پوری دنیا میں 10؍دسمبر کا دن انسانی حقوق کے طور پر منایا جاتا ہے۔چونکہ ’’اعلامیۂ عالمگیر برائے انسانی حقوق‘‘ (Universal Declaration of Human Rights - UDHR) 10دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا۔اس میں 30 شقیں (Articles) ہیں، جو ہر انسان کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی ضمانت دیتی ہیں۔لیکن اقوام متحدہ اپنے اصول وضوابط کو عمل کروانےمیں ناکام ہورہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری ہے اورآج بھی بےشمار انسان اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اگراقوام متحدہ میں منظورشدہ شقوں پرغیرجانبدارانہ اور مساوی عمل نہ کیاگیاتو پھر اقوام متحدہ بھی ناکام ثابت ہوگی۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں۔
’’جنگ ِعظیم اوّل کے اختتام کے بعد بعض ممالک کے راہنماؤں کی یہ خواہش تھی کہ مستقبل میں اچھے اور پُرامن بین الاقوامی تعلقات قائم ہوں۔چنانچہ عالمی امن کے قیام کی ایک کوشش کے طور پر لیگ آف نیشنز قائم کی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد دنیا میں امن قائم کرنا اور آئندہ جنگوں کو روکنا تھا۔ بدقسمتی سے اس لیگ کے اصول اور اس کی قراردادوں میں بعض نقا ئص اور خامیاں تھیں۔چنانچہ وہ تمام اقوام کے حقوق کا صحیح رنگ میںمساو یانہ تحفظ نہ کر سکے۔ اس عدم مساوات کا نتیجہ یہ نکلا کہ دیر پا امن قائم نہ ہو سکا۔ لیگ کی کو ششیں ناکام ہو گئیں اور اس کے براہِ راست نتیجہ کے طور پر جنگ عظیم دوئم برپا ہوئی۔اس کے بعد جوبے مثل تباہی اور بربادی ہو ئی ہم سب اس سے آگا ہ ہیں جس میں قریباً سات کروڑ پچاس لاکھ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں ایک بڑی تعداد معصوم شہریوں کی تھی۔ یہ جنگ دُنیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کا فی ہو نی چاہیے تھی۔اس کے نتیجہ میں ایسی پالیساںبننی چاہئیں تھیں جن کے ذریعہ انصاف کی بنیاد پرتمام فریقین کو ان کے جا ئز حقوق ملتے۔ اور اس طرح یہ تنظیم عالمی امن کے قیام کا ایک ذریعہ ثابت ہو تی۔اس وقت کی حکومتوں نے بلا شبہ ایک حد تک قیام امن کی کوششیں کیں اور اس طرح اقوام ِمتحدہ کی تشکیل عمل میں آئی۔تاہم جلد ہی یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ اقوام متحدہ کا اعلیٰ اور بہت اہم بنیادی مقصد پورا نہ ہو سکا۔ درحقیقت آج بعض حکومتیں ایسے کھلے طور پربیانات دیتی ہیں جن سے اس کی ناکامی ثابت ہو تی ہے۔‘‘
(عالمی بحران اورامن کی راہ ۔خطاب 4صفحہ 74تا75)
اسلام وہ پہلا مذہب ہے جس نے چودہ سو سال سےقبل نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ تمام انسانوں کو بنیادی حقوق مساوی طورپر عطا کیےتھے۔
بعثتِ انبیاء کااہم مقصد:
خالق حقیقی ابتدائے آفرینش سےانبیاء مبعوث فرماتارہا ہے۔جوبندوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اوراس کے مخلوق کے ساتھ شفقت کی تعلیم وتربیت دیتےرہے۔ تاکہ معاشرہ میں موجود تمام طبقہ کے لوگوں کو مساوی حقوق حاصل ہوسکیں۔یہ تب ہوگا جب لوگوں میں تہذیب، شائستگی، حوصلہ مندی، بردباری، ہمدردی، رواداری اور دیگر اعلیٰ اخلاق پیدا ہوںگے۔چنانچہ دنیا کے سارے مذہبی پیشواؤں نےبیک زبان یہی درس دیا کہ سچ بولنا اچھا ہے، جھوٹ بولنا برا ہے، عدل وانصاف نیکی ہےاور ظلم و زیادتی برائی ہے، الفت ومحبت کے ساتھ باہم زندگی گزارنا انسانی شرافت ہے، ایک دوسرے سے نفرت وعداوت حیوانی خصلت ہے، صدقہ وخیرات نیکی ہے اور چوری و رہزنی بدی ہے وغیرہ۔ لیکن دینِ اسلام توسب سے اعلیٰ مقام ومرتبہ پرفائز ہے۔رسول کریم ﷺنے اپنی بعثت کا مقصد ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ کہ میں بہترین اخلاق کی تکمیل کے لئے معبوث کیا گیا ہوں۔ بلاشک آنحضرت ؐ نے مکارم اخلاق کے بہترین نمونے قائم کئے اور ہر خلق کو اس کے معراج تک پہنچایا۔تبھی خدائے رب عزوجل نے بھی قرآن کریم میں آپؐ کے اخلاق کی اس رنگ میں گواہی دی۔وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ(القلم: 5) یعنی اے نبی! یقینا ً تُو عظیم الشان اخلاق پر قائم ہے۔ مکی دور کے آغاز میں حضرت ابوذرغفاریؓ نے اپنے بھائی کو نئے پیغمبر کے حالات وتعلیمات کی تحقیق کے لیے بھیجا تو انھوں نے واپس جاکر اس بارے میں اپنے بھائی کو جو اطلاع دی وہ یہ تھی’’رَأَیْتُہٗ یَأْمُرُ بِمَکَارِمِ الْأخْلَاقِ‘‘ میں نے انھیں دیکھا کہ وہ اچھے اخلاق کی لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں۔
پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اِک معجزہ
معنیٔ رازِ نبوّت ہے اِسی سے آشکار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21صفحہ 144)
انسانی حقوق اورمساوات:
اسلام نے انسانی زندگی کے ہر اہم معاملہ اور اُس کی جزئیات کو اپنی تعلیم میں شامل کرکے نوع انسان پر بہت بڑا احسان فرماتےہوئےسب کو یکساں حقوق عطا کئے ہیں۔ قرآن کریم ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔جس نے معاشی، معاشرتی، تمدنی زندگی کے علاوہ انسان کی صلاحیتوں کے تحفظ اور اُن کی نشوونما کے احکامات دیتےہوئے انسان کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت، انصاف، حکومت و سیاست، آزادیٔ ضمیر، عقائد، عبادت اور مذہب و تبلیغ کے متعلق بھی انسانی حقوق کو تفصیل سے بیان کردیا ہے۔گویا قرآن کریم نےانسانی حقوق کوجس انتہائی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے کسی دوسری مذہبی کتاب نے اُس کا عشر عشیر بھی بیان نہیں کیا۔
