سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الحج کی آیت 24اور 25 کی تفسیرمیںفرماتے ہیں:
اس سے یہ مرادنہیں کہ مادی سونے کے کنگن اُن کو پہنائے جائیں گے ۔مادی سونا تو وہ حقیر چیز ہے جس کو اس دنیا میں بھی مومن پھینک دیتا ہے۔ اگلے جہاں میں اُس کو کیا مزہ آئیگا۔ پس یہ ایک تمثیلی زبان ہےاور کنگن سے مراد زینت کا سامان ہے اور سونے سے مراد یہ ہے کہ وہ سامان تباہ ہونے والا نہیں ہوگاکیونکہ سونے کو زنگ نہیں لگتا اور موتی سے بھی یہی مراد ہے کہ وہ سامان انسان کی طبیعت میں ایک چمک اور ملائمت پیدا کر یں گے جیسا کہ موتی ہوتا ہے ۔وَ لِبَا سُھُمْ فِیْھَا حَرِیْر میں بتایا کہ اگلے جہان میں انہیں ایسا تقویٰ ملے گا جسکے اختیار کرنے میں انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ بھی لباس سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ آتا ہے وَ لِبَا سُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْر (اعراف رکوع 3) مگر فرماتا ہے کہ اس دنیا میں تو تقویٰ کا لباس پہننے کیلئے بڑی جدو جہد کرنی پڑتی ہے اور تکلیف اٹھانی پڑتی ہےلیکن اگلے جہان میں تقویٰ کا لباس ریشم کے مشابہ ہوگا یعنی اس کو اختیار کرنے کیلئے تکلیف نہیں اٹھانی پڑے گی بلکہ وہ نہایت آرام دہ ہوگا اور طبیعت خود بخود ہی تقویٰ کی طرف مائل ہو گی اُسے مجبور نہیں کرنا پڑے گا ۔
پھر فرماتا ہے کہ صرف لباس ہی نہیں اُن کی زبان بھی بڑی اچھی ہوگی اور طور طریقہ بھی اچھا ہوگا یہاں تک کہ اُن کے ہمسائے اور اللہ تعالیٰ بھی اُن کے طور طریقے کی تعریف کرے گا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنّت صرف بیکار بیٹھنے کی جگہ نہیں بلکہ عمل کا مقام ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ اس جہان میں انسان سے گناہ بھی صادر ہو جاتا ہے مگر وہاں کوئی بُرا فعل سر زد نہیں ہوگااور انسان ہر قسم کے روحانی تنزل سے محفوظ رہے گا ۔
(تفسیر کبیر، جلد6، صفحہ22،مطبو عہ 2010قادیان )