اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-25

حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی تصنیف لطیف ’’پیغام صلح ‘‘کی روشنی میں قومی یکجہتی کی تجاویز ( سیّد طفیل احمد شہباز مربی سلسلہ نظارت نشرواشاعت قادیان )

کسی بھی ملک و ملت کے استحکام اور ترقی کی بنیادی شرط،قومی یکجہتی کا فروغ ہے۔ جہاں قوم کے مختلف طبقات، مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے افراد باہم اتفاق، رواداری اور ہمدردی کے ساتھ رہتے ہیں، وہاں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ برصغیر ہندوپاک ایک ایسا خطہ ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور اقوام کی موجودگی اس بات کی متقاضی ہے کہ قومی اتحاد و یگانگت کو فروغ دیا جائے۔ایسے ماحول میں جبکہ مذہبی اختلافات اور فرقہ واریت عروج پر ہوں،حضرت اقدس ؑ فرماتے ہیں کہ
’’ہم سب کیا مسلمان اور کیا ہندو باوجود صدہا اختلافات کے اُس خدا پر ایمان لانے میں شریک ہیں جو دنیا کا خالق او رمالک ہے اور ایسا ہی ہم سب انسان کے نام میں بھی شراکت رکھتے ہیں یعنی ہم سب انسان کہلاتے ہیں اور ایسا ہی بباعث ایک ہی ملک کے باشندہ ہونے کے ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ صفائے سینہ اور نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے رفیق بن جائیں اور دین و دنیا کی مشکلات میں ایک دوسرے کی ہمدردی کریں اور ایسی ہمدردی کریں کہ گویا ایک دوسرے کے اعضاء بن جائیں۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 439)
یہ اقتباس حضرت اقدسؑ کی بین المذاہب رواداری، انسانی مساوات، اور قومی وحدت کی تعلیمات کا درخشندہ نمونہ ہے۔ اس میں ایک ایسی فکری وسعت اور روحانی لطافت پنہاں ہے جو دلوں کو جوڑنے، ذہنوں کو وسعت دینے، اور قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آفاقی ہمدردی اور انسانیت کی مساوی خلقت ِدین کی اصل روح
چنانچہ فرمایا کہ
’’اے ہموطنو! وہ دین دین نہیں ہے جس میں عام ہمدردی کی تعلیم نہ ہو۔ اور نہ وہ انسان انسان ہے جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ ہمارے خدا نے کسی قوم سے فرق نہیں کیا۔ مثلاً جو جو انسانی طاقتیں اور قوتیں آریہ ورت کی قدیم قوموں کو دی گئی ہیں۔ وہی تمام قوتیں عربوں اور فارسیوں اور شامیوں اور چینیوں اور جاپانیوں اور یورپ اور امریکہ کی قوموں کو بھی عطا کی گئی ہیں ‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص439 )
یہ اقتباس حضرت اقدس ؑؑ کی بین الاقوامی فکری وسعت، اخلاقی بصیرت، اور روحانی گہرائی کا آئینہ دار ہے۔ اس میں دین کی اصل روح یعنی عام ہمدردی کو معیارِ صداقت قرار دیا گیا ہے، اور انسانیت کی تعریف کو ہمدردی کے مادے سے مشروط کیا گیا ہے۔ یہ وہ تعلیم ہے جو نہ صرف مذہبی اصلاح کی بنیاد رکھتی ہے بلکہ قومی اور بین الاقوامی وحدت کی بھی ضامن ہے۔
اخلاقِ الٰہی انسانی بقاء
اور قومی سلامتی کا سرچشمہ
حضرت اقدسؑ نے اخلاقِ الٰہی کو صرف ایک مذہبی تعلیم نہیں بلکہ ایک قومی ضابطۂ حیات قرار دیا۔ خدا کے اخلاق جیسے عدل، رحم، سچائی، حلم، عفو، اور شفقت وہ مقدس صفات ہیں جن کی پیروی انسان کو نہ صرف روحانی بلندی عطا کرتی ہے بلکہ قومی بقاء کی ضمانت بھی بنتی ہے۔اخلاقِ الٰہی کی پیروی ہی انسانیت کی نجات ہے۔چنانچہ فرمایا کہ
’’یقینا سمجھو کہ اگر ہم دونوں قوموں میں سے کوئی قوم خدا کے اخلاق کی عزت نہیں کرے گی اور اس کے پاک خلقوں کے برخلاف اپنا چال چلن بنائے گی تو وہ قوم جلد ہلا ک ہو جائے گی۔ اور نہ صرف اپنے ؔ تئیں بلکہ اپنی ذریت کو بھی تباہی میں ڈالے گی جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے تمام ملکوں کے راستباز یہ گواہی دیتے آئے ہیں کہ خدا کے اخلاق کا پیرو ہونا انسانی بقاء کے لئے ایک آب حیات ہے اور انسانوں کی جسمانی اور روحانی زندگی اسی امر سے وابستہ ہے کہ وہ خدا کے تمام مقدس اخلاق کی پیروی کرے جو سلامتی کا چشمہ ہیں۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص440 )
یہ اقتباس حضرت اقدس ؑؑ کی تعلیمات میں اخلاقِ الٰہی کی عظمت، اس کی پیروی کی ناگزیریت، اور اس سے انحراف کے نتائج کو نہایت حسین پیرائے میں بیان کرتا ہے۔ اس میں ہر فرد، قوم، اور نسلوں کی تقدیر کو اخلاقی بنیادوں پر پرکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔
ربُّ العالمین تمام اقوام و زمانوں کا واحد ربّ
ہر خوبی، ہر کمال، اور ہر جمال کا سرچشمہ صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ یہ وہ تصورِ توحید ہے جو انسان کو ہر قسم کے شرک، تعصب، اور فرقہ واریت سے بلند کر کے ایک وحدانی مرکز کی طرف متوجہ کرتا ہے۔جب انسان یہ مان لے کہ اس کا ربّ وہی ہے جو دوسرے انسانوں کا بھی ربّ ہے، تو دلوں میں تعصب کی جگہ محبت، نفرت کی جگہ ہمدردی، اور تقسیم کی جگہ وحدت جنم لیتی ہے۔اس ضمن میں فرمایاکہ
’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَیعنی تمام کامل اور پاک صفات خدا سے خاص ہیں جو تمام عالموں کا ربّ ہے۔ عالم کے لفظ میں تمام مختلف قومیں اور مختلف زمانے اور مختلف ملک داخل ہیں‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 440)
یہ اقتباس خدا کی ربوبیت کی وسعت کو بیان کرتا ہے، جو تمام قوموں پر محیط ہے۔ علمی طور پر، یہ تنگ نظری کا رد کرتا ہے اور قومی یکجہتی کو الہی اصول قرار دیتا ہے، جو بلندی سطح پر مساوات کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہ وضاحت بلیغ زبان میں الہی کمال کو اجاگر کرتی ہے، جو انسانیت کی وحدت کی ضمانت ہے۔رَ بُّ الْعٰلَمِین یعنی وہ ربّ جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ حضرت اقدسؑ نے "عالم" کے لفظ کی تشریح میں نہایت وسعت پیدا فرمائی:
ئتمام مختلف قومیں یعنی عرب، عجم، ہندو، مسلمان، یورپی، افریقی، چینی، جاپانی وغیرہ
ئتمام مختلف زمانےیعنی ماضی، حال، اور مستقبل کی نسلیں
ئتمام مختلف ملک یعنی ہر جغرافیائی خطہ، ہر تہذیب، ہر تمدن
یہ تشریح اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ خدا کی ربوبیت کسی خاص قوم، مذہب یا نسل تک محدود نہیں، بلکہ وہ تمام انسانوں، تمام اقوام، اور تمام زمانوں کا ربّ ہے۔ یہی وہ تصور ہے جو قومی یکجہتی، بین المذاہب ہم آہنگی، اور عالمی اخوت کی بنیاد بن سکتا ہے۔یہ اقتباس صرف ایک تفسیر نہیں بلکہ ایک دعوتِ وحدت، دعوتِ اخوت، اور دعوتِ ربوبیتِ عامہ ہے جو انسان کو اس کی اصل شناخت، یعنی عبدیت کی طرف لوٹنے کی ترغیب دیتا ہے۔
