اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-11-14

اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خوداپنی اندرونی حالت کو نہ بدل دے

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر66کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ عذاب ہمیشہ دو قسم کے ہوا کرتے ہیں ۔ایک تو شرعی عذاب ہوتے ہیں اور ایک طبعی عذاب ہوتے ہیں ۔شرعی عذاب اسی وقت آتا ہے جب لوگ خداتعالیٰ کے کسی رسول کی تکذیب کریں ۔مگر طبعی عذاب کیلئے یہ کوئی شرط نہیں بلکہ جو قوم بھی ترقی کے اُن اسباب سے غافل ہو جائیگی جو خداتعالیٰ نے مادی عالم میں مقرر کئے ہوئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے عام قانون کے ماتحت خود بخود ہلاک ہو جائیگی جیسا کہ آج تک نقشۂ عالم پر ہزاروں قومیں اور حکومتیں اُبھریں اگر پھر ایک وقت ایسا آیا جبکہ وہ کمزوری اور انحطاط کا شکار ہوتے ہوتے مٹ گئیں اور صفحہ عالم پر اُن کا نشان تک باقی نہ رہا۔ان قوموں کی ہلاکت اور بر بادی خدا تعالیٰ کی محبت کی کمی یا ا ُس کے رسولوں کے انکار کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ اس لئے ہوئی کہ انہوں نے ترقی کے اُن قوانین کو نظر انداز کر دیا جو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جاری کئے ہوئے ہیں ۔ان دونوں قسم کے عذابوں کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف آیات میں ذکر فرمایا ہے ۔شرعی عذابوں کے متعلق تو فرماتا ہے وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا ( بنی اسرائیل ع 2) یعنی ہم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے جب تک اس کی طرف اپنا کوئی رسول نہ بھیج لیں ۔جب رسول کے آنے کے بعد اس قوم پر اتمام حجت ہو جاتی ہے اور وہ انکار اور تکذیب میں بڑھتی چلی جاتی ہے تو آخر اس قوم کی تباہی کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور وہ عذاب کا شکار ہو جاتی ہے۔یہ شرعی عذاب ہے جو مامورین کی تکذیب کے نتیجہ میں قوموں پر آتا ہے اس عذاب کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ اس کے متعلق پہلے سے پیشگوئیوں میں خبر دے دی جاتی ہے یا غیر معمولی طور پر دنیا میں ایسی بلائوں اور آفات کا ظہور ہونے لگتا ہے جن کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں ملتی ۔مثلاً یکد فعہ زلزلوں پر زلزلے آنے شروع ہو جاتے ہیں یا بیماریاں، قحط، لڑائیاں اور
دوسری قسم کے مصائب ایک ہی وقت میں اس طرح جمع ہو جاتے ہیں کہ لوگوں میں ایک شور مچ جاتا ہے اور ہر شخص تسلیم کرتا ہے کہ یہ غیر معمولی حوادث ہیں ۔ ان شرعی عذابوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ یہ عذاب وقفہ وقفہ کے بعد آتے ہیں تاکہ جو لوگ عذاب کے ان متواتر جھٹکوں سے بیدار ہو سکیں وہ بیدار ہو جائیں اور کلی تباہی سے محفوظ رہیں ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے اس قانون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً مِّنْم بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُمْ اِذَا لَہُمْ مَّکْرٌ فِیْٓ اٰیَاتِنَاطقُلِ اللّٰہُ اَسْرَعُ مَکْرًا۔اِنَّ رُسُلَنَا یَکْتُبُوْنَ مَا تَمْکُرُوْنَ ( یونس ع ۳) یعنی جب ہم لوگوں کو کسی دُکھ اور مصیبت کے بعد اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ جھٹ ہمارے نشانوں کے متعلق کوئی نہ کوئی مخالفانہ تدبیر شروع کردیتے ہیں، تُو انہیں کہہ دے کہ اللہ کی تدبیر بہت ہی جلد کار گر ہو اکرتی
ہے اور تم جو تدبیریں کرتے ہو ہمارے فرستادے انہیں لکھتے رہتے ہیں ۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہمارا عذاب کبھی یکدم نازل نہیں ہوتا بلکہ پہلے عذاب کا ایک جھٹکا آتا ہے جسے کچھ عرصہ کے بعد دور کر دیا جاتا ہے تاکہ لوگ توبہ سے کام لیں اور اپنے مظالم اور گناہوں سے باز آجائیں لیکن بد سرشت لوگ پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے وہ عذاب کے وقت تو کسی قدر ڈر جاتے ہیں مگر جب عذاب میں کمی واقع ہوتی ہے تو پھر ہمارے کلام اور احکام کے خلاف اپنی تدابیر شروع کر دیتے ہیں ۔فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کی تدبیر تو بہت جلد نافذ ہو جاتی ہے مگر وہ خود ہی لوگوں پر احسان کرتے ہوئے اپنی تدبیر کو روکے رکھتا ہے کیونکہ نہ تو اُسے لوگوں کے کام بھول سکتے ہیں کہ اُسے فوراً بدلہ لینے کی ضرورت ہو اور نہ سزا دینے میں اُسے کوئی مشکل پیش آسکتی ہے کہ وہ سمجھے کہ اگر اس وقت میں نے سزا نہ دی تو بعد میں مشکل پیش آجائے گی وہ ہر وقت سزاد ے سکتا اور کوئی بات بھی اس کی نظر سے پوشیدہ نہیں اس لئے مخالفین کو تکبر اور اعراض سے کام نہیں لینا چاہئے۔ جب اُن کی کلی تباہی کا فیصلہ کر دیا گیا تو پھر انکی کوئی تدبیر اُنکو بچا نہیں سکے گی ۔ یہ تو شرعی عذابوں کا ذکر تھا۔ طبعی عذابوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے
اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ( رعد ع۲)یعنی اللہ تعالیٰ کبھی کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خوداپنی اندرونی حالت کو نہ بدل دے ۔جب وہ خود اپنے اعمال سے اُس مقام کو کھو بیٹھتی ہے جو خداتعالیٰ نے اُسے عطا کیا تھا تو خداتعالیٰ کا سلوک بھی اس سے بدل جاتا ہے اور وہ قوم ہلاکت کے گڑھے میں گِر جاتی ہے گویا خداتعالیٰ تو چاہتا ہے کہ لوگ اُس کے انعامات کے وارث ہوں مگر جب وہ خود اپنے ہاتھوں زہر کھانا شروع کر دیں تو خدائی قانون کے ماتحت وہ زہر اُن کا خاتمہ کر دیتی ہے ۔یہی وہ قوانین ہیں جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اُس نے اپنی رحمت کے ہاتھ سے تم سے عذاب کو روک رکھا ہے اور اُسے کسی قسم کی شرائط کے ساتھ مشروط کر دیا ہے اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم خداتعالیٰ کے اس قانون سے فائدہ اٹھائو اور خدائی احکام کو قبول کر کے اس کے شرعی عذاب سے اور قوانینِ نیچر کی اتباع کر کے اس کے طبعی عذاب سے بچو اور خداتعالیٰ کی پیدا کردہ تمام نعماء سے صحیح رنگ میں فائدہ اُٹھائو ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ84، مطبوعہ قادیان 2010)