حقیقت یہ ہے امن اور انصاف کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ یہ وہ اصول ہے جسے دنیا کے تمام باشعور اور دانا لوگ سمجھتے ہیں ۔درحقیقت مفسدوں کے سوا کبھی بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کسی معاشرہ،ملک یا دنیا میں عدل وانصاف قائم ہونے کے باوجود فساد ہو سکتا ہے ۔ تا ہم ہمیں دنیا کے بہت سے حصوں میں امن کا فقدان اور فساد نظر آتا ہے یہ بدامنی اور فساد مختلف ممالک میں اندرونی طور پر بھی پایا جاتا ہے اور دیگر اقوام سے تعلقات کے لحاظ سے بیرونی طور پر بھی موجود ہے حالانکہ حکومتیں انصاف پر مبنی پالیسیاں بنانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ باوجود اس کے کہ قیا م امن کو سبھی اپنا اولین مقصد قرار دیتے ہیں اس امر میں کوئی شک نہیں کہ بالعموم دنیا میں بے چینی اور اضطراب بڑھ رہا ہے اور فتنہ و فساد پھیل رہا ہے اس سے یہ یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں انصاف کے تقاضے پامال ہورہے ہیں۔ چنانچہ اس امر کی فوری ضرورت ہے کہ جب بھی اور جہاں کہیں بھی بے انصافی پائی جائے تو اس کا تدارک کیا جائے۔
(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ 73)
عدل و انصاف کواسلامی تعلیمات میں نہایت اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس کے قیام پربہت زور دیا گیاہےاورعدل کا دائرہ بے حد وسیع ہے جس کا اطلاق فرد واحد سے لے کر معاشرہ بلکہ پوری انسانیت تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جس سے رب کائنات خود متصف ہے یعنی وہ عادل ہےاور عدل کو پسند کرتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہےوَاللهُ یَقْضِیْ بِالْحَقّیعنی اللہ تعالیٰ ہر بات کا حق اور عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔اسی طرح بانی اسلام آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام معاملات میں عدل وانصاف کرنے کا ارشاد فرمایا کہ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ۚ إِنَّ اللّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ(المائدۃ، 43)یعنی( اگر جھوٹے اور فاسق لوگ بھی تیرے پاس کوئی جھگڑا لیکر آئیں تو )اور اگر تو فیصلہ کرے تو ( ہماری نصیحت یاد رکھ کہ ) ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کر ۔ اللہ یقیناً انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اورپھر خودآپؐ کی زبان مبارک سے یہ بات ظاہر فرما دی گئی کہ وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ(الشوریٰ:16) یعنی مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل وانصاف پر مبنی معاملات طےکروں ۔
ان قرآنی ہدایات کی روشنی میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفےٰﷺ نے ہر قدم پر اور ہر ایک کے ساتھ عدل وانصاف کرنے کی نہ صرف تاکید فرمائی بلکہ ساری زندگی اس کا عملی نمونے پیش کرکے اپنی اُمّت کو عدل وانصاف کرنا سکھایا ۔ ایک روایت میں حضرت ابوہریرہؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا جس دن اللہ تعالیٰ کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا، اُس دن اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا۔ ان خوش قسمت افراد کا شمار کرتے ہوئے سب سے پہلےامام عادل کا ہی نام آنحضور ﷺ نے لیا۔ اس امر سے آنحضور ﷺ کے نزدیک عدل و انصاف کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم)