ربوبیتِ عامہ خدا کا فیض تمام اقوام، زمانوں اور مکانوں پر محیط
خدا کی ربوبیت کی عالمگیریت ہی ہے، جو تمام قوموں، زمانوں اور مکانوں پر محیط ہے، جسے ایمان کا بنیادی جزو قرار دیا گیا ہے۔ دراصل یہ الہی عدل اور فیض کی وسعت کو ثابت کرتا ہے، جہاں ربوبیت کی محدودیت کا انکار، قومی برتری کے خیالات کو رد کرتا ہے۔ چنانچہ یہ توحید کی بنیاد پر قومی یکجہتی کو استوار کرتا ہے، جو انسانی طاقتوں (جسمانی و روحانی) کو الہی سرچشمہ سے جوڑتا ہے، اور پرورش و سہارے کی مثال سے اتحاد کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔ ایک فلسفیانہ اصول جو سماجی ہم آہنگی کی ضمانت ہےاورخدا کو تمام وجود کا سہارا پیش کرتی ہے، جو تنگ نظری کو ختم کر کے عالمگیر اخوت کی طرف بلاتی ہے۔
’’سو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہرایک بندہ کا فرض ہے وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا رب ہے اور تمام مکانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے اور تمام فیضوں کاوہی سرچشمہ ہے۔ اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اسی سے ہے اور اسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں۔ اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہا ہے۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 442)
اس اقتباس میں ’’رب العالمین ‘‘کو ’’سب قوموں کا رب… تمام زمانوں کا رب… تمام مکانوں کا رب ‘‘کی تکرار سے وسعت دی گئی ہے، گویا کہ یہ الفاظ تنگ نظری کی زنجیروں کو توڑتی ہیں۔ اور ایسے خدا کوپیش کرتا ہے جو تمام موجودات کی پرورش اور استحکام کی ضمانت ہے، نیز اس میں قومی یکجہتی کو الہی رحمت کی عکاسی قرار دیا گیاہے۔
فیضِ خداوندی،
ہر قوم اور ہر زمانے کے لیے یکساں عطا
الہٰی انصاف کی بنیاد پر تمام انسانیت کا احترام یکساں ہے۔ یہ امر الہی رحمت کو ایک وسیع و عریض چشمہ قرار دیتی ہے، جو ہر قوم اور ہر زمانہ کے لیے کھلا ہے، اور اس طرح قومی یکجہتی کی مضبوط بنیادیں فراہم کرتی ہے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ
’’( اللہ نے)کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھہرایا۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 442)
یہ اقتباس حضرت اقدس ؑؑ کی تعلیمات میں الٰہی عدل، آفاقی ربوبیت، اور بین الاقوامی روحانی مساوات کا مظہر ہے۔ اس میں ہر قوم، ہر نسل، اور ہر زمانے کو خدا کے فیض کا مستحق قرار دیتی ہے۔
اتفاقِ قوم و ملت کی بقاء کی بنیادکا سبب
حضرت اقدسؑ نے نفسانی تکبر اور نخوت کو قومی وحدت کے لیے زہر قرار دیاکہ اگر کوئی قوم دوسری کو حقیر سمجھے، تو وہ خود بھی اس داغ سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ یہ وہ اخلاقی اصول ہے جو عدل، مساوات، اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہے۔چنانچہ فرمایا کہ
’’اتفاق ایک ایسی چیز ہے کہ وہ بلائیں جو کسی طرح دور نہیں ہوسکتیں اوروہ مشکلات جو کسی تدبیر سے حل نہیں ہوسکتیں وہ اتفاق سے حل ہو جاتی ہیں۔ پس ایک عقلمند سے بعید ہے کہ اتفاق کی برکتوں سے اپنے تئیں محروم رکھے۔ ہندو اور مسلمان اس ملک میں دوایسی قومیں ہیں کہ یہ ایک خیالِ محال ہے کہ کسی وقت مثلاًہندو جمع ہوکر مسلمانوں کو اس ملک سے باہر نکال دیں گے یا مسلمان اکٹھے ہوکر ہندوئوں کو جلاوطن کردیں گے بلکہ اب تو ہندو مسلمانوں کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہو رہا ہے۔ اگر ایک پر کوئی تباہی آوے تو دوسر ا بھی اس میں شریک ہوجائے گا۔ اور اگر ایک قوم دوسری قوم کو محض اپنے نفسانی تکبر اور مشیخت سے حقیر کرنا چاہے گی تو وہ بھی داغ حقارت سے نہیں بچے گی۔ اور اگر کوئی اُن میں سے اپنے پڑوسی کی ہمدردی میں قاصر رہے گا تو اس کانقصان وہ آپ بھی اُٹھائے گا جو شخص تم دونوں قوموں میں سے دوسری قوم کی تباہی کی فکرمیں ہے اُس کی اس شخص کی مثال ہے کہ جو ایک شاخ پر بیٹھ کر اُسی کو کاٹتا ہے۔ ‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 443)
صلح کی راہ میں رکاوٹ ،
زیادتی کا بوجھ اور اخلاقی ذمہ داری
حضرت اقدس ؑ نے اپیل کی کہ جس قوم میں کوئی زیادتی ہو ، اسے قومی یکجہتی کی خاطرچھوڑ دیا جانا چاہئے اورآپؑنے ہندو اور مسلمان قوموں کے درمیان صلح و آشتی کی ضرورت کو اجاگر کیا نیز زیادتی کو صلح کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا اور اسے چھوڑنے کو ایک لازمی شرائط میں شامل فرمایا۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ
’’چاہیے کہ ہندومسلمان باہم صلح کرلیں اور جس قوم میں کوئی زیادتی ہے جو وہ صلح کی مانع ہو اس زیادتی کو وہ قوم چھوڑ دے ورنہ باہم عداوت کا تمام گناہ اسی قوم کی گردن پر ہوگا۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص444 )
یہ اقتباس حضرت اقدس ؑؑ کی اخلاقی جرات، روحانی انصاف، اور قومی خیرخواہی کا مظہر ہے۔ اس میں صلح کو صرف ایک خواہش یا نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی فرض قرار دیا گیا ہے، اور اس فرض کی ادائیگی کو عدل، خود احتسابی، اور قربانی سے مشروط کیا گیا ہے۔یہ وہ صلح ہے جو صرف سیاسی یا سماجی مفاہمت نہیں بلکہ دلوں کی صفائی، نیتوں کی تطہیر، اور کردار کی اصلاح پر مبنی ہے۔ یہ تعلیم نہ صرف انصاف پر مبنی ہے بلکہ خود احتسابی کی دعوت بھی دیتاہے۔ حضرت اقدسؑ نے ہر قوم کو اپنے کردار کا جائزہ لینے کی تلقین فرمائی۔ ’’ورنہ باہم عداوت کا تمام گناہ اسی قوم کی گردن پر ہوگا‘‘اس فقرہ میں ایک الٰہی اصولِ عدل کی جھلک ہے کہ جو صلح کی راہ میں رکاوٹ بنے، وہی فساد کا اصل ذمہ دار ہے۔ اس میں نہ کوئی تعصب ہے، نہ کوئی الزام بلکہ ایک منصفانہ، متوازن، اور روحانی دعوت ہے، جو ہر قوم کو اپنے کردار کا محاسبہ کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
مذہبی اختلافات اور صلح کے پہلو
چھوٹے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے حضرت اقدس ؑ نےبڑے مسائل پر اتفاق کی دعوت دی، اور اس طرح سماجی ہم آہنگی کوبام عروج تک پہنچادیا اور عقل، انصاف اور مشاہدات کی بنیاد پر ہونے والے اختلافات کو ان کے باہمی احترام کو برقرار رکھتے ہوئے قابل قبول قرار دیا اورصرف اُن اختلافات کو سنگین قرار دیا جو پیغمبروں یا الہامی کتابوں کی توہین یا تردید پر مبنی ہوں، کیونکہ یہ قومی یکجہتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ
’’ درحقیقت مذہبی اختلاف صرف اُس اختلاف کا نام ہے جس کی دونوں طرف عقل اور انصاف اور اُمور مشہودہ پر بنا ہو ورنہ انسان کو اسی بات کے لئے تو عقل دی گئی ہے کہ وہ ایسا پہلو اختیار کرے جوعقل اور انصاف سے بعید نہ ہو اور امور محسوسہ مشہودہ کے مخالف نہ ہو اور چھوٹے چھوٹے اختلاف صلح کے مانع نہیں ہوسکتے بلکہ وہی اختلاف صلح کامانع ہوگا جس میں کسی کے مقبول پیغمبر اور مقبول الہامی کتاب پر توہین اور تکذیب کے ساتھ حملہ کیا جائے۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص )
اس اقتباس میں مذہبی اختلاف کو محض ایک تعصب یا جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک عقلی، منصفانہ، اور تجرباتی بنیاد پر قائم اختلاف قرار دیا گیا ہے۔ حضرت اقدسؑ نے اس نکتہ کو نہایت لطیف انداز میں واضح کیا کہ اختلاف صرف اس وقت معتبر اور قابلِ احترام ہوتا ہے جب وہ عقل، انصاف، اور امورِ مشہودہ پر مبنی ہو۔ عقل صرف دلیل کا ذریعہ نہیں بلکہ اخلاقی بصیرت کا پیمانہ ہے۔آپؑنے واضح فرمایا کہ اختلافات اگر بنیادی نہیں، تو وہ صلح کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ بلکہ اصل رکاوٹ وہ اختلاف ہے جس میں کسی قوم کے مقبول پیغمبر یا مقبول الہامی کتاب پر توہین اور تکذیب کے ساتھ حملہ کیا جائے۔یہی وہ نکتہ ہے جو بین المذاہب احترام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جو مذہبی مکالمے کو ادب، شائستگی، اور تعظیم کے دائرے میں رکھتا ہے۔ جب قومیں ایک دوسرے کے پیشواؤں کا احترام کرتی ہیں، تو صلح ممکن ہو جاتی ہے؛ اور جب توہین اور تکذیب کا رویہ اپنایا جاتا ہے، تو اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے۔
وید اور اسلامی تعلیمات میں روحانی ہم آہنگی
دونوں مذاہب کی بنیادی تعلیمات میں مشترکات موجود ہیں۔ یہ دعویٰ مختلف مذہبی روایات کے ارتقائی رابطوں کو تسلیم کرتا ہے، جہاں اسلام کی تعلیمات ویدک علم کے مختلف شاخوں میں اپنی جڑیں تلاش کر سکتی ہیں، جیسے کہ اخلاقیات، روحانی ترقی، یا سماجی ہم آہنگی۔ اور الہی رہنمائی کی بنیادپر تمام مذاہب میں مشترکہ حکمت موجود ہے، جو قومی یکجہتی کی ایک مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ
’’جس قدر اسلام میں تعلیم پائی جاتی ہے وہ تعلیم ویدک تعلیم کی کسی نہ کسی شاخ میں موجود ہے ۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص444 )
اس اقتباس میںحضرت اقدسؑ نے اسلام اور ویدک دھرم کے درمیان تعلیمات کی ہم آہنگی کو اجاگر کیا۔ یہ بیان نہ صرف مذہبی احترام پر مبنی ہے بلکہ ایک فکری مصالحت کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں مذاہب مکمل طور پر یکساں ہیں، بلکہ یہ کہ روحانی اصول، اخلاقی اقدار، اور انسانی فلاح کی بنیادیں دونوں میں مشترک ہیں۔یہ تعلیم تعصب، تفریق، اور مذہبی برتری کے تصورات کو رد کرتی ہے، اور ایک آفاقی روحانی وحدت کی بنیاد رکھتی ہے۔ حضرت اقدسؑ نے یہاں اختلافات کے بجائے مشترکہ اقدار کو نمایاں کیا جیسے توحید، عدل، خدمتِ خلق، ہمدردی، اور تزکیۂ نفس۔ یہ اقتباس صرف ایک تاریخی بیان نہیںبلکہ ایک دعوتِ وحدت، دعوتِ تصدیق، اور دعوتِ اخوت ہے جو مذاہب کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
نبوت کی آفاقیت اور انسان کی فطری ضرورت
خدا کی ذات ’’ عمیق در عمیق‘‘ اور ’’ نہاں در نہاں‘‘ ہے یعنی وہ اپنی صفات، افعال، اور وجود میں اس قدر گہرائی اور پوشیدگی رکھتا ہے کہ انسان کی محدود عقل اس کا مکمل احاطہ نہیں کر سکتی، اس لیے الٰہی ہدایت کا نظام بھی انسان کی فطرت، کمزوری، اور ضرورت کے مطابق متنوع ہونا چاہیے۔چنانچہ فرمایا کہ
’’چونکہ خدا کی ذات عمیق در عمیق اور نہاں در نہاں ہے۔ اس لئے عقل بھی اس بات کو چاہتی ہے کہ وہ اپنے وجود کے ثابت کرنے کے لئے صرف ایک کتاب پر کفایت نہ کرے بلکہ مختلف ملکوں میں سے نبی منتخب کرکے اپنا کلام اور الہام اُن کو عطا کرے تا انسان ضعیف البنیان جو جلد تر شبہات میں گرفتار ہوسکتا ہے دولت قبول سے محروم نہ رہے۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص447 )
حضرت اقدسؑ نے ایک نہایت اہم نکتہ پیش فرمایا کہ خدا کی طرف سے ہدایت صرف ایک کتاب یا ایک قوم تک محدود نہیں ہو سکتی۔ عقلِ سلیم بھی اس بات کو چاہتی ہے کہ خدا مختلف قوموں، مختلف ملکوں، اور مختلف زمانوں میں نبی مبعوث کرے، تاکہ ہر قوم کو اس کی زبان، تہذیب، اور حالات کے مطابق ہدایت پہنچے۔یہ تعلیم نہ صرف تعصب اور تفریق کو رد کرتی ہے بلکہ ایک آفاقی عدلِ الٰہی کو اجاگر کرتی ہے۔ حضرت اقدسؑ نے انسان کو ’’ضعیف البنیان‘‘ قرار دیا یعنی ایسا مخلوق جو جلد شبہات میں مبتلا ہو سکتا ہے، جو محدود علم رکھتا ہے، اور جسے مسلسل رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اس لیے خدا نے اپنی رحمت سے ہر قوم میں نبی بھیجے، تاکہ کوئی بھی انسان سچائی کو تسلیم کرنے کی نعمت سے محروم نہ رہے۔
الٰہی ربوبیت کی آفاقیت اور تعصب کی تردید
خدا نے ہر قوم کو اس کی زبان، تہذیب، اور حالات کے مطابق ہدایت عطا کی۔ حضرت اقدسؑ نے اس تعلیم کو نہ صرف قرآنی اصولوں سے ہم آہنگ کیا بلکہ عقلِ عامہ اور تجربۂ انسانی سے بھی ثابت کیا۔چنانچہ فرمایا کہ
’’عقل سلیم ہرگز قبول کرنے کے لئے طیار نہیں ہے کہ وہ خدا جو تمام دنیا کا خدا ہے جو اپنے آفتاب سے مشرق اور مغرب کو روشن کرتا ہے۔ اور اپنے مینہ سے ہر ایک ملک کو ہرایک ضرورت کے وقت سیراب فرماتا ہے۔ وہ نعوذ باللہ روحانی تربیت میں ایسا تنگ دل اور بخیل ہے کہ ہمیشہ کے لئے ایک ہی ملک اور ایک ہی قوم اورایک ہی زبان اُس کو پسند آگئی ہے اور میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ کس قسم کی منطق اور کس نوع کا فلسفہ ہے کہ پرمیشر ہر ایک آدمی کی دعا اور پرارتھنا کو اس کی زبان میں سمجھ تو سکتا ہے اور نفرت نہیں کرتا مگر اس بات سے سخت نفرت کرتا ہے کہ بجز ویدک سنسکرت کے کسی اور زبان میں دلوں پر الہام کرے۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 447- 448)