موجودہ دَور میں دنیا مادی لحاظ سے ترقی کے بام عروج پر دکھائی دیتی ہے اور بظاہر انسانی حقوق کے متعلق بھی بہت سے قوانین نافذ کئے گئے ہیں۔ لیکن ان قوانین پر عمل در آمد کا بہت فقدان ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر معاشروں میں معصوم طبقہ ظلم وستم کا شکار ہے۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے تمام انسانی امتیازات کو پاش پاش کرکے ہر فرد واحد کو اُس کا مناسب حق دیا ہے۔ مساوات پر مبنی معاشرہ کے لیے میثاق مدینہ جیتی جاگتی مثال ہے۔ اسلامی تعلیم کی رُو سے تمام انسان ربّ العالمین کے بندے ہیں اور بحیثیت انسان سب برابر ہیں۔ کسی انسان کو کسی دوسرے انسان پر قوم، رنگ، نسل، خاندان، جنس، طبقہ، عقیدہ، مذہب، ملک اور تمدن کے لحاظ سے کوئی امتیاز حاصل نہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ (لقمان: 29) یعنی تمہاری پیدائش اور تمہارا دوبارہ اٹھایا جانا محض نفسِ واحدہ (کی پیدائش اور اٹھائے جانے) کے مشابہ ہے۔
اسلام سے قبل دَور جاہلیت میں رنگ ونسل اورخاندان وقبیلے کی بنیاد پر انسانوں کے درمیان بہت بڑی خلیج حائل تھی۔ قریش اور غیر قریش کو برابرنہیں سمجھا جاتا تھا۔ اگر قریش کا کوئی آدمی کسی دوسرے قبیلے کے آدمی کا قتل کردیتا تو اس کے بدلے میں قریش کے آدمی کو قتل نہیں کیا جاتا تھا جبکہ اگر کوئی غیر قریشی ان کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو قصاص میں قتل کرنے والے قبیلے کے آدمی قتل کیے جاتے۔ عرب بحیثیت قوم بھی اپنے آپ کو دوسری قوموں سے ممتاز اور نمایاں خیال کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ عرب دیگر دنیا سے زیادہ وسیع اللسان اور خوش بیان ہیں۔ اسی وجہ سے وہ باقی دنیا کو عجمی کہتے تھے یعنی وہ زبان وبیان میں اُن کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
پیدائشی لحاظ سے تمام انسان برابرہیں:
اسلام آیا تو اُس نے تمام انسانوں کو پیدائشی لحاظ سے مساوی اور برابر قرار دیا کیونکہ اُن کا خالق ایک ہے اور اُن کی پیدائش ایک ہی طریق پر ہوئی ہے۔ اس لیے پیدائشی لحاظ سے کسی کو کوئی فوقیت اور برتری نہیں ہوسکتی۔ کسی خاص خاندان، قبیلے یا قوم میں پیدا ہونے سے کوئی انسان پاک، ناپاک یا برتر نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ بحیثیت انسان اُن کی حیثیت یکساں اور مساوی ہی رہے گی۔ البتہ اگر کوئی فرق ہے تو وہ تقویٰ اور پرہیز گاری کے اعتبار سے ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا ۭ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ (الحجرات: 14) یعنی اے لوگو! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بلا شبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متّقی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
’’اسلام،مقدس اسلام نے قوموں کی تمیزکو اُٹھادیا جیدے وہ دنیامیں توحیدکوزندہ اور قائم کرناچاہتاتھااورچاہتاہے۔اسی طرح ہر بات میں اس سے وحدت کی روح پھونکی اور تقویٰ پر ہی امتیازرکھا ۔قومی تفریق پر جو نفرت اور ھقارت پیداکرکے شفقت علی خلق اللہ کے اصول کی دشمن ہوسکتی تھی اُسے دور کردیا۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد4صفحہ 8)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’باجود اس کے کہ رنگ اورقومیتں مختلف ہیں مگر سب انسان بہرحال ایک ہی ماں باپ کی نسل سے منسلک ہیں ۔رنگ اورنسل کی تفریق اُن کی برتری ظاہر کرنےکیلئے نہیں بلکہ ان کی پہچان کی خاطرہے۔اگرانسان دوسرے انسان پر برتری حاصل کرناچاہتاہے توصرف تقویٰ کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے۔کیونکہ ایک متقی انسان ہردوسرے انسان کو اپنے برابر سمجھتاہے ۔بلکہ جتنا زیادہ متقی ہوگا اپنے آپ کو اوربھی دوسرے سے کمتر سمجھےگا۔‘‘
(عدل،احسان اورایتاء ذی القربیٰ۔صفحہ230)
سچ تو یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان مساوات کا قیام 10؍دسمبر 1948ء کو نہیں بلکہ 9 اور 10؍ذوالحجہ سن 10ہجری میں عرفات اور منیٰ کے میدانوں میں عمل میں آیا۔ جب بانی اسلام حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ﷺ نے خطبہ حجۃالوداع کے موقع پر تمام جاہلانہ رسموں کو یک سر ختم کرتے ہوئے انسانیت کے تحفظ کے لیے ایک ایسا ضابطۂ حیات پیش فرمایاجو عظمت انسانی کو چار چاند لگانے والا ہے۔ اُس منشور میں خاص طور پر پسماندہ طبقات کو اُس ذلت، پستی، ظلم، تشدد اور استحصال سے نجات دی گئی ہے جس کا وہ صدیوں سے شکار تھے۔ آپؐنے کمزور طبقوں کو عزت وشرف کا مقام عطافرمایا۔ تاریخ عالم میں پہلی مرتبہ ایک ایسا عالمی منشور پیش کیا گیا جو مساوات اور مؤاخات کے زرّیں اصولوں پر مبنی ہے۔ آپؐنے اعلان فرمایا کہ یّٰاَیُّہَا النَّاسُ أَلَا اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وَ اِنَّ أَبَاکُمْ وَاحِدٌ۔ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِیِّ عَلٰی عَجَمِیِّ وَلَا لِعَجَمِیِّ عَلٰی عَرَبِیِّ ۔وَلَالِأَ حْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ وَلَا لِاَسْوَدَ عَلَی اَحْمَرَ اِلَّا بِالتَّقْوٰی۔ اَبَلَّغْتُ؟قَالُوْاقَدْبَلَّغَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ(مسند احمد بن حنبل۔بحوالہ سیرت خاتم النبیین صفحہ686) یعنی اے لوگو! تمہارا ربّ ایک ہے اور تمہارا باپ ایک تھا۔ پس ہوشیارہوکر سن لو عربوں کو عجمیوں پر کوئی فضیلت نہیں اورنہ عجمیوں کو عربوں پر کوئی فضیلت ہے۔ اسی طرح سرخ وسفید رنگ والے لوگوں کو کالے رنگ والوں پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کالے لوگوں کو گوروں پر کوئی فضیلت ہے۔ ہاں جو بھی ان میں سے ذاتی نیکی سے آگے نکل جائے وہی افضل ہے۔ لوگو! بتاؤ کیا مَیں نے تمہیں خدا کا پیغام پہنچا دیا ہے؟ سب نے عرض کیا۔ بیشک خدا کے رسول نے اپنی رسالت پہنچادی ہے۔