ایک موقع پر فرمایاإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الجِھَادِ كَلِمَۃَالعَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ(سنن الترمذی حدیث: 2174) یعنی بہترین جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق و انصاف کی بات کرنا ہے۔
آپ ﷺکے اخلاق فاضلہ اور اوصاف حمیدہ میں عدل وانصاف کاوصف ایساواضح اور نمایاں نظر آتا ہے ۔کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ مسلم کی روایت ہے کہ غزوۂ حنین کے موقع پر غنیمت کا بہت زیادہ مال مسلمانوں کے ہاتھ آیا، یہ مال جس میں بکریاں، اونٹ، سونا، چاندی اور دیگر بہت سا سامان تھا۔ رسول اللہؐ نے یہ مال مجاہدین میں تقسیم کیا لیکن جو نئے نئے مسلمان ہونے والے عرب قبیلوں کے سردار تھے ان کو زیادہ دیا۔ اس میں مصلحت یہ تھی کہ ان لوگوں کو اپنے ساتھ مانوس کیا جائے کہ یہ اپنے قبیلوں کے سردار تھے اور اسلام کی ظاہری شان و شوکت دیکھ کر مسلمان ہوئے تھے۔ اس پر ایک آدمی ذوالخویصرہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ منافقین میں سے تھا اس نے اعتراض کر دیا۔ اس نے کہا کہ اس تقسیم میں تو عدل کا لحاظ نہیں رکھا گیا، حالانکہ حضورؐ نے امت کی ضرورت کے پیش نظر ایک مصلحت کے تحت یہ تقسیم فرمائی تھی۔ مسلم شریف کی ہی روایت ہے کہ کسی نے ذوالخویصرہ کی یہ بات رسول اللہؐ کو بتا دی کہ یا رسول اللہؐ فلاں شخص نے یہ بات کہی ہے۔ اس پر حضورؐ نے ایک جملہ فرمایا ’’من یعدل اذ لم اعدل‘‘ کہ اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اور کون عدل کرے گا؟
(صحیح مسلم حدیث نمبر 1064)
عدل و انصاف کا وصف آپ ﷺ کی فطرت صحیحہ کا ایک لازمی جز تھا۔ جس کا اعتراف اس وقت بھی ہوا جب کہ آپ ﷺ نے دعویٰ نبوت بھی نہیں فرمایا تھا چنانچہ روایت میں آتا ہے سائب بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں جب خانہ کعبہ کی تعمیر ہوئی تو وہ اس میں شامل تھے اس دوران جب حجر اسود اپنی جگہ پر رکھنے کا موقع آیا تو قریش کے قبائل آپس میں جھگڑ پڑے کہ ہم یہ پتھر اپنی جگہ پر رکھیں گے ۔بالآخرثالثی فیصلے پر اتفاق رائے ہو ااور انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا شخص جو صبح آئے گا وہ ثالث ہو گا ۔ صبح نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو سب لوگوں نے کہا کہ امین آگیا ۔اور آپ کے سامنے معاملہ پیش کیا گیا ۔آپ ﷺ نے پتھر حجر اسود کو ایک کپڑے میں رکھ دیا اور قریش کے مختلف قبائل کے سرداروں کے نمائندوں کو بلایا۔انہوں نے اس کپڑے کو تمام اطراف سے پکڑا اور اس کو جگہ پر لے گئے ۔پھر حضور ؐ نے حجر اسودکو اٹھا کر اس کے اصل مقام پررکھ دیا۔
(مسند احمد جلد 3صفحہ 46 مطبوعہ بیروت )
پس ان روایات سے واضح ہے کہ رسول اللہ ؐ مخلوقات میںاعدل الناس یعنی سب سے زیادہ عدل کرنے والے تھے۔آپ نےانسانی زندگی کے ہر شعبہ میں نہ صرف عدل وانصاف کرنے کی تلقین فرمائی بلکہ اس کے بہترین نمونے قائم فرمائے ۔
رسول خداﷺ کی تعلیمات اور قوت قدسیہ کا ہی اثر تھا کہ خلفائے راشدین اور اصحاب رسول اللہ ﷺ نے جس طرح کا معاشرتی ،سماجی ،سیاسی ،قومی اور بین الاقوامی نظام عدل عالمِ انسانیت کے سامنے پیش کیااس کی بھی کہیں کوئی نظیر نہیں ملتی۔
اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور قیام عد ل وانصاف:
آنحضرتﷺ نے اپنے بعد اپنی امّت کے گمراہ ہوجانے کی خبر بھی دی تھی تاہم اس کے ساتھ یہ خوشخبری بھی سنائی تھی کہ تاریکی کے اُس وقت میرا مہدی مبعوث ہوگا اور وہ اس اُمّت کی اصلاح کا بیڑا اُٹھائے گا، اس امام مہدی کے لئے خصوصیت کے ساتھ حکماً عدلاً کی صفات بیان فرمائیں۔ ان پیشگوئیوں کے عین مطابق چودھویں صدی کے سر پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام نے دعوی مہدویت فرمایا اور دیگر اصلاحی امور کے ساتھ عدل و انصاف بھی قائم فرمایا، اس ضمن میں آپ نے یہاں تک فرمایا:اللہ تعالیٰ بعض اوقات انصاف پسند کافر کو ظالم کلمہ گو کے مقابلہ میں پسند کرتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 249 حاشیہ)