آپؑنے نہایت جرات مندانہ انداز میں اس تصور کی تردید فرمائی کہ خدا کی وحی، ہدایت، یا الہام صرف ایک خاص قوم، ایک خاص ملک، یا ایک خاص زبان تک محدود ہے۔ ’’عقلِ سلیم ہرگز قبول کرنے کے لیے طیار نہیں ہے‘‘ یہ فقرہ ہر صاحبِ شعور کو دعوت دیتا ہے کہ وہ مذہبی دعووں کو عقل، انصاف، اور تجربے کی روشنی میں پرکھے۔ حضرت اقدسؑ نے اس اقتباس میں ایک نہایت لطیف مگر گہرا تضاد واضح کیا کہ اگر پرمیشر ہر انسان کی دعا کو اس کی زبان میں سمجھتا ہے، اور اس سے نفرت نہیں کرتا، تو پھر یہ دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ وہ صرف ویدک سنسکرت میں ہی الہام کرتا ہے؟ یہ تضاد نہ صرف فکری ہے بلکہ اخلاقی اور روحانی سطح پر بھی ناقابلِ قبول ہے۔ خدا نے ہر قوم کو اس کی زبان، تہذیب، اور حالات کے مطابق ہدایت عطا کی۔ آپؑنے اس تعلیم کو نہ صرف قرآنی اصولوں سے ہم آہنگ کیا بلکہ عقلِ عامہ اور تجربۂ انسانی سے بھی ثابت کیا۔ ’’تنگ دل اور بخیل‘‘ جیسے الفاظ ایک اخلاقی احتجاج کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں جو تعصب کے خلاف ایک روحانی صداقت کی آواز ہے۔
تحریفِ مذاہب اور اصل وحی کی حفاظت
حضرت اقدسؑ نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ مذاہب میں جو انحرافات پیدا ہوتے ہیں، وہ اصل وحی کی تعلیمات نہیں بلکہ بعد کے پیروکاروں کی نادانی یا نفسانی اغراض کا نتیجہ ہوتے ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ
’’میں وید کو اس بات سے منزہ سمجھتا ہوں کہ اس نے کبھی اپنے کسی صفحہ پر ایسی تعلیم شائع کی ہو کہ جو نہ صرف خلاف عقل ہو بلکہ پرمیشر کی پاک ذات پر بخل اور پکش پات کا داغ لگاتی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی الہامی پر ایک زمانہ دراز گذر جاتا ہے تو اُس کے پیرو کچھ تو بباعث نادانی کے اور کچھ بباعث اغراض نفسانی کے سہواً یا عمداً اس کتاب پر اپنی طرف سے حاشیے چڑھا دیتے ہیں اور چونکہ حاشیہ چڑہانے والے متفرق خیالات کے لوگ ہوتے ہیں اس لئے ایک مذہب سے صدہا مذہب پیدا ہو جاتے ہیں‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 448)
حضرت اقدس ؑؑ نے نہایت شائستگی اور فکری توازن کے ساتھ وید کی اصل تعلیمات کو خلافِ عقل اور تعصب سے منزہ قرار دیا، اور ایک نہایت اہم نکتہ پیش فرمایا کہ الہامی کتب کی اصل تعلیمات پاک، معقول، اور خدا کی صفات سے ہم آہنگ ہوتی ہیں۔ مگر جب ان پر زمانہ دراز گزر جاتا ہے، تو ان کے پیروکا ر خواہ نادان ہوں یا مفاد پرست ،اپنی طرف سے حاشیے، تاویلات، اور اضافات شامل کر دیتے ہیں، جو اصل تعلیم کو دھندلا دیتے ہیں۔یہی وہ عمل ہے جس سے ’’ایک مذہب سے صدہا مذہب پیدا ہو جاتے ہیں‘‘  یعنی اصل وحی کی وحدت، بعد کی تفریق میں بدل جاتی ہے۔ حضرت اقدسؑ نے تحریفِ مذاہب کی ایک جامع اور فکری تشریح پیش کی، جو نہ صرف وید بلکہ ہر الہامی کتاب کے لیے قابلِ اطلاق ہے۔
وحی کی آفاقیت اور تعصب کا خاتمہ
خدا کی ربوبیت آفاقی ہے، تو اس کی ہدایت بھی آفاقی ہونی چاہیے۔ اگر خدا تمام انسانوں کا خالق ہے، تو وہ صرف ایک قوم کو ہدایت دے کر باقی کو محروم نہیں رکھ سکتا۔ یہ تصور نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ خدا کی صفاتِ رحمت، عدل، اور حکمت کے خلاف بھی ہے۔ اس ضمن میں حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ
’’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال (کہ ہمیشہ کے لئے اپنے ملک اور اپنے خاندان اور اپنی کتابوں کی زبان کو ہی خدا کی وحی اور الہام سے مخصوص کیا گیا ہے) محض تعصب اور کمی معلومات سے پیدا ہوا ہے۔چونکہ پہلے زمانے دنیا پر ایسے گذرے ہیں کہ ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے اور ایک ملک دوسرے ممالک کے وجود سے بکلی بے خبر تھی پس ایسی غلطی سے ہر ایک قوم کو جو خدا کی طرف سے کوئی کتاب ملی یا کوئی خدا کا رسول اور نبی اس قوم میں آیا تو اس قوم نے یہی خیال کرلیا کہ جو کچھ خدا کی طرف سے ہدایت ہونی چاہیے تھی وہ یہی ہے اور خدا کی کتاب صرف انہیں کے خاندان اور انہی کے ملک کو دی گئی ہے اور باقی تمام دنیااس سے بے نصیب پڑی ہے۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 449)
اس اقتباس میںآپؑنے نہایت فصاحت کے ساتھ اس غلط تصور کی تردید فرمائی کہ خدا کی وحی صرف ایک قوم، ایک زبان، یا ایک خطے تک محدود رہی ہے۔ آپؑنے اس خیال کو ’’محض تعصب اور کمی معلومات ‘‘کا نتیجہ قرار دے کر اس کی فکری بنیادوں کو چیلنج کیا۔اور فرمایا کہ قدیم زمانوں میں اقوامِ عالم ایک دوسرے سے کٹ کر رہتی تھیں۔ جغرافیائی فاصلے، سفری دشواریاں، اور علمی محدودیت کے باعث ایک قوم دوسری قوم کے وجود، حالات، اور روحانی تجربات سے بے خبر تھی۔ اس لاعلمی نے ہر قوم کو یہ گمان کرنے پر مجبور کیا کہ خدا کی ہدایت صرف انہیں کے لیے مخصوص ہے۔ یہی وہ فکری غلطی ہے جس نے مذہبی تعصب، نسلی تفاخر، اور لسانی محدودیت کو جنم دیا۔ حضرت اقدسؑ نے اس اقتباس میں اس تعصب کی جڑ کو بے نقاب کیا کہ یہ نہ تو وحی کی فطرت سے مطابقت رکھتا ہے، نہ عقلِ سلیم سے، اور نہ ہی الٰہی عدل سے۔
گوتم بدھ کی صلح انگیز دعوت
آپؑنے گوتم بدھؒ کی شخصیت کو ایک صلح پسند، تعصب شکن، اور وحدت پرور مصلح کے طور پر پیش کیا، جو اس زمانے کے مذہبی جمود اور نسلی تفاخر کے خلاف ایک روحانی احتجاج تھا۔یہ وہی رویہ ہے جو ہر زمانے میں نئی روشنی، نئی صداقت، اور نئی اصلاح کے خلاف اپنایا جاتا رہا ہے۔فرمایا کہ
’’گوتم بدھ نے اس صلح کا ارادہ کیاتھا اور وہ اس بات کا قائل نہ تھا کہ جو کچھ ہے وید ہے آگے کچھ نہیں اور نہ وہ قوم اور ملک اور خاندان کی خصوصیت کااقراری تھا یعنی یہ مذہب اس کانہیں تھا کہ گویا وید پر ہی سب کچھ حصر ہے اور یہی زبان اور یہی ملک اور یہی برہمن پرمیشر کے الہام کے لئے ہمیشہ کے لئے اس کی عدالت میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ لہٰذا اُس نے اس اختلاف سے بڑا دکھ اٹھایا اور اس کا نام ایک دہریہ اور ناستک مت والا رکھا گیا۔ ‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 449-450)
حضرت اقدسؑ نے واضح فرمایا کہ گوتم بدھؒ اس تصور کے قائل نہ تھے کہ ہدایت صرف وید تک محدود ہے، یا یہ کہ الہام صرف ایک خاص قوم، خاص زبان، یا خاص طبقے (برہمن) کے لیے مخصوص ہے۔ یہ وہ تصور تھا جو اس وقت کے مذہبی حلقوں میں رائج تھا، اور جس نے روحانی صداقت کو لسانی، نسلی، اور جغرافیائی قید میں جکڑ دیا تھا۔گوتم بدھؒ نے اس تعصب کے خلاف آواز بلند کی، اور ایک ایسی تعلیم دی جو آفاقی، انسان دوست، اور غیر طبقاتی تھی۔ مگر چونکہ وہ اس وقت کے مذہبی نظام سے ہٹ کر ایک آزاد روحانی دعوت لے کر آئے، اس لیے انہیں ’’دہریہ‘‘ اور ’’ناستک‘‘ کہہ کر رد کر دیا گیا حالانکہ ان کی تعلیم اخلاق، ہمدردی، اور تزکیۂ نفس پر مبنی تھی۔
