اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-06-13

صفا اور مروہ پر ہر حاجی کو سات دفعہ دوڑنا پڑتا ہے یہ دوڑنا حضرت ہاجرہ ؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کا ایک اقرار ہوتا ہے ،یہ دوڑنا اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اگر ہمیں بھی خدا کیلئے کسی وقت اپنے عزیزوں کو چھوڑ نا پڑا تو ہم انہیں چھوڑنے میں کوئی دریغ نہیں کریں گے

حج اُس سچّے اخلاص کے واقعہ کو بھی تازہ کرتا ہے جس کا نمونہ آج سے چارہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دکھا یا اور جس کے نتائج آج تک دنیا کو نظر آرہے ہیں ۔اُور کی سرزمین میں آج سے چار ہزار سال پہلے ایک مشرک گھرانے میں ایک بچہ پیدا ہوا( دیکھو پیدائش باب 11آیت28 ) اُس نے ایسے لوگوں میں تربیت پائی جن کا رات دن مشغلہ خدا کا شریک بنانا اور بتوں کی پرستش کرناتھا۔مگر وہ بچہ ایک نورانی دل لے کر پید اہوا تھا اور وہ بچپن سے ہی بُتوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتا تھا ۔جب دنیا کی بڑھتی ہوئی گمراہی اور اُس کے طوفانِ ضلالت کو دیکھ کر خداتعالیٰ نے چاہا کہ بنی نوع انسان میں سے کسی کو اپنا بنائے تو اُس کی جوہر شناس نگاہ نے کسدیوں کی بستی میں سے ابراہیم کو چنا ( پیدائش باب11آیت 31) اور اُسے اپنے فضل سے ممسوح کیا اور اُسے کہا کہ اے ابراہیم جا اور اپنے بیٹے کو قربان کر تاکہ لوگوں سے الگ میری خاص حفاظت اور نگرانی میں ایک پنیری لگائی جائے۔نیکی اور تقویٰ کی پنیری ۔ایک چشمہ پھوڑاجائے ۔پاکیزگی اور طہارت کا چشمہ ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا بہت اچھا میں تیار ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اس بیٹے کو جو بڑھاپے میں نصیب ہوا تھا، اس وادیٔ غیر ذی زرع میں لاکر چھوڑ دیا جس کے متعلق قرآن کہتا ہے کہ اُس میں کھانے اور پینے کا کوئی سامان نہیں تھا ۔ ایسی پُر خطر اور بھیانک وادی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف اس لئے اپنے بیٹے اور اُس کی والدہ کو چھوڑا تاکہ خدا کا ذکر بلند ہو اور اُس کی کھوئی ہوئی عظمت دنیا میں پھر قائم ہو۔صرف ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجور اُس ماں اور بچے کو دیئے گئے جن کے متعلق یہ الٰہی فیصلہ تھا کہ اب انہوں نے اسی جنگل میں ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی بسر کرنی ہے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سوچا کہ ایک مشکیزہ پانی اور ایک تھیلی کھجور کتنے دن کا م دے سکتی ہے ۔پھر سوائے ریت کے ذرّوں اور آفتاب کی چمک کے او ر کوئی چیز میری بیوی
اور بچے کیلئے نہیں ہوگی ۔یہ سوچتے ہی اُن پر رقت طاری ہوگئی اور آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ حضرت ہاجرہ ؓ ان کی آنکھوں کی نمی اور ہونٹوں کی پھڑ پھڑ اہٹ سے سمجھ گئیں کہ بات کچھ زیادہ ہے ۔وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے چلیں اور کہنے لگیں ابراہیم ؑ ! تم ہمیں کہاں چھوڑ چلے ہو یہاں تو پینے کیلئے پانی تک نہیں اور کھانے کیلئے کوئی غذا نہیں ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دینا چاہا مگر رقّت کی وجہ سے آواز نہ نکل سکی۔تب حضرت ہاجرہؓنے کہا کہ کیا آپ خدا کے حکم سے ایسا کر رہے ہیں یا اپنی مرضی سے؟اس پر انہوں نے آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا دئیے جس کے معنے یہ تھے کہ میں خدا کے حکم کے ماتحت ایسا کر رہا ہوں ۔اس جواب کو سُن کر یقین اور ایمان سے پُر ہاجرہؓجو اپنی جوانی کی عمر میں تھی اور جس کا ایک ہی بیٹا تھا جو اُس وقت موت کی نذر ہو رہا تھا فوراً رُک گئی اور کہنے لگی اگر
