شہزادہ امن بانئی جماعت احمدیہ سیدنا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی ومعہود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ علم و معرفت کے عظیم الشان خزانے دنیا میں تقسیم کئے۔ انہی خزانوں میں ایک لعل بے بہا قومی یکجہتی کی عظیم الشان تعلیمات کو از سر نو دنیا میں پیش کرنا ہے۔آپ نے زمانہ کے حالات کا گہر ی اور عمیق نظر سے جائزہ لے کر خصوصاً ہندوستان کی دونوں قوموں ہندو اور مسلمان کو اتفاق ، مذہبی رواداری معاشرتی قدروں اور قومی یکجہتی کے متعلق تفصیل سے ہدایات دیں۔
قومی یکجہتی کے متعلق آپ نے جو اصول اور ہدایات پیش کیں۔ اُن میں سب سے نمایاں مذہبی پیشوایان کی عزت و تکریم ہے۔ آپ نے نہ صرف یہ اعتقادی طور پر بیان فرمایا بلکہ ا س پر عمل کر کے بھی دکھایا۔ جلسہ ہائے پیشوایان مذاہب بر صغیر میں جس شان سے احمدیہ مسلم جماعت نے منعقد کئےاور آج تک منعقد کر رہی ہےاس کی مثال بہت کم دیکھنے میں ملتی ہے۔
قومی یکجہتی کے قیام کے لئے آپ نےدوسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ بلا مذہب و ملت کی تفریق کے تمام بنی نوع انسان سے یکساں سلوک کیا جائے۔
قومی یکجہتی کے قیام میں آپ کا ایک اور عظیم الشان کام یہ ہے کہ آپ نے ایک ایسی پُر امن جماعت قائم فرمائی۔ جو خلافت کی بابرکت راہنمائی میں مسلسل 135 سال سے ساری دنیا میں قومی یکجہتی کی مشعل جلا رہی ہے۔
بانئی جماعت احمدیہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےپیش کردہ قومی یکجہتی کے اصولوں نے نیک اور سعید روحوں پر اپنا اثر ڈالا اور کئی ایک نے اس حوالہ سے برملا اظہار کیا ہے۔ مندرجہ ذیل مضمون میں چند ایک معززین کی اہم آراء قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔
احمدیہ جماعت
مسلمانوں میں ایک ترقی پسندجماعت ہے ۔
دہرہ دون کے اخبار (The Frontier Mail)مورخہ 12دسمبر 1948ء میں شری برہم دت صاحب لکھتے ہیں:
’’ احمدیہ جماعت مسلمانوں میں ایک ترقی پسندجماعت ہے جملہ مذہب کے ساتھ رواداری اس کی بنیادی تعلیم میں شامل ہے۔تمام پیشوایان مذاہب کی عزت وتکریم کرتے ہوئے احمدیوں نے ان کی تعلیمات کواپنی مذہبی کتب میں شامل کیا ہے چالیس سال پیشتر یعنی اس وقت جب کہ مہاتما گاندھی ابھی ہندوستان کہ اُفق سیاست پر نمودار نہ ہوئے تھے۔(حضرت) مرزا غلام احمد صاحب (علیہ الصلوٰۃ و السلام) نے 1891ء میں دعوٰی مسیحیت فرما کراپنی تجاویزرسالہ ’’پیغام صلح‘‘کی شکل میں ظاہر فرمائیں ۔جن پر عمل کرنے سے ملک کی مختلف قوموں کے درمیان اتحاد و اتفاق اور محبت ومفاہمت پیدا ہوتی ہے ۔ آپ کی یہ شدید خواہش تھی کہ لوگوں میں رواداری ، اخوت اور محبت کی روح پیدا ہو۔ بے شک آپ کی شخصیت لائق تحسین اور قابل قدر ہے کہ آپ کی نگاہ نے بعید کے کثیف پردہ میں دیکھااور( صحیح) راستہ کی طرف رہنمائی فرمائی اگر لوگ اپنی خود غرض اور غلط لیڈر شپ کی وجہ سے اس سیدھے راستے کو نہ دیکھ سکے تو یہ اُن کی غلطی تھی اور نفرت و حقارت کے جو کھیت انہوں نے بوئے تھے ان کی فصل کاٹنے کے وہ اب ضرور مستحق تھے۔ ‘‘
