اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-07-18

توحید کو قبول کئے بغیر انسانی ذہن کبھی بھی اُلجھنوں اور پریشانیوں سے نجات نہیں پاسکتا جن لوگوں نے خداتعالیٰ کی ہستی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا وہ ہمیشہ اُلجھنوں اور پریشانیوں کے چکر میں ہی پھنسے رہے اور کبھی بھی حقیقی امن اور سکون اُن کو نصیب نہیں ہوا

سورۃ الحج آیت32 ’’فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ‘‘کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ توحید کو قبول کئے بغیر انسانی ذہن کبھی بھی اُلجھنوں اور پریشانیوں سے نجات نہیں پاسکتا۔چنانچہ واقعات بتاتے ہیں کہ جن لوگوں نے خداتعالیٰ کی ہستی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا وہ ہمیشہ اُلجھنوں اور پریشانیوں کے چکر میں ہی پھنسے رہے اور کبھی بھی حقیقی امن اور سکون اُن کو نصیب نہیں ہوا۔انسان جب اس دنیا کے پردہ پر پہلی مرتبہ ظاہر ہوا تو اس وقت سورج اُسے ایک سنہری تھال نظر آتا تھا،چاند اُسے ایک چمکدار ٹکیہ کی مانند دکھائی دیتا تھا اور ستاروں میں سے کوئی اسے دانوں کے برابر ،کوئی بیروں کے برابر اور کوئی اخروٹوں اور سیبوں کے برابر نظر آتا تھااور زمین کی جھاڑیاں اور درخت اُسے سورج ، چاند اور ستاروں سے بھی بڑے معلوم ہوتے تھے ۔اس کیلئے یہ بات حیرت انگیز تھی کہ سینکڑوں میل دُور جہاں تک اس کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا، جہاں وہ پہاڑوں پر چڑھ کر بھی نہیں پہنچ سکتا، ایک چھوٹی سی ٹکیہ نمودار ہو کر ساری دنیا کو روشن کردیتی ہےاور رات کے وقت ایک چھوٹی سی سفید تھالی ظاہر ہوکر سارے عالم کو چاندنی سے بھر دیتی ہے۔ ہزاروں ہزار ٹمٹمانے والے ستارے جَوّ میں پھیل جاتے ہیں اور چمک چمک کر اُس کی آنکھوں کو خیرہ کرتے ہیں اور اس کی نظر کیلئے ایک دلفریب نظارہ پیدا کرتے ہیں اور جب دن آتا ہے تو غائب ہو جاتے ہیں ۔یہ چیزیں اُسے ورطۂ حیرت میں ڈالنے والی تھیں اور یقینا اُسے ہمیشہ حیرت میں مبتلا رکھتیں اگر خداتعالیٰ کا ہاتھ ابتداء میں ہی اُسے پکڑ کر سیدھا راستہ نہ دکھا دیتا۔ ہم دیکھتے ہیں گھر میں کوئی معمولی ساکھٹکا بھی ہوتا ہے تو گھر والے اُٹھ کر تجسّس شروع کر دیتے ہیں۔کوئی کہتا ہے چھپکلی ہو گی، کوئی کہتا ہے چوہا ہوگا،کوئی کہتا ہے چور ہوگا ۔گویا ایک معمولی ساکھٹکا چھپکلی اور چوہے سے لیکر چور تک پہنچا دیا جاتا ہے… غرض ایک معمولی ساکھٹکا بھی جب انسان کو
پریشان کر دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ ایسے نظارے اُسے کس قدر حیران کر سکتے ہیں مگر جونہی کہ انسانیت سِن شعور کو پہنچی اللہ تعالیٰ نے اُسکے کان میں یہ آواز ڈال دی کہ میں تیرا اللہ ہوں اور جو کچھ تجھے نظر آتا ہے یہ سب میری مخلوق ہے، جس طرح کہ تو مخلوق ہے اور تو ایک دن مر کر میرے سامنے آنے والا ہے اور یہ سب چیزیں جو تجھے نظر آتی ہیں خواہ قریب ہوں یا بعید میںنے تیرے فائدہ اور تیری خدمت کیلئے پیدا کی ہیں اور سب تجھے نفع پہنچانے کے کاموں پر لگی ہوئی ہیں ۔اس آواز نے اسے کتنی پریشانیوں سے بچا لیا۔ اگر پہلا انسان یعنی آدم اپنے سِن شعور کو پہنچنے کے بعد اس آواز کو نہ سُنتا تو اُس کیلئے کس قدر مصیبت ہوتی اور وہ کتنی پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتا ۔دن چڑھتا تو اُس کیلئے ایک تکلیف کاآغاز ہوجاتا کہ سورج کی کنہہ معلوم کرےاور رات ہوتی تو ایک اور پریشانی کا دروازہ کھل جاتا کہ چاند کی حقیقت معلوم کرے اور
