اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-06-11

سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ عمل ہے جس پر آپﷺ قائم ہوئے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دی اور حدیث وہ قول ہے جو آپﷺ نے بیان کی

سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے علمی کارناموں کو بیان کرتے ہوئے سیّدنا حضرت المصلح الموعود خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں :
’’دسواں کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ کیا کہ فقہ کی اصلاح کی جس میں سخت خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں اور اس قدر اختلاف ہو رہا تھا کہ حد نہ رہی تھی آپ نے اس کے متعلق زریں اصول باندھا اور فرمایا شریعت کی بنیاد مندرجہ ذیل چیزوں پر ہے۔ (۱) قرآن کریم (۲) سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم (۳) احادیث جو قرآن کریم اور سنت اور عقل کے خلاف نہ ہوں (۴) تفقہ فی الدین (۵) اختلاف طبائع و حالات۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ آپ نے سنت اور حدیث کو الگ الگ کیا۔ آپ نے فرمایا سنت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ عمل ہے جس پر آپﷺ قائم ہوئے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دی۔ اور حدیث وہ قول ہے جو آپﷺ نے بیان کی۔ اب دیکھو ان پانچ اصول سے آپ نے کیسی اصلاح کر دی ہے۔ سب سے اول درجہ پر آپ نے قرآن کریم کو رکھا کہ وہ خدا کا کلام ہے مفصل ہے مکمل ہے اس میں نہ کوئی تبدیلی ہو گی نہ ہوئی ہےنہ کوئی تبدیلی کر سکتا ہے کیونکہ اس کی حفاظت کا وعدہ ہے۔ ایسے کلام سے بڑھ کر کونسی بات معتبر ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد سنت ہے کہ صرف قول سے اس کا تعلق نہیں بلکہ عمل سے ہے اور عمل بھی وہ جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود کیا کرتے تھے اور متواتر کرتے تھے۔ ہزاروں لوگ اسے دیکھتے تھے اور اس کی نقل کرتے تھے۔ یہ نہیں کہ ایک یا دو یا تین کی گواہی ہو کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کہتے سنا بلکہ ہزاروں آدمیوں کا عمل کہ ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں کرتے دیکھ کر آپ کی اتباع میں ایسا کام شروع کیا۔ اس سنت میں غلطی کا احتمال بہت ہی کم رہ جاتا ہے۔ اور یہ حدیث سے جو چند افراد کی شہادت ہوتی ہے بہت افضل ہے۔ اس کے بعد آپ نے حدیث کو رکھا۔ لیکن ان کے متعلق یہ شرط لگائی کہ صرف راویوں کی پرکھ ان کی صداقت کی علامت نہیں بلکہ ان کا قرآن کریم سنت اور قانون قدرت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
(حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کارنامے، انوار العلوم جلد 10 صفحہ178تا179)