اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-07-11

اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّۃَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے روحانی فائدہ اور ان کی ایمانی حفاظت کیلئے بنایا گیا تھا وہ وہی ہے جو مکّہ میں ہے اس میں ہر قسم کی برکتیں جمع کر دی گئی ہیں اور تمام دنیا کے لوگوں کیلئے اس میں فضل اور رحمت کے سامان اکٹھے کردئیے گئے ہیں

یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ان آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو الْبَیْتُ الْعَتِیْق قرار دیکر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ نہیں بنایا بلکہ وہ پہلے سے بنا ہو ا تھا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمٰعیل ؑ کے ساتھ مل کر صرف پہلے نشانوں پر اس کی دوبارہ تعمیر کی تھی۔ چنانچہ حضرت حاجرہ ؓ اور حضرت اسمٰعیل ؑ کو چھوڑ تے وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور جو دُعا کی اُس میں بھی یہ الفاظ آتے ہیں کہ رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ ( ابراہیم 18رکوع6)کہ اے میرے رب میں اپنی اولاد کو تیرے مقدس گھر کے قریب اس وادی میں چھوڑ چلاہوں جہاں نہ کھانے کیلئے کوئی دانہ ہے اور نہ پینے کیلئے کوئی چشمہ ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے بھی پہلے تعمیر ہو چکا تھا ۔اسی مضمون کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی اشارہ فرمایا ہے کہ اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّۃَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ ﴿آل‌عمران:رکوع 10﴾
یعنی سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے روحانی فائدہ اور ان کی ایمانی حفاظت کیلئے بنایا گیا تھا وہ وہی ہے جو مکّہ میں ہے ۔اس میں ہر قسم کی برکتیں جمع کر دی گئی ہیں اور تمام دنیا کے لوگوں کیلئے اس میں فضل اور رحمت کے سامان اکٹھے کردئیے گئے ہیں۔اس آیت میں وُضِعَ لِلنَّا سِ کے الفاظ اس پیشگوئی کے بھی حامل تھے کہ اس گھر کے ذریعہ وہ لوگ جو متفرق ہو چکے ہونگے پھر اکٹھے کر دئیے جائیں گے یعنی عالمگیر مذہب کا اس کے ساتھ تعلق ہوگا ۔اور ساری دنیا کو جمع کرنے کا یہ گھر ایک ذریعہ ہوگا چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مختلف اقوام ِ عالم کو ایک ہاتھ پر جمع کردیا اور اسی طرح کعبہ تمام متفرق لوگوں کو اکٹھا کرنے کا ذریعہ بن گیا ……
بہرحال بیت اللہ ایک نہایت ہی پُرانا مقام ہے اور تاریخ بھی اس کے قدیم ہونے کی شہادت دیتی ہے۔چنانچہ سرولیم میور ’’ لائف آف محمد ؐ ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ مکّہ کے مذہب کے بڑے اصولوں کو ایک نہایت ہی قدیم زمانے کی طرف منسوب کرنا پڑتا ہے گو ہیرو ڈوٹس مشہور یونانی جغرافیہ نویس نے نام لیکر کعبہ کا ذکر نہیں کیا مگر وہ عربوں کے بڑے دیوتائوں میں سے ایک دیوتا اِلا لات کا ذکر کرتا ہے (یعنی خداوئوں کا خدا) اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مکّہ میں ایک ایسی ہستی کی پرستش کی جاتی تھی جسے بڑے بڑے بتوں کا بھی خدا مانا جاتا تھا۔
پھر لکھا ہے کہ مؤرخ ڈایو ڈورس سکولس جو مسیحی سنہ سے پچاس سال پہلے گذرا ہے وہ بھی لکھتا ہے کہ عرب کا وہ حصّہ جو بحیرۂ احمر کے کنارے پر ہے اُس میں ایک معبد ہے جس کی عرب بڑی عزت کرتے ہیں ۔
( دیپاچہ لائف آف محمد ؐ c.11/103)
پھر لکھتا ہے کہ قدیم تاریخوں سے پتہ نہیں چلتا کہ یہ بنا کب ہے۔یعنی یہ اتنا پُرانا ہے کہ اس کے وجود کا تو ذکر آتا ہے مگر اس کی بناء کا پتہ نہیں چلتا ۔یہ بالکل اَلْبَیْتُ الْعَتِیْق کا ہی مفہوم ہے جو دوسرے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے ۔