یہ بات ہے تو پھر خدا ہمیں کبھی ضائع نہیں کریگا ۔آخر پانی ختم ہو ا۔غذا ختم ہوئی اور باوجود اس کے کہ اس علاقہ میں کوئی چیز نظر نہ آتی تھی حضرت ہاجرہ ؓاپنے بچے کی تکلیف کو نہ دیکھ کر جو پیاس سے تڑپ رہا تھا ایک ٹیلے پر چڑھ گئیں کہ شاید کوئی آدمی نظر آئے اور اس سے پانی مانگ لیں یا شاید کوئی آبادی دکھائی دے۔انہوں نے جس حد تک انسانی نظر کام کر سکتی تھی دیکھا مگر انہیں کہیں پانی کا نشان نظر نہ آیا ۔تب وہ اسی گھبراہٹ میں اُتریں اور دوڑتی ہوئی دوسرے ٹیلے پر چڑھ گئیں ۔ وہاں سے بھی دیکھا مگر پانی کے کوئی آثار نظر نہ آئے ۔ اسی کرب و اضطراب کی حالت میں حضرت ہاجرہ ؓ سات دفعہ دوڑیں اور آخر اُن کا دل بیٹھنے لگا کہ اب کیا ہوگا ۔ اس پر معًا خداتعالیٰ کا الہام نازل ہوا کہ اے ہاجرہ ؓ ! خدا نے تیرے بچے کیلئے سامان پیدا کر دیا ہے ۔جا اور اپنے بچے کو دیکھ۔ حضرت ہاجرہ ؓواپس آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ جہاں بچہ پیاس سے تڑپ رہا تھا وہاں پانی کا ایک چشمہ اُبل رہا ہے ۔یہی وہ چشمہ ہے جس کو چاہ زمزم کہتے ہیں ۔ زمزم درحقیقت اُس گیت کو کہتے ہیں جو خوشی میں گایا جاتا ہے۔معلوم ہوتا ہے حضرت ہاجرہ ؓ نے اُس چشمہ کانام خود زمزم رکھا تھا کیونکہ اس چشمہ کے ذریعہ سے اپنے بچہ کی نجات کی خوشی میں اُن کیلئے شکریہ میں گانے کا موقعہ پیدا ہوا تھا ۔پانی کا تو اللہ تعالیٰ نے اس طرح انتظام کر دیا اب غذا کی فکر تھی۔ اتفاقًا ایک قافلہ راستہ بھول گیا اور وہ اُسی جگہ آپہنچا جہاں حضرت ہاجرہؓبیٹھی تھیں ۔قافلہ والوں کو پانی کی سخت ضرورت تھی انہوں نے جب وہاں چشمہ دیکھا تو حضرت ہاجرہؓسے کہا کہ ہم آپ کی رعایا بن کر یہاں رہیں گے ۔آپ ہمیں اس جگہ بسنے کی اجازت دے دیں۔ حضرت ہاجرہؓنے انہیں اجازت دیدی۔ اور وہ وہاں حضرت ہاجرہ ؓاور اسمٰعیل ؑ کی رعایا بن کر رہنے لگے ۔اور پیشتر اس کے کہ اسمٰعیل ؑجو ان ہوتا خدا نے اُسے بادشاہ بنا دیا۔ ( بخاری کتاب بدء الخلق)
آج تک حج کے ایّام میں حضرت ہاجرہؓکے اس واقعہ کی یاد گار کے طور پر ہی صفا اور مروہ پر ہر حاجی کو سات دفعہ دوڑنا پڑتا ہے ۔یہ دوڑنا حضرت ہاجرہ ؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کا ایک اقرار ہوتا ہے ۔یہ دوڑنا اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اگر ہمیں بھی خدا کیلئے کسی وقت اپنے عزیزوں کو چھوڑ نا پڑا تو ہم انہیں چھوڑنے میں کوئی دریغ نہیں کریں گے ۔پس حج ایک اہم عبادت ہے جو اسلام نے مقرر کی ہے ۔جب کوئی شخص مکہ مکرمہ میں جاتا ہے اور مناسکِ حج کو پوری طرح بجا لاتا ہے تو اس کی آنکھوں کے سامنے یہ نقشہ آجاتا ہے کہ کس طرح خداتعالیٰ کے لئے قربانی کرنیو الے ہمیشہ کیلئے زندہ رکھے جاتے ہیں ۔(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 32)
…٭…٭…٭…