الغرض اسلام نےواشگاف الفاظ میں دنیاکوبتادیا کہ قومی ونسلی تفریق کا مقصد باہمی معرفت و الفت کا حصول ہے، نہ کہ اجنبیت اور نفوذکا موجب۔ اگر کسی کو کوئی شرف حاصل ہے تو وہ تقویٰ کی بنا پر ہے۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہونےکے لحاظ سے کسی انسان کو دوسرے انسان پر کیونکر فضیلت اور برتری ہوسکتی ہے۔حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا ہے جسے اُس نے تمام روئے زمین سے جمع فرمایا تھا۔ چنانچہ آدم کی اولاد اس مٹی کے لحاظ سے ہوئی ہے، کئی سرخ ہیں اور کئی سفید، کئی سیاہ ہیں اور کئی ان کے بین بین۔ کئی نرم خو ہیں اور کئی سخت طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور کئی اچھی اور عمدہ طبیعت والے۔
(سنن ابوداؤد کتاب السنن بَابٌ: فِی الْقَدَرِ حدیث: 4693)
احسن الخالقین اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس نے جس طرح چاہا اپنی مخلوق کو تخلیق کیا اور اُن کو مختلف قسم کی خصوصیات عطاکرکے اپنے اپنے کام پر لگا دیا ہے۔ پس اُس کی تخلیق کی ہوئی ہرچیز اپنی خلق کے لحاظ سے بہترین ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے:الَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ۔ (السجدۃ: 8)یعنی وہی جس نے ہر چیز کو جسے اس نے پیدا کیا بہت اچھا بنایا اور اس نے انسان کی پیدائش کا آغا ز گیلی مٹی سے کیا۔
قوموں کا تفاخراسلام میں قابل قبول نہیں:
پہلی قوموں اور مذاہب کے ماننے والوں میں یہ رواج تھا کہ وہ کسی خاص نسل یا عقیدے کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر خیال کیا کرتے تھے۔ وہ ذات پات کی تقسیم کی بناپربعض کو بعض پر فوقیت دیتے تھے، ہندو مذہب کے ماننے والے اس کی اہم مثال ہیں جو آج تک ذات پات کے گرداب میں گرفتارہیں۔ یہودو نصاریٰ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے اور اُس کے محبوب ہیں۔ (المائدہ: 19)وہ اس دنیا میں ہی اپنے آپ کو برتر نہیں سمجھتے بلکہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اُن کے سوا کوئی جنت کا حقدار نہیں جبکہ قرآن شریف نے ان کے اس غلط اور خودتراشیدہ عقیدے کی تردید فرمائی ہے (البقرہ: 112)اسلام کے مطابق دنیا میں پیدا ہونے والا ہر انسان معصوم اور بے گناہ ہوتا ہے اور اُسے فطرت صحیحہ کے ساتھ دنیا میں بھیجا جاتا ہے تاکہ اُس فطرت کو کام میں لاتے ہوئے وہ اچھے بُرے اور مفید و مضر کو پہچان لے اور اپنی عاقبت کی فکر میں لگ جائے۔ جیسا کہ فرمایا: فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا۔ (الرّوم: 31) یعنی یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا۔
دین اسلام کی یہ خوبی ہے کہ اس نے انسانی مساوات کے ہر پہلو کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے تاکہ کسی انسان یا کسی قوم کی تحقیر یا اُس کا استحصال نہ ہواورنہ ہی اُن میں کسی قسم کا احساس کمتری پیدا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قوموں اور قبیلوں کو بے جا تفاخر سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاۗءٌ مِّنْ نِّسَاۗءٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۚ وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ(الحجرات: 12) یعنی اے لوگو جو ایمان لائے ہو! (تم میں سے) کوئی قوم کسی قوم پر تمسخر نہ کرے۔ ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوجائیں۔ اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں )۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوجائیں۔ اور اپنے لوگوں پر عیب مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کو نام بگاڑ کر نہ پکارا کرو۔
روحانی ترقیات میں مساوات:
قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایاہے کہ روحانی ترقیات کا دروازہ کسی خاص قوم کے لیے مخصوص نہیں بلکہ یہ ایک کھلی راہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق جو چاہےاس راہ پر قدم مارے اور اللہ کی رضاو لقااور کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ جیساکہ وہ فرماتا ہے: بَلٰي ۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗٓ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ۔ (البقرۃ: 113) یعنی نہیں نہیں، سچ یہ ہے کہ جو بھی اپنا آپ خدا کے سپرد کردے اور وہ احسان کرنے والا ہو تو اس کا اجر اس کے ربّ کے پاس ہے۔ اور اُن (لوگوں ) پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اسلامی تعلیم کی رُو سے جو انسان اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والا اور مناسب حال عمل کرنے والا ہو اُسے غمگین ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اُسے اعمال کا بہترین بدلہ دیا جائے گا۔ فرمانِ الٰہی ہے: اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ هَادُوْا وَالصّٰبِـُٔــوْنَ وَالنَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔ (المائدۃ: 70) یعنی یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی اور نصرانی جو بھی اللہ پر ایمان لایا اور یومِ آخر پر اور نیک عمل بجا لایا اُن پر کوئی خوف نہیں اور وہ کوئی غم نہیں کریں گے۔
غلاموں کے ساتھ حسن سلوک
مساوات کی اعلیٰ مثال:
اسلام نے غلاموں کی آزادی کی طرف خاص توجہ دلائی ہے اور اسے نیک عمل قرار دیا ہے۔ ونکہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ اسلام سے قبل دنیا میں انسان کی شخصی آزادی کو سلب کرنے کا عام رواج تھا۔ دنیاکی دیگر علاقوں کی طرح عرب میں بھی انسانوں کو غلام بنا نے کاعام رواج تھا، غلامی کو نہ صرف پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھابلکہ جس شخص کے پاس جس قدر زیادہ غلام ہوتے وہ اتنا ہی زیادہ معزز سمجھا جاتا۔اسلام نے ہر شخص کی انفرادی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے گردنوں کو آزاد کروانے والوں کے لیے اجرو ثواب کا اعلان کیا تاکہ اُس کے ماننے والے جلد جلد اس بری رسم سے باہر نکل آئیں ۔ خونریز جنگ کے سو کسی اورصورت میں قیدی نہ بنانے کی ہدایت دیتےہوئےاللہ تعالیٰ فرماتا ہے :مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ(الانفال:68) یعنی کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کئے بغیر قیدی بنائے۔ تم دنیا کی متاع چاہتے ہو جبکہ اللہ آخرت پسند کرتا ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :’’اصل آزادی انبیاء کے ذریعہ سے ہی ملتی نظر آتی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سامنے جو آزادی کا سورج ہے ، جس کی کرنیں دور دور تک پھیلی ہوئی اور ہر قسم کی آزادی کا احاطہ کئے ہوئے ہیں، وہ آنحضرتؐکی ذات ہے جنہوں نے ظاہری غلامی سے بھی آزادی دلوائی اور مختلف قسم کے طوق جو انسان نے اپنی گردن میں ڈالے ہوئے تھے ، اُن سے بھی آزاد کروایا۔ بلکہ آپؐ کے ساتھ حقیقی رنگ میں جڑنے سے آج بھی آپؐکی ذات آزادی دلوانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے ۔ جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین کے خطاب سے نوازا تو آپؐکی خاتمیت تمام دینی و دنیاوی حالات کا احاطہ کرتے ہوئے اُس پر مہرثبت کرگئی ۔ پس اس میں کوئی شک نہیں اور اللہ تعالیٰ کی گواہی اور اعلان کے بعد کسی سعید فطرت کے ذہن میں یہ شک پیدا بھی نہیں ہوسکتا کہ صرف اور صرف مُہرِ محمدی ہی ہے جو تمام قسم کے کمالات پر مہر ثبت کرنے والی اور ان کمالات کی انتہا آپ کی ذات میں ہی پوری ہوتی ہے ۔ پس جب ہر کام اور ہر معاملے کی انتہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو کسی بھی رنگ میں آزادی دلوانے کے کمالات بھی آپؐکی ذات سے ہی پورے ہونے تھے اور ہوئے …اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ فرماتا ہے۔ فَکُّ رَقَبَةٍ (سورۃ البلد: 14)گردن چھڑانا۔ یا اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ غلام کوآزاد کرنا یا آزادی میں مدد کرنا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:…وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِلاوَالسَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ ( البقرۃ:178)اور مال دے اُس کی محبت رکھتے ہوئے ، اقرباء کو ، اور یتامیٰ کو اور مساکین کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردنوں کے آزاد کرنے کے لئے ، یعنی غلاموں کے آزاد کروانے کے لئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍نومبر2011ء)
پھرحضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت ؐفرماتے تھے کہ جو کوئی مسلمان غلام آزاد کرے گا، اللہ تعالیٰ اُسے دوزخ سے کُلّی نجات عطا کرے گا۔ (صحیح بخاری کتاب کفارات الایمان۔ حدیث: 6715) حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓسے روایت ہے کہتی ہیں :نبی کریمؐ نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا ۔
(صحیح البخاری کتاب العتق۔حدیث:2519)
چنانچہ صرف خسوف وکسوف، زلازل، قحط اور دیگر مواقع پر غلاموں کی آزادی کی تحریکات سے سینکڑوں، ہزاروں غلام اور لونڈیاں آزاد ہوئیں ۔رسول کریم ؐکا درد مند دل نبوت سے پہلے بھی غلامی کو سخت ناپسند کرتا تھا ۔ حضرت خدیجہ ؓ سے شادی کے بعد جو غلام آپؐ کو ملے آپؐنے اُن سب کو آزاد کردیا۔ اُن میں ایک غلام حضرت زیدبن حارثہ ؓتھے، اُن کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا اور ان کے ساتھ ایسا شفقت آمیز سلوک فرمایا کہ جب اُن کے حقیقی والدین اُنہیں لینے کے لیےمکہ آئے تو زید ؓنے رسول کریم ؐکے حسن سلوک کی وجہ سے اُن کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔
(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد نمبر 2۔زید بن حارثہ صفحہ 141تا142۔دارالفکر بیروت2003ء)
پس بانی اسلامؐنے بتدریج انسان کو انسان کی قید سے آزاد کرنے کا ایسا مناسب اور معقول انتظام فرمایاکہ نہ صرف لاکھوں لوگوں کو آزادی جیسی نعمت نصیب ہوئی بلکہ اسلام میں غلامی کا ہمیشہ ہمیش کے لیےخاتمہ ہوگیا ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’مختلف موقعوں پر غلاموں کی آزادی کا جو ذکر ہے یہ اس لئے ہے کہ اسلام آہستہ آہستہ غلامی کے سلسلہ کو ختم کرنا چاہتا ہے ۔ اُس زمانے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یا آپ سے پہلے کا زمانہ تھا ،غلام رکھنے کا عام رواج تھا۔ اسلام نے آکر اس غلامی کے طریق کو ختم کرنے کے لئے مختلف موقعوں پر زور دیاہے …ایک روایت اسماء بنت ابی بکر سے ہے کہ آنحضرت ؐ مسلمانوں کو فرمایا کرتے تھے کہ سورج گرہن کے موقع پر بھی غلام آزاد کیا کرو۔ (بخاری کتاب العتق باب ما یستحب من العتاقۃفی الکسوف والایاتحدیث نمبر 2520) یعنی جو صاحبِ حیثیت ہیں جن کو توفیق ہے وہ ایسا ضرور کریں ۔پھر غلام کی عزت اور اُس کے حق کی آپ نے اس طرح بھی حفاظت فرمائی کہ ایک روایت میں آتا ہے ۔ سات بھائی تھے اور اُن کے پاس ایک مشترک غلام تھا۔ ایک موقع پر ایک بھائی کو غلام پر غصہ آیا تو اُس نے اُس کو غصے میں زور سے ایک طمانچہ مار دیا ، چپیڑ مار دی ۔ آنحضرتؐکے علم میں جب یہ بات آئی تو آپؐنے فرمایا: اس غلام کو آزاد کرو۔(مسلم کتاب الایمان باب صحبۃ الممالیک و کفارۃ من لطم عبدہ حدیث : 4304 ) ۔ تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس غلام کو رکھو کیونکہ تمہیں غلام سے حسنِ سلوک ہی نہیں کرنا آتا … حضرت عثمانؓبن عفان کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے ایک ہی موقع پر بیس ہزار غلام آزاد کئے اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے کئے ۔ جن کو جتنی جتنی توفیق تھی انہوں نے اتنے کئے ۔ بعضوں نے درجنوں کئے اور بعضوں نے ہزاروں کیے ۔ جن کے پاس کام کاج کے لیے بھی غلام تھے اُنہیں بھی اسلامی تعلیم یہ ہے کہ ان سے بھائیوں جیسا سلوک کرو، جو خود پہنو، اُنہیں پہناؤ ، جو خود کھاؤ، اُنہیں کھلاؤ۔‘‘
