آج پوری امتِ مسلمہ غیر معمولی انتشار، افتراق، غربت اور ذہنی و فکری پسماندگی میں مبتلا ہے۔ اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے کے لیے مختلف ادوار میں بےشمار تحریکیں اٹھتی رہی ہیں، مگر نتیجہ ہمیشہ وہی نکلتا ہے جس کی قرآنِ کریم نے یوں نشاندہی فرمائی: تَحْسَبُهُمْ جَمِیعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتّىٰی عنی دکھنے میں تو وہ اکٹھے ہیں لیکن ان کے دل بکھرے ہوئے ہیں۔ غرض مسلمانوں کو متحد کرنے اور ان کے باہمی اختلافات دور کرنے کی ہر کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔
سوچنے کا مقام یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اتحادِ امت کے ہر منصوبے کو ناکامی کیوں ملتی ہے؟ اور وہ تحریکیں جو اسلام کے نام پر اٹھتی ہیں، خدا کی رحمت کو جذب کرنے کی بجائے اُس کے غضب کا باعث کیوں بنتی جا رہی ہیں؟
قرآن و حدیث کے مطالعے اور حالاتِ حاضرہ کے تجزیے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امت اس بنیادی نعمت سے محروم ہو چکی ہے جو اسے یکجا رکھنے والی تھی۔ اس محرومی کی اصل وجہ مسلمانوں کے قول و فعل کا تضاد ہے۔ یہی تضاد انہیں خدا کے اُس وعدۂ نصرت سے دور کر چکا ہے جو سورۃ النور کی آیتِ استخلاف میں دیا گیا تھا۔
وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۰۠ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا۰ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا۰ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ( سورۃ النور: ۵۶ )
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور اُنہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اُس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔
ظاہر ہے کہ یہ وعدہ دراصل خلافتِ علیٰ منہاجِ نبوت کے قیام سے متعلق تھا۔ رسولِ اکرم ﷺ نے صاف الفاظ میں پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانے میں آپؐکے رنگ میں آپؐکا ہی ایک روحانی فرزند، یعنی مسیح موعود اور مہدی معہودعلیہ السلام ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ دینِ اسلام کی نشا ٔۃِ ثانیہ مقدر ہے۔ پھر اس کی وفات کے بعد خلافت علیٰ منہاجِ نبوت کا وہ بابرکت سلسلہ قائم ہوگا جو قیامت تک جاری رہے گا اور امتِ مسلمہ کے اتحاد، استحکام اور اجتماعیت کا ضامن ہوگا۔
چنانچہ آج مسلمانوں کی زبوں حالی کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ایک واجب الاطاعت امام اور خلافت جیسے عظیم نظام سے محروم ہیں۔ جبکہ مسیح موعود و مہدی معہود جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقررہ وقت پر مبعوث فرمایا اور جن کی وفات کے بعد سلسلۂ خلافت کو قائم رکھا ان کے انکار اور اس خدائی نظام سے دوری نے امت کو عذابِ الٰہی کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
مسلمانوں کے نمایاں راہنما اور مذہبی پیشوا خود اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ آج امت کی ذلت و رسوائی کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس نہ کوئی امام موجود ہے، نہ کوئی روحانی پیشوا، اور نہ ہی کوئی ایسا رہبر جو ان کی حالتِ زار پر توجہ دے سکے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابویاسر فاروقی صاحب لکھتے ہیں:
’’ قیام پاکستان سے لے کر آج تک اسلامی اصولوں کے مطابق وطن عزیز میں خلیفہ کا انتخاب نہیں ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ خلیفہ اللہ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب ہوتا ہے جو احکام خداوندی کا خود بھی پابند ہوتا ہے اور عامۃ الناس پہ احکام نافذ کر کے عمل کرانے کا پابند ہوتا ہے‘‘۔
(نوائے وقت لاہور، ۲۵؍ جولائی ۱۹۹۰ء)
اسی طرح پروفیسر خالد محمود ترمذی بھی خلافت کی اہمیت اور موجودہ حالات کے واحد عملی حل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ انسانی عقل جو مخلوق ہے بغیر اپنے خالق کی رہنمائی اور ہدایت کے اپنے جیسے انسانوں کی رہنمائی نہیں کر سکتی ۔ خالق حقیقی نے اپنے بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے انبیاء بھیجے ۔ انہوں نے ہمیں صحیح راستہ دکھایا۔
تا خلافت کی بنا ہو پھر جہاں میں استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر
قرآن نے خود ہی اصول وضع کیا کہ بارہا ہم نے اقلیت کو اکثریت پر فتح عطا کی ہے یعنی اکثریت اور اقلیت اللہ کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتی، اہمیت ہے تو حق کی۔ حق کی طرف ہے، کس کے ساتھ ہے۔ اقلیت کے ساتھ ہے تو وہی حق ہے خواہ باطل کے ساتھ کتنی بڑی اکثریت کیوں نہ ہو وہ بہرحال باطل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی نبی کے ساتھ کبھی کوئی قابل ذکر اکثریت نہیں رہی سوائے حضرت نبی اکرم ﷺ کے تو کیا وہ انبیاء حق پر نہیں تھے نعوذباللہ۔ میرا ایمان ہے کہ اس طرح ایک وقت آئے گا کہ جمہوریت کا بھوت لوگوں کے سر سے اتر جائے گا اور لوگ اسلام اسلام پکاریں گے خلافت دوبارہ جمہوریت کی جگہ لے لے گی ،انشاء اللہ۔‘‘
( روزنامہ جنگ ۳۱ ؍ جولائی ۱۹۹۰ء)
جناب واصف علی واصف بھی ’’یا الٰہی، یا الٰہی‘‘ کے عنوان کے تحت ایک نہایت درد بھرے انداز میں دعا کرتے ہوئے یوں التجا پیش کرتے ہیں:
’’یا الٰہی ہمیں لیڈروں کی یلغار سے بچا ... ہمیں ایک قائد عطا فرما، ایسا قائد جو تیرے حبیب کے تابع فرمان ہو۔...اس کی اطاعت کریں تو تیری ہی اطاعت کے حقوق ادا ہوتے رہیں‘‘
(نوائے وقت لاہور ۲۶؍ ستمبر ۱۹۹۱ء)
اسی سلسلے میں مولانا مودودی صاحب بھی یہی احساس ظاہر کرتے ہیں کہ قوم اس وقت ایسے رہنما کی تلاش میں ہے جو نبیانہ بصیرت رکھتا ہو اور اسے صحیح راستہ دکھا سکے۔ چنانچہ وہ یوں تحریر فرماتے ہیں:
’’اکثر لوگ اقامت دین کی تحریک کرنے کے لئے کسی ایسے مرد کامل کو ڈھونڈتے ہیں جو ان میں سے ایک ایک شخص کے تصور کمال کا مجسمہ ہو اور جس کے سارے پہلو قوی ہی قوی ہوں اور کوئی پہلو کمزور نہ ہو ۔ دوسرے الفاظ میں یہ لوگ دراصل نبی کے طالب ہیں۔ اگرچہ زبان سے ختم نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور کوئی اجرائے نبوت کا نام بھی لے تواس کی زبان گدی سے کھینچنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں مگر اندر سے ان کے دل ایک نبی مانگتے ہیں نبی سے کم کسی پر راضی نہیں‘‘۔
(ترجمان القرآن دسمبر وجنوری ۴۳۔۱۹۴۲ء صفحہ ۴۰۱)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس خوبصورت انداز میں فرمایا:
آسماں سے ہے چلی توحیدِ خالق کی ہوا
دل ہمارے ساتھ ہیں گو مُنہ کریں بَک بَک ہزار