الٰہی ربوبیت کی آفاقیت
اور تعصب کی فطری تردید
ہر مذہب اور قوم، خدا کو اس کی آفاقی صفات کے مطابق پہچانے،اور ہر قوم، ہر زبان، اور ہر انسان کو اس کی رحمت کا مستحق سمجھے۔اخلاقی شعور کسی ایسے عقیدے کو قبول نہیں کر سکتے جو خدا کو محدود، متعصب، یا غیر منصف ظاہر کرے۔چنانچہ حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ
’’دوستو ! برائے خدا یہ سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ عقائد ایسے ہیں جن کو انسانی فطرت قبول کرسکتی ہے یا کوئی کانشنس ان کو اپنے اندر جگہ دے سکتا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کس قسم کی عقلمندی ہے کہ ایک طرف خدا کو تمام دنیا کا خدا ماننا اور پھر اسی منہ سے یہ بھی کہنا کہ وہ تمام دنیا کی ربوبیت کرنے سے دستکشہے۔ اور صرف ایک خاص قوم اور ایک خاص ملک پر اس کی نظر رحم ہے۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 451)
آپؑنے اس تضاد کو بے نقاب کیا جو اکثر مذہبی تعصب میں پایا جاتا ہے یعنی خدا کو ’’تمام دنیا کا خدا‘‘ ماننا، مگر اس کی رحمت، وحی، اور ربوبیت کو صرف ایک قوم یا ملک تک محدود سمجھنا۔ اگر خدا واقعی ’’تمام دنیا کا خدا‘‘ ہے جو ہر انسان کی دعا سنتا ہے، ہر قوم کو رزق دیتا ہے، اور ہر ملک کو اپنی نعمتوں سے سیراب کرتا ہے تو پھر یہ تصور کیسے درست ہو سکتا ہے کہ وہ صرف ایک قوم یا ایک زبان کو اپنی وحی کے لیے منتخب کرے، اور باقی دنیا کو محروم رکھے؟ انسان ،خدا کی ربوبیت کو اس کی صفاتِ رحمت، عدل، اور حکمت کے مطابق سمجھے، نہ کہ نسلی یا لسانی محدودیت کے تحت۔آپؑنے یہاں مذہبی دعووں کو جذباتی یا موروثی بنیادوں پر قبول کرنے کے بجائے عقلی اور اخلاقی بنیادوں پر جانچنے کی ترغیب دی۔
نبیوں اور رسولوں کو توہین ، ایک زہر
نبیوں اور رسولوں کی توہین کے سنگین نتائج کو تاریخی اور تجرباتی بنیادوں پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایسی توہین نہ صرف جسمانی تباہی کا سبب بنتی ہے بلکہ روحانی اور سماجی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ ایک مسلمہ اصول یہ ہے کہ نبیوں کا احترام قومی اور مذہبی استحکام کی ضمانت ہے، جبکہ ان کی توہین دین و دنیا کے دوہرے نقصان کا باعث بنتی ہے۔ نبیوں اور رسولوں کی توہین ایک مہلک زہر کی مانند ہےجو قومی یکجہتی کو تباہ کردیتی ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ
’’قدیم تجربہ اور بار بار کی آزمائش نے اس امر کو ثابت کردیا ہے کہ مختلف قوموں کے نبیوں اور رسولوں کو توہین سے یاد کرنا اور اُن کو گالیاں دینا ایک ایسی زہر ہے کہ نہ صرف انجام کار جسم کو ہلاک کرتی ہے بلکہ روح کو بھی ہلاک کرکے دین اور دنیا دونوں کو تباہ کرتی ہے‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص452 )
آپؑنے اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ نبیوں کی توہین صرف ایک فکری یا لسانی غلطی نہیں بلکہ ایک مہلک روحانی زہر ہے جو فرد، قوم، اور معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔یہ صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا مشاہدہ شدہ نتیجہ ہے کہ جب قومیں ایک دوسرے کے مقدسات، نبیوں، اور رسولوں کی توہین کرتی ہیں، تو وہ نہ صرف اخلاقی زوال کا شکار ہوتی ہیں بلکہ دین و دنیا دونوں کی تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ زہر وہ شے ہے جو خاموشی سے جسم کو مفلوج کرتی ہے، اور یہاں حضرت اقدسؑ نے اس کو روحانی سطح پر استعمال کیا کہ نبیوں کی توہین وہ زہر ہے جو روح کو ہلاک کر دیتی ہے، اور اس کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی سطح پر تباہی کا باعث بنتے ہیں۔یہ تعلیم نہ صرف اخلاقی ہے بلکہ قومی بقاء کی شرط بھی۔جب قومیں ایک دوسرے کے پیشواؤں کا احترام کرتی ہیں، تو دلوں میں نفرت کی جگہ محبت، اور تصادم کی جگہ تعاون جنم لیتا ہے۔ حضرت اقدسؑ نے اس اقتباس میں ایک ایسی روحانی اخلاقیات کی بنیاد رکھی ہے جو بین المذاہب صلح، قومی ہم آہنگی، اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔
مذہبی رہنماؤں کی عزت قومی امن کی شرط
بین المذاہب صلح، قومی ہم آہنگی، اور عالمی امن کے لیے ضروری ہےکہ قوموں کے درمیان سچا اتفاق ہو اور سچا اتفاق صرف اس وقت ممکن ہے جب قومیں ایک دوسرے کے مذہبی جذبات، شخصیات، اور عقائد کا احترام کریں۔ اگر ایک قوم دوسری قوم کے نبی یا رشی اور اوتارکو ’’بدی یا بد زبانی‘‘ سے یاد کرے، تو دلوں میں نفرت، بدگمانی، اور دشمنی جنم لیتی ہے، جو کسی بھی معاشرے کو امن، ترقی، اور وحدت کی راہ پر گامزن نہیں ہونے دیتی۔یہ تعلیم نہ صرف اخلاقی ہے بلکہ سیاسی اور سماجی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ
’’وہ ملک آرام سے زندگی بسر نہیں کرسکتا جس کے باشندے ایک دوسرے کے رہبرِ دین کی عیب شماری اور ازالہ حیثیت عرفی میں مشغول ہیں۔ اور ان قوموں میں ہرگز سچا اتفاق نہیں ہوسکتا جن میں سے ایک قوم یا دونوں ایک دوسرے کے نبی یا رشی اور اوتار کو بدی یا بد زبانی کے ساتھ یاد کرتے رہتے ہیں۔ ‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص452 )
آپؑنے بیان فرمایا کہ قومی امن، باہمی اتفاق، اور سماجی ہم آہنگی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قومیں ایک دوسرے کے مذہبی پیشواؤں، نبیوں، اور اوتاروں کا احترام نہ کریں۔ حضرت اقدسؑ نے اس میں اس عمل کی مذمت کی ہے جس میں قومیں ایک دوسرے کے مقدسات کو ہدفِ تنقید بناتی ہیں، اور ان کی عزت و وقار کو مجروح کرتی ہیں۔ یہ عمل صرف ایک اخلاقی غلطی نہیں بلکہ قومی زوال اور سماجی انتشار کا سبب بنتا ہے۔
تعظیمِ نبویﷺ، صلح کی بنیادی شرط
ایمان اور عشقِ رسول ﷺ ایک مسلمان کی روحانی شناخت ہے۔ اگر کسی قوم یا فرد کی زبان سے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی ہو تو وہ مسلمان کے دلوں کو زخمی کرتی ہے، اور صلح کی بنیاد کو متزلزل کر دیتی ہے۔ چنانچہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ
’’پس ایک سچے مسلمان سے صلح کرنا کسی حالت میں بجز اس صورت کے ممکن نہیں کہ اُن کے پاک نبی کی نسبت جب گفتگو ہو تو بجز تعظیم اور پاک الفاظ کے یاد نہ کیا جائے۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 452)
