سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر56کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اب سوال پیدا ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ شیطان کو نبیوں کے راستہ میں کیوں روکیں ڈالنے دیتا ہے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ایسا اس لئے کرتے ہیں تاکہ اِن شیطانی فتنوں کے ذریعہ نبیوں کی جماعتیں ہر قسم کی منافقت اور بے ایمانی رکھنے والوں سے پا ک ہو جائیں اور دشمنوں کی عداوت لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔ جب شیطان روکیں پیدا کرتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں بدی ہوتی ہے اور جن کے قلوب سخت ہوتے ہیں وہ اس کی بات مان لیتے ہیں اور بلاوجہ مومنوں پر ظلم کرنے لگ جاتے ہیں۔پس کمزور ایمان والوں کی کمزوری اور دشمنوں کی دشمنی دونوں ظاہر ہو جاتی ہیں اور پتہ لگ جاتا ہے کہ اسلام کے دشمن ضد اور مخالفت میں کس قدر بڑھے ہوئے ہیں اور یہ بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ اسلام پر سچا ایمان لانے والے لوگ شریروں کی شرارتوں سے ڈرتے نہیں بلکہ ایمان میں اَور بھی بڑھتے ہیں اور اس طرح مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت میں بڑھاتا چلا جاتا ہے ۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بیان فرمایا ہے کہ جب بھی کوئی نبی آتا ہے اور وہ لوگوں کی اصلاح کی تجاویز کرتا ہے تو شیطان اسکے راستہ میں روکیں ڈالنی شروع کر دیتا ہے مگر اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق اور کمزور ایمان لوگ الگ ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کی مضبوطی اور اس کی عظمت کو اور بھی بڑھا دیتا ہے ۔اب ان معنوں پر غور کرو اور دیکھو کہ یہ معنے تمام نبیوں کو عمومًا اور محمد رسول اللہ ﷺ کو خصوصًا کس طرح شیطان کے تصرف سے محفوظ رکھتے ہیں ۔بلکہ اُلٹا یہ بتاتے ہیں کہ نبیوں پر شیطان کا تصرف تو الگ رہا شیطان اُن سے ماریں کھاتا ہے اور جب ہم قرآن کریم کی یہ آیت مدنظر رکھیں کہ اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ ( سورۂ بنی اسرائیل ع ۷) کہ میرے بندوں پر تجھے کبھی غلبہ نصیب
نہ ہوگا تو میرے کئے ہوئے معنے ہی ٹھیک ثابت ہوتے ہیں اور مفسرین کے کئے ہوئے معنے غلط ثابت ہوتے ہیں کیونکہ کسی نبی کی زبان پر شیطان کا قبضہ خصوصًا وحی کی تلاوت کے وقت تو اتنا بڑا ’’سلطان‘‘ ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں پائی جاتی ۔ہم تو معمولی انسانوں کو دیکھتے ہیں کہ حکومتیں اُن پر کتنا ہی جبر کریں وہ اُن کے خلاف نعرے لگاتے جاتے ہیں ۔پھر یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ ﷺ جو سب نبیوں کے بھی سردار تھے شیطان نے اُن کی زبان پر تصرف کر لیا اور نعوذبا للہ اُن کے منہ سے شرکیہ کلمات نکلوا دیئے ۔یہ تو سورۂ بنی اسرائیل والی آیت کی صریح تردید ہے اور قرآن کریم کی کوئی آیت دوسری آیت کی تردید نہیں کر سکتی ۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا(سورۃ النسآء آیت ۸۳)یعنی کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے ۔اگر یہ خداتعالیٰ کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں عظیم الشان اختلاف پائے جاتے بعض لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ اس آیت میں چونکہ کثیرًا کا لفظ ہے اس لئے اس کے معنے یہ ہیں کہ خداتعالیٰ کے سوا دوسروں کے کلام میں بہت سے اختلاف پائے جاتے ہیں لیکن خدا کے کلام میں بہت سے اختلا ف نہیں پائے جاتے ۔