حقیقت یہ ہے کہ ہر باشعور مسلمان اس امر کو محسوس کر رہا ہے کہ امتِ مسلمہ کی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کا واحد ذریعہ نظامِ خلافت ہی ہو سکتا ہے۔ اسی خواہش کے پیش نظر تاریخ کے مختلف ادوار میں خلافت کے احیاء کے لیے متعدد تحریکیں اٹھیں، اور آج بھی ایسی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن لوگ اس بنیادی حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ خلافتِ حقہ ہمیشہ کسی نبی کی بعثت کے بعد ہی قائم ہوتی ہے۔
خلافت کا قیام کسی فرد، گروہ یا قوم کے ہاتھ میں نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا جاری کردہ نظام ہے۔ اور اللہ کی نصرت، باہمی اتحاد، روحانی مضبوطی اور تعلق باللہ میں ترقی اسی آسمانی خلافت کے ذریعہ عطا ہوتی ہے۔
خلافت درحقیقت حبلُ اللہ المتین ہے —جو قوموں کو یکجا رکھنے اور ملت کے شیرازے کو مضبوطی سے باندھنے کا واحد ذریعہ ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’اَلْإِمَامُ جُنَّةٌ یُقَاتَلُ مِنْ وَّرَائِهٖ‘‘
امام ڈھال ہوتا ہے، جس کے پیچھے کھڑے ہو کر دشمن سے مقابلہ کیا جاتا ہے۔
اور جب کوئی امام موجود نہ ہو تو قومیں انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں، ان کے اندر افتراق پھیل جاتا ہےجیسا کہ آج امتِ مسلمہ کی حالت اس حقیقت کی زندہ تصویر بنی ہوئی ہے۔
مسلمانوں کی یہی دردناک حالت دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے امتِ مرحومہ پر رحم فرمایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے مکالمہ و مخاطبہ سے نوازا، تاکہ وہ دلوں میں ایمان کی تازہ روح پھونکیں، وہ حقّانی معرفت جو دنیا سے مفقود ہو چکی تھی دوبارہ قائم کریں، اور تقویٰ و طہارت کی وہ حالت بحال کریں جو مدتوں سے غائب تھی۔ آپ فرماتے ہیں
مسیح وقت اب دنیا میں آیا
خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا
مبارک وہ جو اب ایمان لایا
صحابہ سے ملا جومجھ کو پایا
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حسبِ وعدہ خلافتِ احمدیہ کا بابرکت نظام قائم فرمایا۔ چنانچہ آج روئے زمین پر صرف جماعت احمدیہ وہ جماعت ہے جسے خلافتِ الٰہیہ کی نعمت عطا ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک واجب الاطاعت امام کے زیرِ سایہ جمع کر کے ان کے اندر حیرت انگیز اتحاد، یگانگت اور یک جہتی پیدا کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی اس مضبوط رسی کو پوری قوت کے ساتھ تھامے ہوئے ہیں۔
وسائل کی کمی، تعداد کی قلت، شدید مخالفتوں اور مصائب کے طوفانوں کے باوجود یہ جماعت اسلام کی سربلندی کے لیے جو عظیم الشان خدمات سرانجام دے رہی ہے، اسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے کہ ایک چھوٹی، کمزور اور بظاہر بے وسیلہ جماعت کیسے اتنی بڑی عالمگیر تبدیلیوں کا ذریعہ بن گئی ہے۔ اس ساری کامیابی کی بنیاد خلافت کی برکت ہی ہے۔
خلفائے احمدیت نے مختلف اوقات میں جماعت کو اتحاد، محبت، اخوت اور قربانی کے عملی اسباق دئے، جس کے نتیجے میں ہر احمدی کے دل میں دوسروں کے لیے غیر معمولی محبت جنم لیتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں بس کسی احمدی بھائی کا دروازہ کھٹکھٹادیں وہ آپ کا استقبال ایسی محبت، خلوص اور گرمجوشی سے کرے گا جیسے برسوں کا تعلق ہو۔ کسی اجنبی ملک میں بھی آپ کو اجنبیت محسوس نہیں ہوگی، کیونکہ خلافت کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والی محبت نے ہر احمدی کو ایک ہی روحانی خاندان کا فرد بنا دیا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ ا س حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ جماعت احمدیہ ایک ہی جماعت ہے جو ۱۴۰ ممالک میں ( اب تو ۱۹۰ ممالک سے بھی زائد ہیں ۔ ناقل) منتشر پھیلی ہوئی ہونے کے باوجود پھر بھی ایک جمعیت رکھتی ہے ، ایک مرکز رکھتی ہے اور دور دور پھیلے ہوئے احمدیوں کے دل بھی آ پس میں جڑے ہوئے ہیں ۔ ایک تکلیف کسی احمدی کو خواہ پاکستان میں پہنچے خواہ بنگلہ دیش میں ہندوستان میں یا کسی اور ملک میں اس تکلیف کی خبر جب دنیا میں پھیلتی ہے جماعت احمدیہ خواہ دنیا کے کسی ملک سے تعلق رکھتی ہو، یوں محسوس کرتی ہے کہ یہ ہماری تکلیف ہے اور عجیب خدا کی تقدیر کا حصہ ہے کہ جیسے میں آپ کے لئے غمگین ہوتا ہوں ، جماعت میرے لئے غمگین ہوتی ہے کہ اس غم سے مجھے زیادہ تکلیف نہ پہنچے او ر ایسے موقع پر مجھ سے تعزیت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اورایسی سادگی اور بھولے پن سے جیسے وہ اس بات پر مقرر کئے گئے ہیں کہ میری دلداری کریں۔‘‘ (الفضل ۲۵؍ جولائی ۱۹۹۴ء) ( خطبہ فرمودہ ۲۴؍ جون ۱۹۹۴ء ٹورنٹو کینیڈا)
چنانچہ خلافت کی برکت سے جماعت احمدیہ کے افراد کے درمیان ایک مضبوط روحانی اخوت اور محبت کا رشتہ قائم ہو چکا ہے۔ خلفائے احمدیت نے اس پاکیزہ رشتے کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ہر دور میں جو انتھک کوششیں کیں، اُن کوششوں کی چند جھلکیاں ذیل میں پیش کی جاتی ہیں:
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد پہلے جانشین حضرت الحاج مولانا نورالدینؓ تھے ۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا:
’’ یہی تمہارے لئے بابرکت راہ ہے تم اس حبل اللہ کو اب مضبوط پکڑ لو ۔ یہ محض خدا ہی کی رسی ہے جس نے تمہارے متفرق افراد کو اکٹھا کر دیا ہے۔ پس اسے مضبوط پکڑے رکھو‘‘۔
(بدر یکم فروری ۱۹۱۲ء)
پھر آپ فرماتے ہیں:
’’تم شکر کروکہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے ، اتفاق بڑی نعمت ہے اور یہ مشکل سے حاصل ہوتا ہے ، یہ خدا کا فضل ہے کہ تم کو ایسا شخص دے دیاجو شیرازہ وحدت قائم رکھے جاتا ہے‘‘۔
( بدر ۲۴؍ اگست ۱۹۱۱ء)
پھر آپ نے جماعت کو آپس میں محبت و الفت بڑھانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:
’’یہاں آنے والوں کے واسطے ضروری ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ کریں ، پتہ مقام دریافت کریں، نام نشان پوچھیں اور آپس میں تعارف حاصل کریں۔ یہ بھی راہ ہے وحدت کے پیدا ہونے کی اور اگر کوئی کہے چلو جی ہمیں کیا ہم تو پنجاب کے اور یہ ہندوستان کے اس سرے کے ہم تو آپس میں ملیں بیٹھیں اوروں سے کیا غرض و غایت تو وہ نادان نہیں سمجھتا یہ امر وحدت کے متضاد ہے۔ چاہئے کہ ہر ایک یہاں کے آنے والے کے نام و نشان سے بخوبی واقف ہو اور آگاہی ہو اور ایک دوسرے کے حالات پوچھتے جاویں اس طرح سے تعلق ہو جاتے ہیں ۔ خدا کی طرف سے آنے والے وحدت چاہتے ہیں۔ اخوان کے معنے اور مفہوم بھی یہی ہیں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو جاننے پہچاننے والے ہوں۔ خدا تعالیٰ تمہاری محبتوں ، بختوں، جانفشانیوں کو رحم سے دیکھے اور قبول کرے اور آخر تک استحکام اور ا ستقلال بخشے۔ یہاں تک کہ کوچ کا وقت آ جائے اور تم اپنے اقرار کے پورے پکے رہنے والے ہو اور اللہ کی رضا کے حاصل کرنے والے اور مقدم کرنے والے ہو‘‘
(خطبہ ۳۰؍ مارچ ۱۹۰۳ء، الفضل ۱۹؍ مئی ۱۹۹۴ء)
