حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
جس طرح ایک دفتر کا آدمی یا ایک تاجر کم سے کم سال کے بعد اپنے حسابات صاف کرتا ہے،اسی طرح اگر ہماری جماعت کے دوست بھی آپس کے حسابات صاف کر دیا کریں تو بہت سےنقائص اور عیوب دور ہو سکتے ہیں۔ ہم ہر سال بلکہ ہر ماہ اپنے قرض خواہوں کے قرض اتارنے کی فکر کرتے ہیں۔ اور جس شخص میں شرافت کا احساس ہوتا ہے وہ کوشش کرتا ہے کہ لوگوں کےاس پر جو حقوق ہیں ، انہیں ادا کر دے۔ مگر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنے کا کوئی دن مقررنہیں کیا جاتا۔ حالانکہ اگر سالانہ حساب بھی کیا جائے تو کئی ایسے قرضے ہو سکتے ہیں جنہیں ادا کرنےکی توفیق انسان کو مل سکتی ہے۔ مثلا یہی ایک قرض ہے کہ لوگ آپس میں محبت سے رہیں۔ اسےاتارنے کی توفیق پانا کوئی مشکل امر نہیں۔ بسا اوقات عارضی جوش میں دو دوست لڑ پڑتے ہیں اورخیال کرتے ہیں کہ اب ہم میں صلح نہیں ہو سکتی۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ کیفیت دور ہو جاتی ہے۔اور اگر چہ پھر بھی وہ شرم کی وجہ سے صلح نہیں کرتے لیکن خواہش ضرور رکھتے ہیں کہ کاش کوئی درمیان میں پڑ کر صلح کرادے۔ بظاہر وہ لڑے ہوئے ہوتے ہیں لیکن دل محبت کے جذبات سےلبریز ہوتے ہیں۔ اور انہیں دنیا پر شکوہ ہوتا ہے کہ کیوں کوئی ہماری صلح نہیں کر ا دیتا۔ (خطبات محمود:جلد 13، صفحہ :402-403مطبوعہ یوکے)