(خطبہ جمعہ:25؍نومبر 2011ء)
اسلام کے ابتدائی دَور میں مجبوراً اور دفاع کی خاطرلڑی گئی جنگوں میں بھی رسول کریم ؐنے جنگی قیدیوں کے متعلق نہایت نرمی کا طریق اختیار فرمایا اور جنگی قیدیوں کواحسان کے طورپر یا فدیہ لے کرآزادی دے دی گئی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے :فَاِمَّامَنًّا بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاءً (محمد:5)یعنی پھر بعدازاں احسان کے طورپر یا فدیہ لے کر آزاد کرنا ۔
تاریخ اسلام میں قیدیوں کے ساتھ حسن واحسان کے بے شمار واقعات درج ہیں۔جنگ بدر کے کچھ قیدیوں نے مسلمانوں کے بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیا تو اُنہیں آزادی کا پروانہ تھما دیا گیا۔رسول کریم ؐ نے حضرت جویریہؓ سے شادی کرلی تو صحابہؓ نے قبیلہ بنو مصطلق کے ایک سو گھرانوں کو اس لیے آزاد کردیا کہ وہ نبی کریم ؐ کے سسرالی ہیں۔ (سنن ابوداؤد کتاب العتق )آپؐنے بعض دفعہ ایک ہی وقت میں ہزاروں جنگی قدیوں کو آزاد کرکے حسن و احسان کا اعلیٰ نمونہ قائم فرمادیا۔چنانچہ غزوہ حنین میں بنوہوازن کے چھ ہزار قیدیوں کو اُن کے عزیزو اقارب کی درخواست پربلا معاوضہ آزاد کردیا۔
(صحیح بخاری ،کتاب المغازی ، باب غزوہ حنین)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’اسلام اس بات کا حامی نہیں کہ کافروں کے قیدی غلام اور لونڈیاں بنائی جائیں بلکہ غلام آزادکرنے کے بارہ میں اس قدر قرآن شریف میں تاکید ہے کہ جس سے بڑھ کر متصور نہیں۔ غرض ابتداء غلام لونڈی بنانے کی کافروں سے شروع ہوئی اور اسلام میں بطور سزا کے یہ حکم جاری ہوا اور اس میں بھی آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی۔‘‘
(چشمہ معرفت،روحانی خزائن جلد 23صفحہ 254تا255)
ایک ایسا معاشرہ جہاں غلاموں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا تھا آنحضورؐ کی لائی ہوئی تعلیم اور عملی نمونے کی قوت قدسیہ کی برکت سے ایسا پاکیزہ انقلاب برپاہوا کہ آقا اور غلام بھائی بھائی بن گئے۔آپؐنے غلاموں کے بارے میں حکم دیا کہ جو خود پہنو وہی انہیں پہناؤ، جو خود کھاؤ ان کو بھی کھلاؤ اور اُن سے سخت کام نہ لو بلکہ سخت کاموں میں اُن کی مددکیا کرو۔ چنانچہ جاںنثار صحابہؓ نے اس ارشاد پردل وجان سے عمل کیا اور اس کی غیر معمولی عملی مثالیں قائم کیں۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
حضرت ابو ذر غفاری ؓکو کسی نے دیکھا کہ وہ ایک نیا کپڑوں کا جوڑا پہنے تھے اور ان کا غلام بھی ویسا ہی نیاجوڑا پہنے ہوئے تھا ، تو ہم نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی تو اس نے نبی کریمؐ سے میری شکایت کردی۔ نبی کریمؐ نے مجھ سے فرمایا:کیا تم نے اس کو اس کی ماں کا طعنہ دیا ہے ؟ پھر آپؐنے فرمایا: تمہارے بھائی ہی تمہارے نوکر چاکر ہوتے ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کردیا ہے ۔اس لیے جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو تو چاہیے کہ وہ اس کو اسی کھانے سے کھلائے جو وہ خود کھاتا ہو اور اسی کپڑے سے پہنائے جو وہ خود پہنتا ہو اور تم ان کو ایسے کاموں کی تکلیف نہ دیا کرو جو انہیں نڈھال کردیں اور اگر تم ان کو ایسے کاموں کی تکلیف دو جو اُن پر گراں ہوں تو ایسے کاموں میں ان کو مدد دیاکرو۔
(صحیح البخاری کتاب العتق حدیث:2545)
پھر آپؐنے تاکید فرمائی کہ خادم یا غلام کھانا لا ئے تواُسے بھی ساتھ بٹھا کر اس میں سے کھلاؤ اگر وہ نہ مانے تو کچھ کھانا ہی دے دو کہ اس نے کھانا تیار کرتے ہوئے گرمی اور دھواں کھایا ہے۔
(ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ باب اذا اتاہ خادمہ لطعامہ)
حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’کہتے ہیں کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکر چائے کی پیالی لایا۔جب قریب آیا تو غفلت سے وہ پیالی آپؓکے سر پر گر پڑی۔ آپ نے تکلیف محسوس کرکے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا ۔ غلام نے آہستہ سے پڑھا۔ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ۔ یہ سن کر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کَظَمْتُ۔ غلام نے پھر کہا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ۔ کظم میں انسان غصہ دبا لیتا ہے اور اظہار نہیں کرتا ہے۔ مگر اندر سے پوری رضا مندی نہیں ہوتی ۔ اس لئے عفو کی شرط لگادی ہے ۔ آپؓنے کہا کہ میں نے عفو کیا ۔ پھر پڑھا: وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (آل عمران: 135) محبوب الٰہی وہی ہوتے ہیں جو کظم اور عفو کے بعد نیکی بھی کرتے ہیں ۔ آپؓنے فرمایا ۔جا آزاد بھی کیا ۔ راستبازوں کے نمونے ایسے ہیں کہ چائے کی پیالی گِرا کر آزاد ہوا۔ اب بتاؤ کہ یہ نمونہ اصول کی عمدگی ہی سے پیدا ہوا۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 115،ایڈیشن 2003ء)
آنحضرتؐنے معاشرے کے اس مظلوم ترین طبقے کو صرف غلامی سے ہی نجات نہیں دلائی بلکہ غلاموں کی عزت نفس کو بھی بحال فرمادیا۔حضرت ابوہریرہ ؓمروی ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا:تم میں سے کوئی اپنے غلام کو اے میرے غلام، اے میری لونڈی کہہ کر نہ پکارے بلکہ یہ کہے : اے نوجوان لڑکے یا اے نوجوان لڑکی یا کہے : اے میرے بچے !
