سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیات 28 تا 30 کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ کا ذکر فرمایا ہے جو ایک اہم اسلامی عبادت ہے اور جس کے مطابق ہر سال لاکھوں آدمی جن میں سے کوئی کسی قوم کا ہوتا ہے اور کوئی کسی ملک کا ایک دوسرے کے رسم و رواج ایک دوسرے کی زبان اور ایک دوسرے کی عادات وغیرہ سے ناواقف ہوتے ہوئے مکّہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں اور اپنے عمل سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اسلامی توحید نے مسلمانوں کے دلوں کو ایسا متحد کر دیا ہے کہ باوجود اختلافِ زبان،اختلافِ عقائد ، اختلاف ِ رنگ و نسل، اختلاف ِ خیالات اور اختلافِ آب و ہوا کے ہم اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیّک کہہ کر ایک جگہ پر جمع ہونے کیلئے تیار ہیں ۔اسی طرح مسلمانوں نے اپنے عمل سے ظاہری حج کے علاوہ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ خانہ کعبہ کی حفاظت کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں اور جب تک مسلمانوں میں یہ رُوح قائم رہیگی کسی دشمن کی یہ طاقت نہیں ہوگی کہ وہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرے یا مسلمانوں کی یکجہتی کو توڑ سکےکیونکہ جبتک خانہ کعبہ رہیگا مسلمانوں کی یکجہتی بھی قائم رہیگی۔اُنکی آنکھوں کے سامنے نہ صرف یہ نظارہ ہوتا ہے کہ دنیا کے کن کن کونوں میں خدا تعالیٰ نے اسلام کو پھیلا دیا بلکہ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایک بے آب و گیاہ جنگل سے بلند ہونیوالی وہ آواز جسکو غیر تو الگ رہے اپنے بھی نہیں سُنتے تھے اور آواز دینے والے کو ہر قسم کے مظالم کا تختۂ مشق بناتے تھے،آج دنیا کے کونوں ، کونوں تک پہنچ کر لاکھوں انسانوں کے اجتماع کا باعث بن رہی ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان نشان کو دیکھتے اور اپنے ایمانوں میں ایک تازگی اور لطافت محسوس کرتے ہیں کہ کہاں محمد رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے جنہوں نے ایک ایسی آواز بلند کی جو گونجی اور گونجتی چلی گئی یہاں تک کہ وہ دُور دراز ملکوں میں پہنچی اور لاکھوں لوگو ں کو یہاں کھینچ لائی اور وہ مکّہ جہاں رہنے والوں کی اذیتّوں اور تکلیفوں کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور جنھیں اِس سرزمین میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے کی اجازت تک نہیں تھی آج اُسی مکّہ مکرمہ میں ہر ایک کی زبان پر اَللّٰہُ اَکْبَرُاَللّٰہُ اَکْبَرُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ۔اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ جاری ہے اور وہ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ کہتے جارہے ہیں ۔گویا اسوقت خداتعالیٰ اُنکے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور وہ اُس سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اَے ہمارے ربّ ہم حاضر ہیں ہم اقرار کرتے ہیں کہ تیرا کوئی شریک نہیں صرف تُو ہی اس امر کا مستحق ہے کہ بندوں کو آواز دےاور اے خدا تیرے بلانے پر ہم تیرے حضور حاضر ہیں ۔پس مکّہ مکرمہ وہ مقام ہے جہاں ہر سال لاکھوں مسلمان صرف اسلئے جمع ہوتے ہیں کہ وہ خداتعالیٰ کی عبادت کریں اور دنیا کے سامنے اس بات کی شہادت پیش کریں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا لایا ہوا دین آج بھی زندہ ہے اورآپ کے خادم آج بھی آپ کی آواز کو بلند کرنے کیلئے دنیامیں موجود ہیں ۔گویا حج دنیا کو یہ پیغام پہنچاتا ہے کہ اسلام کی رگوں میں اب بھی زندگی کا خون دوڑ رہا ہے ۔اب بھی محمد رسول اللہ ﷺ سے عشق رکھنے والے لوگ اسلام کے مرکز مکّہ مکرمہ میں جمع ہیں اور انہوں نے اپنے اس تعلق کا اعلان کیا ہے جو انہیں اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات سے ہے۔ انہوں نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ چاہے کمزورہی سہی لیکن محمد رسول اللہ ﷺکے نام لیوا اب بھی دنیا میں موجو د ہیں اور اب بھی مسلمانوں کی قومی زندگی کی رگ پھڑک رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جس طرح نماز اور روزہ اور زکوٰۃ کو ضروری قرار دیا ہے اسی طرح اُس نے حج کو بھی ایک ضروری فریضہ قرار دیا ہے۔(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 30)