سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر36’’الَّذِيْنَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلٰی مَا اَصَابَهُمْ وَالْمُقِيْمِي الصَّلَاةِ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ ‘‘کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس جگہ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ میں صرف روپیہ ہی شامل نہیں کہ انسان کچھ روپے خداتعالیٰ کی راہ میں دے کر اپنے فرض کو ادا کرنے والا سمجھا جا سکے بلکہ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ میں اُس کی آنکھیں بھی شامل ہیں، اس کا دماغ بھی شامل ہے ،اُس کے کان بھی شامل ہیں ،اس کی ناک بھی شامل ہے ،اُس کے ہاتھ اور پائوں بھی شامل ہیں ،اُس کا دھڑ بھی شامل ہے ۔ پھر مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ میں اس کا مکان بھی شامل ہے ۔وہ گندم بھی شامل ہے جو وہ استعمال کرتا ہے بلکہ وہ مولیاں اور گاجریں اور گُڑ بھی شامل ہیں جو زمیندار پیدا کرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ روپیہ خرچ کر کے ایک شخص مالی قربانی کرنے والا قرار پا سکتا ہے لیکن شریعت صرف مالی قربانی کا حکم نہیں دیتی بلکہ شریعت یہ کہتی ہے کہ ہم نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس کاایک حصہ تم خداتعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو ۔پس اگر کوئی شخص اپنی ساری جائیداد بھی چندہ میں دے دیتا ہے لیکن اس کی آنکھیں خداتعالیٰ کے بندوں کی خدمت میں حصہ نہیں لیتیں ،اُس کے ہاتھ پائوں خداتعالیٰ کے بندوں کی خدمت میں حصہ نہیں لیتے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے اپنی ساری جائیداد دے کر اپنے فرض کو ادا کر دیا ہے ۔یہ چیز منطق تو کہلا ئیگی لیکن دین نہیں کہلائیگا ۔دین کا تقاضا پورا کرنے کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ اپنے سارے جسم کو خداتعالیٰ کے بندوں کی خدمت کیلئے استعمال کرے ۔احادیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن جب تمام انسان خداتعالیٰ کے سامنے پیش ہو نگے تو وہ بعض لوگوں سے کہے گا کہ اے میرے بندو! میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا ۔ میں پیاسا تھا تم نے مجھے پانی پلایا ۔میں ننگا تھا تم نے مجھے کپڑے پہنائے ۔میں بیمار ہوا تم نے میری تیماداری کی، اس لئے جائو اور میری جنت میں داخل ہو جائو ۔وہ بندے کہیں گے توبہ توبہ بھلا ہماری کیا طاقت تھی کہ ہم تجھے کھانا کھلاتے یا پانی پلاتے یا کپڑے پہناتے یا بیماری پر تیری عیادت کرتے تُو تو ان تمام باتوں سے پاک ہے ۔وہ فرمائے گا یہ درست ہے لیکن جب میرا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ بھوکا تھا تو تم نے اُسے کھانا کھلایا تو گویا مجھے ہی کھانا کھلایا ۔اور اسی طرح جب میرا ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بندہ تمہارے پاس آیا اور وہ پیاسا تھا اور تم نے اُسے پانی پلایا توگویا تم نے مجھے ہی پانی پلایا ۔اسی طرح جب تم نے ایک ننگے کو کپڑا پہنایا یا ایک بیمار کی تیماداری کی تو تم نے ایک بندے کو کپڑا نہیں پہنایا یا ایک بندے کی تیماداری نہیں کی بلکہ درحقیقت تم نے مجھے کپڑا پہنایا اور تم نے میری تیماداری کی ۔اس لئے جائو اور میر ی جنت میں داخل ہو جائو ۔غرض مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ میں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس قدر طاقتیں اور قوتیں ملی ہوئی ہیں اُس پر فرض ہے کہ وہ اپنی ہر طاقت کو بنی نوع انسان کی بھلائی کیلئے صرف کرے اور صرف اس امر پر خوش نہ ہوجائے کہ اُس نے روپیہ دیدیا تھا یا نماز پڑھ لی تھی یا روزہ رکھ لیا تھا ۔
دیکھو رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ مالی قربانی کی تحریک کی تو ایک صحابی جن کے پاس اَور کچھ نہیں تھا وہ جَو کی دومٹھیاں لائے اور انہوں نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیں منافقوں نے اس بات کو دیکھا تو وہ ہنسے اور کہنے لگے لو اَب دنیا جَو کی ان دومٹھیوں سے فتح ہوگی ،حالانکہ اگر اُن کی آنکھ کھلی ہوتی تو وہ سمجھتے کہ یہ جَو کی دو مٹھیاں نہیں تھیں بلکہ اسلام کی محبت میں بیتاب ہونے والے ایک دل کے خون کے دو قطرے تھے جو اُس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کئے اور دنیا دل کے خون کے قطروں سے ہی فتح ہوا کرتی ہے ،دنیاوی سامانوں سے نہیں ۔پس ایمانِ کامل کی علامت یہ ہے کہ جو کچھ تم گھروں میں کھاتے ہو اور جو کچھ کماتے ہو اور جو کچھ پہنتے ہو اور جو کچھ خرچ کرتے ہو ،اُس کا ایک حصہ خداتعالیٰ کی راہ میں بھی دو اور اپنی ہر طاقت بنی نوع انسان کی بھلائی اور اُن کی بہبودی کے لئے صرف کرو ۔(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 52 ، مطبوعہ قادیان 2010) ززز