(صحیح البخاری کتاب العتق، حدیث:2552)
آنحضرتؐنے اس موقع پر اپنے اس جاںنثار خادم کو کفار مکہ کی طرف سے دی جانے والی جان لیوا اذیتوں کو یاد رکھا اوریہ اعلان کروایا کہ آج جو بلال حبشی کے جھنڈے کے نیچے آجائے گا اُسے امان دی جائے گی۔
(سیرت الحلبیہ جلد 3صفحہ 97)
رسول کریم ؐ اور دیگر صحابہ کرامؓ کی طرح حضرت عمرؓ کو بھی حضرت بلالؓسے ان سے بے حد محبت تھی ۔جب حضرت بلالؓفوت ہوئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: آج مسلمانوں کا سردار گذر گیا۔ یہ ایک غریب حبشی غلام کے متعلق بادشاہِ وقت کا قول تھا۔ (سیرت خاتم النبیین ؐصفحہ124تا125)روایات میں یہ ذکر بھی ملتا ہے کہ آنحضر تؐکی وفات کے بعد جب کبھی حضرت بلالؓملاقات کی غرض سے حضرت عمرفاروقؓکی خدمت میں حاضر ہوتے تو حضرت عمرؓ ان کا پرجوش استقبال کرتے اور اُن سے فرماتے:اَنْتَ اَخُوْنَا وَمَوْلَانَا یعنی اے بلالؓ! آپؓہمارے بھائی ہیں اور ہمارے سردار ہیں۔
اسلامی مساوات کی ایک اور زندہ جاوید مثال حضرت زید بن حارثہؓ اور اُن کے بیٹے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ دونوں باپ بیٹے نہ صرف آنحضرتؐکی بے انتہا شفقتوں کا مورد بنتے رہے بلکہ صحابہؓ بھی ان کے ساتھ خاص محبت کا سلوک فرمایا کرتے تھے ۔ حضرت اسامہ ؓ، نبی کریم ؐکے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہؓ کے بیٹے تھے جنہیں رسول اللہؐ اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے اور ان کی ناز برداری فرمایاکرتے۔ آنحضورؐنے اپنی وفات سے چندروز پہلے جو آخری لشکر تیار فرمایا۔ اُس کا امیرآپؐنے حضرت اسامہ ؓکو مقرر فرمایا حالانکہ اس وقت اُن کی عمر صرف 17سال تھی جبکہ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ اُس لشکر کا حصہ تھے جن میں حضرت عمرؓ بھی شامل تھے ۔ رسول کریم ؐ کے وصال کے بعد بھی صحابہؓ حضرت اسامہ ؓ کو امیر کہہ کر پکارا کرتے تھے کیونکہ رسول اللہ ؐ نے انہیں امیر لشکر مقرر فرمایاتھا۔لوگ کہتے تھے کہ ان کو رسول اللہؐ نے امیر مقرر فرمایا ہے۔
(المستدرک کِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ حدیث:6533)
حضرت سلمان فارسیؓاسلامی دنیا میں نہایت اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔نبی کریم ؐ کے مشورہ سے مکاتبت کے ذریعہ آپ کومدینہ کے ایک یہودی کی غلامی سے آزادی نصیب ہوئی آنحضرتؐنے آپؓکو اہل بیت میں سے قراردیا۔ جب سورۃ جمعہ کا نزول ہوا تو صحابہ کرامؓنےآنحضرتؐسے پوچھا کہ وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ (الجمعة:4) سے کونسا گروہ مراد ہے؟ اس پر رسول اللہ ؐ نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:لَوْ کَانَ الْاِیْمَانُ عِنْدَالثُّرَیَّا لَنَا لَہٗ رَجُلٌ اَوْ رِجَالٌ مِنْ ھٰؤُلَاءِ۔یعنی اگر ایمان ثریا ستارے کی بلندی پر بھی چلا گیا تو سلمان کی قوم سے ایک مرد یا کچھ لوگ اسے واپس زمین پر اُتار لائیں گے ۔
(صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعہ)
انسانی مساوات کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہر سال حج کے موقع پر مختلف رنگ ونسل اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ سفید لباس زیب تن کرکے ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں اور لبّیک اللّٰھم لبّیک کے نعروں سے اپنے قلب وروح کو گرماتے ہیں۔حج کے علاوہ عمرہ کے دوران اسلامی اخوت اور بھائی چارے کا یہی عمل سارا سال جاری رہتا ہے۔اسلامی نماز بھی اسلامی اخوت و محبت اور انسانی مساوات کی بہترین مثال ہے جو پانچ وقت باجماعت ادا کی جاتی ہیں جہاں شاہ وگدا ہر قسم کے امتیازات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور اپنے ربّ کے حضور قیام اور رکوع وسجود کرتے ہیں ۔
تمام انسانوں کی جان کی حفاظت میں مساوات:
اسلام میں انسانی زندگی کی بقا، اس کی تمدنی ضرورتوں اور امن وسکون کا خاص خیال رکھا گیا ہے تاکہ کامل یکسوئی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے اُس کی تمام تر توجہ اپنے خالق ومالک کی طرف لگی رہے۔جس طرح ایک انسان کوزندہ رہنے کا حق ہے بالکل اسی طرح اُس کی جان کا تحفظ بھی اُس کا بنیادی حق ہے ۔ اسلامی تعلیم کی رُو سے ایک بےگناہ انسان کا قتل، پوری انسانیت کے قتل اور ایک انسان کوناحق قتل سے بچالینا ، پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢابِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا ۭوَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا (المائدۃ:33)یعنی جس نے بھی کسی ایسے نفس کو قتل کیا جس نے کسی دوسرے کی جان نہ لی ہو یا زمین میں فساد نہ پھیلایا ہوتو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا۔ اور جس نے اُسے زندہ رکھا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کردیا ۔
اللہ تعالیٰ نے مومن بندوں کی ایک علامت یہ بیان کی ہے کہ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ (الفرقان: 69) یعنی اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرمت بخشی ہو ناحق قتل نہیں کرتے۔
قرآن شریف نے صرف حکومت وقت کو اُس شخص کے قتل کی اجازت دی ہے جو دوسرے لوگوں کو قتل کرے یا بغاوت اور فتنہ و فساد برپا کرکے انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے یا جارحانہ جنگ کے ذریعہ انسانی زندگیاں ختم کرنے کی کوشش کرے ۔پس ایسا شخص اپنے ناجائز فعل سے خود اپنے آپ کو جینے کے حق سے محروم کرلیتا ہے ۔اسلام کی نظر میں کسی بے قصور جان کا تلف کرنا بڑے جرائم میں شمار ہوتا ہے۔ اسلام نے جہاں تمام انسانی جانوں کو تحفظ دیا ہے وہیں مسلمانوں کو خاص طور پر ایک دوسرے کے ناحق قتل سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا (النّساء:94)یعنی اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے تو اس کی جزا جہنّم ہے۔ وہ اس میں بہت لمبا عرصہ رہنے والا ہے۔ اور اللہ اس پر غضبناک ہوا اور اس پر لعنت کی، اور اس نے اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
