اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-09-26

قربانی کا فلسفہ اور اس کی حکمت اور قربانی پر اعتراض کا جواب

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر 38 کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے کسی عمل کی ظاہر ی شکل نتیجہ پیدا نہیں کرتی بلکہ قربانی کی وہ رُوح نتیجہ پیدا کرتی ہے جو اس عمل کے پسِ پشت کا م کر رہی ہوتی ہے ۔پس حالات کے اختلافات کی وجہ سے بعض دفعہ عمل کی ظاہر ی شکل میں جو اختلاف پیدا ہو جاتا ہے وہ کسی شخص کو ترقی سے روکتا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نتیجہ کے وقت ا س کی قربانی کی رُوح کو مدنظر رکھ کر اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ۔مثلاً ایک شخص کے پاس دس ہزار
روپیہ ہو اور وہ اس میں سے سو روپیہ غرباء میں تقسیم کر دے اور ایک شخص جس کے پاس صرف دس روپے ہوں وہ اُن میں سے پانچ روپے دے دے تو نتیجہ پانچ اور سو کے مطابق نہیں نکلے گا بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ دونوں کو کتنی ضرورتیں تھیں اور اُن ضرورتوں میں اُنہوں نے کس قدر قربانی کی یا دونوں کے لئے صدقہ کا محرک کون سی بات ہوئی اور اُن میں سے زیادہ بہتر کونسی ہے اور جب بدلہ اس اصل کے ماتحت ملے تو ظاہری اختلاف کے باوجود کسی شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا جس طرح محض جانوروں کی قربانی کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ خداتعالیٰ کو وہ اخلاص پہنچتا ہے جس کے ماتحت قربانی کی جاتی
ہے اور وہ محبتِ الٰہی پہنچتی ہے جو اس قربانی کی محرک ہوتی ہے۔ جس کے پاس تقویٰ ہو اُس کی اٹھنی بھی اُس شخص کے سور وپے سے زیادہ قیمت رکھتی ہے جو تقویٰ سے خالی ہو کیونکہ قرآن کریم نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خون اور گوشت کو نہیں دیکھتا بلکہ قربانی کرنے والے کی نیت کو دیکھتا ہے۔ایک امیر آدمی آسانی کے ساتھ سو اونٹ یا سو دُنبے خداتعالیٰ کی راہ میں ذبح کر سکتا ہے لیکن ایک غریب آدمی جو سال بھر قربانی کیلئے پیسے جمع کرتا رہتا ہے اور جس کا ایک ایک دن اس حسرت میں گذرتا ہے کہ کاش میرے پاس
اتنی رقم جمع ہو جائے کہ میں ایک دفعہ عید کے موقع پر قربانی کرکے اُس کا کچھ گوشت خدا کی راہ میں تقسیم کردوں اور کچھ گوشت اپنے دوستوں کو تحفۃً پیش کر وں ، وہ اگر سال بھر کی محنت اور تگ و دو کے بعد ایک معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دُنبی قربان کرتا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خداتعالیٰ اس کی معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دُنبی کو رّد کر دیگا ۔اور اس امیر کے موٹے تازے دُنبوں کو قبول کر لے گا ۔ اگر خدا تعالیٰ انسانی عمل پر فیصلہ کرتا تو یقینا اُس امیر کے موٹے تازے دُنبے قبول کرلئے جاتے اور اس غریب کی معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دُنبی رّد کر دی جاتی مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ انسانی اعمال پر نہیں ہوگا بلکہ وہ فرماتا ہے یَنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ۔خداتعالیٰ کے حضور قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارے دلی جذبات اُس تک پہنچتے ہیں ۔یعنی اُن کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر اُس کے پاس گوشت اور خون پہنچا کرتا تو وہ اچھا گوشت پسند کر لیتا اور وہ اُن قربانیوں کو قبول کر لیتا جن میں بہت زیادہ خون بہایا گیا ہو ۔مگر وہ فرماتا ہے ہمارے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں پہنچتی ۔ ہمارے پاس تو قربانی کے پیچھے جو نیّت ہوتی ہے وہ پہنچا کر تی ہے ۔اگر ایک چھوٹی سی دُنبی ذبح کرنے والے کی نیت بہت اعلیٰ تھی اور دو سو بڑے بڑے دُنبے ذبح کرنے والے کی نیت ایسی اعلیٰ نہیں تھی تو قیامت کے دن جس نے دو سو دُنبے ذبح کئے ہونگے اگر اُس کے ساتھ اعلیٰ اخلاص نہ ہوگا تو اُس کے ساتھ دو سو دُنبے نہیں ہونگے بلکہ ایک مریل سی دُنبی ہوگی ۔اور جس نے ایک چھوٹی سی دُنبی ذبح کی تھی اگر اُس نے اعلیٰ اخلاص اور محبت کے ساتھ یہ قربانی کی تھی تو قیامت کے دن اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی دُنبی نہیں ہوگی بلکہ ہزار ہا موٹے تازے دُنبے ہونگے کیونکہ اُس جہان میں سب کی سب چیزیں نیّت کے تابع ہو جاتی ہیں ۔یہ تو روحانی نقطۂ نگاہ سے قربانیوں کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔مادی لحاظ سے غور کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر اشیاء دنیا میں پیدا کی ہیں اُن میں سے ہر ایک کا ایک چھلکا ہوتا ہے اور ایک مغز ہوتا ہے ۔دنیا میں کوئی مغز ایسا نہیں جو بغیر چھلکے کے ہو اور کوئی چھلکا ایسا نہیں جس کے اندر مغز نہ ہو۔یہی کیفیت روحانی اعمال کی بھی ہے۔ مثلاً نماز میں قیام اور قعود اور رکوع اور سجود ایک چھلکا ہیں لیکن وہ رُوحانی اثر جو اس قیام و قعود اور رکوع و سجود کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے وہ مغز ہے ۔قربانیوں میں بھی کسی جانور کو ذبح کرنا ایک قشر ہے لیکن وہ اخلاص جو اس قربانی کے پیچھے کا م کررہا ہوتا ہے وہ مغز ہوتا ہے ۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری قربانیوں کے گوشت اور خون خدا تک نہیں پہنچتے بلکہ تمہارا تقویٰ خدا تک پہنچتا ہے ۔ممکن ہے کوئی شخص کہے کہ اگر تقویٰ ہی کی ضرورت تھی تو پھر جانور کیوں قربان کروائے جاتے ہیں ۔اس کا ایک جواب تو یہی ہے کہ ہر مغز اپنے ساتھ قشر بھی رکھتا ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ قشر بے فائدہ چیز نہیں بلکہ غرباء کے کام آنے والی چیز ہے چونکہ غربا ء عام طور پر اس مقوی خوراک سے محروم رہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک صدقہ اس قسم کا بھی جاری کر دیا جس میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے تاکہ غرباء کے دل بھی نہ ترستے رہیں اور وہ اس مقوی غذا سے اپنی مالی تنگی کی وجہ سے محروم نہ رہیں ۔ چنانچہ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان قربانیوں پر تم کو اس لئے ملکیت بخشی ہے تاکہ تم خداتعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ان پر خداتعالیٰ کا نام لیتے رہو اور غریبوں کی پرورش کرتے رہو اور یاد رکھو کہ جو خداتعالیٰ کے احکام کی تعمیل کریں انکو بڑے بڑے انعام ملتے ہیں ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 58، مطبوعہ قادیان 2010)
ززز