اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-05-02

یہ کتنا اہم مقام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ دو ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کو حکم دیتا ہے کہ میرے اس گھر کو صاف کرو،کیونکہ یہاں میرا وہ نبی آنے والا ہے جس کے نور سے ساری دنیا منّور ہو گی

سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر 27 وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَہِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْقَاۗىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِکی تفسیر میں فرماتے ہیں:
فرماتا ہے کہ یاد رکھو کہ ہم نے اس گھر کی تعمیر ابراہیم ؑ کے زمانہ سے شروع کی ہے ۔اور اس تعلیم سے شروع کی ہے کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ شرک نہ کریں اور مسافروں اور اس گھر کے پاس رہنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کیلئے اس گھر کو پا ک رکھیں ۔
اِن آیات سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جس قربانی کا مطالبہ کیا تھا اور جس کے ماتحت وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر چلے گئے اس کی اصل غرض یہ تھی کہ وہ بڑے ہو کر بیت اللہ کی حفاظت اور دینِ ابراہیمی کی خدمت کریں ۔اور ان کے ذریعہ وہ اولاد پیدا ہو جس کے ہاتھوں خداتعالیٰ اپنے دین کا آخری دور قائم کرنا چاہتا تھا ۔پس درحقیقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جس دن بیت اللہ کے پاس چھوڑا گیا اُس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا اعلان کیا گیا کیونکہ بیت اللہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی اللہ تعالیٰ کے ذکر کا آخری گھر ہونا تھا اور اُس کی تیاری حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانہ ہی سے شروع کر دی گئی ۔ دُنیا میں جب بھی کوئی بڑا کام ہونے لگتا ہے تو پہلے سے اس کی تیاری شروع کردی جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چونکہ مکّہ میں ظہور مقّدر تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق دو ہزار سال پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذریعہ سے تیار ی شروع کر دی ۔یہ کتنا اہم مقام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ دو ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کو حکم دیتا ہے کہ میرے اس گھر کو صاف کرو ، کیونکہ یہاں میرا وہ نبی آنے والا ہے جس کے نور سے ساری دنیا منّور ہو گی چنانچہ فرمایا طَھِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّٓائِفِیْنَ وَالْقَآئِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِتم میرے اس گھر کو اُن لوگوں کیلئے تیار کرو جو طواف کرنے کیلئے یہاں آئیں گے۔جو قیام کرنے کیلئے یہاں آئیں گے اور جو یہاں آکر رکوع اور سجدہ کریں گے ۔مگر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے زمانہ میں اور اس کے بعد کتنے لوگ تھے جو اس نیّت کے ساتھ وہاں آیا کرتے تھے ۔طواف تو لوگ کرتے ہی تھے مگر کتنے لوگ تھے جو وہاں جا کر اپنی عمر یں خداتعالیٰ
کے دین کی خدمت کیلئے وقف کر دیتے تھے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے سینکڑوں سال کی تاریخ محفوظ ہے ،مگر وہ تاریخ ہی بتاتی ہے کہ اس وقت وہاں بُت پرستی ہی بُت پرستی تھی ۔نہ خدا کیلئے کوئی اعتکاف بیٹھنے والا تھا ۔نہ خدا کیلئے کوئی قیام کرنے والا تھا ۔نہ خدا کیلئے وہاں رکوع ہوتا تھا اور نہ خدا کیلئے وہاں سجدہ ہوتا تھا بلکہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرتے انہیں مارا اور پیٹا جاتا تھا ۔ پس یہ باتیں جو بیان کی گئی ہیں کہ میرے اس گھر کو تیار کرو تاکہ طواف کرنے والے قیام کرنے والے اور کامل رکوع اور کامل سجدہ کرنے والے یہاں آئیں ،یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی ہونے والی تھیں۔اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو اسی تیاری کیلئے مقرر کیا گیا تھا ۔باقی رہا یہ سوال کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے پھر کیا کا م کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے ظاہر ی رنگ میں کعبہ کی تعمیر کی ۔اسی طرح اُنہی کے ذریعہ خداتعالیٰ نے زمزم نکلوایا۔ بعد میں جو خرابیاں نظر آتی ہیں اُنکی وجہ سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پر اعتراض نہیں ہو سکتا ۔اصل غور کرنے والی بات یہ ہے کہ گو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام
نے جن لوگوں کو اپنے بعد چھوڑا اُن میں سے بہت سے مشرک اور بُت پر ست ہو گئے ۔مگر کیا دنیا کا کوئی شخص اس امر سے انکار کر سکتا ہے کہ دین کو پھیلانے کی قابلیت انہی لوگوں کے اندر تھی ۔اہل مکّہ نے بے شک اسلام کی مخالفت کی ۔قریش نے بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی اور شدید مخالفت کی بلکہ ابوجہل کو پیش کرکے کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ جس قوم میں ابوجہل جیسے لوگ پیدا ہو نے والے تھے کیا اس کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ طَھِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّٓائِفِیْنَ وَالْقَآئِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِکہ میرے اس گھر کو کامل طواف کرنیوالوں او ر کامل قیام کرنے والوں اور کامل رکوع اور سجود کرنے والوں کیلئے تیار کرو؟ میں اُسے کہونگا کہ اے نادان ؛ تجھے ابوجہل تو نظر آگیا جس کا کام ختم ہوگیامگر تجھے ابوبکر ؓ نظر نہ آیا جس کا کام آج تک جاری ہے ۔تجھے عتبہ اور شیبہ تو نظر آگئے جو پیدا ہو کر فنا ہو گئے مگر تجھے عمر ؓ ، عثمان ؓ اور علیؓ نظر نہ آئے جن کو دائمی حیات بخشی گئی ہے اور جن کے کارنامے قیامت تک دُنیا سے محو نہیں ہو سکتے ۔پس بے شک وہ لوگ خراب ہو گئے تھے مگر اُن کی یہ خرابی ایسی ہی تھی جیسے کوٹ پر مٹی پڑ جائے ۔یا وہ ہیرا تو تھے مگر تراشا ہو ا ہیرا نہیں تھے۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور آپ کی قوتِ قدسیہ کی برکت سے وہ تراشے گئے تو وہی ہیرے دنیا کی بہترین متاع شما ر ہونے لگے ۔چنانچہ ابوجہل عکرمہ ؓ کی صورت میں ،عاصی اور وائل عمرو ؓ کی صورت میں ،ولید خالدؓ کی صورت میں ، اور ابو سفیان ، معاویہ اور یزید ابن ابوسفیان کی صورت میں ظاہر ہوا ۔جب تک سونے کے ذرات مٹی میں ملے ہوئے ہوتے ہیں اُن کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی مگر جب کسی ماہر کی نگاہ اُن پر پڑتی ہے تو وہ اُن ذرّات کو مٹی سے علٰیحدہ کر لیتا ہے اور پھر وہی ذرّات بہت بڑی قیمت پر فروخت ہوتے ہیں ۔اسی طرح ہیرا جب تک پتّھر میں رہتا ہے اُس کی قدر و قیمت کا کسی کو احساس نہیں ہوتا ۔مگر جب کوئی ماہر اُسے کاٹ کر ہیرے کو اپنی اصل شکل میں دنیا کے سامنے پیش کر تا ہے تو اس کی قیمت لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ تک پہنچ جاتی ہے ۔ (تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ نمبر 25 تا 27 ) ٭٭٭