اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2024-04-11

کا مل الایمان وہی شخص کہلا سکتا ہے جو ہر ابتلاء اور مصیبت میں ثابت قدم رہتا ہے بلکہ مصائب کے آنے پر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اور زیادہ جھک جاتا اور اپنے اندر پہلے سے بھی زیادہ عجز اور انکساری پیدا کرتا ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
خدا کی طرف سے آنے والا عذاب بلاوجہ نہیں ہوتا وہ انسان کی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ انسان اُس کی طرف پوری طرح متوجہ ہو ۔بے دلی سے اُس کی عبادت مقبول نہیں ہوتی۔ خوشی اور رنج دونوں میں اُس کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہئے ورنہ ایسے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ وہ ایمان جو انسان کو خدا تعالیٰ کے انعامات کا وارث کرتا اور اس کو مقّرب اور نعماء الٰہیہ کا جاذب بنا تا ہے وہ وہی ایمان ہوتا ہے جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک اور ماسوی اللہ کی محبت سے خالی ہو۔ ہمارے ملک میں بھی لوگ کہا کرتے ہیں کہ دو کشتیوں میں پائوں رکھنے والا انسان کبھی بچ نہیں سکتا۔ اگر دونوں کشتیاں کچھ وقت تک اکٹھی بھی چلی جائیں تب بھی پانی کی روک ایک نہ ایک وقت ان کو ضرور علیحدہ کردے گی اور ان کشتیوں میں پاؤں رکھنے والا انسان غرق ہو کر رہیگا ۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا جو مُنہ سے تو اس کے ساتھ اپنی محبت کا دعویٰ کرتے ہوں اور عملی طور پر رات دن وہ دنیا پر گرے رہتے ہوں اور خدائی احکام کو پس پشت ڈال رہے ہوں ۔جب ترکوں نے بغداد پر حملہ کیا تو اٹھارہ لاکھ آدمی انہوں نے قتل کر دیا تھا۔ ایسی تباہی اور بربادی کے وقت کچھ لوگ ایک بزرگ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ آپ دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس تباہی سے بچالے۔انہوں نے کہا میں کیا دُعا کروں ،میں تو جب بھی ہاتھ اٹھاتا ہوں مجھے آسمان سے ملائکہ کی یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ اَیُّھَالْکُفَّارُ اُقْتُلُوا لْفُجَّارَ یعنی اے کافر ان فاجر مسلمانوں کو خوب مارو۔حالانکہ بظاہر اُن میں سے ایک فریق جو مارا جارہا تھا خدا اور اس کے رسول ؐ پر ایمان رکھتا تھا اور دوسرا فریق دین سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا مگر چونکہ مسلمان کہلانے والوں نے مذہب کو صرف نام کے طورپر قبول کیا تھا ،اپنے قلوب میں انہوں نے کوئی تغیر پیدا نہیں کیا تھا اس لئے ان پر عذاب آگیا ۔پس انسان کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اپنے ایمان کا جائزہ لیتا رہے اور دیکھتا رہے کہ اس کا خداتعالیٰ کے ساتھ کیسا تعلق ہے ۔اور آیا عسر اور یُسر دونوں حالتوں میں وہ وفاداری کے ساتھ اپنے عہد پر قائم ہے یا نہیں ۔اگر انعام کے وقت وہ خدا تعالیٰ کی تعریف کرتا اور مصیبت کے وقت یہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ خدا نے پہلے مجھ پر کونسا احسان کیا تھا جو یہ مصیبت بھی بھیج دی تو صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ اُس کا ایما ن محض دھوکا تھا ۔کا مل الایمان وہی شخص کہلا سکتا ہے جو ہر ابتلاء اور مصیبت میں ثابت قدم رہتا ہےبلکہ مصائب کے آنے پر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اور زیادہ جھک جاتا اور اپنے اندر پہلے سے بھی زیادہ عجز اور انکساری پیدا کرتا ہے ۔یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے اوراللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں ہر حالت میں خداتعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھنا چاہئےاور کسی مصیبت میں بھی اس سے اپنا تعلق قطع نہیں کرنا چاہئے ۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک بدوی نے رسول کریم ﷺ کی بیعت کی اور اسلام میں داخل ہوگیا مگر چنددنوں کے بعد ہی اُسے بخار ہوگیا ۔اس پر وہ رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اپنی بیعت واپس لیتا ہوں کیونکہ مجھے تپ آنے لگا ہےمگر اس کے مقابلہ میں ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کردیں مگر رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے ساتھ جو عہد انہوں نے کیا تھا اس میں کوئی رخنہ واقع نہ ہونے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سچے تعلق اور اخلاص کا پتہ ہی اسی وقت لگتا ہے جب انسان پر کوئی ابتلاء آتا ہےورنہ آرام اور آسائش کی حالت میں تو کمزور ایمان والے بھی بڑی عقیدت اور تعلق کا اظہار کرتے ہیں۔
(تفسیر کبیر، جلد6، صفحہ17،مطبو عہ 2010قادیان )
…٭…٭…٭…