سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر32’’وَمَنْ يُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَاَ نَّمَا خَرَّمِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ‘‘کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
توحید کے مقابلہ میں شرک کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص بلندی سے گِر جائے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہوا اس کے ٹکڑوں کو دُور دُور پھینک دے کیونکہ مشرک اپنے کئی آقا تجویز کرتا ہے اور ہر آقا کو اس کے گوشت پر حق ہے ۔
اس جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ شرک کا مسئلہ ایسا سیدھا سادہ نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ نہایت باریک مسئلہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر قومیں جو بظاہر شرک کی مخالف ہیں عملاً شرک میں مبتلا پائی جاتی ہیں اور اس کا سبب یہی ہے کہ وہ شرک کی حقیقت سمجھنے سے قاصر رہی ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ شرک کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے بلکہ مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے اس مرض کی حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے ۔جب تک اُسے ایک تعریف کے اندر لانے کی کوشش کی جائے اُس وقت تک یہ مسئلہ ایک عقدۂ لاینحل ہی رہتا ہے ۔ میرے نزدیک شرک مندرجہ ذیل اقسام میں منقسم ہے :
اوّل :یہ خیال کرنا کہ ایک سے زیادہ ہستیاں ہیں جو یکساں طاقتیں رکھتی ہیں اور سب کی سب دنیا کی حاکم اور سردار ہیں، یہ شرک فی الذات ہے ۔
دوسرے :یہ خیال کرنا کہ دنیا کی مدبّر ہستیاں ایک سے زیادہ ہیں جن میں کمالات تقسیم ہیں کسی میں کوئی کمال ہے اور کسی میں کوئی ۔یہ شرک بھی شرک فی الذات میں ہی داخل ہے ۔
تیسرے :وہ اعمال جو مختلف قوموں میں عاجزی اور انکساری کیلئے اختیار کئے گئے ہیں ۔اُن میں سے جو حد درجہ کے انتہائی عاجزی کے اعمال ہیں اُن کو خدا کے سوا کسی اور کیلئے اختیار کرنا مثلاً سجدہ انتہائی ادب اور تذلّل کے اظہار کا ذریعہ ہے ،پس یہ عمل صرف خدا کیلئے جائز ہے کسی اور کیلئے نہیں لیکن سجدہ کے علاوہ بھی مختلف اقوام میں مختلف حرکاتِ بدن انتہائی تذلّل کیلئے قرار دے دی گئی ہیں جیسے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا ، یا رکوع وغیرہ کرنا ۔ان سب امور کو خدا تعالیٰ نے عبادتِ الٰہی کا حصّہ بنا دیا ہے ۔پس اب یہ عمل کسی اور کیلئے جائز نہیں ۔
چہارم :شرک کی چوتھی قسم یہ ہے کہ انسان اسباب ظاہری کے متعلق یہ سمجھے کہ ان سے میری سب ضروریات پوری ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ کے تصّرف کا خیال دل سے ہٹا دے اور یہ خیال کرے کہ صرف مادی اسباب ہی ضرورت کو پورا کرنے والے ہیں، یہ بھی شرک ہے ۔ہاں اگر یہ خیال کرے کہ ان سامانوں میں خداتعالیٰ نے فلاں طاقت رکھی ہے اور اس کے ارادہ کے ماتحت ان کے نتائج پیدا ہوں گے تو یہ شرک نہیں ہو گا۔
پنجم:شرک کی پانچویں قسم یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی وہ مخصوص صفات جو اُس نے بندوں کو نہیں دیں جیسے مردہ کو زندہ کرنا یا کوئی چیز پیدا کرنا یا خداتعالیٰ کا ازلی اور غیر فانی ہونا ایسے امور میں خداتعالیٰ کی خصوصیّت کو مٹا دیا جائے اور ان صفات میں کسی غیر کو شریک کر لیا جائے خواہ اس عقیدہ کی بنا پر ہی شریک کیا جائے کہ خدا نے اپنی مرضی اور اپنے اذن کے ساتھ یہ صفات یا ان کا کچھ حصّہ کسی خاص شخص کو دیدیا ہے، یہ بھی شرک ہی ہو گا ۔
ششم:شرک کی چھٹی قسم یہ ہے کہ انسان خداتعالیٰ کے بنائے ہوئے اسباب کو بالکل نظر انداز کر دے اور یہ سمجھے کہ کسی شخص یا کسی چیز نے بلا ان اسباب کے استعمال کرنے کے جو خداتعالیٰ نے کسی خاص کام کیلئے مقرر کئے ہیں اپنی خاص طاقت کے ذریعہ سے اس کام کو پورا کر دیا ہے ۔مثلاً خداتعالیٰ نے آگ کو جلانے کیلئے پیدا کیا ہے ۔ اب اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ کسی شخص نے اپنی ذاتی طاقت سے بلا دوسرے ذرائع استعمال کرنے کے جو قانونِ قدرت میں رکھے گئے ہیں آگ لگا دی تو یہ شرک ہو گا لیکن اس میں مسمریزم وغیرہ شامل نہیں کیونکہ یہ طاقتیں خود قانون قدرت کے اندر شامل ہیں کسی شخص کے ذاتی کمالات نہیں ۔
ہفتم : شرک کی ساتویں قسم یہ ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ خدا کو کسی بندہ سے ایسی محبّت ہے کہ وہ اس کی ہر ایک بات مان لیتا ہے کیونکہ اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ وہ بندہ خدائی طاقتیں رکھتا ہے۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 43 ، مطبوعہ قادیان 2010)
…٭…٭…٭…