ اجازت دی گئی ہے اُس نے بتا یا کہ انہوں نے جب مجھے یہ جواب دیا تو میں جھٹ کھڑا ہو گیا اور میں نے کہا کہ مجھے تو اسلام میں یہی ایک خوبی نظر آئی ہے اور تم کہتے ہو کہ اسکے ساتھ کئی قسم کی قیدیں اور شرطیں ہیں ۔میں تو وہاں جانا چاہتا ہوں جہاں مجھے سیدھی طرح بتایا جائے کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے ۔چنانچہ اس کے بعد وہ ہمارے پا س آیا اور اُ س نے پوچھا کہ اس بارہ میں اسلام کا کیا حکم ہے ؟ ہمارے مبلّغین نے بتایا کہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے مگر اُس نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ تم انصاف سے کام لو اور ہر بیوی کا حق ادا کرو ۔وہ کہنے لگا یہ بات درست ہے اور میری عقل اسے تسلیم کرتی ہے ۔مَیں سمجھتا ہوں کہ یورپ نے اس تعلیم کو چھوڑ کر بہت کچھ کھویا ہے اور ہم نے اپنے اخلاق بگاڑ لئے ہیں۔اس لئے اب مَیں آپ کے پاس ہی آیا کرونگا ۔چنانچہ وہ خو د بھی مجھے ملا اور اپنے بیوی بچوں کو بھی ہمارے گھر لایا ۔اسی طرح ایک جرمن عورت جو مسلمان ہو چکی تھی میرے پا س آئی ۔اُس نے باتوں باتوں میں ذکر کیا کہ جنرل نجیب نے مجھے سعودی عرب کے بادشاہ کے پاس بھیجا تھا اور اُس نے مجھ سے کہا تھا کہ میرے بیٹے کے ساتھ شادی کر لو ۔میں نے کہا ۔شکر کرو تم بچ گئیں کیونکہ اُن کی تو بہت سی بیویاں ہوتی ہیں ،وہ کہنے لگی ساری بیویاں نہیں ہوتیں ۔اصلی بیوی ایک ہی ہوتی ہے باقی سب داشتہ ہوتی ہیں ۔پھر کہنے لگی جب اسلام نے مسلمانوں کو ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کی اجازت دی ہے اور مَیں بھی مسلمان ہو گئی ہوں تو مجھے ایک سے زیادہ بیویوں پرکیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔پھر وہ کہنے لگی میری کئی دفعہ پادریوں سے گفتگو ہوئی ہے ایک دفعہ ایک پادری نے تعدد ازواج کے خلاف تقریر کی تو میں نے کہا تم بڑے بیوقوف ہو ،عورت تو مَیں ہوں سوکن مجھ پر آنی ہے یا تم پر آنی ہے ۔مجھے تو سوکن آنے پر کوئی اعتراض نہیں اور تم خواہ مخواہ چڑتے ہو ۔میں تو اسلام کے اس حکم کو غنیمت سمجھتی ہوں کیونکہ اسلام نے گو مرد کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دی ہے مگر ساتھ ہی اُس نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں ایک جیسا کھانا کھلائو ۔ایک جیسے کپڑے دو اور ایک جیسا مکان دو ۔جب یہ چیز موجود ہے تو عورتوں کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔ہم کورٹ شپ کے بعد شاری کرتے ہیں مگر دو سال تک کورٹ شپ کرنے کے باوجود پھر بھی لڑائی ہو جاتی ہے ۔اگر تعدد ِ ازواج کی صورت میں میرا خاوند مجھ سے لڑیگا تو اتنا تو ہوگا کہ ایک مکا ن میرا ہوگا اور اُس کے ساتھ ہی دوسرا مکان میری سوکن کا ہوگا اور اس کے ساتھ تیسرا مکان میری تیسری سوکن کا ہوگا ۔میں شام کے وقت خاوند کا بازو پکڑونگی اور اُسے دوسرے گھر میں دھکیل دونگی اور کہونگی کہ سار ا دن میں نے تیرا منحوس مُنہ دیکھا ہے اب دوسری بیوی تیرا مُنہ دیکھے ۔اگر یہ ہوتا کہ کورٹ شپ کی وجہ سے ہماری کبھی لڑائی ہی نہ ہوتی تو پھر تو کوئی بات بھی تھی لیکن جب ہماری بھی لڑائیاں ہو تی ہیں تو پھر اسلام کی اس اجازت سے اتنا تو فائد ہ ہو سکتا ہے کہ جب خاوند کی عورت سے لڑائی ہو تو وہ اُس کا بازو پکڑ کر اُسے دوسری بیوی کے گھر میں دھکیل دے اور خود اُس کا غصّے والا چہر ہ سارا دن نہ دیکھتی رہے ۔
میں نے یہی واقعہ اُس میوزیشن کو سنا یا تو وہ کہنے لگا آپ وہاں کی بات کرتے ہیں میں لنڈن میں دس ہزار عورت ایسی دکھا سکتا ہوں جو ا س بات کے لئے تیار ہے کہ مرد اگر انصاف سے کام لیں تو بیشک وہ کئی شادیاں کر لیں، مگر مشکل یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اخلاق اتنے بگڑ چکے ہیں کہ اچھے خاوند میسر نہیں آتے ۔اب دیکھو یہ کتنا بڑا تغیر ہے جو ان میں پیدا ہو رہا ہے ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ87، مطبوعہ قادیان 2010)