جب حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ کے دور کا آغاز ہوا، تو جماعت میں ایک گروہ، جو اپنے آپ کو جماعت کی تمام تر ترقیات، نظام اور اتحاد و اتفاق کا ذمہ دار سمجھتا تھا، نے شیرازہ بندی کو بکھیرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے خود کو خلافت کے بابرکت نظام سے علیحدہ کر کے لاہور میں قیام کیا اور یہ خیال کر لیا کہ ان کے جانے سے جماعت، نعوذ باللہ، ختم ہو جائے گی اور لوگ قادیان کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔
ایسے مشکل حالات میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے بے پناہ حکمت، بصیرت اور شجاعت کے ساتھ جماعت کو متحد رکھنے، اخوت و محبت قائم رکھنے اور لوگوں کے دلوں میں خلافت کی اہمیت کو مضبوط کرنے کے لیے دن رات درس و تدریس، وعظ و نصیحت سے کام لیا۔ آپ کے ارشادات اور خلافت کی برکات کے بارے میں جو تعلیمات دی گئیں، وہ تاریخِ احمدیت کے روشن اور سنہرے ابواب میں شمار ہوتی ہیں۔
اس نتیجے میں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ حصہ جو خلافت کے دامن سے وابستہ رہا، دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا چلا گیا۔ لیکن جو لوگ خلافت سے الگ ہو گئے، وہ دن بہ دن انتشار اور افتراق کا شکار ہوتے چلے گئے، ان کی نسلیں احمدیت سے دور ہو گئیں، اور آج وہ اپنی ناکامی اور نامرادی کا خود سامنا کر رہے ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خلافت سے وابستگی اور اس کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا:
’’ خدا چاہتا ہے کہ جماعت کا اتحاد میرے ہی ہاتھ پہ ہو اور خدا کے اس ارداہ کو اب کوئی نہیں روک سکتا ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ان کے لئے ( یعنی غیر مبائعین کے لئے) صرف دو ہی راہ کھلے ہیں یا تو وہ میری بیعت کر کے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے اپنے خون کے آنسوؤں سے سینچا ہے اکھاڑ کر پھینک دیں ۔ جو کچھ ہو چکا ، ہوچکا۔ مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہو سکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ورنہ ہر ایک شخص جو اس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہوگا‘‘۔
(الفضل ۱۸؍ فروری ۱۹۵۸ء، تقریر لاہور)
پھر آپ رضی اللہ عنہ نے قوموں کی ترقی کا راز بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ قوموں نے اتفاق کے ذریعہ ہی ترقی حاصل کی ہے ۔ وہ جماعتیں جو مالدار ہوں اور کثرت افراد کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہوں۔ وہ تفرقہ اور نفاق کیوجہ سے ان چھوٹی چھوٹی جماعتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں جن میں جتھا اور اجتماع اوراتفاق اور اتحاد پایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جن جماعتوں نے ایک جان ہو کر پورے اتفاق و اتحاد سے رہنے سے بڑی بڑی طاقتوں اور جماعتوں کا مقابلہ کیا ہے وہ ضرور کامیاب ہوئی ہیں اور کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکا‘‘۔
(خطبہ جمعہ ۲۲ ؍ مارچ ۱۹۱۸ء، الفضل ۱۸؍ مئی ۱۹۹۵ء)
