سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر37کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ان آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے ان قربانیوں کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے جو حج بیت اللہ کے موقعہ پر کی جاتی ہیں اور بتایا ہے کہ یہ قربانیاں شعائر اللہ میں داخل ہیں اور تمہارے لئے ان قربانیوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی برکت رکھی گئی ہے۔ وہ لوگ جو حقائق سے نا آشنا ہیں وہ بھی اور مسلمانوں میں سے بھی بعض نادان یہ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ اسلام نے یہ قربانی بغیر کسی حکمت کے رکھی ہے کیوں نہ اس روپیہ کے بدلہ میں کالج جاری کئے جائیں اور اس طرح قومی ترقی کے سامان کئے جائیں۔ فرض کرو حج کے موقعہ پرچالیس ہزار بکرا ذبح ہوتا ہے اور ایک بکرے کی اوسط قیمت پچیس روپے بھی فرض کی جائے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے کا بکرا ذبح ہو جاتا ہے ۔پھر اونٹ وغیرہ بھی ہوتے ہیں ان سب کو ملا کر اندازاً دو کروڑ روپیہ ان قربانیوں پر خرچ ہو جا تا ہے۔ پس لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ روپیہ قربانیوں پر ضائع کیا جائے کیوں نہ اس کے بدلہ میں عربوں کی تربیت کا انتظام کیا جائے اور مکہ مکرمہ میں کالج اور سکول وغیرہ جاری کر دئیے جائیں ۔میں ہمیشہ ان کو یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ بعض دفعہ قوم پر ایسے اوقات بھی آیا کرتے ہیں جب اُسے ایسی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں جو بظاہر بے فائدہ نظر آتی ہیں۔انہی قربانیوں کی ٹریننگ کیلئے اسلام نے یہ سلسلہ جاری کیا ہے تاکہ ایسے مواقع پر خواہ انہیں کوئی حکمت نظر آئے یا نہ آئے وہ قربانی کرتے چلے جائیں۔مثلاً اگر کسی ملک میں کوئی اکیلا مسلمان ہو اور وہا ں کی حکومت مذہب کے خلاف کوئی جابرانہ حکم دیدے جس سے وہ اسلام کو مٹانا چاہتی ہو، تو ایسی صورت میں اسلامی تعلیم کے مطابق وہ یہ نہیں کہے گا کہ جب قربانی کا کوئی فائدہ نہیں تو میں اپنے آپ کو کیوں قربان کروں بلکہ وہ فوراً قربانی کیلئے اپنے آپ کو پیش کر دے گا کیونکہ جب تک وہ اپنے آپ کو قربان نہیں کرے گا دوسروں کے دلوں میں قربانی کی تحریک پیدا نہیں ہوگی ۔وہ اگر پھانسی پر چڑھ جائیگا تو پھر کوئی دوسرا شخص بھی پھانسی کے تختے پر چڑھنے کیلئے نکل آئیگا ۔وہ دوسرا شخص پھانسی دیا جائیگا تو تیسرا شخص نکل آئیگا اور اس طرح قدم بقدم تمام قوم میں ایسا جوش پیدا ہو جائیگا کہ وہ اسلام کی حفاظت کے لئے دیوانہ وارکھڑے ہو جائیں گے اور کفر کو شکست کھانے پر مجبور کر دیں گے ۔
جب رسول کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں دعویٰ فرمایا تو اس وقت جن صحابہ ؓ نے قربانیاں کیں وہ بظاہر کیسی بے فائدہ اور کیسی بے نتیجہ نظر آتی تھیں مگر پھر انہی قربانیوں کے نتیجہ میں مکہ فتح ہوا اور سارا عرب اسلامی جھنڈے کے نیچے آگیا۔جب صحابہ ؓ مکہ میں قربانیاں کر رہے تھے اُس وقت کوئی شخص یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن انہی قربانیوں کے نتیجہ میں رسول کریم ﷺ کو عظیم الشان شوکت ملنے والی ہے۔اُس وقت جن عورتوں کی شرمگاہوں میں نیز ے مار مار کر انہیں مارا جاتا تھا ،جن مردوں کو اونٹوں کے ساتھ باندھ کر انکو ٹکڑے ٹکڑے کیا جاتا تھا اُن عورتوں اور مردوں کی قربانیوں کو دیکھ ہر شخص سمجھتا تھا کہ یہ لوگ بیکار اپنی عمریں ضائع کر رہے ہیں ۔ایسے ہی لوگوں میں سے ایک عثمانؓبن مظعون بھی تھے۔عرب کا ایک مشہور شاعر لبید ایک مجلس میں اپنے اشعار سُنا رہا تھا کہ اُس نے یہ مصرع پڑھا۔
اَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُیعنی سُنو کہ خدا کے سوا ہر چیز تباہ ہونے والی ہے ۔عثمانؓبن مظعون نے یہ مصرع سُنتے ہی بڑے زور سے کہا کہ بالکل ٹھیک ہے ۔خدا کے سوا ہر چیز واقع میں فنا ہونے والی ہے ۔عثمانؓبن مظعون اُس وقت چھوٹی عمر کے بچے تھے جب انہوں نے تعریف کی تو لبید ناراض ہو گیا اور اُس نے لوگوں سے کہا کہ اس لڑکے نے میری ہتک کی ہے کیا میں اپنے اشعار میں ایک چھو کرے کی تائید کا محتاج ہوں۔ بعض لوگ اُسے مارنے کے لئے اُٹھے لیکن بعض اَور نے دخل دے کر اس معاملہ کو رفع دفع کر ا دیا اور اُسے کہہ دیا کہ اب تم نے کچھ نہیں کہنا۔ اس کے بعد لبید نے اس شعر کا دوسرا مصرع پڑھا کہ وَکُلُّ نَعِیْمٍ لَا مُحَالَۃَ زَائِل‘
یعنی ہر نعمت بہر حال ایک دن ختم ہو نے والی ہے ۔ اس پر عثمانؓبن مظعون سے برداشت نہ ہو سکا اور انہوں نے کہا جنت کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہو ں گی ۔لبید کو سخت غصّہ آیا اور اُس نے کہا میں اس مجلس میں اَب اپنے شعر سُنا نے کیلئے تیار نہیں ۔اس پر لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے عثمانؓبن مظعون کو مارنا شروع کر دیا اور ایک شخص نے اتنے زور سے گھونسہ مارا کہ عثمانؓ بن مظعون کی ایک آنکھ کا ڈیلا با ہر نکل آیا۔ اُن کے والد کا ایک دوست بھی اُسی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اور پہلے وہ اُسی کی پناہ میں رہتے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ دوسرے مسلمانوں کو ماریں پڑ رہی ہیں اور وہ آرام سے مکہ میں پھرتے ہیں تو انہوں نے اس رئیس سے جا کر کہہ دیا کہ میں تمہاری پناہ میں نہیں رہنا چاہتا ۔چنانچہ اُس نے اعلان کردیا کہ عثمانؓاب میری پناہ میں نہیں ۔ اُسے یہ جرأت تو نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ سب لوگوں کے سامنے اُن کی مدد کرتا لیکن جب اُن کی آنکھ نکل گئی تو جس طرح کسی غریب آدمی کے بچے کو کوئی امیر آدمی کا بچہ مارے پیٹے تو غریب ماں اپنے بچہ کو ہی مارتی ہے اور اُس پر غصّہ نکالتی ہے ۔اسی طرح وہ ان مارنے والوں پر تو غصہ نہیں نکال سکتا تھا اُس نے عثمانؓپر ہی غصّہ نکالا اور کہا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ تو میری پناہ سے نہ نکل ۔اب دیکھا تُو نے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلا۔حضرت عثمانؓبن مظعون نے جواب دیا کہ چچا تم تو مجھ پر اس لئے خفا ہو رہے ہو کہ میری ایک آنکھ کیوں نکلی لیکن خدا کی قسم میری تو دوسری آنکھ بھی خداتعالیٰ کی راہ میں نکلنے کیلئے تڑپ رہی ہے ۔اب کیا کوئی عقلمند اس وقت قیا س کر سکتا تھا کہ اُنکی ایک آنکھ کا نکلنا دین کو کوئی فائد ہ پہنچا سکتا ہے ۔ واقعہ یہی ہے کہ اُس وقت یہ تمام قربانیاں بالکل بےکار نظر آتی تھیں لیکن اگر عثمانؓبن مظعون کی ایک آنکھ خدا تعالیٰ کے راستہ میں نہ نکلتی ،اگر عثمانؓبن مظعون کی دوسری آنکھ خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلنے کیلئے تڑپ نہ رہی ہوتی ،اگر عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے نہ مارے جاتے ،اگر مکّہ کے ابتدائی دور میں صحابہ ؓ اپنی جانیں قربان نہ کرتے تو مسلمان وہ قربانیاں کبھی پیش نہ کر سکتے جو انہوں نے بدر اور اُحد کے موقعہ پر پیش کیں ۔وہ قربانیاں کبھی پیش نہ کر سکتے جو انہوں نے احزاب کے موقعہ پر پیش کیں ۔یہی قربانیاں تھیں جنہوں نے اُن کے اندر جوش پیدا کیا ۔اُن کے اندر اخلاص پیدا کیا اور انہیں قربانی کے نہایت اعلیٰ مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ۔اسی طرح بے شک وہاں ہزاروں بکرے ذبح ہوتے ہیں جن کا گوشت بظاہر ضائع چلا جاتا ہے اور اُس کو کھانے والا بھی کوئی نہیں ہوتا مگر اسلام پھر بھی قربانیوں کو حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ لَکُمْ فِیْھَا خَیْر’‘ تمہارے لئے اس میں خیراور برکت رکھی گئی ہے ۔تمہیں ان قربانیوں کے تسلسل کو ہمیشہ جاری رکھنا چاہئیے اور ان دُور رس نتائج پر نظر رکھنی چاہئیے جو ان قربانیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں ۔اُس احمق بادشاہ کی طرح نہیں بننا چاہئیے جس نے فوج کے خرچ کو بے مصرف قراردیکر اُسے توڑ دیا تھا اور سمجھ لیا تھا کہ وقت آنے پر قصاب یہ کام کرلیں گے ۔مگر نتیجہ یہ ہوا کہ سارا ملک اس کے ہاتھ سے جاتا رہا ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 53 ، مطبوعہ قادیان 2010)