حریت ضمیرومذہب اسلامی مساوات کی روشنی میں :
اسلام نے انسانی مساوات کا عَلم بلندکرتےہوئے ہر انسان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ جس مذہب اور عقیدہ کو چاہے اختیار کرے، اُس پر عمل کرے اور اسے دوسروں میں پھیلائے۔اسلامی تعلیم کی رُو سے دنیا کے کسی انسان ، انجمن یا اسمبلی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی انسان یا کسی جماعت کو اُس کے اس بنیادی حق سے محروم کردے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ہر انسان کو مذہبی آزادی کاحق دیتے ہوئے یہ اعلان فرمایاہے کہ وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۣ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ(الکہف:30) یعنی اور کہہ دے کہ حق وہی ہے جو تمہارے ربّ کی طرف سے ہو۔ پس جو چاہے وہ ایمان لے آئے اور جو چاہے سو انکار کردے۔
مذہب کے نام پر انبیاء کی جماعتوں کو ہمیشہ ظلم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔دوسری طرف مذاہب نے ہمیشہ مساوات ، امن وسلامتی اور رواداری کی تعلیم دی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’غلامی سے آزادی اور آزادیٔ مذہب و ضمیر ایک بہت بڑی نعمت ہے…اگر مذاہب کی تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو بانیانِ مذاہب یا انبیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیامیں جن اہم کاموں کے لئے آتے ہیں اُن میں سے ایک بہت بڑا اور اہم کام آزادی ہے۔چاہے وہ ظالم بادشاہوں اور فرعونوں کی غلامی سے آزادی ہو یا مذہب کے بگڑنے کی وجہ سے یا مذہب کے نام پر مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں کے اپنے مفادات کی خاطر رسم ورواج یا مذہبی رسومات کے طوق گردنوں میں ڈالنے کی غلامی سےآزادی ہو۔ ہر قسم کی غلامی سے رہائی انبیاء کے ذریعہ ہوتی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ: 25نومبر 2011ء)
قرآن شریف نے ہر انسان کو مذہبی آزادی کی نوید سناتے ہوئے یہ اعلان عام فرمایا ہے کہ لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ (البقرۃ:257) یعنی دین میں کوئی جبر نہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آ یت کی تفسیرمیں بیان فرماتے ہیں۔
’’ جنگ کا جو حکم تمہیں دیا گیا ہے اس سے یہ نہیں سمجھنا چا ہیے کہ لو گو ں کو مسلمان بنا نے کے لئے جبر کر نا جا ئز ہو گیا ہے بلکہ جنگ کا یہ حکم محض دشمن کے شر سے بچنے اور اس کے مفاسد کو دور کر نے کے لئے دیا گیا ہے۔ اگر اسلام میں جبر جا ئز ہو تا تو یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ قرآن کریم ایک طر ف تو مسلما نوں کو لڑا ئی کا حکم دیتا اور دوسری طر ف اسی سورۃ میں یہ فرما دیتا کہ دین کے لئے جبر نہ کرو۔ کیا اس کا وا ضح الفا ظ میں یہ مطلب نہیں کہ اسلام دین کے معاملہ میں دوسروں پر جبر کر نا کسی صورت میں بھی جا ئز قرار نہیں دیتا؟ پس یہ آ یت دین کے معا ملہ میں ہر قسم کے جبر کو نہ صرف نا جا ئز قرار دیتی ہے بلکہ جس مقام پر یہ آیت وا قع ہے اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام جبر کے با لکل خلاف ہے۔ پس عیسا ئی مستشر قین کا یہ اعتراض با لکل غلط ہے کہ اسلا م تلوار کے ذریعہ غیر مذ اہب والوں کو اسلام میں داخل کر نے کا حکم دیتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی وہ سب سے پہلا مذہب ہے جس نے دنیا کے سامنے یہ تعلیم پیش کی کہ مذہب کے معاملہ میں ہر شخص کو آ زادی حا صل ہے اور دین کے بارہ میں کسی پر کوئی جبر نہیں۔‘‘
(تفسیرکبیرجلد3صفحہ 444۔ایڈیشن2023ء)
انسان کی عزت نفس میں مساوات کی تعلیم:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ (التین:5) یعنی یقیناً ہم نے انسان کو بہترین ارتقائی حالت میں پیدا کیا۔
اس سے واضح ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عزت وتکریم بخشی ہے اور اسے دیگر مخلوقات میں ممتاز مقام عطا فرمایا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ انسان روحانی وجسمانی ترقی کی منازل طے کرکےایک بلند مقام حاصل کرلے۔ اسی لیے اُس نے انسان کو دوسری مخلوقات کی نسبت عزت وشرف کا مقام عطا فرمایا ہے اور اس کی تخلیق میں ترقی کرنے اورروحانی مدارج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھ دی ہے۔ ایک اور مقام پرفرمایا :وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا (بنی اسرائیل:71) یعنی اور یقیناً ہم نے ابنائے آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تَری میں سواری عطا کی اور انہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق دیا اور اکثر چیزوں پر جو ہم نے پید اکیں انہیں بہت فضیلت بخشی ۔
حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں : ’’اس میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو عزت بخشی ہے نہ کہ خاص اقوام کو۔ پس قوموں کو ایک دوسرے پر تفاخر نہیں کرنا چاہئے ۔ اس سے یہود اور قریش کو نصیحت کی ہے جو اپنے آپ کو دوسروں سے معزز سمجھتے تھے ۔ اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اک قوم کو عزت دی ہے ۔ مگر بعض اقوام اس عزت سے فائدہ نہیں اٹھاتیں اور خدا تعالیٰ کے کھولے ہوئے راستوں کو اپنے لئے بند کرلیتی ہیں ۔وَ حَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِکہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ سمندر اور خشکی کو یکساں طور پر اللہ تعالیٰ نے انسانی ترقی کے لئے مقرر کیا ہے ۔ پس اگر کوئی قوم عزت حاصل کرنا چاہے تو اسے یکساں طورپر دونوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 391۔ایڈیشن 2023ء)
کوئی انسان خواہ وہ کسی بھی طبقے یا معاشرے سے تعلق رکھتا ہو ، وہ امیر ہو یا غریب اُسے اپنی عزت بہت پیاری ہوتی ہے ۔ اگر بلاوجہ اُس کی عزت کو مجروح کیا جائے تو وہ لڑائی جھگڑے پراُترجاتا ہے ۔ جس سے معاشرے کا امن برباد ہوتا ہے ۔لہٰذاہرانسان کے جذبات ، احساسات اور خواہشات کا احترام ضروری ہے۔ ہرایک کو مساوی مواقع ملناچاہئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ فرماتے ہیں۔