(دہرہ دون (The Frontier Mail)مورخہ 12دسمبر1948ء)
احمدیہ جماعت کے افراد کا عقیدہ ہے
کہ جملہ مذاہب سے یکساں سلوک کیا جائے
مسٹر ایچ آر ووہرا (Mr.H.R.Vohra) نمائندہ خصوصی مشہور اخبار سٹیٹسمین نئی دہلی مورخہ 17, 18 نومبر1948ء میں لکھتے ہیں:
’’قادیان حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی جائے پیدائش ہے۔ جنہوں نے 1891ء میں مسیح موعود ہونے کا دعوٰی کیا۔ آپ نے اس بات کا اظہار کیا کہ آپ حضرت مسیح علیہ السلام کی خو بو اور صفات لیکرآئے ہیں۔قادیان لاکھوں مسلمانوں کا جو احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں مقدس مقام ہے اس کی چپّہ چپّہ زمین احمدیوں کومحبوب ہے۔یہ قصبہ احمدیہ جماعت کا مرکز ہے اور اس میں مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء کی رہائش رہی ہے۔
قادیان میں مقیم 313مومنین باوجود سرکاری افسران کی ابتدائی مخالفت اور غیر مسلم پناہ گزینوں کی عداوت کے قادیان میں قائم رہے۔ ان کے جماعتی اصولوں میںان کا غیر متزلزل ایمان حکومت وقت کے ساتھ وفاداری اور تمام مذاہب کے ساتھ ان کی رواداری کی تعلیم ہے۔
احمدیہ جماعت کے افراد کا عقیدہ ہے کہ جملہ مذاہب سے یکساں سلوک کیا جائے اسی اصول کی بناء پروہ قادیان کے ہندو اور سکھ یتیموں کی مدد کرتے ہیں اور اب بھی جب کے جماعت کی مالی حالت بہت کمزور ہو چکی ہے ان یتیموں ایک تعداد اپنے وظائف حسب معمول احمدیہ جماعت سے حاصل کر رہے ہیں۔ ‘‘
(اخبارسٹیٹسمین نئی دہلی مورخہ 17,18نومبر1948ء )
عقیدہ، ضمیر اورعمل کی آزادی
احمدیوں کے نزدیک ہر مذہب کا بنیادی حق ہے ۔
مسٹر جسونت سنگھ جرنلسٹ کلکتہ کے مشہور اخبار’’ہندوستان ٹائمز‘‘ اپنی25دسمبر 1951ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:
احمدیہ جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ تمام مذہب جو خدا تعالی کی طرف سے ہونے کے مدعی ہیںاور ایک لمبے عرصہ سے دنیا میںقائم ہیںیقینا خدا تعالی کی طرف سے ہیں۔گو یہ ہو سکتا ہے کہ لمبا زمانہ گزرنے کی وجہ سے اُن کی تعلیم میں بگاڑ پیدا ہو گیا ہو اور اُن کی روحانی طاقت کمزور ہوگئی ہو۔
احمدیت کی تعلیم کی رو سے یہ ناجائزہے کہ مذہبی معاملات میںطاقت اور جبر کا استعمال کیا جائے۔ عقیدہ، ضمیر اورعمل کی آزادی احمدیوں کے نزدیک ہر مذہب کا بنیادی حق ہے۔اور جہاد کا خیال جس رنگ میں پرانے خیالات کے دوسرے مسلمانوں میں رائج ہے جس کی رُو سے مذہب کے نام پرجَبر اور طاقت کا استعمال جائز ہے احمدیت اس کو نہیں مانتی۔