اسی طرح آپؑ فرماتے ہیں:’’تمام قویٰ کا بادشاہ انصاف ہے، اگر یہ قوت ہی انسان میں مفقود ہے تو پھر سب سے محروم ہونا پڑتا ہے‘‘
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 34)
ایک دوسرے موقع پر فرمایا:
’’یہ بالکل سچی بات ہے کہ خداتعالیٰ کا کسی کے ساتھ کوئی جسمانی رشتہ نہیں ہے۔ خداتعالیٰ خود انصاف ہے اور انصاف کو دوست رکھتا ہے وہ خود عدل ہے اور عدل کو دوست رکھتا ہے اس لئے ظاہری رشتوں کی پروا نہیں کرتا۔ جو تقویٰ کی رعایت کرتا ہے اسے وہ اپنے فضل سے بچاتا ہے اور اس کا ساتھ دیتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 2، صفحہ 310، ایڈیشن 2010ء)
اسی طرح آپ کا ایک اَور ارشاد ہےکہ ’’جس قدر کوئی شخص انصاف اختیار کرتا ہے اسی قدر روشن ضمیر ہوجاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 5، صفحہ 531، ایڈیشن 2010ء)
حضرت مسیح موعودؑ نے محض نصائح ہی نہیں فرمائیں بلکہ عدل و انصاف اور سچی گواہی کا شاندار نمونہ بھی پیش فرمایا، اس حوالہ سے صرف دعویٰ مسیحیت کے بعد کی زندگی میں ہی واقعات رونما نہ ہوئے بلکہ پہلی زندگی جو کسی بھی مامور من اللہ کی صداقت پر ایک گواہ ہوتی ہے، میں بھی ایسے واقعات ملتے ہیں کہ آپ قرآنی تعلیمات کے عین مطابق ہمیشہ انصاف کے ساتھ سچی گواہی کے لئے کھڑے رہے۔ اس بارہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’جس امام کو ہم نے مانا ہے اس نے قرآنی احکام پر چلتے ہوئے ایسی مثالیں قائم کی ہیں جو غیروں کو بھی حیران و پریشان کر دیتی ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوے سے بہت پہلے جوانی کے زمانے کا ایک واقعہ روایات میں آتا ہے کہ ایک دفعہ اپنے والد کے مزارعین کے خلاف ایک مقدمے میں آپ پیش ہوئے اور حق و انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے حق بات کی جس کا فائدہ مزارعین کو ہوا اور ان کے والد کا نقصان ہوا۔ آپ کے وکیل نے آپ کو پہلے کہا بھی کہ جس طرح مَیں کہتا ہوں اگر اس طرح گواہی نہ دی تو نقصان ہو گا۔ آپ نے فرمایا کہ جو بھی ہو جو حق بات ہے مَیں تو وہی بتاؤں گا۔ تو بہرحال جج نے مزارعین کے حق میں ڈگری دے دی اور دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ مقدمہ کے ہارنے کے بعد، جب آپ کے خلاف فیصلہ ہو گیا اور آپ عدالت سے واپس ہوئے تو اس طرح خوش خوش واپس آ رہے تھے کہ لوگ جن کو اس فیصلہ کا پتا نہیں تھا وہ سمجھے کہ شاید آپ مقدمہ جیت کر واپس آرہے ہیں۔
(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 72 تا 73۔ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 298
بحوالہ خطبہ جمعہ 10 نومبر2017)
اسلام میں،عدل وانصاف کے ضمن میں انسان کی اپنی ذات سے لیکروسیع انسانی معاشرے اور بین الاقوامی معاملات تک میں ایسی تعلیمات،اصول اور نمونے روز روشن کی طرح عیاں ہیںکہ اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی ۔ قرآن شریف نے مذہبی ،معاشرتی اور معاشی ، سیاسی ،قومی اور بین الاقوامی ہر پہلو سے قیام عدل کی تفصیلی تعلیم دی ہے ۔ قرآنِ کریم میںمتعدد مقامات پرمختلف انداز میں اس حکم کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں سے عدل و انصاف کے ساتھ براہ راست تعلق رکھنے والی قرآنِ کریم کی چند بنیادی اور اصولی ہدایات جن میں عدل وانصاف کامضمون بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہےاور پھر اس کی عملی تفسیر اسوہ رسول ﷺ ،حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں مندرجہ ذیل ہے:
انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات اور معاملات میں مکمل عدل وانصاف کی عمومی تعلیم:
دنیا میں عدل اور انصاف قائم کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ اس کے علاوہ کبھی وہ اعلیٰ معیار قائم ہو ہی نہیں سکتا جو دنیا سے نا انصافی اور ذاتی غرضوں کے حصول کو ختم کر سکے۔چنانچہ اسی اصول کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں فرماتا ہے:یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکونُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰی اَنْفُسِكُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللہُ اَوْلٰی بِہِمَا، فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰی اَنْ تَعْدِلُوْاۚ وَ اِنْ تَلْوٗا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا۔ (النساء:136)اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف خواہ کوئی امیر ہو یا غریب دونوں کا اللہ ہی بہترین نگہبان ہے پس اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا عدل سے گریز کرو اور اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلوتہی کرگئےیقیناً اللہ جو تم کرتے ہو اس سے بہت باخبر ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’حق اور انصاف پر قائم ہو جاؤ۔ اور چاہئے کہ ہر ایک گواہی تمہاری خدا کے لئے ہو‘‘۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 361)
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی کہ عدل وانصاف تو ایک ادنی اور چھوٹے درجہ کی نیکی ہے بلکہ یہ تاکید فرمائی کہ عدل وانصاف سے بڑھ کر احسان کا معاملہ کرو یعنی جنہوں نے تمہارے ساتھ کوئی بھی نیکی نہیں کی ان سے بھی نیکی کرو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کامل نیکی کرو ۔جیسے ماں اپنے بچےسے نیکی کرتی ہے چنانچہ فرمایا:
اِنَّ اللہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ ج یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔ (النحل:91)یقیناً اللہ عدل کا اور احسان کا اور اقرباءپر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حُکم دیتا ہے اور بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کرو۔
اس آیت کی تفسیر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:’’خدا تم سے کیا چاہتا ہے بس یہی کہ تم تمام نوع انسان سے عدل کے ساتھ پیش آیا کروپھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کروں جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نہیں کی ۔ پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آئو کہ گویاتم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں …پس آخری درجہ نیکیوں کا طبعی جوش ہے جو ماں کی طرح ہو ۔
( کشتی نوح ،روحانی خزائن جلد 19صفحہ 30)
نیز فرمایا :