پھر لکھتا ہے کہ بعض تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ عمالقہ نے اسے دوبارہ بنایا تھا ۔اور کچھ عرصہ تک اُن کے پاس رہا اور تورات سے پتہ چلتا ہے کہ عمالقہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تباہ ہو ئے تھے (خروج باب ۱۷ آیت ۸تا ۱۶ وگنتی باب ۲۴ آیت ۲۰) گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے بھی بہت پہلے عمالقہ اس پر قابض رہ چکے تھے اور وہ بھی اس کے بانی نہ تھے بلکہ یہ گھر اُن سے بھی پہلے کا بنا ہوا تھا اور انہوں نے اُس کے تقدس پر ایمان لاتے ہوئے اسے دوبارہ تعمیر کیا تھا ۔پس تاریخی شواہد کی رو سے بھی بیت اللہ کا بیت عتیق ہونا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے ۔
اس موقعہ پر حضرت محی الدین صاحبؒابن عربی کے ایک کشف کا ذکر کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے اپنی کتاب فتوحات ِ مکیہ کی جلد ۳میں بیان فرمایا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ کشفی حالت میں دیکھا کہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا ہوں اور میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی ہیں جو بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں مگر وہ کچھ اجنبی قسم کے لوگ ہیں جن کو میں پہچانتا نہیں۔ پھر انہوں نے دو شعر پڑھے جن میں سے ایک تو مجھے بھول گیا مگر دوسرا یاد رہا۔وہ شعر جو مجھے یاد رہا وہ یہ تھا کہ
لَقَدْ طُفْنَا کَمَا طُفْتُمْ سِنِیْنَا
بِھٰذَا لْبَیْتِ طُرًّا اَجْمَعِیْنَا
یعنی ہم بھی اس مقد س گھر کا سالہا سال اسی طرح طواف کرتے رہے ہیں جس طرح آج تم اس کا طواف کر رہے ہو ۔وہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس پر بڑا تعجب ہو ا پھر اُن میں سے ایک شخص نے مجھے اپنا نام بتا یا مگر وہ نام بھی ایسا تھا جو میرے لئے بالکل غیر معروف تھا ۔اس کے بعد وہ شخص مجھ سے کہنے لگا کہ میں تمہارے باپ دادوں میں سے ہوں ۔میں نے پوچھا کہ آپ کو وفات پائے کتنا عرصہ گذر چکا ہے اُس نے کہا کہ چالیس ہزار سال سے زیادہ عرصہ گذر رہا ہے ۔میں نے کہا زمانۂ آدم پرتو اتنا عرصہ نہیں گذرا ۔اُس نے کہا کہ تم کس آدم کا ذکر کرتے ہو کیا اُس آدم کا جو تمہارے قریب ترین زمانہ میں ہوا ہے ۔یا کسی اور آدم کا ۔وہ کہتے ہیں اس پر معًا مجھے آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث یا د آگئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ آدم پیدا کئے ہیں ۔اور میں نے سمجھا کہ میرے یہ جدِّاکبر بھی انہیں میں سے کسی ایک آدم سے تعلق رکھنے والے ہونگے ۔
( فتوحات مکیہ جلد 3باب390ص549)
حضرت محی الدین صاحبؒابن عربی کا یہ کشف بھی بتا رہا ہے کہ بیت اللہ نہایت قدیم زمانہ سے دنیا کا مرکز اور لوگوں کی ہدایت کا ایک ذریعہ بنا رہا ہے اور اسی طرح یہ دنیا بھی لاکھوں سال سے چلی آرہی ہے ۔چنانچہ آج سے ہزار ہا سال قبل بھی لوگ اس مقّدس گھر کا اِسی طرح طواف کرتے رہے ہیں جس طرح آج ہم بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں ۔یہی حقیقت قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے کہ یہ البیت العتیق ہے جو زمانۂ قدیم سے خدا تعالیٰ کے انوار و برکات کا تجلی گاہ رہا ہے اور قیامت تک دنیا کو ایک مرکز پر متحد رکھنے کا ذریعہ بنا رہیگا ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 36، مطبوعہ قادیان 2010)
…٭…٭…٭…