پھر جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’ کسی جماعت کی ترقی کے لئے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے سب افراد آپس میں ایک ہو جائیں ۔ جب تک کوئی جماعت فرد واحد کی طرح نہیں ہوجاتی ترقی نہیں کر سکتی۔ خواہ وہ جماعت دینی ہو یا دنیوی کیونکہ تمام کامیابیوں اور ترقیوں کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ قاعدہ جاری کیا ہوا ہے کہ جب تک سا ری جماعت ایک نہ ہو جائے ، لڑنا جھگڑنا ، دشمنی، نفاق و حسد و کینہ ، بغض و عداوت کو چھوڑ نہ دے اس وقت تک ترقی نہیں کر ے گی‘‘۔(الفضل ۱۰؍ مئی ۱۹۹۲ء)
خلافت سے وابستگی کی برکت کے بارہ میں فرمایا:
’’ جب تک تم اس کو پکڑے رکھو گے تو کبھی دنیا کی مخالفت تم پر اثر نہ کر سکے گی۔ بیشک افراد مریں گے ، مشکلات آئیں گی ، تکالیف پہنچیں گی مگر جماعت کبھی تباہ نہیں ہوگی بلکہ وہ دن بدن بڑھے گی‘‘۔
(درس القرآن ۱۹۲۱ء ، صفحہ ۷۳، بحوالہ خالد مئی ۱۹۹۱ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے خلافت کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’حضرت مسیح موعود ؑ کے وصال سے اس روشنی نے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی تھی چمکنا بند نہیں کر دیا ۔ حضور کا وصال ہو گیا لیکن وہ روشنی اپنی جگہ قائم ہے اور ماحول کو باقاعدہ اور مسلسل منور کر رہی ہے۔ اور مردوں اورعورتوں کو ان کی حقیقی منزل کی طرف رہنمائی کر رہی ہے ...۔ روشنی چمک رہی ہے اور اس کی شعاعیں حضور کے خلفاء کے ذریعہ اکناف عالم میں پہنچ رہی ہیں۔ ان خلفاء کو چھو ڑ کر نہ کہیں روشنی ہے نہ حقیقی رہنمائی‘‘۔
( خطبہ جمعہ ۱۴؍ مئی ۱۹۲۰ء، خالد مئی ۱۹۷۸ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ عنہ نے تو اس موضوع پر سیرحاصل بحث کی ہے اور اپنے متعدد خطبات، تقاریر اور خطابات میں اس پر روشنی ڈالی ہے اور جماعت کو خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدردانی اور شکرگزاری کی طرف توجہ دلائی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وساطت سے اس زمانے میں ہم نے ایک زندگی پائی ۔ وہ زندگی جو ہمیشہ سے تھی مگر وہ مردہ تھے جن پر وہ اثر نہیں کر رہی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے ہم نے اسے زندہ محسوس کیا اور اس زندگی سے ہمارے محبت کے رشتے زندہ ہو گئے ۔ ہمار ے دل دوبارہ دھڑکنے لگے ۔ ہم میں اجتماعیت کا احساس پیدا ہوا۔ یہ جب تک زندہ رہے گا ہم دنیا کو امت واحدہ بناتے رہیں گے۔ یہ طاقت ہمیں خدا سے نصیب ہوئی ہے کوئی دنیا کی طاقت یہ طاقت ہم سے چھین نہیں سکتی اور اس کی وجہ وہی ہے جو میں بیان کر چکا ہوں۔ اس کو سمجھیں ، اس پر قائم ہو جائیں تو آپ بڑی قوت کے ساتھ نئے آنے والوں کو اپنے ساتھ کھینچیں گے اور یہ اجتماعیت کادائرہ بڑھتا چلا جائے گا۔ اللہ کرے کہ ہمیں آنحضرت ﷺ کی ان نصیحتوں کو سمجھنے اور حرز جان بنانے کی ، یعنی جان میں سب سے پیارا وجود سمجھنے کی طاقت عطا فرمائے۔‘‘
( خطبہ جمعہ ۱۰؍ جون ۱۹۹۲ء ، الفضل ۱۲؍ اگست ۱۹۹۲ء)
پھر فرمایا:
’’ جماعت احمدیہ کے تعلقات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ دنیا میں کوئی اور جماعت اور کوئی قوم یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کیونکہ کثرت کے ساتھ اللہ کے نام پر ایک جگہ اکٹھے ہونے والے جو مختلف ملکوں قوموں اور مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں کہیں اور اکٹھے نہیں ہوتے اور آپس میں پھر ایک دوسرے سے ان کی محبتیں نہیں بڑھتیں۔ انگلستان کی جماعت میں جب تک یہ انٹرنیشنل جلسہ شروع نہیں ہوا تھا ان کو اس بات کا ذائقہ ہی نہیں تھا کہ یہ کیا چیز ہوتا ہے۔ اتفاقاً کوئی باہر سے آ گیا اور شامل
