سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر32’’وَمَنْ يُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَاَ نَّمَا خَرَّمِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ‘‘کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ہشتم : شرک کی آٹھویں قسم یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے خداتعالیٰ کے قانونِ قدرت نے کسی کام کے کرنے کی کوئی طاقت نہیں دی ،اس کے متعلق یہ خیال کر لیا جائے کہ وہ فلاں کام کر لے گی۔مثلاً خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے آپ کو اَلسَّمِیْع قرار دیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ کامل طور پر لوگوں کی دعائوں کو سُنتا اور اُن کی حاجات کو پورا فرماتا ہے ۔یعنی فاصلہ اور وقت کا اُس پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔اب اگر کوئی شخص خداتعالیٰ سے دُعا کرنے کی بجائے مُردوں کی قبروں پر جاتا اور اُن سے اپنی مرادیں مانگتا ہے تو وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ اس نے خداتعالیٰ کے اَلسَّمِیْعُ ہونے میںمُردوںکوبھی شریک کر لیا ،حالانکہ قرآن کریم اس کی صراحتاً تردید کر تا ہے اور فرماتا ہے کہ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْئًا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ف اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍجوَمَا يَشْعُرُوْنَلا اَ یَّانَ يُبْعَثُوْنَ۔ (النحل ع ۲) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبود انِ باطلہ کو لوگ اپنی مدد کیلئے پکارتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں اور وہ سب کے سب مردہ ہیں نہ کہ زندہ ۔اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے اس خیال کی تردید فرمائی ہے کہ ہمارے معبود بھی دلوں کے بھید جانتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے ۔جو خالق ہو وہی اپنی مخلوق کی اندرونی طاقتوں اور اُس کی ضروریات سے آگاہ ہو سکتا ہے مگر جن کو تم پکارتے ہو وہ تو خود سب کے سب مخلوق ہیں انہوں نے تمہارے حالات کو کیا جاننا ہے ۔اور پھر وہ مُردہ ہیں زندہ نہیں انہوں نے تمہاری مدد کیا کرنی ہے۔انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کب اُٹھائے جائیں گے گویا اُن کا انجام بھی دوسروں کے ہاتھ میں ہے ۔ایسی صورت میں اگر کوئی شخص کسی قبر پر جاتا اور مردہ کوکسی تصرف کیلئے کہتا ہے تو وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔اسی طرح بتوں ، دریائوں ، سمندروںاور سورج اور چاند وغیرہ سے مُراد یں مانگنا اور دُعائیں کرنا بھی شرک میں ہی شامل ہے ۔
نہم : شرک کی نویں قسم یہ ہے کہ ایسے اعمال جو مشرکانہ رسوم کا نشان ہیں گو اب شرک کی مشابہت نہیں رکھتے ان کا بلا ضرورت ِ طبعی ارتکاب کیا جائے مثلاً کوئی شخص کسی قبر پر دیا جلا کر رکھ آئے تو خواہ وہ صاحب قبر سے دُعا کرے یا نہ کرے یا صاحبِ قبر کو خدا سمجھے یا نہ سمجھے یہ فعل بھی شرک کے اندر آجائیگا کیونکہ یہ عمل پہلے زمانہ کے مشرکانہ اعمال کا بقیہ ہے ۔وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ مُردے قبروں پر واپس آتے ہیں اور جن لوگوں کی نسبت معلوم کرتے ہیں کہ انہوں نے اُن کی قبروں کا احترام کیا ہے اُن کی مدد کرتے اور ان کے کاموں کو تکمیل تک پہنچا دیتے ہیں ۔ اسی لئے لوگ قبروں پر دئیے یا پھول وغیرہ رکھ آتے تھے ۔ ان یاد گار وں کو تازہ رکھنا بھی چونکہ شرک کی مدد کرنا ہے اسلئے یہ بھی شرک میں ہی داخل ہے اسی طرح درختوں پر رسیّاں وغیرہ باندھنی یا قبروں پر چڑھاوے چڑھانے اور ٹونے کرنے سب اسی قسم میں شامل ہیں ۔میں نے جو یہ کہا ہے کہ بلا ضرورت طبعی ایسے کام کرنے منع ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کہیں جا رہا ہو اور راستہ میں رات آجائے اور مجبوراً کسی مقبرہ میں ٹھہرنا پڑے تو یہ ضروری نہیں کہ وہاں انسان اندھیرے میں ہی بیٹھا رہے بلکہ اگر دیا جلا کر روشنی کا انتظام کرلے تو یہ جائز ہوگا۔
دہم : شرک کی دسویں قسم یہ ہے کہ خواہ عمل نہ ہو مگر دل میں محبت ، ادب ، خوف اور اُمید کے جذبات اور لوگوں کے متعلق خداتعالیٰ سے زیادہ یا اُس کے برابر رکھے جائیں ۔
کامل موحد وہی ہے جو شرک کی ان تمام اقسام سے بچے اور اللہ تعالیٰ کی احدیت پر سچّے دل سے ایمان لائے۔حق یہ ہے کہ شرک انسان کا نقطۂ نگاہ بہت ہی محدود کر دیتا ہے اور اس کی ہمت کو گِرا دیتا ہے اور اس کے مقصد کو ادنیٰ کر دیتا ہے۔ مشرک انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ براہ راست خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور اُسے کسی واسطہ کی ضرورت ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور انسانوں کے درمیان کوئی واسطہ نہیں رکھا اور سب انسانوں کے لئے اُس نے اپنے قرب کے دروازے کھلے رکھے ہیں جو چاہے اُن میں داخل ہو جائے ۔بے شک ایک دنیوی بادشاہ کیلئے سب رعایا سے تعلق رکھنا ممکن نہیں ہوتا مگر خدا تعالیٰ کی طاقتیں محدود نہیں ہیں ۔اُ س کی طاقت اور قدرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ سب سے براہِ راست تعلق رکھے اور انہیں اپنے قرب میں جگہ دے ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ44 ، مطبوعہ قادیان 2010)
…٭…٭…٭…