اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-31

رسول کریم ﷺ نے ہبل بُت پر اپنی چھڑی ماری اور وہ گِر کر ٹوٹ گیا تو ایک صحابی ؓ نے ابو سفیان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ابو سفیان ! تمہیں یاد ہے اُحد کے دن تم نے کتنے غرور میں یہ نعرہ لگا یا تھا کہ اُعْلُ ھُبُلْ ۔ اُعْلُ ھُبُلْ الٰہی سلسلوں کی ترقی میں شیطان خواہ کس قدر روڑے اٹکائے اور کتنے ہی منصوبے کرے آخر میں خداتعالیٰ کے نبی ہی جیتتے ہیں بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت یہ کیوں کہا گیا ہے کہ وہ مَالِکْ ہے یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ وہ مَلِکْ یعنی بادشاہ ہے

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر58-57کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
فرماتا ہے جب یہ ساعۃ آگئی تو اُس دن خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائیگی اور شرک اور کفر دنیا سے مٹ جائیگا ۔چنانچہ دیکھ لو فتح مکہ کے بعد خدا کا وہ گھر جسے حضرت ابراہیم ؑ اور آپ کے بیٹے حضرت اسماعیلؑؑ نے خدائے واحد کی پرستش کے لئے بنایا تھا اور جسے بعد میں اُن کی گمراہ اولاد نے تین سو ساٹھ بتوں سے بھر دیا تھا کس طرح بتوں سے خالی کیا گیا اور کس طرح ایک ایک بُت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیت اللہ سے باہر پھینک دیا گیا۔ رسول کریم ﷺ ایک ایک بُت پر سونٹی مارتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ جَآءَالْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا ۔ یعنی حق آگیا ہے اور باطل بھاگ گیا ہے اور باطل تو ہے ہی بھاگ جانے والا ۔جب رسول کریم ﷺ نے سب سے بڑے بُت ہبل پر اپنی چھڑی ماری اور وہ گِر کر ٹوٹ گیا تو ایک صحابیؓنے ابو سفیان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ابو سفیان ! تمہیں یاد ہے اُحد کے دن تم نے کتنے غرور میں یہ نعرہ لگا یا تھا کہ اُعْلُ ھُبُلْ ۔اُعْلُ ھُبُلْ یعنی ہبل کی شان بلند ہو ہبل کی شان بلند ہو ۔ آج دیکھ لو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہبل کے ٹکڑے پڑے ہوئے ہیں ۔ابو سفیان کھسیانا ہو کر بولا بھائی یہ باتیں جانے بھی دو ۔اگر محمد رسول اللہ ﷺ کے خدا کے سوا کوئی اور بھی خدا ہوتا تو آج ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں یہ کبھی نہ ہوتا ۔اب تو ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ خدائے واحد کے سوا اَور کوئی خدا نہیں ۔ غرض اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰہِکی پیشگوئی اُس روز بڑی شان سے پوری ہوئی اور عرب کے ایک سرے سے لیکر اُس کے دوسرے سرے تک لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آوازیں گونجنے لگیں ۔
پھر فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا لصّٰلِحٰتِ فِيْ جَنّٰتٍ النَّعِیْمِ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُلٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ میں بتایاکہ الٰہی سلسلوں کی ترقی میں شیطان خواہ کس قدر روڑے اٹکائے اور کتنے ہی منصوبے کرے آخر میں خداتعالیٰ کے نبی ہی جیتتے ہیں ۔اور کفار کی سب تدبیریں ناکام ہو کر رہتی ہیں ۔ چنانچہ مومن تو ترقی کر جاتے ہیں لیکن مخالفین خائب و خاسر ہو کر غم و غصہ اور ناکامی و ذلت کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور یہ دنیا ہی اُن کے لئے دوزخ ہو جاتی ہے ۔
اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِّلہِمیں ضمنی طور پر ایک اعتراض کا جواب بھی پایا جاتا ہے ۔بعض لوگ سورۂ فاتحہ کے الفاظ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت یہ کیوں کہا گیا ہے کہ وہ مالک ہے یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ وہ مَلِکْہے ۔ حالانکہ مَلِکْ یعنی بادشاہ کا تصرف مَالِکْ یعنی قابض سے زیادہ ہوتا ہے۔اس اعتراض کا جواب اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ لِّلہِمیں موجو دہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس میں فرماتا ہے کہ اُس دن حکومت اللہ ہی کی ہو گی اور وہ اُن کے درمیان فیصلہ کرے گا ۔گویا اللہ تعالیٰ صرف مالک ہی نہیں بلکہ متصرف کامل یعنی بادشاہ بھی ہے ۔لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ آجکل کے بادشاہوں کی طرح کسی بالا قانون کا پابند ہے کیونکہ وہ خود فرماتا ہے کہ بالا قانون کی پابندی صرف اس کے لئے ہوتی ہے جس کے فیصلہ میں ظلم اور استبداد پایا جائے ۔لیکن خدا رحمٰن ہے اُس کے فیصلہ میں استبداد نہیں پایا جاتا اور ظلم نہیں پا یا جا تا بلکہ وہ سب کے ساتھ رحم اور بخشش کا سلوک کرتا ہے اور ایسا معاملہ کرتا ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کو فائدہ پہنچے۔اسی طرح سورۂ فرقان میں فرماتا ہے اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍنِ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ ( فرقان ع ۳) کہ اُس دن حکومت واقعی رحمٰن خدا ہی کی ہوگی ۔اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہےثُمَّ مَآ اَدْرَكَ مَا يَوْمُ الدِّيْنِ ۔ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئً ۖ وَالْاَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلهِ( سورۃ الانفطار ) کہ تجھے کس چیز نے بتایا ہے کہ جزا و سزا کا وقت کیا ہے ؟ وہ وقت ہوگا جس دن کوئی جان کسی جان کی کچھ بھی مالک نہیں ہوگی اور اُس دن اللہ ہی کا حکم ہوگا ۔ان آیات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بادشاہت بھی حاصل ہے ۔ پس مالک کا لفظ جو سورۂ فاتحہ میں استعمال کیا گیا ہے وہ ان معنوں میں نہیں کہ خداتعالیٰ صرف مالک ہے مَلِکْ یعنی بادشاہ نہیں ، بلکہ ان معنوں میں ہے کہ وہ مالک بادشاہ ہے اور یہ ظاہر بات ہے کہ مالک خالی بادشاہ سے بہتر ہوتا ہے یعنی خالی بادشاہت کسی کو تمام افراد یا اشیاء پر پورا تسلط نہیں بخشتی ۔ایک بادشاہ کو یہ ہر گز اختیار حاصل نہیں کہ وہ رعایا اور ملک کی دولت سے جس طرح چاہے سلوک کرے ۔لیکن بادشاہ اُن اشیاء میں جو اس کی مملوکہ ہوں بالکل اور قسم کا تصرف رکھتا ہے جو اُس تصرف سے جو اُسے صرف بادشاہت کی وجہ سے حاصل ہو تا ہے زیادہ مکمل اور اعلیٰ ہوتا ہے۔پس مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کہہ کر خداتعالیٰ کی ملکیت کی نفی نہیں کی گئی بلکہ خداتعالیٰ کی ملکیت کی قسم بیان کی گئی ہے یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خالی مَلِکْ نہیں بلکہ وہ مَلِک ہے جو ساتھ ہی سب مخلوق کا مالک بھی ہے اور جو مالک بادشاہ ہو اُسے تصرف میں پوری آزادی حاصل ہوتی ہے ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ77، مطبوعہ قادیان 2010)