سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر38کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
یاد رکھو قربانیوں میں یہ حکمت نہیں کہ اُن کا گوشت یا اُن کا خون خداتعالیٰ کو پہنچتا ہےبلکہ اُن میں حکمت یہ ہے کہ ان کی وجہ سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور وہ تقویٰ خداتعالیٰ کو پسند ہے ۔بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ کیا خداتعالیٰ نعوذ باللہ ہندوؤں کے دیوتائوں کی طرح خون کا پیاسا اور گوشت کا بھوکا ہے کہ وہ جانوروں کی قربانی کر نیکا حکم دیتا ہے اور اُن کی جان کی قربانی کو شوق سے قبول فرماتا ہے اور قربانی کرنے والوں کو بہشت کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ دیا ہے کہ قربانیوں میں یہ حکمت نہیں کہ اُن کا گوشت یا اُن کا خون اللہ تعالیٰ کو پہنچتا ہے بلکہ اس میں حکمت یہ ہے کہ ان کی وجہ سے انسانی قلب میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور وہ تقویٰ خداتعالیٰ کو پسند ہے پس وہ لوگ جو بکرے یا اونٹ یا گائے کی قربانی کرکے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو پا لیا وہ غلطی کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ یہ کوئی چیز نہیں کہ خود ہی جانور ذبح کیا اور خود ہی کھا لیا ۔ اس سے اللہ تعالیٰ کو کیا ۔یہ تو تصویری زبان میں ایک
حقیقت کا اظہار ہے جس کے اندر بڑی گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ جیسے مصور ہمیشہ تصویریں بناتے ہیں مگر اُن کی غرض صرف تصویر بنانا نہیں ہوتی بلکہ اُن کے ذریعہ قوم کے سامنے بعض اہم مضامین رکھنے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ کبھی وہ زنجیر بناتے ہیں جس سے مراد قومی اتحاد ہوتا ہے اور کبھی وہ طلوع آفتاب کانظارہ دکھاتے ہیں اور اُس کا مطلب قومی ترقی ہوتا ہے ۔اسی طرح یہ ظاہری قربانی بھی ایک تصویری زبان ہے جس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ جانور ذبح کرنے والا اپنے نفس کی قربانی پیش کرنے کیلئے تیار ہے ۔ پس جو شخص قربانی کرتا ہے وہ گویا اس امرکا اظہار کرتا ہے کہ میں خداتعالیٰ کی راہ میں سب کچھ قربان کردو نگا ۔اس کے بعد دوسرا قدم یہ ہوتا ہے کہ انسان جس امر کا تصویری زبا ن میں اقرار کرے عملاً بھی اُسے پورا کر کے دکھا دے کیونکہ محض نقل جس کے ساتھ حقیقت نہ ہو کسی عزت کا موجب نہیں ہو سکتی ۔آخر تھیٹر والوں کو شرفاء کیوں نا پسند کر تے ہیں اسی لئے کہ تھیٹر میں جو نقال بادشاہ بنتے ہیں اُن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی لیکن حقیقی بادشاہ کی سب لوگ عزت کرتے ہیں تھیٹر میں بادشاہ بننے والا اگر عملی زندگی میں اس کیلئے جدو جہد کرے تو اُسے بُرا نہیں سمجھا جائیگا لیکن محض نقل کسی عزت کا موجب نہیں ہو سکتی ۔اسی طرح جو شخص بکرے کی قربانی کے ساتھ اپنے نفس کی قربانی بھی کرتا ہے وہ شرفا ء کے نزدیک قابلِ احترام ہے۔ لیکن جو شخص صرف بکرے کی قربانی پر اکتفا کرتا ہے وہ نقال اور بھانڈ ہے اور اس لئے کسی عزت کا مستحق نہیں۔پھر اگرغور کرکے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ سوائے اُن قصابوں کے جو جانوروں کو روزانہ ذبح کر نے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں دوسرے لوگوں کی طبیعت پر جانور کو ذبح ہوتے دیکھ کر ایک گہرا اثر پڑتا ہے اور اُن کے خیالات میں ایک زبردست ہیجان پیدا ہو جاتا ہے ۔حتّٰی کہ اسی اثر کے ماتحت بعض قوموں نے قربانی کو ظلم قرار دیدیا ہے ۔اُن کا یہ فعل تو کمزوری کی علامت ہے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قربانی کا اثر طبیعت پر ضرور پڑتا ہے ۔اور اسی اثر کو پیدا کرنے کیلئے قربانی کو عبادت میں شامل کیا گیا ہے ۔ گویا قربانی کے ذریعہ سے ہر انسان اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ جس طرح یہ جانور جو مجھ سے ادنیٰ ہے میرے لئے قربان ہوا ہے اسی طرح میں بھی اقرار کرتا ہوں کہ اگر مجھ سے اعلیٰ چیزوں کے لئے مجھے اپنی جان دینی پڑے گی تو میں بھی خوشی سے اپنی جان دے دوں گا ۔اب غور کرو جو شخص قربانی کی اس حکمت کو سمجھ کر قربانی کرتا ہے اسکی طبیعت پر اس کا کس قدر گہرا اثر پڑے گا اور کس طرح وہ اپنے اس فرض کو یاد رکھے گا جو اُس کے پیدا کرنیوالے کی طرف سے اُ س پر عائد ہوتا ہے ۔اس ذبح کی یاد ہمیشہ اس کے دل میں تازہ رہے گی اور اس کا دل اُسے کہتا رہیگا کہ دیکھ تُو نے اپنے ہاتھوں سے بکرے کو ذبح کر کے اس امر کا اقرار کیا تھا کہ ادنیٰ چیز اعلیٰ کیلئے قربان کی جاتی ہے۔اب تجھے بھی اس قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے جو صداقتوں کے قیام کیلئے یا بنی نوع انسان کی تکالیف کے دُور کرنے کیلئے تجھے کرنی پڑیں ۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ تمہاری قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون بلکہ خداتعالیٰ کو وہ ارادۂ نیک پہنچتا ہے جو خشیت اللہ کو مدنظر رکھ کر تم نے کیا تھا ۔یعنی اگر تم اس غرض کو پورا کرو گے جس کے لئے تم نے قربانی کی ہے تو فائدہ ہو گا ورنہ صرف گوشت کھانے اور خون بہانے کا کام تم سے ہو اہے جس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 57، مطبوعہ قادیان 2010)