اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2026-04-30

تم خدا تعالیٰ کی صفات کا آئینہ بنو اور اُسی کے سایۂ عاطفت میں اپنی زندگی کے دن بسر کرو

تفسیر:- فرماتا ہے جب تم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق حج بیت اللہ کا فرض ادا کر چکو تو خدا تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے ہو۔ اہلِ عرب میں دستور تھا کہ جب وہ حج سے فارغ ہو جاتے تو تین دن منیٰ میں مجالس منعقد کر کے اپنے باپ دادوں کے کارنامے بیان کرتے اور اپنے اپنے قبیلہ کی بہادری شہرت اور سخاوت کی تعریف میں قصیدے پڑھتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ تو اپنے باپ دادوں کی تعریف میں قصائد پڑھا کرتے تھے۔ مگر ہم تمہیں یہ ہدایت دیتے ہیں۔ کہ جب تم مناسک حج کو ادا کر چکو تو تم خدا تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے ہو۔ یعنی جس طرح ایک چھوٹا بچہ جو اپنی ماں سے جدا ہوتا ہے روتا اور چلاتا ہوا کہتا ہے کہ میں نے اپنی اماں کے پاس جانا ہے اسی طرح تم بھی بار بار خدا تعالیٰ کا ذکر کرو تا کہ اُس کی محبت تمہارے رگ و ریشہ میں سرایت کر جائے۔ خدا تعالیٰ ایک وراء الورا ہستی ہے اُس کا حُسن براہِ راست انسان کے سامنے نہیں آتا بلکہ کئی واسطوں کے ذریعہ سے آتا ہے۔ اگر اُس کے حسن کو الفاظ میں بیان کیا جائے اور پھر ہم اُس پر غور کریں اور سوچیں تو آہستہ آہستہ معنوی طور پر اس کی شکل ہمارے سامنے آ جاتی ہے۔ اگر تم مالک کا نام لو اور اس کی مالکیت کو ذہن میں لاؤ۔ قدّوس کا نام لو اور اس کی قدوسیت کو ذہن میں لاؤ ستّار کا نام لو اور اُس کی ستّاریت کو ذہن میں لاؤ۔ غفور کا نام لو اور اُس کی غفوریت کو ذہن میں لاؤ۔ تو یہ لازمی بات ہے کہ آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ کی ایک مکمل تصویر تمہارے سامنے آ جائیگی۔ اور محبت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ یا تو کسی کا وجود سامنے ہو یا اس کی تصویر سامنے ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ایک شعر میں اسی حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں
دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حُسن و جمالِ یار کے آثار ہی سہی
یعنی اگر محبوب خود سامنے نہیں آتا تو اُس کی آواز تو سنائی دے اور اُس کے حُسن کی کوئی نشانی تو نظر آئے۔ پس ربّ، رحمٰن، رحیم، مالک یوم الدین، ستّار، غفّار، قدّوس، مہیمن، سلام، جبّار، قہّار اور دوسری صفاتِ الٰہیہ کو جب ہم اپنے ذہن میں بٹھا لیتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی ایک تصویر ہمارے سامنے آ جاتی ہے اور اُس کے نتیجہ میں ہمارے دلوں میں اُس کی محبّت پیدا ہو جاتی ہے غرض صفاتِ الٰہیہ کے بار بار دہرانے اور تواتر سے دہرانے کے نتیجہ میں چونکہ خدا تعالیٰ کی ایک تصویر بنتی ہے اور اس تصویر کی وجہ سے ہی ہمارے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح بچوں کے دل میں اپنے ماں باپ کی ملاقات کا اشتیاق ہوتا ہے۔ اسی طرح تمہارا بھی خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا ہی رُوحانی تعلق ہونا چاہئے۔ گویا تمہارا چین اور تمہارا آرام صرف خدا تعالیٰ کے ساتھ ہی وابستہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ اسی پر تمہاری رُوحانی زندگی کا مدار ہے۔ اور حج کے بعد ذکرِ الٰہی کی طرف توجہ دلا کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تمہارا خدا تعالیٰ سے اب ایک روحانی پیوند قائم ہو چکا ہے۔ پس جس طرح ایک بچہ اپنے ماں باپ کے سایۂ عاطفت میں اپنی زندگی کے دن بسر کرتا ہے اور ان کے اخلاق و عادات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس طرح تم بھی خدا تعالیٰ کی صفات کا آئینہ بنو اور اُسی کے سایۂ عاطفت میں اپنی زندگی کے دن بسر کرو۔
پھر فرماتا ہے۔ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا ہم نے پہلے تو تمہیں یہ ہدایت دی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے ہو مگر ہمارا یہ حکم صرف اُن لوگوں کے لئے ہے جو رُوحانیت میں ابھی اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچے۔ ورنہ جو لوگ اپنے ماں باپ کی محبت میں بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کا ہاتھ پوشیدہ دیکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں ماں باپ کے تعلق کو بالکل ہیچ سمجھتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ خدا تعالیٰ کا ایسے رنگ میں ذکر کریں کہ اُن کے دنیوی تعلقات میں اس کی کوئی مثال دکھائی نہ دے اور ماں باپ کا ذکر اس کے مقابلہ میں بالکل ہیچ ہو جائے۔
(تفسیر کبیر جلد دوم تفسیر سورۃ البقرہ آیت نمبر 201)