حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ آیت وَاِذَ ا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّی کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں :
بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم نے تو بڑے اضطراب سے دعائیں کی تھیں مگر وہ قبول نہیں ہوئیں پھر یہ آیت کس طرح درست ثابت ہوئی؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ بے شک’’ اَلدَّاعِ‘‘کے ایک معنے ہر پکارنے والے کے بھی ہیں مگر اس کے ایک معنے ایسے پکارنے والے کے بھی ہیں جس کا اوپر ذکر ہو رہاہے۔اور مراد یہ ہے کہ وہ بندے جو مجھے ملنے کے اضطراب میں اور سب کچھ بھول جاتے ہیں اور مجھ سے صرف میرا قرب اور وصال چاہتے ہیں میں ان کی دُعا کو سنتا اور انہیں اپنے قرب میں جگہ دیتا ہوں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں وَاِذَ ا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فرمایا ہے۔یعنی وہ میرے بارے میں سوال کرتے ہیں اس میں روٹی کا کہیں ذکرنہیں۔نوکری کا کہیں ذکر نہیں بلکہ صرف’’ عَنِّیْ‘‘فرمایا ہے عَنِ الْخُبْزِ یا عَنِ الْوَظِیْفَۃِ نہیں فرمایا۔پس جو شخص خدا تعالیٰ کا قرب مانگے اور وہ اسے نہ ملے اسے تو بے شک اعتراض ہو سکتا ہے لیکن دوسروں کے لئے اس میں کوئی اعتراض کی گنجائش نہیں۔
پھر اس آیت کی عبارت ایسی ہے کہ اس سے اضطراب اور گھبراہٹ کی طرف خاص طور پر اشارہ پایا جاتا ہے بعض مضامین الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتے لیکن وہ عبارت میں پنہاں ہوتے ہیں اور یہی حالت یہاں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرے بندے میری طرف دوڑتے ہیں۔ان کے اندر ایک اضطراب اور عشق پیدا ہوتا ہے اور وہ چِلّاتے ہیں کہ ہمارا خدا کہاں ہے ؟تو تُو ان سے کہہ دے کہ میں تمہاری طرح کے پکارنے والے کی پکار کو کبھی ردّ نہیں کرتا بلکہ اُسے ضرور سنتا اور قبول کرتا ہوں۔ ( تفسیر کبیر جلد 3 صفحہ 200 مطبوعہ یوکے)