چونکہ یہاں کثیرًا کا لفظ ہے اس لئے یہ آیت ایک اختلاف کو رّد نہیں کرتی مگر کثیر کے معنے عربی زبان میں عظیم الشان کے بھی ہوتے ہیں ۔ چنانچہ مفردات میں لکھا ہے وَلَیْسَتِ الْکَثْرَۃُ اِشَارَةٌ اِلَی الْعَدَدِ فَقَطْ بَلْ اِلَی الْفَضْلِ( مفردات ) یعنی قرآن شریف میں بعض جگہ جو کثیر کا لفظ استعمال ہو ا ہے اس کے صرف یہ معنے نہیں کہ تعداد میں زیادہ بلکہ مطلب یہ ہے کہ شان میں بڑا اور قرآن کریم میں یہ اختلاف ماننا کہ ایک طرف تو وہ کہتا ہے کہ میرے نیک بندوں پر شیطان کوکبھی تصّرف نہیں ہوگا اور دوسری طرف وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہر نبی اور رسول پر شیطان کو تصرف دیا گیا تھا وہ اس کی وحی میں اپنی طرف سے کچھ ملا دیتا تھا یہ اتنا بڑا اختلاف ہے کہ جس سے بڑا اختلاف قیاس کرنا بھی مشکل ہے ۔ پس سورۂ نساء کی آیت کے مطابق اس کے ایسے معنے کرنے بالکل باطل اور غلط ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم کے صریح خلاف ہیں۔ دوسری تشریح آیت لَوَجَدُوْا فِیْہِ اِخْتِلَافًا کَثِیْرًا کی یہ ہے کہ منطق کے قضیہ حملیہ کی رُو سے بالمقابل قضیہ نکالنا جسے مفہوم ِمخالف بھی کہتے ہیں جائز نہیں ہوتا ۔مثلاً اگر ہم یہ کہیں کہ فلاں شخص کا سر بڑا ہے تو اس فقرہ سے یہ نتیجہ نکالنا ہر گز جائز نہیں ہوگا کہ اُس کے پائوں چھوٹے ہیں اسی طرح قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ لَوْکَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا جو قضیہ شرطیہ پر مشتمل ہے قضیہ حملیہ کی صورت میں یہ معنے رکھتا ہے کہ غیر اللہ کے کلام میں بڑا اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہونگے کہ خدا کے کلام میں تھوڑا سا اختلاف ہوتا ہے کیونکہ یہ نتیجہ ایک ایسا مفہوم ِ مخالف ہے جو منطق کی رُو سے جائز نہیں جیسا کہ ہم اوپر کی مثال سے ظاہر کر چکے ہیں ۔
پھر فرماتا ہے وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ حَتّٰی تَاْتِیَھُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً اَوْیَاْتِیَھُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ۔ کفار اُس وقت تک صداقت کے بارے میں شبہ میں ہی رہتے ہیں یہاں تک کہ اُنکی تباہی کی گھڑی اُن پراچانک آجاتی ہے یا اُن پر عذاب کا وہ دن آجاتا ہے جو اپنے پیچھے کچھ بھی نہیں چھوڑتا ۔ دیکھ لو رسول کریم ﷺ کی ہجرت کے زمانہ میں کون شخص تھا جو یہ یقین رکھتا تھا کہ مکہ میں رہنے والے چند غریب لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں سارے عرب پر چھا جانے والے ہیں لیکن ہجرت کے معًا بعد یعنی دوسرے ہی سال مکہ کے وہ رئو ساء جو اسلام کی ہستی کو مٹا دینے پر تُلے ہوئے تھے اور جو غریب مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم و ستم کر تے تھے بدر کے میدان میں اسطرح ذبح کر دئیے گئے جس طرح باولے کتے گائوں کی گلیوں میں مروا دئیے جاتے ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں طوفان آیا مگر طوفان آنے سے قبل آخری وقت تک آپ کی قوم ہنستی رہی اور یہی کہتی رہی کہ ہاں ہم غرق ہو جائیں گے اور تم بچ جائو گے ۔اگر ہم غرق ہو گئے تو وہ جگہ کہاں ہے جہاں تم بھاگ جائو گے لیکن سالہا سال کی ہنسی کے بعد جسے بائبل نے شاعرانہ رنگ میں سینکڑوں سال کا زمانہ کہا
