سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت
نمبر37کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
خود رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ہمیں ایک ایسا واقعہ نظر آتا ہے جس میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے یہی سبق دیا تھا کہ بعض دفعہ ایسی قربانی بھی کی جاتی ہے جس کا بظاہر کو ئی فائدہ نظر نہیں آتا ،مگر پھر بھی قوم کو قربانی میں حصّہ لینا پڑتا ہے ۔صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب رسول کریم ﷺ نے مشرکین مکّہ سے صلح کر لی تو صحابہؓ کے اندر اس قدر بے چینی پیدا ہوئی کہ حضرت عمرؓجیسا آدمی بھی گھبرا گیا اور انہوں نے رسول کریم ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم حج کریں گے ۔ آپؐنے فرمایا ٹھیک ہے مگر یہ کب کہا تھا کہ اسی سال کریں گے ۔غرض صحابہؓکے لئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا جس سے انہیں دو چار ہونا پڑا۔اسی لئے جب رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنی قربانیاں یہیں ذبح کر دو تو وہ حیران ہوئے کہ ہمیں یہ کیا حکم دیا گیا ہے ۔ قربانی تو مکّہ میں ہونی تھی اور پھر عمرہ یا حج کے بعد ہونی تھی ۔مگر ہمیں یہیں قربانی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ۔ جب ہم مکّہ گئے نہیں، خانہ کعبہ کا ہم نے
طواف نہیں کیا ، عمرہ یا حج نہیں کیا ،تو قربانی کیسی ۔جب صحابہ ؓ قربانیاں کرنے میں شامل نہیں ہوئے تو رسول کریم ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے اور اپنی ایک بیوی سے فرمایا کہ آج تیری قوم کو میں نے یہ حکم دیا تھا مگر اُس نے میری اس بات کو نہیں مانا ۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ انہوں نے محبت کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کیا بلکہ اس صدمہ کا اُن کی طبیعتوں پر اسقدر اثر ہے کہ وہ اپنے حواس میں نہیں رہے ۔آپ اپنی قربانی کو ذبح کرنا شروع کر دیجئے اور صحابہؓ سے کچھ نہ کہیں ،
پھر دیکھیں کہ اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت اچھا ۔ آپؐنے نیزہ ہاتھ میں لیا اور سیدھے اپنی قربانی کی طرف گئے۔ آپؐکا اپنے اونٹ کو نیزہ مارنا تھا کہ صحابہ ؓ دیوانہ وار اُٹھے اور اپنی قربانیاں ذبح کرنے لگ گئے ۔ اب دیکھو یہ قربانی بظاہر بے معنے تھی۔ صحابہ ؓ مکّہ میں داخل نہیں ہوئے تھے ۔انہوں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا تھا ۔انہوں نے عمرہ یا حج نہیں کیا تھا مگر پھر بھی انہوں نے اپنی قربانیاں ذبح کر دیں ایسا کیوں ہوا ؟ صرف اسلئے کہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ اگر لوگ تمہیں بیت اللہ تک نہیں جانے دیتے تو جہاں انہوں نے تمہیں روک دیا ہے تم وہیں قربانی کرد و اور سمجھ لو کہ یہی مقام خدا تعالیٰ کا گھر ہے۔ غرض یہ بھی بظاہرایک بے مصرف قربانی تھی مگر محمدرسول اللہ ﷺ نے صحابہ ؓ کو اس قربانی کا حکم دیا اور اس طرح بتا دیا کہ خواہ کوئی قربانی تمہیں کتنی ہی بے مصرف دکھائی دیتی ہو تمہارا کام ہچکچاہٹ کا اظہار کرنا نہیں،تمہارا کام قربانیوں کی آگ میں اپنے آپ کو جھونک دینا ہے ۔ تمہیں خدا نے اپنے دین کا سپاہی بنایا ہے ۔ تمہارے ہاتھوں پر کفر اور شیطنت کی شکست مقدر ہے ۔تم کام کرنے کیلئے پیدا کئے گئے ہو۔پس تمہارا جرنیل تمہیں جو کچھ کہتا ہے تم کرو اور جس طرف تمہیں لے جانا چاہتا ہے اُس کے پیچھے جائو۔یہی روح ہے جس کے نتیجے میں تمہیں خیر اور برکت حاصل ہوگی اور جس کے بعد دنیا کی کوئی قوم تمہارے مقابلہ میں کھڑی نہیں ہو سکے گی ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 56، مطبوعہ قادیان 2010)
ززز