سیاسی لحاظ سے جماعت احمدیہ کا یہ اصول اور طریق ہے کہ احمدی جس ملک یا علاقہ میںرہتے ہیں وہاں کی قائم شدہ حکومت کے وفادار ہوتے ہیںاور ہر رنگ میںملک کے قانون اور دستور کی اطاعت کرتے ہیںیہ بات ان کے بنیادی اصول اورمذہبی عقیدہ میں شامل ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔ اور کسی صورت میں بھی سٹرائیک (ہڑتال) تحریک عدم تعاون یا کسی بغاوت یا غیر قانونی کاروائی میں شامل نہ ہوں۔ 1947ء کے فسادات کے دوران (حضرت )مرزا بشیر الدین محمود احمد( صاحب)اپنے کثیرپیروؤں کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے۔آپ اپنے پیچھے تین صد کے قریب اپنے مخلص پیرو مذہبی مرکز کی حفاظت کے لئے چھوڑ گئے پاکستان میں آپ نے عارضی مرکز پہلے لاہور میں قائم کیااور پھر ربوہ میں۔اب تک بھی قادیان اہم مرکز ہے اور یہیں سے صدر انجمن احمدیہ قادیان اپنی 125 شاخوں کی جوہندوستان کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی ہیںدیکھ بھال اور نگرانی کرتی ہے۔ چیف سکرٹری جو ناظر اعلی کہلاتے ہیں بطور پریذیڈنٹ انجمن کے فرائض ادا کرتے ہیں اورمرکزی دفاتر مختلف ناظروں کی مدد سے جماعت کی تنظیم اور نگرانی کا کام کرتے ہیں ۔ ماتحت اداروں اور مبلغین کے اخراجات اس فنڈ سے پورے کئے جاتے ہیں جو صد ر انجمن کے انتظام کے تحت باقاعدہ طورپر چندوں سے فراہم ہوتا ہے۔ عام طور پر ہر احمدی اپنی آمد کاتیسرا حصہ بطور چندہ کے مرکز جماعت میں ادا کرتا ہے۔
جماعت کے روحانی پیشوا کی قادیان سے ہجرت کی وجہ سے اس کہ قدیم شان جاتی رہی ہے۔ لیکن تاہم صد ر انجمن احمدیہ قادیان کی طرف سے کوشش جاری ہے کہ اس کا کھویامقام اس کو پھر حاصل ہو موعود نبی کی پیشگوئی کے مطابق احمدیہ جماعت اس بات پر پورا یقین رکھتی ہے کہ قادیان دوبارہ جماعت کا ایک زندہ فعال اور معمور مرکز بن جائے گا۔ ‘‘
( ہندوستان ٹائیمز25دسمبر1951ء )
احمدیوں کا بلند کیرکٹر اور مذہبی شعار
مشہور اددیب وصحافی جناب سردار دیوان سنگھ صاحب مفتون ایڈیٹراخبار’’ ریاست‘‘ نے لکھا :
’’ جو لوگ احمدیوں کے مذہبی کیریکٹر اور ان کے بلند شعار سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ اگر دنیا کے تمام احمدی ہلاک ہو جائیں، اُن کی تمام جائیداد لوٹ لی جائے۔ صرف ایک احمدی زندہ بچ جائے اور اس احمدی سے یہ کہا جائے کہ اگر تم بھی اپنامذہبی شعار تبدیل نہ کروگے تو تمہارا بھی یہی حشر ہوگا۔ تو یقینا دنیا میںزندہ رہنے والا یہ احمدی بھی اپنے شعار نہیں چھوڑے گا۔ مرنا اور تباہ ہونا قبول کرے گا۔ ‘‘
(اخبار ریاست16مارچ1953ء )
جماعت احمدیہ کی حکومت وقت کے ساتھ وفا شعاری کے متعلق ایڈیٹر صاحب ریاست فرماتے ہیں:
’’ احمدی جماعت مذہباً اور اصولاً حکومتِ وقت کی وفا شعار ہے۔ اس جماعت کے بانی نے اپنی امت کے لئے یہ لازمی قرار دیا ہے کہ حکومتِ وقت کی وفا شعار رہے، چنانچہ انگریزوں کے زمانہ میں احمدی انگریزوں کے وفا دار رہے اور انگریزوں کے چلے جانے کے بعد جو احمدی ہندوستان میں ہیں قولاً اور فعلاً ہندوستان کی موجودہ گورنمنٹ کے وفا شعار ہیں اور جو احمدی پاکستان میں ہیںوہ پاکستانی گورنمٹ کے اخلاص کے ساتھ وفا شعار ہیں ان لوگوں کی وفا شعاری پر شک کرنا صدا قت پر پردہ ڈالنا ہے۔ ‘‘
(اخبار ریاست 25مئی 1953ء)
ہم کو اس کی استقامت عزم کا
اعتراف کرنا پڑتا ہے
علامہ نیاز محمد خان نیاز فتحپوری ایڈیٹر ماہنامہ نگار لکھنؤ نے لکھا:
’’ یہ تحریک ایک مختصر سے گاؤں سے شروع ہوکر نصف صدی کے اندر اندر تمام دنیا کے گوشوں تک پہنچ جاتی ہے تو ہم کو اس کی استقامت عزم کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ استقامت کسی جماعت اُس وقت پیدا ہو سکتی ہے جب اس کا بانی مؤسس خود بڑا مخلص انسان ہو ‘‘
( ملاحظات صفحہ 117)
احمدی یکجہتی اور اتحاد میں کمال حاصل کر چکے ہیں
پروفیسر شیر سنگھ صاحب ایم ۔ایس۔ سی لکھتے ہیں:
’’ پیار خلوص ، الفت و محبت اور صلح مذہب کی زندگی کے لئے سب سے ضروری چیز ہیں مگر یہ بات افسوس سے کہنی پڑتی ہے کہ دنیا میں انسانی وحدت اور پیار کے پیدا کرنے کی جگہ مختلف مذاہب کے لوگ اور خاص کر متعصب پیرو کار اپنے ذاتی مفاد کورکھ کر باہمی بغض اور کینہ اور عداوت کا باعث بنتے رہے ہیں۔ احمدیوں کو یہ فخر حاصل ہے کہ ان کے بانی نے سب مذاہب کا یکساں عزت و احترام کیا اور منتشر انسانی دلوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ یہ امران کے دفتر زیارت کے کمرے میں داخل ہونے سے ہی ثابت ہو جاتا ہے۔ اس کمرہ میں دیواروں سے لٹکائے ہوئے چارٹ ہر مذہب کی آراء اور خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ احمدی یکجہتی اور اتحاد میں کمال حاصل کر چکے ہیں اور پاکستان بننےکے باوجود اپنے اس مادر وطن، میں خوش باش اور اعتناء سے لبریز نظر آتے ہیں۔ ان سے مل کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں مجموعی طور پر انسان سے پیار اور محبت کا جذبہ موجود ہے۔ خواہ وہ کسی بھی مذہب و ملت کا ہو۔ یہ آثار بین الاقومی ترقی کے لئے بہت موزوں ہیں ۔ جس مذہب میں یہ باتیں ہوں اور خاص کر عمل کی زندگی میں ڈھل چکی ہوں وہ مذہب دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا ہے اور میری آرزو ہے کہ ہر مذہب کے پیروکاروں میں یہ خیال عمل میں آنا چاہئے۔ ‘‘
یہی ہے عبادت یہی دین و ایمان
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
(اخبار بدر قادیان 14جولائی1954ء)
احمدیہ مشن کے ذریعہ ہندو مسلم کی تمیز کے بغیر فساد زدگان کو امداد
بمبئی فسادات کے موقع پر جماعت کی خدمت انسا یت کا ذکر گجراتی زبان کے کثیر الاشاعت اخبار ’جنم بھومی‘ نے اس ہیڈنگ کے تحت کیا ’ ’احمدیہ مشن کے ذریعہ ہندو مسلم کی تمیز کے بغیر فساد زدگان کو امداد‘‘۔ اخبار لکھتا ہے:
’’نامہ نگار بمبئی شہر میں ہوئے حالیہ فسادات کے فسادزدگان کو بلا تمیز مذہب وملت لندن میں مقیم جماعت کے خلیفہ مرزا طاہر احمد صاحب کے حکم سے بمبئی مشن کے انچارج مولوی برہان احمد ظفر نے راحت پہنچائی۔
گذشتہ مہینے علاقہ دھاراوی کے گنیشودھیا مندر میں35ہندو اور 15مسلم گھرانوں میں راحت کاسامان تقسیم کیا گیا اس موقع پر شمالی بمبئی کے ممبر پارلیمنٹ رام نائک صاحب رمیش مڈیکر صاحب اور جماعت احمدیہ بمبئی کے صدر غلام محمود صاحبب موجود تھے۔ اس طرح بمبئی سینٹرل دھوبی گھاٹ۔ سات راستہ۔ مراٹھامندر کے علاقوں کے فساد زدگان کو احمدیہ مشن پروئی ایم سی اے کے جنرل مینجر جیکب ابراہام اور یوُ جنتا دل کے صدر نسیم صدیق صاحب کی موجودگی میں12ہندوؤں اور 37مسلم گھرانوں کو راحتی سامان دیاگیا اسی طرح ان کی طرف سے ایک ایسا ہی پروگرام دھاراوی کے علاقہ بھگت نگر میں ہوا جہاں مہمان خصوصی جناب گووردھن چوہان تھے اُنکی موجودگی میں 11ہندو اور 44مسلم گھرانوں میں سامان تقسیم کیا گیا۔ اس کے علاوہ وڈالہ، پٹھان واڑی، ملاڈ ،باندرہ پلاٹ، جوگیشوری، ملت نگر، اندھیری، مدن پورہ کے علاقے میں راحت کا سامان تقسیم کیا۔
اسی طرح جماعت احمدیہ نے قومی یکجہتی کے پیش نظر بھاگلپور فساد سے متاثرہ لوگوں کے لئے1989ء میں ہندؤں اور مسلمانوں کے لئے دو کالونیاں تعمیر کیں جن میں سے ایک نام طاہر نگر دوسری کا نام کرشن نگر ہے۔ ‘‘
(روزنامہ جنم بھومی گجراتی8فروری 1993صفحہ6)
معروف جرنلسٹ جناب مظفر حسین صاحب
اخبار سامناہندی جماعت احمدیہ کے خدمت انسانیت کے جذبہ کے متعلق معروف جرنلسٹ کے بیان کو تحریر کرتے ہوئے لکھتاہے :
’’احمدیہ قوم ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کو کم کرنے کے لئے پل کا کام کر رہی ہے۔‘‘
(دوپہر کا سامانہ ہندی30مارچ 1993ء)
جماعت احمدیہ ہندوستان کا پنتھ ہے۔
1993ء کوحضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی ہدایت پرتمام دنیا میںیوم انسانیت منایا گیا تھا ۔ 27نومبر 1993ء کوکے سی کالج چرچ گیٹ میں جلسہ یوم انسانیت کے موقع پر مشہور جرنلسٹ اور سابق ایڈیٹر جن ستہ جناب ودیا دھر گوکھلے جی نے برملا اظہار کیا کہ:
’’ جماعت احمدیہ ہمارے وطن کی اور خاص کرمسلمان بھائیوں کی ایک پروگریسو اور لبرل مائینڈ ایسی سنستھا ہے سنگٹھن ہے میں تو اسے ایک دوسرا نام دینا چاہتا ہوں۔ میں کہوں گا جماعت احمدیہ ہندوستان کا دلدار پنتھ ہے میں اسے دلدار پنتھ کہوں گا ۔ آج اپنے بھارت کو سب سے بڑی ضرورت ہے بڑے دل والوں کی دھرم کا مذہب کا سچا ارتھ جاننے والے لوگوں کی ہے چھوٹے دل ودماغ والے جو پولیٹیشن ہوں اُن کی ضرورت نہیں تمہاری ہماری ضرورت زیادہ ہے۔ دلدار لوگوں کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ اہل دل ہی سمجھ سکتا ہے کہ مذہب کا سچا سندیش کیا ہے وہ انسانیت ہے مانوتا ہے۔مانوتا کے پرتی محبت یہی دھرم اور نفرت یہ ادھرم ہے اس کارن جماعت احمدیہ آج مانوتا دِوس منا رہی ہے یہ لائق تعریف ہے میں اس کوبہت بہت دھنیا واد دیتا ہوں۔ ‘‘