ہے یکدم طوفا ن آیا اور وہ لوگ غرق ہو گئے جو آپ پر ہنسی کیا کرتے تھے اور آپ کی کشتی پہاڑ کی چوٹی پر جا ٹھہری۔ قرآن کریم اور بائبل دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے بھاگے تو آخر وقت تک ان کی قوم کے لوگ بھی یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہماری نجات کا وقت آگیا ہے اور فرعون نے بھی کہا کہ یہ تھوڑے سے لوگ ہیں ۔فورًا فوجیں جمع کرو یہ ہم سے بھاگ کر کہاں جا سکتے ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لوگوں کو فرعون کا لشکر نظر آیا تو انہوں نے کہا اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ہم ضرور پکڑے جائیں گے لیکن وہی لوگ جو آدھ گھنٹہ پہلے یہ سمجھتے تھے کہ ہم اب فرعون کے ہاتھ سے بچ نہیں سکتے آدھ گھنٹہ بعد انہوں نے دیکھا کہ بادشاہ کے وہ وزراء اور فوجیں جن پر اس کی شوکت کا دارو مدار تھا غوطے کھاتے ہوئے سمندر کی تہ میں جا رہے ہیں ۔پھر اس عذاب کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ فرعون اُن بادشاہوں میں سے تھا جو اپنے مُنہ پر ہمیشہ نقاب اوڑھے رہتے تھے اور انہوں نے لوگوں میں یہ مشہور کر رکھا تھا کہ جو شخص بادشاہ کی شکل دیکھ لے وہ کوڑھی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اُس کی ہتک کرتا ہے ۔اس لئے وہ ہمیشہ اپنے منہ پر نقاب رکھتے تھے یہ بتانے کیلئے کہ ہم ایسے عالیشان انسان ہیں کہ ہماری شکل دیکھنا بھی ہر کس و ناکس کا کام نہیں اور اگر کسی شخص کے لئے بادشاہ اپنا نقاب اٹھا دیتا تھا تو وہ بڑا مقرب سمجھا جاتا تھااور وہ اپنی قوم کا سردار بن جاتا تھا مگر آج اُسکی لاش قاہرہ کے عجائب گھر میں پڑی ہوئی ہے جسے میں نے ۲۴ء میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔مگر دیکھنے والا کن جذبات کے ماتحت اُسے دیکھتا ہے۔اچھے جذبات کے ماتحت نہیں بلکہ ہر دیکھنے والا اُس پر لعنت ڈالتا ہے اور کہتا ہے خبیث تُو تھا موسیٰ ؑکو دکھ دینے والا۔غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب عذاب آتا ہے تو وہ بعض دفعہ ایسا اچانک آتا ہے کہ انسان دیکھتے ہی دیکھتے اُس کی لپٹ میں بھسم ہو کر رہ جاتا ہے ۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ یہ لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت میں اسی طرح شکوک و شبہات میں ہی مبتلا رہیں گے یہاں تک کہ ایک دن اچانک انکی تباہی کی گھڑی آجائیگی اور وہ اُس سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں پائیں گے اور یا پھر اُن پر ایسا عذاب نازل ہو گا جو اُن کی شوکت کا کوئی نشان تک باقی نہیں رکھے گا۔ چنانچہ فتح مکہ بھی ایک ساعت تھی جو اچانک کفار مکہ پر آئی اور جس نے اُن کے تمام بل اس طرح نکال کر رکھ دئیے کہ وہ لوگ جو محمد رسول اللہ ﷺ اور آپکے ساتھیوں کو ابتدائے اسلام سے دکھ دیتے چلے آرہے تھے اس قدر عاجزاور درماندہ ہو گئے کہ انہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ سے یہ عاجز انہ التجا کی کہ آپ ہم پر رحم کریں اور ہم سے وہی سلوک کریں جو یوسفؑنے اپنے بھائیو ں کے ساتھ کیا تھا اور اس قدر انقلاب اُن میں پیدا ہو ا کہ وہی لوگ جو کل تک محمد رسول اللہ ﷺ کے خون کے پیاسے تھے آپکی حفاظت کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے لگ گئے اورعَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ سے حضرت ابن عباسؓمجاہد اور قتادہ کے نزدیک بدر کا عذاب مراد ہے جس نے کفار کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں اور اُن کے رعب اور دبدبہ کو خاک میں ملا دیا ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ74، مطبوعہ قادیان 2010)