کئی لوگ حج کی خواہش تو رکھتے ہیں مگر وقت پر اُسے پورا نہیں کرتے اور اس طرح وہ ایک بہت بڑی نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں ۔پس جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے استطاعت عطا فرمائی ہو وہ حج بیت اللہ سے مشرف ہونے کی کوشش کریں مگر حج میں بھی جب تک تقویٰ اور خشیۃ اللہ کو مدّنظر نہ رکھا جائے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ۔میں جب حج کرنے کیلئے گیا تو سورت کے علاقہ کے ایک نوجوان تاجر کو میں نے دیکھا کہ جب وہ منٰی کی طرف جا رہا تھا تو بجائے ذکرالٰہی کرنے کے اردو کے نہایت ہی گندے عشقیہ اشعار پڑھتا جا رہا تھا اتفاق کی بات ہے کہ جب میں واپس آیا تو جس جہاز میں مَیں سفر کر رہا تھا اُسی جہاز میں وہ بھی واپس آرہا تھا ایک دن میں نے موقعہ پا کر اُس سے پوچھا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ حج کیلئے کیوں آئے تھے ۔میں نے تو دیکھا ہے کہ آپ منٰی کو جاتے ہوئے بھی ذکر الٰہی نہیں کر رہے تھے ۔اُس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں حاجی کی دوکان سے لوگ سودا زیادہ خریدا کرتے ہیں جہاں ہماری دوکان ہے اُس کے بالمقابل ایک اور شخص کی دوکان بھی ہے ۔وہ حج کرکے گیا اور اُس نے اپنی دوکان پر حاجی کا بورڈ لگا لیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے گاہک بھی اُدھر جانے لگ گئے ۔یہ دیکھ کر میرے باپ نے مجھے کہا کہ تُو بھی حج کر آ تا کہ واپس آکر تُو بھی حاجی کا بورڈ اپنی دوکان پر لگا سکے ۔اب بتائو کہ کیا اُس کا حج اس کیلئے ثواب کا موجب ہوا ہوگا ؟ثواب کا تو کیا سوال ہے اُس کا حج اُس کیلئے یقینا گناہ کا موجب ہوا ہوگا ۔ پس انسان کو اپنے تمام کاموں میں ہمیشہ یہ امر ملحوظ رکھنا چاہیئے کہ اچھے سے اچھا کام کرنے میں بھی خداتعالیٰ کی رضا کو مدّنظر رکھےورنہ وہی نیکی اس کیلئے ہلاکت اور عذاب کا باعث بن جائیگی۔بے شک حج ایک بڑی نیکی ہے لیکن اگر کوئی شخص محض اس لئے حج پر جاتا ہے کہ اس کا لوگوں میں اعزاز بڑھ جائے یا رسم و رواج کے ماتحت جاتا ہے یا اس لئے جاتا ہے کہ لوگ اُسے حاجی کہیں تو وہ اپنا پہلا ایمان بھی مٹا کر آئیگا ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃوالسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سردی کا موسم تھا ۔کسی ریل کے اسٹیشن پر کوئی اندھی بڑھیا گاڑی کے انتظار میں بیٹھی تھی ۔اس کے پاس کوئی کپڑا بھی نہ تھا سوائے ایک چادر کے جو اُس نے پاس رکھی ہوئی تھی تاکہ جب گاڑی میں بیٹھنے کے بعد تیز ہوا کی وجہ سے سردی محسوس ہو تو اوڑھ لے ۔ اُس نے وہ چادر پاس رکھی ہوئی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ اُسے ٹٹول لیتی تھی ۔ایک شخص اس کے پاس سے گذرا اور اُس نے سوچا کہ یہ تو اندھی ہے او ر پھر اندھیرا بھی ہو چکا ہے ۔ اس لئے اگر میں یہ چادر اٹھا لوں تو نہ اس کو پتہ لگے گا اور نہ پا س کے لوگوں کو پتہ لگے گا ۔اس پر اُس نے چپکے سے وہ چادر کھسکا لی ۔ بڑھیا چونکہ بار بار اُسے ٹٹولتی تھی اُسے پتہ لگ گیا کہ کسی نے چادر اٹھالی ہے ۔اُس نے جھٹ آوازیں دینی شروع کر دیں کہ اے بھائی حاجی میری چدّر دے دو۔میں اندھی غریب ہوں اور میرے پاس اور کوئی کپڑا نہیں ۔وہ شخص فوراً واپس مڑا اور اُس نے چادر تو آہستہ سے اُس کے ہاتھ میں پکڑا دی مگر کہنے لگا ۔مائی یہ تو بتائو تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ میں حاجی ہوں ۔وہ بڑھیا کہنے لگی بیٹا ! ایسے کام سوائے حاجیوں کے اور کوئی نہیں کر سکتا ۔میں اندھی کمزور اور غریب ہوں ، سردی کا موسم ہے اور میں بالکل اکیلی ہوں ۔ایسی حالت میں میرا ایک ہی کپڑا چُرانے کی کوئی عادی چوربھی جرأ ت نہیں کر سکتا۔یہ ایسا کا م ہے جسے حاجی ہی کر سکتا ہے ۔
غرض حج کااُسی صورت میں فائدہ ہو سکتا ہے جب انسان اپنے دل میں خداتعالیٰ کا خوف رکھے اور اخلاص اور محبت کے ساتھ اس فریضہ کو ادا کرے ۔اگر وہ اخلاص کے ساتھ حج کیلئے جاتا ہے تو وہ ایمانوں کے ڈھیر لے کر واپس آتا ہے اوراگر وہ اخلاص کے بغیر جاتا ہے تو وہ اپنے پہلے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ35، مطبوعہ قادیان 2010)
…٭…٭…٭…