اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-06-27

حج ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم رُکن ہے

حج سے مسلمانوں کے اندر مرکزیت کی روح بھی پیدا ہوتی ہے اور انہیں اپنی اور باقی دنیا کی ضرورتوں کے متعلق غورو فکر کرنے کا موقعہ مل جاتا ہے ۔اسی طرح ایک دوسرے کی خوبیوں کو دیکھنے اور اُنکو اخذ کرنے کا انہیں موقع ملتا ہے اور باہمی اخوت اور محبت میں ترقی ہوتی ہے ۔غرض حج ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم رُکن ہے جسکی طرف اسلام نے لوگوں کو توجہ دلائی ہے ۔وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مالی وسعت عطا فرمائی ہو اور جنکی صحت سفر کے بوجھ کو برداشت کر سکتی ہواُنکا فرض ہے کہ وہ اس حکم پر عمل کریں اور حج بیت اللہ کی برکات سے مستفیض ہوں ۔میں سمجھتا ہوں آجکل کے امراء کیلئے سب سے بڑی نیکی حج ہی ہے کیونکہ باوجود مال و دولت کے وہ کبھی حج کیلئے نہیں جاتے اورجو لوگ حج پر جاتے ہیں اُن میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں جن پر حج واجب نہیں ہوتا ۔میں جب حج کیلئے گیا تو ایک حاجی میرے پاس آیا اور اُسنے مجھ سے کچھ مانگا ۔حضرت نانا جان صاحبؓمرحوم میرے ساتھ تھے انہوں نے اُسے کہا کہ اگر تمہارے پاس کچھ نہیں تھا تو تم حج کیلئے آئے کیوں ؟ وہ کہنے لگا ۔میرے پاس بہت روپے تھے مگر سب خرچ ہوگئے ۔حضرت نانا جان مرحوم نے پوچھا کہ کتنے روپے تھے وہ کہنے لگا جب میں بمبئی پہنچا تھا تو میرے پاس پینتیس روپے تھے اور میں نے ضروری سمجھا کہ حج کر آئوں ۔تو وہ پینتیس رپوئوں کو ہی بہت سمجھتا تھا مگر مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ۳۵ہزار بلکہ ۳۵۔۳۵لاکھ روپے رکھتے ہیں اور پھر بھی وہ حج کیلئے نہیں جاتے لیکن غرباء میں بہت حاجی نظر آتے ہیں ۔ایک شخص ساری عمر تھوڑا تھوڑا روپیہ جمع کرتا رہتا ہے اور جب چند سو روپیہ اسکے پاس اکٹھا ہو جاتا ہے تو وہ تمام عمر کا اندوختہ لے کر حج کے لئے چل پڑتاہے حالانکہ اُسی روپیہ پر اُس کے بیوی بچوں کی آئندہ زندگی کا مدار ہوتا ہے ۔وہ اگر اس روپے سے اچھے بیل خرید لے یا کچھ ایکڑزمین لے لے تو اس کے بیوی بچوں کیلئے سہولت پیدا ہو سکتی ہے لیکن وہ اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتا اور روپیہ اٹھا تا اور حج کیلئے چل پڑ تا ہے۔ تو امراء کیلئے سب سے بڑی نیکی حج ہے کیونکہ وہ حج میں سب سے زیادہ کوتاہی کرتے ہیں ۔ اسی طرح کئی ملازم ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پنشن لے کر حج کو جائیں گے لیکن یہ خیال نہیں کرتے کہ پنشن پانے کے بعد زندگی بھی پائیں گے یا نہیں۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ پنشن لینے کے بعد ایسے بیمارپڑتے ہیں کہ اس قابل ہی نہیں رہتے کہ حج کو جا سکیں ۔پنشن تو گورنمنٹ دیتی ہی اُسی وقت ہے جب اچھی طرح نچوڑ لیتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اب یہ ہمارے کام کا نہیں رہا۔پھر بعض لوگ کاروبار کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ اگلے سال جائینگے پھر اُس سے اگلے سال کا ارادہ کر لیتے ہیں حالانکہ دُنیا کے کام تو ختم ہوتے ہی نہیں ۔ اگر خداتعالیٰ نے توفیق دی ہو تو جلدی حج کرلینا چاہئیے ۔
میں جب تعلیم کیلئے مصر گیا تو ارادہ تھا کہ حج بھی کرتا آئونگا ۔مگر یہ پختہ ارادہ نہ تھا کہ اُسی سال حج کرونگا ۔یہ بھی خیال آتا تھا کہ واپسی پر حج کرونگا ۔جب میں بمبئی پہنچا تو وہاں نانا جان صاحبؓمرحوم بھی آملے ۔وہ براہ راست حج کو جارہے تھے ۔اس پر میرا بھی ارادہ پختہ ہو گیا کہ اسی سال ان کے ساتھ حج کر لوں ۔جب پورٹ سعید پہنچے تو میں نے رئویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر حج کی نیت ہے تو کل ہی جہاز میں سوار ہو جائو کیونکہ یہ آخری جہاز ہے گو حج میں ابھی دس پندرہ روز کا وقفہ تھا مگر فاصلہ بھی وہاں سے قریب ہے اسلئے خیال کیا جاتا تھا کہ ابھی اور کئی جہاز حاجیوں کے مصر سے جدہ جائینگے میرے ساتھ عبدالحئی صاحب عرب بھی تھے وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اگلے جہاز پر چلے جائینگے مگر مجھے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اگر نیت ہے تو اسی جہاز سے جائو ورنہ جہازوں میں روک پیدا ہو جائیگی۔ اسلئے میں نے چلنے کا پختہ ارادہ کر لیا ۔وہاں جو ایک دو اصحاب واقف ہوئے تھے وہ بھی کہنے لگے کہ ابھی تو کئی جہاز جائینگے ۔قاہرہ اور اسکندریہ وغیرہ دیکھتے جائیں۔ اتنی دُور آکر انکو دیکھے بغیر چلے جانا مناسب نہیں مگر میں نے کہا کہ مجھے چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کل نہ جانے سے حج رہ جانے کا خطرہ ہے اسلئے میں تو ضرور جائونگا ۔چنانچہ اُس جہاز ران کمپنی سے گورنمنٹ کا کوئی جھگڑا تھا اس جھگڑے نے ایسی صورت اختیار کرلی کہ وہ جہاز آخری ثابت ہوا اور کمپنی والے اس سال حاجیوں کیلئے کوئی اور جہاز نہ لے گئے ۔
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 33، مطبوعہ قادیان 2010)
…٭…٭…٭…