’’اسلام کہتاہےکہ امیر یا غریب خدا کا بندہ ہے … جتنا حق ایک غریب ذہین بچے کا ہے کہ اس کی قوتوں کو نشوونما کے کمال تک پہنچا دیا جائے اتنا ہی حق ایک امیر گھرانے میں پیدا ہونے والے ذہین بچے کا ہے۔‘‘
(خطابات ناصرجلد1صفحہ 501)
غیروں کا اعتراف:
اسلام اورقرآن کریم کی ان تعلیمات کو آنحضرت ﷺ نے عمل کرکے اوراپنے صحابہ ؓ کے ذریعہ عمل کرواکر رہتی دنیاتک کیلئے نہ صرف عوام بلکہ حکام کےلیے بھی اسوئہ حسنہ قائم فرمایاہے۔جس کااعتراف غیروں نے بھی کیاہے۔اطالوی مستشرقہ پروفیسر ڈاکٹر وگلیری نے اسلامی رواداری کا ذکر کرتے ہوئے لکھاہے:۔
’’ پیغمبراسلام اور خلفاء کے طریق کو قانون کا درجہ حاصل ہوگیا اور ہم حتماً بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام نے مذہبی رواداری کی تلقین پر ہی اکتفا نہیںکی بلکہ رواداری کو مذہبی قانون کا لازمی حصہ بنادیا۔مفتوحین کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد مسلمانوں نے ان کی مذہبی آزادی میں دخل نہیں دیا اور نہ تبدیلی مذہب کے لئے کوئی سختی کی۔‘‘
( An Interpretation of Islam-Page 14 بحوالہ اسوئہ انسان کامل:صفحہ516)
جناب کونسٹن درجبل جارجیو (وزیر خارجہ رومانیہ) نے اپنی کتاب ’’ محمد‘‘ میں رسول اللہ ﷺ کے انقلاب کو دنیا کا عظیم ترین انقلاب قرار دیتے ہوئے لکھا ہے :
’’عربستان میں جو انقلاب حضرت محمدؐ برپا کرنا چاہتے تھے وہ انقلاب فرانس سے کہیں بڑا تھا۔انقلاب فرانس فرانسیسیوں کے درمیان مساوات پیدا نہ کرسکا مگر پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب نے مسلمانوں کے درمیان مساوات قائم کردی اور ہر قسم کے خاندانی طبقاتی اور مادی امتیازات کو مٹا دیا۔ ‘‘
(بحوالہ پیغمبر اسلام غیر مسلموں کی نظر میں ،صفحہ 153)
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
’’اُس زمانہ جاہلیت میں جبکہ نصف دنیاپر اخلاقی اورتمدنی تاریکی چائی ہوئی تھی۔ آنحضرتؐنے وہ اُصول تمام بنی آدم کی مساوات کی تعلیم فرمائے ۔جن کی قدر اَور مذہبوں میں بہت کم کی جاتی تھی۔ چنانچہ وہ لائق مؤرخ (ہالم صاحب) ... لکھتا ہے کہ ’’دین اسلام بندگانِ خداپر عرض کیا گیا مگر کبھی ان سے جبراً نہیں قبول کرایا گیا۔ اور جس شخص نے اس دین کو بطیب خاطرقبول کیا ۔اس کو وہی حقوق بخشے گئے ۔جو قوم فاتح کےتھے۔اوراس دین نے مغلوب قوموں کو ان شرائط سے بری کر دیا۔جو ابتدائے خلقتِ عالم سے پیغمبر اسلام کے زمانہ تک ہر ایک فاتح نے مفتوحین پر قائم کئے تھے۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد4صفحہ 75)
حرفِ آخر:
آج اہل یورپ دکھاوے کے لیے دنیا کو مساوات کی تعلیم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ سب کو برابر سمجھتے ہیں۔ ان میں ذات پات اور اونچ نیچ کی کوئی قید نہیں لیکن ان کا عمل دیکھا جائے تو علم ، حکمت، تدبر اور حکومت کے ذریعے سے محکوموں کا خون چوستے ہیں۔
یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
صرف اسلامی تعلیمات میں دنیاکے تمام انسانوں کےلیےیکساں اورمساوی حقوق بیان کئے گئے ہیں۔ان تعلیمات کا مقابلہ نہ دنیاکی کوئی مذہبی کتاب کرسکتی ہے اورنہ دنیاکاکوئی قانون کرسکتاہے۔اسی وجہ سے اسلام کو وسطی اورخیر امت کاخطاب نصیب ہواہے۔
ہم ہوئے خیرِ اُمم تجھ سے ہی اے خیرِ رُسلؐ
تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے
متحدہ امریکہ کے کیپٹل ہِل واشنگٹن ڈی سی میں مؤرخہ 27جون 2012ءکواپنے تاریخی خطاب میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں۔
’’آج ہم طاقتور اور کمزور اقوام کے مابین فرق اور تقسیم دیکھتے ہیں۔مثال کے طور پر اقوام متحدہ میں ہمیں نظر آتا ہے کہ بعض ممالک کے مابین ایک امتیاز رَوا رَکھا جا تا ہے۔چنانچہ سیکورٹی کو نسل میں بعض مستقل ممبر ہیں اور بعض غیرمستقل ممبر ہیں۔یہ تقسیم ایک اندرونی بے چینی اور بے اطمینانی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایسی رپورٹس مسلسل ملتی رہتی ہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ بعض ممالک اس عدم مساوات پر احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ اسلام ہر معاملہ میں کامل عدل اور مساوات کا درس دیتا ہے۔‘‘
(عالمی بحران اورامن کی راہ ۔خطاب 4صفحہ 75تا76)
اللہ تعالیٰ نے انسانی مساوات کا لازوال عظیم الشان پیغام رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے دنیا کو عطا فرمایا ہے۔آج ساری دنیا میں حائل نفرت کی دیواریں پاش پاش ہو کر تمام انسان آپس میں ایک دوسرے کے معاون ومددگار بنتے ہوئے امن سلامتی والی پرسکون کامیاب زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب اس تعلیم پر خود بھی عمل کریں اور ساری دنیا میں پھیلائیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہمیں توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’ہم احمدی ہونے کا حق اس وقت ادا کر سکتے ہیں جب ہم اپنے اعمال صالحہ کی وجہ سے ہر طرف اعلیٰ اخلاق دکھانے کا مظاہرہ کرنے والے ہوں۔ جب ہم اپنے محلے اور شہر اور اپنے ملک میں اعمال صالحہ کی وجہ سے اسلام کی خوبصورتی دکھانے والے بنیں۔ ہر قسم کے فسادوں، جھگڑوں، چغلی کرنے کی عادتوں، دوسروں کی تحقیر کرنے، رحم سے عاری ہونے، احسان کر کے پھر جتانے والے لوگوں میں شامل نہ ہوں بلکہ ان چیزوں سے بچنے والے ہوں اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنے والے ہوں۔ قرآن کریم بار بار ہمیں اعلیٰ اخلاق کو اپنانے اور نیک اعمال بجا لانے کی تلقین فرماتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ:19ستمبر2014ء)
ہے عمل میں کامیابی موت میں ہے زندگی
جالپٹ جا لہرسے دریاکی کچھ پرواہ نہ کر
(کلامِ محمود)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطافرمائے۔آمین
…٭…٭…٭…