ہو گیا ۔ اب یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح پر جلسے پر دنیا بھر سے لوگ کھنچے چلےآتے ہیں اور مختلف رنگوں اور مختلف نسلوں کے اورجب ایک مقامی آدمی کی نظر پڑتی ہے تو بلا شبہ محبت کی نظر پڑتی ہے ۔ کئی دفعہ گزرتے ہوئے میں نے دیکھا ہے کہ کوئی غیرملکی کھڑے ہیں اور ساتھ ارد گرد مقامی لوگ جمگھٹا کر کے کھڑے ہیں اور بڑے غور سے اور پیار سے ان کو دیکھ رہے ہیں اور ہر ایک کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ مصافحے کرے اور ان سے تعلقات بڑھائے۔ یہی حال آنے والوں کو ہوتا ہے۔ جاتے ہیں تو بھیگی آنکھوں کے ساتھ واپس جاتے ہیں اور واپس جا کر جو خطوط لکھتے ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ مقامی لوگوں سے ہی نہیں جو دوسرے ملکوں سے وہاں آئے تھے ان سے بھی ان کے تعلقات بڑے گہرے ہو گئے ہیں پھر آپس میں خط و کتابت چل پڑتی ہے ۔... اس مضمون کو نئے آنے والوں کے تعلق میں بیان کر چکا ہوں۔ آج پھر آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ جو خدا نے آپ کو نعمت عطا فرمائی ہے اور آپ کو معلوم بھی نہیں تھا کہ کیسے عطا ہوئی ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واسطے سے دوبارہ عطا ہوئی ہے۔ پس اس نعمت کو یاد رکھیں ۔ اللہ نے دوبارہ یہ نعمت اپنے فضل سے عطا کی ہے اور نعمت کے سوا دل نہیں باندھے جا سکتے۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تصور اپنے میں سے نکا ل دیں تو آپ میں سے کسی کو دوسرے کی پرواہ نہیں رہے گی اور اس تعلق کو خلافت آگے بڑھا رہی ہے اور وہ تعلق پھر خلافت کی ذات میں مرکوز ہوتا ہے اور پھر آگے چلتا ہے‘‘۔
(خطبہ جمعہ ۱۰؍ جون ۱۹۹۰ء، الفضل ۷؍ اگست ۱۹۹۱ء)
پھر آپ نے جماعت کو اجتماعیت کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:
’’ اس ضمن میں خصوصیت سے آپ کو یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اکٹھے رہیں ۔ آپ نے ایک اجتماع کا مرکز دیکھا تھا اور اجتماعیت کا جو نظارہ آپ کے علم میں تھا مگر اس طرح آنکھوں کے سامنے نہیں ابھرا تھا۔ وہ آنکھوں کے سامنے ابھرا ہے ۔تب آپ کو معلوم ہوا ہے کہ ایک ہاتھ پہ ، ایک مرکز پہ اکٹھا ہونا کس کو کہتے ہیں۔ اس لئے آج جو میں نے آپ کے سامنے آیت تلاوت کی ہے اس کا اس مضمون سے تعلق ہے کہ آپ اپنی اجتماعیت کی حفاظت کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رہیں، چمٹے رہیں۔ کوئی ایسی بات نہ کریں جو کسی جگہ بھی جماعت کے ایک وجود میں کسی طرح رخنہ پیدا کرے سکے‘‘۔
خدا تعالیٰ کے اس عظیم احسان پر کہ اس نے اپنے فضل سے جماعت کو خلافت کے ذریعے اجتماعیت کی نعمت سے سرفراز فرمایا ہے، شکرگزاری کی ضرورت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:
’’ پس وہ خدا کااحسان کہ آپ کواکٹھے کر دیا آج یہ دوسری صورت میں ظاہر ہوا ہے ۔ آج پھر بھائی بنائے گئے ہو لیکن خدا کی قسم اب جو بنائے گئے ہو انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک بنائے رکھے گا تمہیں، اگر تم انکساری کے ساتھ خدا تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے زندگیاں بسر کرو گے تو اس نعمت کو کوئی تم سے چھین نہیں سکے گا‘‘۔
(خطبہ جمعہ ۵؍ اگست ۱۹۹۴ء، الفضل ۲۳؍ اگست ۱۹۹۴ء)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم نعمت کی صحیح قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل کرے۔
٭٭٭