آپؑنے فرمایا کہ مسلمانوں کے ساتھ سچی صلح صرف اس وقت ممکن ہے جب ان کے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات کو تعظیم، ادب، اور پاکیزہ الفاظ کے ساتھ یاد کیا جائے۔ صلح صرف اس وقت ممکن ہے جب ادبِ نبوی کو ملحوظ رکھا جائے۔ گفتگو کا انداز، لہجہ، اور انتخابِ الفاظ صلح کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
محبتِ عوامی، نبیوں کی سچائی کی فطری دلیل
اگر کسی نبی کی تعلیمات نے کروڑہا لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے، اور اگر ان کی محبت اور عظمت نسل در نسل قائم رہی ہے، تو یہ خود ایک فطری دلیل ہے کہ وہ نبی ،خدا کی طرف سے مبعوث ہوا تھا۔چنانچہ فرمایا کہ
’’اور ہم لوگ دوسری قوموں کے نبیوں کی نسبت ہرگز بد زبانی نہیں کرتے بلکہ ہم یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس قدر دنیا میں مختلف قوموں کے لئے نبی آئے ہیں اور کروڑہا لوگوں نے ان کو مان لیاہے اور دنیا کے کسی ایک حصہ میں اُن کی محبت اور عظمت جاگزیں ہوگئی ہے اور ایک زمانہ دراز اس محبت اور اعتقاد پر گذر گیا ہے تو بس یہی ایک دلیل اُن کی سچائی کے لئے کافی ہے‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص452-453 )
آپؑنے مدلل انداز میں اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ نبیوں کی سچائی کا ایک فطری معیار یہ ہے کہ ان کی تعلیمات نے کروڑہا دلوں کو تسخیر کیا، ان کی محبت نسلوں میں رچ بس گئی، اور ان کی عظمت صدیوں تک قائم رہی۔حضرت اقدسؑ نے ’’بد زبانی نہیں کرتے‘‘ کہہ کر ایک اخلاقی ضابطہ قائم کیا کہ ہم کسی قوم کے نبی کو توہین یا تحقیر سے یاد نہیں کرتے، کیونکہ سچائی کا احترام، اور اختلاف کے باوجود ادب ہی وہ اصول ہے جو روحانی بلندی کی علامت ہے۔یہ تعلیم نہ صرف تعصب کو رد کرتی ہے بلکہ ایک روحانی وسعتِ نظر عطا کرتی ہے جو ہر قوم، ہر مذہب، اور ہر نبی کو اس کی عوامی محبت، تاریخی اثر، اور اخلاقی تعلیمات کی بنیاد پر قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
قرآنی توحید، وید کی عزت،
اور نرمی کے بدلے سنگباری کا شکوہ
حضرت اقدسؑ نے ایک اخلاقی تقابل پیش کیا کہ ہم آریہ صاحبان کے مقدسات کو عزت دیتے ہیں، ان کے رشیوں کو بزرگ مانتے ہیں، اور وید کو خدا کا کلام تسلیم کرتے ہیں، تو پھر قرآن شریف کے ساتھ بھی وہی نرمی، عزت، اور دیانت کا سلوک ہونا چاہیے۔ نرمی، محبت، اور عزت کے جواب میں سختی، دشمنی، اور تحقیر کا رویہ اختیار کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ قومی وحدت کے لیے زہر ہے۔چنانچہ فرمایا کہ
’’اور پھر جب کہ ہم باوجود ان تمام مشکلات کے خدا سے ڈرکر وید کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور جو کچھ اس کی تعلیم میں غلطیاں ہیں وہ وید کے بھاشکاروں کی غلطیاں سمجھتے ہیں تو پھر قرآن شریف جو اول سے آخر تک توحید سے بھرا ہوا ہے اور کسی جگہ اس میں سورج اور چاند وغیرہ کی پرستش کی تعلیم نہیں کی بلکہ صاف لفظوں میں فرمایا ہے لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ یعنی نہ سورج کی پرستش کرو اور نہ چاند کی اور نہ کسی اور مخلوق کی۔ اور اس کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا۔ علاوہ اس کے قرآن شریف خدا کے قدیم نشانوں اور تازہ نشانوں کی گواہی اپنے ساتھ رکھتا ہے اور خدا کا وجود دکھلانے کے لئے ایک آئینہ ہے۔ کیوں وحشیانہ طور کے اس پر حملے کئے جائیں۔اور کیوں وہ معاملہ ہم سے نہیں کیاجاتا جو ہم آریہ صاحبوں سے کرتے ہیں اور کیوں دشمنی اور عداوت کا تخم ملک میں بویا جاتا ہے کیاامید کی جاتی ہے کہ اس کا نتیجہ اچھا ہوگا۔ کیا یہ نیک معاملہ ہے کہ ایک شخص جو پھول دیتا ہے اس پر پتھر پھینکا جائے ۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 454)
یہ اقتباس حضرت اقدس ؑؑ کی روحانی دیانت، قرآنی بصیرت، اور اخلاقی جرات کا مظہر ہے۔ آپؑنے نہایت شائستہ انداز میں اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ جب ہم وید کو عزت دیتے ہیں، اس کی اصل تعلیمات کو خدا کی طرف سے مانتے ہیں، اور اس میں موجود غلطیوں کو بھاشکاروں (مفسرین)کی تحریفات سمجھتے ہیں تو پھر قرآن شریف، جو توحید، اخلاق، اور روحانی نشانوں سے لبریز ہے، اس پر وحشیانہ حملے کیوں کیے جاتے ہیں؟آپؑ نے سورۃ حم السجدہ کی آیت لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ…کو پیش کر کے یہ واضح فرمایا کہ قرآن کی تعلیمات خالص توحید پر مبنی ہیں اس میں نہ سورج، نہ چاند، نہ کسی مخلوق کی پرستش کی اجازت ہے، بلکہ صرف اس خدا کی عبادت کا حکم ہے جس نے سب کو پیدا کیا۔ حضرت اقدسؑ نے قرآن کو ’’خدا کا آئینہ‘‘ قرار دیا یعنی وہ کتاب جو خدا کے وجود، صفات، اور نشانوں کو واضح کرتی ہے۔ اس میں قدیم انبیاء کی گواہی بھی ہے اور تازہ روحانی تجربات کی روشنی بھی۔ پھر سوال یہ اٹھتا ہےکہ کیوں اس کے ماننے والوں کو تعصب کا نشانہ بنایا جائے؟
صلحِ تام کی پیشکش
کسی بھی ملک میں صلحِ تام صرف اس وقت ممکن ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے کے مقدسات، نبیوں، اور الہامی کتب کو سچا، محترم، اور قابلِ تعظیم مانیں۔ یہ وہی اصول ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی، قومی وحدت، اور اخلاقی مساوات کی بنیاد بن سکتا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ
’’اگر اس قسم کی صلح تام کے لئے ہندو صاحبان اور آریہ صاحبان طیار ہو ں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا سچا نبی مان لیں اور آئندہ توہین اور تکذیب چھوڑدیں تو میں سب سے پہلے اس اقرار نامہ پر دستخط کرنے پر طیار ہوں کہ ہم احمدی سلسلہ کے لوگ ہمیشہ وید کے مصدق ہوں گے اور وید اور اُس کے رشیوں کا تعظیم اور محبت سے نام لیں گے اور اگر ایسا نہ کریں گے تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی ہندو صاحبوں کی خدمت میں ادا کریں گے۔ اور اگر ہندو صاحبان دل سے ہمارے ساتھ صفائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی ایساہی اقرار لکھ کر اس پر دستخط کردیں اور اس کا مضمون بھی یہ ہوگا کہ ہم حضرت محمد مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور نبوت پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کو سچا نبی اور رسول سمجھتے ہیں اور آئندہ آپ کو ادب اور تعظیم کے ساتھ یاد کریں گے جیسا کہ ایک ماننے والے کے مناسب حال ہے اور اگر ہم ایسا نہ کریں تو ایک بڑی رقم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہوگی احمدی سلسلہ کے پیش رو کی خدمت میں پیش کریںگے۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 455)