پھر یہ پتہ لگائے کہ ان چیزوں کا اس سے کیا تعلق ہے اور یہ اُسے نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہیں یا نہیں ؟ اور اس سے خوش ہو سکتی ہیں یا نہیں ! ہم دیکھتے ہیں کہ جنہوں نے اس آواز سے فائدہ نہیں اُٹھایا وہ اب تک انہیں چکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔چنانچہ تمام بُت پرست قومیں انہی الجھنوں میں مبتلا ہیں ۔کوئی کہتی ہے کہ چاند اور سورج پر ارواح چھا جاتی ہیں اور وہ ناراض یا خوش ہوتی ہیں ۔ اگر کسی شخص نے کوئی ایسا کام کیا جس کا نتیجہ خراب نکل آیا تو اُس نے خیال کر لیا کہ چاند پر چھائی ہوئی ارواح کو یہ بات پسند نہیں آئی اور اگر کسی نے کوئی کام کیا اور اُس کا اچھا نتیجہ نکل آیا تو اُس نے یہ سمجھ لیا کہ سورج کی روح کے نزدیک یہ کام اچھا ہے۔ مگر آدم کیسا مطمئن تھا اور کس بشاشتِ قلب سے بیٹھا تھا کیونکہ اُسے خداتعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ یہ سب چیزیں خدا نے اس کیلئے مسخر کر دی ہیںاور اس کی خدمت پر لگی ہوئی ہیں۔اسی لئے اُسے سورج اور چاند کی ناراضگی یا خوشنودی کے سامانوں کی تلاش میں پریشان ہو نے کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔موحد اور خدا رسیدہ آدم ان سب پریشانیوں سے محفوظ تھااور خداتعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتا تھا ۔اگر تجسّس صرف اس حد تک ہو کہ سورج مادی چیز ہے اُس کی شعاعوں میں اللہ تعالیٰ نے کیا کیا فائدے رکھے ہیں تو یہ ایک سائنس کی تحقیقات ہوگی۔ اس میں گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں لیکن اگر وہ ان چیزوں کو ہی خدا کا مرتبہ دے دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ان کا تعلق اس زندگی اور موت سے ہے او ر یہ اس کے اور اس کے بیوی بچوں کے آرام و راحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں تو اُسے دن رات ایک خلش رہے گی کہ معلوم نہیں یہ چیزیں مجھے کیا نقصان پہنچائیں۔ اور گر نقصان پہنچادیں تو معلوم نہیں میں اُس کا کس طرح ازالہ کروں ۔غرض مشرک کی ساری زندگی ایک ذہنی پریشانی اور گھبراہٹ کی تصویر ہوتی ہے۔اور وہ حیران ہوتا ہے کہ میں اپنے مصائب کا کیا علاج کروں! وہ کبھی ایک بُت کے آگے جھکتا ہے اور کبھی دوسرے کے آگے ۔کبھی اس کی ناراضگی کا اُسے خو ف آتا ہے اور کبھی اُس کی خفگی کا ۔کبھی ستاروں سے ڈرتا ہے اور کبھی سورج اور چاند سے لرزتا ہے اور کبھی پتھر کے بے جان بتوں سے اُس کا خون خشک ہوتا ہے۔ غرض زندگی کے کسی مرحلے میں بھی اُسے اطمینان نصیب نہیں ہوتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ اگر تم ذہنی کشمکش اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنا چاہتےہوتو بُت پرستی کے شرک سے بچو اور کامل موحد بن جائو پھر تمھیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور تمہیں دکھائی دیگا کہ ساری دُنیا تمہاری خدمت میں لگی ہوئی ہے۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 39، مطبوعہ قادیان 2010)
…٭…٭…٭…