سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃ الحج آیت نمبر 26(اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِيْ جَعَلْنٰہُ لِلنَّاسِ سَوَاۗءَۨ الْعَاكِفُ فِيْہِ وَالْبَادِ۰ۭ وَمَنْ يُّرِدْ فِيْہِ بِـاِلْحَادٍؚبِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ)کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
فرماتا ہے جو لوگ کعبۃ اللہ کے ساتھ تعلق چھوڑ دیں گے اور اسکی طرف جانے میں روک پیدا کریں گے وہ دنیا میں مساوات قائم کرنے سے محروم رہیں گے اور آخرت میں بھی عذاب پائیں گے۔ سَوَاۗءَۨ الْعَاكِفُ فِيْہِ وَالْبَادِمیں اس مساوات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اسلام نے بیت اللہ کے قیام میں مدنظر رکھی ہے اور بتایا ہے کہ یہ مسجد کسی خاص فر د کیلئے نہیں بلکہ تمام بنی نو ع انسان کیلئے بنائی گئی ہے ۔اس میں غریب اور امیر اورمشرقی اور مغربی کا کوئی امتیاز نہیں ۔اس کا دروازہ ہر ایک کیلئے کھلا ہے ۔اس کیلئے بھی جو اُس میں بیٹھ کر خدا کی عبادت کرتا ہے اور اس کیلئے بھی جو جنگلوں میں رہتا ہے۔ تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک عیسائی قبیلہ رسول کریم ﷺ سے مذہبی تبادلہ خیالات کرنے کیلئے آیا جس میں اُن کے بڑے بڑے پادری بھی شامل تھے۔مسجد میں گفتگو شروع ہوئی اور گفتگو لمبی ہوگئی ۔معلوم ہوتا ہے وہ اتوار کا دن تھا جو عیسائیوں میں عبادت کا دن ہے ۔جب اُن کی نماز کا وقت آگیا تو اس قافلہ کے ایک پادری نے کہا کہ اب ہماری عبادت کا وقت ہے آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم باہر جاکر نماز ادا کر آئیں ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ لوگوں کو باہر جانے کی کیا ضرورت ہے ہماری مسجد میں ہی عبادت کر لیں ۔آخر ہماری مسجد بھی خدا تعالیٰ کے ذکر کیلئے ہی بنائی گئی ہے ۔ چنانچہ ان لوگوں نے اپنے طریق کے مطابق مسجد نبویؐ میں ہی عبادت کی ۔(تفسیر جامع البیان لابن جریر الطبری الجزء الثالث ص100مطبوعہ المیمنہ مصر) یہ تاریخی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کے نزدیک مسجد کا دروازہ ہر مذہب و ملّت کے شرفاء کیلئے کھلا ہے اور وہ اپنے اپنے طریق کے مطابق اس میں عبادت بجا لا سکتے ہیں ۔
پھر عبادات میں مساوات قائم کرنے کیلئے اسلام نے امامت کیلئے بھی کسی خاندان یا کسی خاص قوم کی خصوصیت نہیں رکھی ۔عیسائیوں میں مقرر ہ پادری کے سوا کوئی دوسرا آدمی نماز نہیں پڑھا سکتا۔ سکھّوں میں گرنتھی کے سوا دوسرا شخص گرنتھ صاحب کا پاٹھ نہیں کر ا سکتا لیکن اسلام پادریوں اور پنڈتوں کا قائل نہیں ۔وہ ہر نیک انسان کو خداتعالیٰ کا نمائندہ سمجھتا ہے اور ہر نیک انسان کو نماز میں راہنمائی کا حق دیتا ہے۔ پھر غریب اور امیر مسجد میں ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں ایک جج اور ایک ملزم اور ایک جرنیل اور ایک سپاہی پہلو بہ پہلو کھڑے ہوتے ہیںاورکوئی شخص کسی دوسرے کو اُس کی جگہ سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ انگریزوں کے گرجوں میں مختلف سیٹوں پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہ جگہ فلاں لاٹ صاحب کیلئے ہے اور یہ فلاں خاندان کیلئے مخصوص ہےلیکن مسلمانوں میں اس قسم کا کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جاتا کیونکہ مسجد میں اسلام نے ہر ایک کو برابر کا حق دیا ہے ۔میں جب عرب ممالک میں گیا تو اس وقت میں نے دیکھا کہ ایک مسجد کی ایک جہت میں ایک حجرہ بنا ہوا تھااور اسکے ارد گرد کٹہرا لگا ہوا تھا ۔میں نے بعض لوگوں سے اسکے متعلق دریافت کیا تو معلوم ہو اکہ پُرانے زمانہ میں جب بادشاہ آتے تھے تو وہ اس حجرہ میں نماز پڑھا کرتے تھےاور اسکی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ایک دفعہ کوئی بادشاہ آیااور اسکے ساتھ ہی ایک جھاڑو دینے والا بیٹھ گیا ۔اُسکے نوکروں نے اُسے ہٹا نا چاہا تو سب مسلمان اور قاضی پیچھے پڑگئے اورانہوں نے کہا یہ خدا کی مسجد ہے یہاں چھوٹے اوربڑے کا کوئی سوال نہیں ۔مسجد میں اگر کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی بیٹھا ہو تو اُس کے ساتھ اُس دن کا نو مسلم جو خاکروبوں یا ساہنسیوں میں سے آیا ہو کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے،چاہے وہ بڑا آدمی بادشاہ ہی کیوں نہ ہوچنانچہ اس کو نہ اٹھایا گیا ۔مگر بادشاہ پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ اُس نے جگہ بدل کر پیچھے کی طرف اپنے لئے حجرہ بنوایا ۔میں نےجب یہ واقعہ سنا تو اپنے دل میں کہا کہ اسلام کے ایک حکم کی بے حرمتی کی وجہ سے خداتعالیٰ نے آئندہ اس سے مسجد میں نماز پڑھنے کی توفیق ہی چھین لی کیونکہ جس جگہ حجرہ بنایا گیا تھا وہ مسجد کا حصّہ نہیں تھا ۔بہر حال اسلام نے مساجد میں بڑے اور چھوٹے کا کوئی امتیاز نہیں رکھا اور اس طرح بنی نوع انسان میں اُس نے ایک بے نظیر مساوات قائم کر دی ہے ۔
(تفسیر کبیر، جلد6، صفحہ24،مطبو عہ 2010قادیان)