حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 283 کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اوپر کی آیات میں قومی تباہی کا ایک بہت بڑا سبب اللہ تعالیٰ نے سود بتایا تھا۔ اب دوسرا سبب قومی تنزل کا یہ بتاتا ہے کہ لین دین کے معاملات میں احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا۔ قرض دیتے وقت تو دوستی اور محبت کے خیال سے نہ واپسی کی کوئی میعاد مقرر کرائی جاتی ہے اورنہ اُسے ضبط تحریر میں لایا جاتا ہے۔ اور جب روپیہ واپس آتا دکھائی نہیں دیتا تو لڑائی جھگڑا شروع کردیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ مقدمات تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اور تمام دوستی دشمنی میں تبدیل ہوکر رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپس کے تعلقات کو خراب مت کرو۔ اور قرض دیتے یا لیتے وقت ہماری ان دو ہدایات کو ملحوظ رکھو۔ اوّل یہ کہ جب تم کسی سے قرض لو تو اس کی ادائیگی کا وقت مقرر کرلو۔ دوم روپیہ کا لین دین ضبطِ تحریر میں لے آؤ۔ اِس شرط کا ایک بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اِس طرح مقروض کو احساس رہتا ہے کہ فلاں وقت سے پہلے پہلے مَیں نے قرض اد اکرنا ہے۔ اور وہ اُس کی ادائیگی کے لئے جدوجہد کرتا رہتا ہے۔ اور پھر ایک او رفائدہ یہ ہے کہ قرض لینے والا ایک معیّن میعاد تک اطمینان کی حالت میں رہتا ہے اور اُسے یہ خدشہ نہیں رہتا کہ نہ معلوم قرض دینے والا مجھ سے کب اپنے روپیہ کا مطالبہ کردے غرض اِس میں دینے والے کا بھی فائدہ ہے اور لینے والے کا بھی۔ قرض دینے والے کافائدہ تو یہ ہے کہ مثلاً ایک مہینے کا وعدہ ہے تو وہ ایک مہینہ کے
بعد جاکر طلب کریگا۔ یہ نہیں کہ اس کو روز روز پوچھنا پڑے۔ اور قرض لینے والے کا فائدہ یہ ہے کہ جب وہ قرض لینے لگے گا تو سوچے گا کہ مَیں جتنے عرصے میں اد اکرنیکا وعدہ کرتا ہوں اتنے عرصہ میں ادا بھی کرسکوں گا یا نہیں۔ اِس کے علاوہ یہ شرط اس لئے بھی عائد کی گئی ہے کہ بعض کمزور لوگ اعتراض کرسکتے تھے کہ ہم سود پر روپیہ اسلئے دیتے ہیں کہ قرض لینے والے کو اس کی ادائیگی کافکر رہتا ہے۔ اوروہ کوشش کرتا ہے کہ جلد اس قرض سے سبکدوش ہوجاؤں۔ لیکن اگر سود نہ لیا جائے تو اُسے ادائیگی کا احساس نہیں رہتا۔ اس وسوسہ کے ازالہ کیلئے فرمایا کہ جب تم ایک دوسرے کو قرض دو۔ تو معاہدہ لکھوا لیا کرو کہ فلاں وقت کے اندر اندر ادا کردونگا تا کہ تمہارا روپیہ بھی محفوظ رہے اوردوسرے شخص کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس رہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر قرض اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی ہو تو لکھ لیا کرو اوراگر اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی نہ ہو تو بےشک نہ لکھو۔ اس لئے کہ جب کوئی شخص کسی کو قرض دیتا ہے تو بہرحال ایک اَجَلٍ مُّسَمًّی کے لئے ہی دیتا ہے خواہ وہ میعاد تھوڑی ہو یا بہت۔ اِس کے بعد وہ اسے وصول کرنے کا حقدار ہوتا ہے۔ یہ تو کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے دوسرے کو قرض دیا ہو اور پھر اس کےواپس لینے کا اس کے اندر کوئی احساس ہی نہ ہو۔ ہدیتہ یا امداد کے رنگ میں اگر کسی کو کوئی رقم دی جائے تو وہ ایک علیٰحدہ امر ہے۔ لیکن جس چیز پر قرض کے لفظ کا اطلاق ہوگا۔ وہ بہرحال اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی ہی ہوگی۔ خواہ زبان سے کوئی میعاد مقرر کی جائے یا نہ کی جائے۔ ہاں اگر خاص وقت کے لئے قرض نہیں بلکہ یونہی ایک دو گھنٹہ کے لئے یا ایک دو دن کے لئے ہے تو ایسی صورت میں اگر نہ لکھا جائے تو کوئی شرعی گناہ نہیں۔
افسوس ہے کہ مسلمان ان دونوں باتوں کی پرواہ نہیں کرتے یعنی نہ تو قرض دیتے وقت دوستی اور محبت کے نقطۂ نگاہ سے کوئی مدّت مقرر کرتے ہیں۔ بلکہ کہہ دیتے ہیں کہ جب جی چاہے دے دینا اور نہ اُسے ضبطِ تحریر میں لاتے ہیں جس کی وجہ سے بعد میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اور انہیں اُس کے تلخ نتائج سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
