سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر65کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
فرماتا ہے زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے وہ خدا کا ہی ہے اور اس کو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ۔پس ہر قربانی جو وہ تم سے چاہتا ہے صرف تمہارے فائدے کیلئے چاہتا ہے اپنے فائدے کیلئے نہیں ۔ چنانچہ اسلامی تعلیم پر غور کر کے دیکھ لو اُس نے جس قدر احکام دئیے ہیں محض بنی نو ع انسان کے فائدہ کیلئے دیئے ہیں اس لئے نہیں دئیے کہ اُن سے اُس کی خدائی میں کوئی اضافہ ہوتا ہے ۔اگر اُس نے نمازوں کا حکم دیا ہے یا روزوں کا حکم دیا ہے یا زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات کا حکم دیا ہے یا حج کا حکم دیا ہے تو یہ تمام احکام ایسے ہیں جن کا بالذات فائدہ خود انسان کو ہی پہنچتا ہے، خداتعالیٰ کو نہیں ۔ مثلاً نماز کو ہی لے لو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآ ئِ وَالْمُنَکَرِ ( عنکبوت ع ۵) نماز انسان کو بدیوں اور برائیوں سے روکتی ہے ۔پس جو شخص صحیح معنوں میں نماز پڑھتا ہے اُسے دوسرے روحانی فوائد کے علاوہ ذاتی طور پر یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ وہ برائیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔اسی طرح نماز سے یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ قومی شیرازہ کو متحد رکھنے کا خیال ہر وقت انسان کے ذہن میں جاگزیں رہتا ہے اور اسے یہ احساس رہتا ہے کہ ہمارا ہر وقت ایک واجب الاطاعت امام ہونا چاہئے جسکی متابعت میں خداتعالیٰ کے نام کو بلند کیا جا سکے ۔پھر مسجد میں پانچوں وقت نماز کے لئے جانا ایسی چیز ہے جو بنی نوع انسان کو ذاتی فائدہ پہنچانے والی چیز ہے کیونکہ اُس کے نتیجہ میں ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت ہوتی رہتی ہے اور مسلمان تنظیمی رنگ میں اس سے بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اسی طرح روزہ ایک اہم اسلامی عبادت ہے مگر اس کا فائدہ بھی خود انسان کو پہنچتا ہے خداتعالیٰ کو نہیں ۔ روزہ کے ذریعہ افراد کے اندر مشقت بر داشت کرنے کی عادت پیدا ہو تی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جو مختلف اوقات میں اس کے بے حد کام آتی ہے ۔اسی طرح روزہ کے ذریعہ غرباء کی حالت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اُن کو ابھارنے اور ترقی دینے کا جذبہ ترقی کرتا ہے۔ جس سے بحیثیت مجموعی تمام قوم فائدہ اٹھاتی ہے اور ترقی کی منزلیں جلد جلد طے کرنے لگتی ہے ۔ یہی حال زکوٰۃ کا ہے وہ بھی قومی ترقی کا ایک زبر دست ذریعہ ہے کیونکہ حکومت امراء سے اُن کے اموال کا ایک حصہ لے کر غرباء پر خرچ کرتی ہے اور اس طرح فقراء ، مساکین ،مؤلفۃ القلوب اور مصائب و آفات میں مبتلا انسان اس روپیہ سے اپنے پائوں پر کھڑے ہو نے کی طاقت حاصل کر لیتے ہیں اور قوم اور ملک میں ضعف پیدا نہیں ہوتا۔
اسی طرح حج بھی ارکان اسلام میں شامل ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس کا فائدہ بھی خود مسلمانوں کو ہی پہنچتا ہے کیونکہ اس سے ایک تو خداتعالیٰ کی خاطر اپنا وطن چھوڑنے کی عادت پیدا ہو تی ہے اور پھر مکّہ مکرمہ میں جب دنیا کے تمام اطراف سے مسلمان جمع ہوتے ہیں تو عالمی اخوت کا احساس ترقی کرتا ہے اور باہمی اتحاد کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں ۔
غرض اسلامی شریعت نے جس قدر احکام دئیے ہیں خود بنی نوع انسان کے فائدہ کیلئے دئیے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ اُن میں سے کسی چیز کا محتاج نہیں ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ81، مطبوعہ قادیان 2010)