حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج کی آیت 27 وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَہِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُن میں خرابیاںپیدا ہوئیں مگر جب رسول کریم ﷺ نے اُن میں صفائی پیدا کی تو انہی میں ابوبکرؓ ، عمرؓ، عثمان ؓ اور علی ؓپیدا ہوئے بلکہ اور ہزاروں لوگ پیدا ہوئے۔ اُن میں طلحہ ؓ جیسے لوگ پیدا ہوئے ۔اُن میں زبیر ؓ جیسے لوگ پیدا ہوئے ۔اُن میں عبدالرحمن ؓ بن عوف جیسے لوگ پیدا ہوئے ۔اُن میں ابو عبیدہؓ جیسے لوگ پیدا ہوئے۔ اُن میں سعد ؓاور سعیدؓ جیسے لوگ پید اہوئے۔اُن میںعثمان ؓ بن مظعون جیسے لوگ پیدا ہوئے ۔یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے نام کو روشن کرنے کیلئے اپنے جذبات کی انتہائی قربانی کی یہاں تک کہ اُن میں سے ہر شخص زندہ ابراہیم ؑ بن گیا ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے تھے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ آپ ابوا براہیم ؑ بھی تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ سے آپ کی روحانی اولاد میں ہزاروں ابراہیم پیدا ہوئے جنھوں نے دنیا کے سامنے پھر وہی نظارہ پیش کر دیا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیا تھا۔ غرض اللہ تعالیٰ نے جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو مکّہ میں بھیجا تو درحقیقت یہ تیاری تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی ۔خداتعالیٰ نے انہیں کہا کہ تم ہمارا گھر تیار کرو کیونکہ ہمارا محبوب اور ہمارا آخری شرعی رسول دنیا میں نازل ہونے والا ہے ۔تم آج سے ہی ہمارے محبوب کی آمد کی تیاری میں مشغول ہو جائو اور آج سے ہی ایسی اولاد پیدا کرو جو میرے محبوب کو ابوبکر ؓ دے،جو میرے محبوب کو عمر ؓ دے،جو میرے محبوب کو عثمان ؓ دے ،جو میرے محبوب کو علی ؓ دے ،جو میرے محبوب کو طلحہ ؓ زبیر ؓ،حمزہ ؓ اور عباس ؓدے اور اسی طرح کے اور سینکڑوں صحابہ ؓاُسکے حضور بطور نذر پیش کرے۔یہی مفہوم تھا طَھِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّٓائِفِیْنَ وَالْقَٓائِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدکا۔ ورنہ ظاہری معنوں میں تو مکّہ والوں نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بعد دین کا کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھا یا ہاں چونکہ اس پیشگوئی کا ظہور رسول کریم صلی اللہ علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہونا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکّہ میں لاکے رکھا تاکہ وہ ایسی اولاد تیار کریں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت کرے اور اپنے آپ کو خداتعالیٰ کے جلال کے اظہار کیلئے وقف کر دے ۔ ٭٭٭
(تفسیر کبیر جلد 6صفحہ 27، ایڈیشن 2010، قادیان)