وَلْیَکْتُبْ بَیْنَکُمْ کَاتِبٌ بِالْعَدْلِ۔تیسرا حکم یہ دیا کہ لکھنے والا کوئی اور شخص ہو۔ قرض دینے والا یا لینے والا نہ لکھے بلکہ ایک غیر شخص ہو جو عدل اور انصاف کے ساتھ لکھے۔ یعنی اپنی طرف سے اس معاہدہ میں کوئی بات نہ ملائے بلکہ وہی کچھ لکھے جس کے لکھنے کااُسے حکم دیا گیا ہے۔ پھرکاتب کو حکم دیا کہ وہ لکھنے سے انکار نہ کرے بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اُسے سکھایا ہے اُسی طرح اُسے چاہئے کہ وہ لکھے یا یہ کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اُسے لکھنا سکھایا ہے وہ لکھنے سے انکار نہ کرے۔ کَمَا عَلَمَّہٗ کے دونوں معنے ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی کہ جتنا ہنر اس کو حاصل ہو اُس کے مطابق لکھے۔ اور یہ بھی کہ چونکہ خداتعالیٰ نے اُس پر فضل کیا ہے اُسے بھی چاہئے کہ وہ لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔ یہ نہ ہو کہ وہ انکار کردے اورضرورتمند قرض نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہو۔
وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ۔ چوتھا حکم یہ دیا کہ جس کے ذمہ حق ہو وہ املاء کروائے۔ یعنی روپیہ لینے والے کو چاہئے کہ وہ خود تحریر لکھوائے۔ اِس میں ایک بہت بڑی حکمت ہے۔ بظاہر تو یہ چاہئے تھا کہ روپیہ دینے والا لکھوائے۔ مگر یہ حکم نہیں دیا ۔ بلکہ اِسکی ذمہ داری قرض لینے والے پر رکھی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ روپیہ لینے والے کی ضرورت روپیہ مل جانے کی وجہ سے پوری ہوجاتی ہے۔ وہ اس وقت اپنے اندر خوشی کی ایک لہر محسوس کرتا ہے اور روپیہ کی طرف سے لاپرواہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ وہ بعد میں ضرورت پوری ہونے پرکہدے کہ مجھے تو اس وقت یہ خیال ہی نہ تھا کہ کیا لکھوارہے ہیں۔ اس لئے اُسے کہا کہ وہ خود ہی لکھوائے۔ تا کہ اُس کی زبان کا اقرار موجود رہے ورنہ جس نے روپیہ دیا ہوتا ہے وہ تو چوکس ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ اُس نے تو اپنے پاس سے رقم دی ہوئی ہوتی ہے۔ اسلئے اُس کو تو بہرحال یاد ہی رہتا ہے کہ مَیں نے اسقدر روپیہ دیا ہوا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ تحریر اُس کے پاس رہے گی جس نے روپیہ دیا ہے۔ پس اس کے لئے تو موقعہ ہے کہ دیکھ لے کوئی غلطی تو نہیں ہوگئی۔ مگر لینے والے کے پاس تحریر نہیں رہنی اس لئے اگر اسوقت اُس کی پوری توجہ تحریر کی طرف نہ ہو تو اُسے نقصان پہنچنے کا احتمال ہوسکتا ہے۔
وَلَا یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْئًا۔ یہ پانچواں حکم دیا کہ لکھواتے وقت وہ کوئی چیز اُس قرض میں سے کم نہ کرے بلکہ اُسے صحیح صحیح لکھوائے۔ اِس میں بظاہر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرض میں تو کوئی کمی نہیں ہوسکتی کیونکہ دونوں فریق آمنے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ پھر لَا یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْئًا کا کیوں حکم دیا؟ سو یاد رکھنا چاہئے کہ بعض قرض عجیب عجیب شکل میں ہوتے ہیں جن کو تحریر میں لاتے وقت لوگ ایسے پیچیدہ الفاظ لکھتے ہیں جن کانتیجہ آخر میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ خصوصاً وہ قرض جو لمبی میعاد کے ساتھ تعلق رکھتے ہوں۔ اور مختلف انواع کےہوں اُن کو تحریر میں لاتے وقت کئی قسم کے دھوکے کرلئے جاتے ہیں جیسے حکومتوں کے قرض ہوتے ہیں۔ چونکہ ایسے لمبے قرضوں میں عموماً معاہدات کے وقت چالاکیاں اور فریب کئے جاتے ہیں اِس لئے فرمایا کہ لکھوانے میں دیانت سے کام لو اور ایک حبّہ بھی کم کرنے کی کوشش نہ کرو۔
(تفسیر کبیر جلدنمبر 1 تفسیر سورۃ البقرہ آیت نمبر 283)