(تقریر یوم انسانیت مورخہ27نومبر1993ء بحوالہ ملینئنم نمبر اخبار بدر 2000ء)
جناب سردار گیانی ذیل سنگھ
سابق صدر جمہوریہ ہندوستان
’’ میں ایک لمبے عرصہ سے جماعت احمدیہ کو جانتا ہوں اور مجھے متعدد دفعہ ان کے مقدس مرکز کی زیارت کاموقع ملا ہے۔ یہ اقلیتی جماعت اپنے امن پسند اصولوں اور قانون کا احترام اور باہمی تعاون اور رواداری کے طریقہ کے باعث نہ صرف انتہائی مشکل اور نا مساعد حالات میںزندہ رہی بلکہ اس جماعت نے اپنے اچھے اثرات پیدا کرتے ہوئے اپنے علاقہ میں ایک عزت و احترام کامقام حاصل کر لیا ہے۔ جماعت احمدیہ تمام مذہبی پیشواؤں کوعزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اُنہوں نے محبت اور خدمت خلق کے جذبہ سے سب لوگوں کے دلوں کو جیتا ہے۔احمدیہ جماعت دوسرے مسلمانوں کی نسبت زیادہ وسیع القلب اور حقیقت پسنداُصول اپناتی ہے۔اور اس نے ہمیشہ اخلاقی سر بلندی اور قومی یکجہتی کے اصولوں کو اختیار کیا ہے۔ اُنہوں نے مختلف زبانوں میں قرآن کریم کریم کے تراجم شائع کئے ہیں۔ میں اس موقع پر جماعت احمدیہ کو مختلف میدانوں میں تعمیری کام سر انجام دینے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور یہ اُمید رکھتا ہوں کہ بے لوث خدمت محبت اور لگن کے ساتھ اپنے نیک مقاصد پر گامزن رہے گی۔ میں دل سے اس کی ترقی کا متمنی ہوں۔ ‘‘
( بحوالہ سوئنیر 1989ء ۔
بدر قادیان 23نومبر 2000ء صفحہ177)
میں جماعت احمدیہ کے موٹو LOVE FOR ALL HATRED FOR NONE کی قدر کرتا ہوں۔
امیت شاہ منسٹر آف سٹیٹ گجرات
جلسہ سالا نہ 2004ء کے موقع پر جناب امیت شاہ صاحب منسٹر سٹیٹ گجرات (موجودہ ہوم منسٹر بھارت)نے اپنے پیغام میں فرمایا :
’’ میں جماعت احمدیہ کے موٹو LOVE FOR ALL HATRED FOR NONE کی قدر کرتا ہوں یہ ماٹو بنی نوع انسان میں صبر و برداشت کی روح، عالمی اخوت ، رحم اور ہمدردی اور انصاف کے جذبہ کو بڑھانے میں موجودہ نفرت اور تشدد کی دنیا میں ایک بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ‘‘
( بحوالہ اخبار بدر 18جنوری2005ء صفحہ16)
پدم شری وجئے کمار چوپڑا صاحب
چیف ایڈیٹر ہند سماچار
جلسہ سالا نہ2005ء کے موقع پر پدم شری وجئے کمار چوپڑا صاحب چیف ایڈیٹر ہند سماچار نے کہا کہ :
’’میرا قادیان سے بہت پرانا تعلق ہے …جماعت احمدیہ بھی قادیان سے انسانیت کا پیغام لیکرچلی ہے۔ جب بھی بھارت پر کوئی مشکل آئی ہے جماعت احمدیہ نے ہمیشہ مدد کی ہے۔ تمام اکناف عالم کو یہی پیغام دیا ہے کہ ہم سب ایک ہیں۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ ‘‘
(اخبار ہند سماچار جالندھر29دسمبر2005ء)
٭٭٭