سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت 27 وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَہِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
چونکہ دنیا کی تمام مساجد بھی بیت اللہ ہیں کیونکہ وہ بھی خداتعالیٰ کے ذکر کے لئے مخصوص ہوتی ہیں اور بیت اللہ کے ظل کے طورپر ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں قائم فرمایا ہے اس لئے کہ یہ احکام صرف بیت اللہ کیلئے ہی مخصوص نہیں بلکہ ہر مسجد پر بھی ظّلی طور پر چسپاں ہوتے ہیں ۔
اس نقطۂ نگاہ سے اگر غور کیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں مساجد کی تین اہم اغراض بیان کی گئی ہیں ۔
اوّل- مساجد اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ مسافر اُن سے فائدہ اٹھائیں ۔
دوم-مساجد اس لئے بنائی جاتی ہیںکہ شہرمیںرہنے والے اُن سے فائدہ اٹھائیں ۔
سوم -مساجد اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ رکوع و سجود کرنے والے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضاکیلئے اپنی زندگی وقف کرنے والے اور توحیدِ کامل پر قائم لوگ اُن سے فائدہ اٹھائیں ۔
مسافر تو مسجد سے اس رنگ میں فائدہ اٹھاسکتا ہے کہ اگر اُسے کو ئی اور ٹھکانہ نہ ملے تو وہ اُس میں چند روز قیام کرکے رہائش کی دِقتّوں سے بچ سکتا ہے ۔ اور مقیم اس رنگ میں فائدہ اٹھا سکتا ہے کہ مسجد شورو شغب سے محفوظ مقام ہو تا ہے ۔ وہ اس میں بیٹھ کر اطمینان اور سکون سے دعائیں کر سکتا اور اپنے رب سے مناجات کر سکتا ہے ۔ اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کیلئے وقف کر دیتے ہیں اُن کا اصل ٹھکانہ تو مسجد ہی ہوتا ہے کیونکہ مسجد مومنوں کے اجتماع کا مقام ہوتی ہے اور دُعائوں اور ذکر الٰہی کی جگہ ہوتی ہے ۔ایسے مقام سے کوئی سچا عشق اور تعلق رکھنے والا انسان جدا ہی نہیں ہو سکتا۔مگر یہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ ذکر الٰہی کا قائم مقام وہ تمام کا م بھی ہیں جو قومی فائدہ کے ہوں ۔خواہ وہ قضاء کے متعلق ہوں یا جھگڑوں اور فسادات کے متعلق ہوں یا تعلیم کے متعلق ہوں یا کسی اور رنگ میں مسلمانوں کی ترقی اور اُن کے تنزل کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو اگر دیکھا جائے تو لڑائیوں کے فیصلے بھی مسجد میں ہوتے تھے ۔ قضاء بھی وہیں ہوتی تھی ۔
تعلیم بھی وہیں ہوتی تھی ۔جس سے معلو م ہوتا ہے کہ مساجد صرف اللہ اللہ کرنے کیلئے ہی نہیں بلکہ بعض دوسرے کام بھی جو قومی ضرورتوں سے تعلق رکھتے ہیں مساجد میں کئے جا سکتے ہیں کیونکہ اسلام
میں ذکر الٰہی صرف اس بات کا نام نہیں کہ انسان سبحان اللہ سُبحان اللہ کہتا رہے بلکہ اگر کوئی بیوہ کی خدمت کرتا ہے تو وہ بھی دین ہے ۔اگر کوئی یتیم کی پرورش کرتا ہے تو وہ بھی دین ہے ۔اگر کوئی شخص لوگوں کے جھگڑے دور کرتا اور اُن میں صلح کراتا ہے تو یہ بھی دین ہے۔پس وہ تمام کام جن سے قوم کو فائدہ پہنچے اور جو قوم کے اخلاق اور اسکی دنیوی حالت کو اونچا کریں ذکر الٰہی میں شامل ہیں اور اُنکا مساجد میں کرنا جائز ہے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر کوئی مہمان آجاتا تو آپ مسجد میں ہی صحابہ ؓکو مخاطب کرکے فرماتے کہ فلاں مہمان آیا ہے تم میں سے کون اسے ساتھ لے جائیگا ۔اب بظاہر یہ روٹی کا سوال تھا لیکن درحقیقت دین تھا اس لئے کہ اس سے ایک دینی ضرورت پوری ہوتی تھی ۔ لوگوں نے غلطی سے دین کے معنوں کو بہت محدود کر دیا ہے حالانکہ دین اس لئے نازل ہوا ہے کہ انسان کا خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کرے اور خداتعالیٰ بغیر کسی خدمت کے بندہ سے نہیں ملتا بلکہ وہ یتیم کی پرورش کرنے سے ملتا ہے ۔وہ بیوہ کی خدمت کرنے سے ملتا ہے ۔وہ کافر کو تبلیغ کرنے سے ملتا ہے ۔وہ مومن کو مصیبت سے نجات دلانے سے ملتا ہے۔ پس ان باتوں کا اگر مسجد میں ذکر کیا جاتا ہے تو یہ
دنیا نہیں بلکہ دین کا ہی حصّہ ہوگا۔ہاں مساجد میں خالص ذاتی کاموں کے متعلق باتیں کرنا منع ہے ۔ مثلاً اگر تم کسی سے پوچھتے ہو کہ تمہاری بیٹی کی شادی کا کیا فیصلہ ہوا یا کہتے ہو کہ میری ترقی کا جھگڑا ہے افسر نہیں مانتے تو یہ باتیں مسجد میں جائز نہیں ہونگی۔ سوائے امام کے کہ اُس پر تمام قوم کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ ضرورت محسوس ہو نے پر ان اُمور کے متعلق بھی لوگوں سے باتیں کرلے۔بہر حال مسجد میں خالص ذاتی کاموں کے متعلق باتیں کرنا منع ہے ۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کی کوئی چیز گم ہوجائے تو وہ اس کے متعلق مسجد میں اعلان نہ کرے۔ پس مساجد صرف ذکر الٰہی کیلئے نہیں لیکن ذکر الٰہی ان تمام باتوں پر مشتمل ہے جو انسان کی ملّی ، سیاسی ، علمی اور قومی برتری اور ترقی کیلئے ہوں ۔لیکن وہ تمام باتیں جو لڑائی دنگہ فساد یا قانون شکنی سے تعلق رکھتی ہوں خواہ اُن کا نام مِلّی رکھ لو یا سیاسی ، قومی رکھ لو یا دینی انکا مساجد میں کرنا ناجائز ہے ۔ اسی طرح مساجد میں ذاتی امور کے متعلق باتیں کرنا بھی منع ہے کیونکہ اسلام مسجد کو بیت اللہ قرار دیتا اور اُسے اللہ تعالیٰ کے ذکر کیلئے مخصوص قرار دیتا ہے۔(تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 27 تا 29) ٭٭