اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-10-03

جو لوگ خداتعالیٰ کے دین کی تائید کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کی مدد کیا کرتا ہے

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت 39 اور اس سے آگے کی آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اسلامی تعلیم کی رُو سے جنگ کی اجازت صرف اُسی صورت میں ہوتی ہے جب کوئی قوم دیر تک کسی دوسری قوم کے ظلموں کا تختہ مشق بنی رہے اور ظالم قوم اُسے رَبُّنَا اللّٰہ کہنے سے روکے ۔ یعنی اُس کے دین میں دخل دے اور وہ جبراً اسلام سے لوگوں کو پھرائے یا اُس میں داخل ہونے سے جبراً باز رکھے اور اس میں داخل ہونے والوں کو صرف اسلام قبول کرنے کے جرم میں قتل کرے ۔اُس قوم کے سوا کسی دوسری قوم سے جہاد نہیں ہوسکتا لیکن اگر جنگ ہوگی تو صرف سیاسی اور ملکی جنگ ہوگی جو دو مسلمان قوموں میں بھی ہوسکتی ہے مگر اس کا نام جہاد نہیں رکھا جاسکتا اور اس جنگ میں شامل ہونا ہر مسلمان کا فرض نہیں ہوگا بلکہ صرف انہی مسلمانوں کا فرض ہو گا جو اُس لڑنے والی حکومت میں بس رہے ہوں کیونکہ یہ جنگ حب الوطنی کی جنگ کہلائے گی ۔دینی جنگ نہیں کہلائے گی اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِیْمَانِ یعنی وطن کی محبت بھی ایمان کا ایک حصہ ہے ۔
پھر بتا یا کہ ایسی مظلوم قوم کا فرض ہو تا ہے کہ جب اُسے طاقت ملے تو وہ تمام مذاہب کی حفاظت
کرے اور اُن کی مقدس جگہوں کے ادب اور احترام کا خیال رکھے اور اس غلبہ کو اپنی طاقت اور قوت کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ غریبوں کی خبر گیری ، ملک کی حالت کی درستی اور فتنہ و شرارت کے مٹانے میں اپنی قوتیں صرف کرے کیونکہ اسلام دنیا میں بطور شاہد اور محافظ کے آیا ہے نہ کہ بطور جابر اور ظالم کے ۔ وہ لوگ جو اسلامی جہاد پر اعتراض کیا کرتے ہیں انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا اس قسم کی لڑائی مسلمانوں کے اختیار میں ہے کہ جب اُن کا جی چاہے شروع کردیں اور کفار کو قیدی بنانا شروع کر دیں ۔اس قسم کی جنگ کی ابتداء تو دشمن کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے اور جب اُس سے بچنا اُس کے اختیار میں ہے تو اس کے بعد بھی اگر وہ ایسی جنگ کرتا ہے اور جبراً دوسروں کا مذہب اُن سے بدلوانا چاہتا ہے تو یا تو وہ پاگل ہے اور یا اس قابل ہے کہ اُسے سزا دی جائے کیونکہ اُسے اختیار تھا کہ وہ حملہ نہ کرتا ۔ اسے اختیار تھا کہ وہ دوسروں پر ظلم نہ کرتا ۔ اُسے اختیار تھا کہ وہ دین کیلئے جنگ نہ کرتا اور اس طرح اپنے آپکو ہلاکت اور بر بادی سے بچالیتا ۔
اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اِنَّ اللّٰہَ یُدَافِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکے بعد اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا پر یہ اعتراض پڑتا تھا کہ جب بندے خود کفار سے لڑے تو خداتعالیٰ نے کس طرح دفاع کیا؟ ان آیا ت میں اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ گو بظاہر مومن لڑیں گے لیکن وہ بھی اور دوسرے لوگ بھی جانتے ہیں کہ وہ کمزور ہیں ۔ جیت نہیں سکتے پس اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِيرٌ فرما کر بتا یا کہ اصل لڑائی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوگی ۔ مومن تو اس کا صرف ایک ہتھیار ہو نگے جن سے وہ کام لیگا ۔ فتح دینا اُس کے اختیار میں ہوگا ۔اور وہ فتح دیگا اور یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ یہ لڑائی خدا نے لڑی ہے نہ کہ انسانوں نے ۔پھر اگلی آیات میں بھی فرما دیا کہ وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ يَّنْصُرُهُکہ جو لوگ خداتعالیٰ کے دین کی تائید کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کی مدد کیا کرتا ہے ۔ گویا باوجود مومنوں کے لڑنے کے اصل دفاع اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی رہا ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 63، مطبوعہ قادیان 2010)