باہمی تصدیق ،صلح کا بہترین طریق
جب قومیں ایک دوسرے کی سچائی، عظمت، اور روحانی ورثے کو تسلیم کرتی ہیں، تو دلوں میں محبت، اعتماد، اور تعاون جنم لیتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر صلحِ حقیقی، وحدتِ قومی، اور امنِ اجتماعی قائم ہو سکتا ہے۔جب قومیں ایک دوسرے کے مقدسات، عقائد، اور شخصیات کو جھٹلانے میں مشغول ہوں، تو اس کا نتیجہ صرف فکری اختلاف نہیں بلکہ سماجی انتشار، سیاسی کمزوری، اور قومی زوال ہوتا ہے۔چنانچہ فرمایاکہ
’’پیارو ! صلح جیسی کوئی بھی چیزنہیں۔ آؤ ہم اس معاہدہ کے ذریعہ سے ایک ہو جائیں۔ اور ایک قوم بن جائیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ باہمی تکذیب سے کسی قدر پھوٹ پڑگئی ہے۔ اور ملک کو کس قدر نقصان پہنچتا ہے۔ آؤ !اب یہ بھی آزما لو کہ باہمی تصدیق کی کس قدر برکات ہیں۔ بہترین طریق صلح کایہی ہے۔ ‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 456)
نفاقِ قومی مذہب سے ہٹ کر
دنیاوی اغراض کی جڑیں
مذہب بذاتِ خود فساد کا سبب نہیںہوتا ہے بلکہ جب مذہب کو دنیاوی خواہشات، ذاتی مفادات، اور گروہی سیاست کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے، تو وہ نفاق، دشمنی، اور فساد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی صلح چاہتے ہیں، تو ہمیں صرف مذہبی مکالمے پر نہیں بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی انصاف،مساوات،اور ہمدردی کو فروغ دینا ہوگا۔ ورنہ مذہبی گفتگو صرف ظاہری پردہ بن جائے گی، جس کے پیچھے نفاق کی آگ سلگتی رہے گی۔چنانچہ حضرت اقدس نے فرمایا کہ
’’ وہ نفاق اور فساد جو ہندواور مسلمانوں میں آج کل بڑھتا جاتاہے ا س کے وجوہ صرف مذہبی اختلافات تک محدود نہیں ہیں بلکہ دوسری اغراض اس کی وجوہ ہیں جو دنیا کی خواہشوں اور معاملات سے متعلق ہیں ۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 456)
مذہبی اختلافات
اور قومی یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ
جب مذہب کو تعصب، نفرت، اور برتری کے ساتھ جوڑ دیا جائے، تو وہ انسانوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے لگتا ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جو ہندو اور مسلمان کے درمیان غیر قوم کا تصور پیدا کرتا ہے یعنی ایک دوسرے کو اجنبی، بیگانہ، اور ناقابلِ اعتماد سمجھنا۔حضرت اقدس ؑؑ نے فرمایا کہ
’’پس اس سے ظاہر ہے کہ تمام بغضوں اور کینوں کی جڑھ دراصل اختلاف مذہب ہے۔ یہی اختلافِ مذہب قدیم سے جب انتہا تک پہنچتا رہا ہے تو خون کی ندیاں بہاتا رہا ہے۔ اے مسلمانوں جب کہ ہندو صاحبان تمہیں بوجہ اختلاف مذہب کے ایک غیر قوم جانتے ہیں اور تم بھی اِس وجہ سے اُن کوایک غیر قوم خیال کرتے ہو۔ پس جب تک اِس سبب کا ازالہ نہ ہوگا کیوں کر تم میں اوراُن میں ایک سچی صفائی پیدا ہوسکتی ہے۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 457)
دلی صفائی اور مذہبی رواداری کا راستہ
آپؑنے مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ وید اور رشیوں کو خدا کی طرف سے مانیں یعنی ان کی تعلیمات کو تعصب سے بلند ہو کر روحانی قدر کی نگاہ سے دیکھیں۔ اسی طرح ہندوؤں کو دعوت دی کہ وہ حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو دل سے تسلیم کریں اور اپنے دلوں سے وہ بخل دور کریں جو انہیں اس تصدیق سے روکتا ہے۔
’’دِلی صفائی جس کو در حقیقت صفائی کہنا چاہیے۔ صرف اسی حالت میں پیدا ہوگی جب کہ آپ(مسلمان) لوگ وید اور وید کے رشیوں کو سچے دل سے خدا کی طرف سے قبول کرلوگے اور ایسا ہی ہندو لوگ بھی اپنے بخل کو دور کرکے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرلیں گے ۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص458 )
ہمدردی اور رواداری کے ذریعے قومی یکجہتی
اسلام میں حلال چیز کا استعمال واجب نہیں۔ یعنی اگر کسی چیز کو شریعت نے جائز قرار دیا ہے، تو اس کا استعمال اختیار کا معاملہ ہے، نہ کہ فرض کا۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمان اپنی دینی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے قومی وحدت کے لیے قربانی دے سکتے ہیں۔اخلاقی رویہ صرف وقتی مصلحت نہیں بلکہ دائمی عادت ہونا چاہیے۔چنانچہ فرمایا کہ
’’(مسلمانوں سے فرمایا کہ)ہندو صاحبان کے ساتھ سچی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ۔ اور سلوک اور مروت اپنی عادت کرو۔ اور ایسے کاموں سے اپنے تئیں باز رکھو جن سے اُن کو دکھ پہنچے مگر وہ کام ہمارے مذہب میں نہ واجبات سے ہوں اور نہ فرائض مذہب سے۔ پس اگر ہندو صاحبان اپنے صدق دل سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی مان لیں اور ان پر ایمان لاویں تو یہ تفرقہ کہ جو گائے کی وجہ سے ہے اس کو بھی درمیان سے اٹھا دیا جائے۔ جس چیز کو ہم حلال جانتے ہیں ہم پر واجب نہیں کہ ضرور اس کو استعمال بھی کریں۔ ‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 458)
دین کا خلاصہ اور قومی یکجہتی
دین کی تکمیل صرف خدا کے تعلق سے نہیں بلکہ بندوں سے حسنِ سلوک سےبھی ہے، یہ وہ اخلاقی اصول ہے جو معاشرتی امن، قومی وحدت، اور انسانی اخوت کی بنیاد رکھتا ہے۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا:
’’دین یہ ہے کہ خدا کی منہیات سے پرہیز کرنا اور اس کی رضامندی کی راہوں کی طرف دوڑنا اور اس کی تمام مخلوق سے نیکی اور بھلائی کرنا اور ہمدردی سے پیش آنا اور دنیاکے تمام مقدس نبیوںاور رسولوں کواپنے اپنے وقت میں خدا کی طرف سے نبی اور مصلح ماننا اور اُن میں تفرقہ نہ ڈالنا اور ہریک نوع انسان سے خدمت کے ساتھ پیش آنا۔ ہمارے مذہب کا خلاصہ یہی ہے ۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص458-459 )
پیارے نبی کا احترام اور قومی یکجہتی کی شرط
درحقیقت صلح کا راستہ اس وقت تک بند نہیں ہوتا جب تک دوسرا فریق رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی پر اصرار نہ کرے۔ اگر کوئی معاشرہ یا گروہ گستاخی سے باز آجائے اور احترام کا رویہ اپنا لے، تو صلح اور امن ممکن ہے۔ ایمان کی حفاظت کو قومی یکجہتی کی سب سے بڑی شرط قرار دیتی ہے، جہاں نبی پر حملہ نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی ایک خطرہ بنتا ہے۔ سماجی تناظر میں اس وقت میں فرقہ وارانہ جذبات اور تنازعات کی موجودگی میں نبی کے احترام کو ایک لازمی اصول سمجھنا ضروری ہوگیا ہے اور رواداری کی حدود طے کرتے ہوئے اتحاد کی دعوت دیتا ہے جو نفرت کے خلاف محبت کی مضبوط دیوار کھڑی کرتا ہے اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک روشن راہ دکھاتا ہے۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ
’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کرسکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کرسکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔ خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 459)
یہ اقتباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کو ایمان کی بنیاد اور قومی یکجہتی کے لئے ضروری قرار دیتا ہے۔دراصل یہ صلح کی حدود کو واضح کرتا ہے، جہاں فطری دشمنوں (سانپوں، بھیڑیوں) سے بھی ہم آہنگی ممکن ہے، لیکن نبی پر حملہ ایک ایسی لکیر ہے جو پار نہیں کی جا سکتی۔ یہ اقتباس حضرت اقدس ؑؑ کی ایمانی غیرت، عشقِ نبوی، اور روحانی وفاداری کا مظہر ہے۔
اسلام کی صلح پسندی اور قرآن کی آفاقی تعلیم
حضرت اقدسؑ نے اسلام کو امن، عزتِ انبیاء، اور بین الاقوامی احترام کا علمبردار قرار دیا اور قرآن کو وہ واحد کتاب بتایا جس نے تمام نبیوں کو ماننے کی تعلیم دی۔ یہ وہ فخر ہے جو صرف قرآن کو حاصل ہے، اور جو بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ایک الٰہی منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔چنانچہ فرمایا کہ
’’ اِسلام وہ پاک اور صلح کار مذہب تھا جس نے کسی قوم کے پیشوا پر حملہ نہیں کیا۔ اور قرآن وہ قابل تعظیم کتاب ہے جس نے قوموں میں صلح کی بنیاد ڈالی اور ہرایک قوم کے نبی کو مان لیا۔ اور تمام دنیا میں یہ فخر خاص قرآن شریف کو حاصل ہے جس نے دنیا کی نسبت ہمیں یہ تعلیم دی کہ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 459)
حضرت اقدسؑ نے قرآن کو ’’قابل تعظیم کتاب‘‘ قرار دے کر اس کی آفاقی تعلیمات، اخلاقی بلندی، اور روحانی جامعیت کو اجاگر کیا۔ قرآن نے نہ صرف مسلمانوں کو توحید کی طرف بلایا بلکہ تمام قوموں کے نبیوں کو تسلیم کرنے کی تعلیم دی اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر بین المذاہب صلح، احترام، اور وحدت قائم ہو سکتی ہے۔ قرآن صرف مسلمانوں کی کتاب نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی کا آفاقی دستور ہے۔ مذکورہ آیت تعصب، نفرت، اور مذہبی برتری کو رد کرتی ہے، اور روحانی اخوت، فکری وسعت، اور اخلاقی اتحاد کی بنیاد رکھتی ہے۔
نبیوں کی توہین اور اس کے سماجی اثرات
جب کوئی قوم کسی دوسرے مذہب کے نبی کو تحقیر سے یاد کرتی ہے، تو وہ نہ صرف علمی دیانت سے محروم ہوتی ہے بلکہ اخلاقی انصاف سے بھی دور ہو جاتی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو تعصب، جہالت، اور نفرت کو فروغ دیتا ہے۔ نبیوں کی توہین صرف انفرادی غلطی نہیں بلکہ ایک اجتماعی جرم ہے، جو بنی نوع انسان کے درمیان نفاق اور دشمنی کے بیج بوتی ہے۔ حضرت اقدس ؑؑ فرمایا کہ
جن قوموں نے یہ عادت اختیار کر رکھی ہے اور یہ ناجائز طریق اپنے مذہب میں اختیار کرلیا ہے کہ دوسری قوموں کے نبیوں کو بد گوئی اور دشنام دہی کے ساتھ یاد کریں وہ نہ صرف بے جا مداخلت سے جس کے ساتھ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں خدا کے گنہگار ہیں بلکہ وہ اس گنہ کے بھی مرتکب ہیں کہ بنی نوع میں نفاق اور دشمنی کابیج بوتے ہیں۔
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 460)
قرآنی تعلیمات اور اخلاقی رواداری
دعوتِ دین کا اصل طریق نرمی، حکمت، اور ادب ہے۔ اگر ہم دوسروں کے مقدسات کو گالی دیں، تو وہ مشتعل ہو کر ہمارے مقدسات کو نشانہ بنائیں گے اور یوں نفاق، دشمنی، اور فتنہ پیدا ہوگا۔یہ امر قومی یکجہتی کے لیے ایک بنیادی اصول پیش کرتا ہےکہ دوسروں کے مذہبی عقائد کا احترام، چاہے وہ آپ کے نزدیک غلط ہی کیوں نہ ہوں۔آپؑ نے فرمایا کہ
’’خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریق ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ(سورۃ الانعام الجزو نمبر ۷)یعنی تم مشرکوں کے بتوں کو بھی گالی مت دو کہ وہ پھر تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے کیوں کہ وہ اس خدا کو جانتے نہیں ۔ اب دیکھو کہ باوجودیکہ خدا کی تعلیم کی رو سے بت کچھ چیز نہیں ہیں مگر پھر بھی خدا مسلمانوں کو یہ اخلاق سکھلاتا ہے کہ بتوں کی بدگوئی سے بھی اپنی زبان بند رکھو اور صرف نرمی سے سمجھائو ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ مشتعل ہو کر خدا کو گالیاں نکالیں اور ان گالیوں کے تم باعث ٹھہر جائو ۔‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص461-460 )
جبرکے خلاف قرآنی تعلیم
ایمان کا راستہ دل کی رضا، عقل کی روشنی، اور روح کی آمادگی سے طے ہوتا ہے، نہ کہ تلوار یا جبر سے ۔جب ایک مذہب کو غلط طور پر شدت پسند قرار دیا جائے تو اس سے معاشرتی تقسیم اور نفرت جنم لیتی ہے۔ حضرت اقدسؑ نے اس الزام کی تردید کر کے بین المذاہب ہم آہنگی کی بنیاد رکھی ۔چنانچہ آپؑنے فرمایا کہ
’’میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ خدا توقرآن شریف میں فرماتا ہے لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ یعنی دین اسلام میں جبر نہیں تو پھر کس نے جبرکاحکم دیا ‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص 468)
عدل، عفو اور اصلاح کا قرآنی اصول
قرآنی تعلیم کے مطابق انتقام اور عفو دونوں کے درمیان نتائج، نیت، اور اصلاح کو معیار بنایا گیا ہےاور قرآن نہ شدت پسند ہے نہ مفرط، بلکہ ایک معتدل، متوازن، اور فطری تعلیم کا حامل ہے۔چنانچہ آپؑ نے فرمایا کہ
قرآن شریف نے ان دونوں تعلیموں (افراط و تفریط)کو رد کرکے یہ فرمایا ہے۔ وَجَزٰۗؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ یعنی بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے جوکی جائے جیسا کہ توریت کی تعلیم ہے مگر جو شخص عفو کرے جیسا کہ انجیل کی تعلیم ہے تو اِس صورت میں وہ عفو مستحسن اور جائز ہوگی جبکہ کوئی نیک نتیجہ اس کا مرتب ہو ‘‘
(پیغام صلح ۔ روحانی خزائن جلد 23 ص470-471 )
اللہ تعالیٰ اہل وطن کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ’’پیغام صلح‘‘ کو پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