’’ خد ا حکم فرماتا ہے کہ تمام دنیا کے ساتھ تم عدل کرو یعنی جس قدر حق ہے اسی قدر لو اور انصاف سے بنی نوع کے ساتھ پیش آئو اور اس سے بڑھ کر یہ حکم ہے کہ تم بنی نوع انسان سے احسان کرو یعنی وہ سلوک کرو جس سلوک کا کرنا تم پر فرض نہیں محض مروّت ہے ۔ مگر چونکہ احسان میں بھی ایک عیب مخفی ہے کہ صاحب احسان کبھی ناراض ہو کر اپنے احسان کو یاد بھی دلا دیتا ہے ۔ اس لئے اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ کامل نیکی یہ ہے کہ تم اپنے بنی نوع سے اس طور سے نیکی کرو کہ جیسے ماں اپنے بچہ سے نیکی کرتی ہے کیونکہ وہ نیکی محض طبعی جوش سے ہوتی ہے نہ کسی پاداش کی غرض سے ۔یہ دل میں ارادہ نہیں ہوتا کہ یہ بچہ اس نیکی کے مقابل مجھے بھی کچھ عنایت کرے پس وہ نیکی جو بنی نوع سے کی جاتی ہے کامل درجہ اس کا یہ تیسرا درجہ ہے جو کہ ایتاء ذی القربی کے لفظ سے بیان فرمایا گیا ہے ۔
( چشمہ معرفت ،روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 388، بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ جلد 5صفحہ 84)
خدا تعالیٰ کے ساتھ عدل کے متعلق اسلامی تعلیم:
خدائے واحد کے ساتھ کسی بھی پہلو سے کسی اور کو شریک ٹھہرانا خلاف عدل ہے اوریہ عدل کا مذہبی اور دینی پہلو ہے جس پر اسلام میں بہت زور دیا گیا ہے ۔ہمیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی ظلم نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عدل کرو اور ظلم نہ کرو۔ اب اللہ تعالیٰ کے ساتھ کون ظلم کر سکتا ہے؟ ہمارے ہاں ظلم کا معنٰی محدود ہے کیونکہ ہم ظلم کا معنٰی یہ لیتے ہیں کہ کسی کے ساتھ زیادتی یا ناانصافی کا معاملہ کیا جائے لیکن نبی کریمؐ نے اسے وسیع مفہوم میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ عدل کیا ہے اس کے بارے میں قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ’’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ‘‘(سورۃ الانعام ۸۲) کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ایمان کے ساتھ ظلم کو نہ ملایا ان کے لیے امن ہے اور وہ ہدایت پر ہوں گے۔ اس آیت کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ’’ یعنی وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا“ تو صحابہ کو یہ معاملہ بہت مشکل نظر آیا اور انہوں نے کہا ہم میں کون ہو گا جو ظلم نہ کرتا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا مطلب لقمان علیہ السلام کے اس ارشاد میں ہے جو انہوں نے اپنے لڑکے سے کہا تھا يا بنى لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم کہ ”اے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بلاشبہ شرک کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر: 6937)
معاشرتی عدل :
اسلام نے معاشرتی عدل پر بھی بہت زور دیا ہے اور اس کو ایسے طور پر قائم فرمایا ہے کہ دنیا کا کوئی اور مذہب اس پہلو سے کوئی نظیر نہیں رکھتا ۔ معاشرتی عدل کا تقاضا ہے کہ والدین سے حسن سلوک سے پیش آیا جائے اور ان کے احسانات کے بدلے میں کم از کم ان سے احسان کا سلوک کیا جائے ان کے تمام حقوق انصاف کے ساتھ ادا کئے جائیں جسکی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر تاکید کی ہے جیسا کہ فرمایا:وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا۔ (سورۃ بنی اسرائیل :24)یعنی تیرے رب نے اس بات کا تاکیدی حکم دی دیا ہےکہ تم اس کے سواکسی کی عبادت نہ کرو اور نیز یہ کہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرو۔
والدین چاہے غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں ایک مسلمان کو اپنے والدین کیساتھ ہر حالت میں حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ کسی بھی مسلمان کیلئے والدین کی نافرمانی یا ان کیساتھ بد سلوکی کرنا جائز نہیں ہے، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ گناہ اور معصیت کے کاموں میں ان کی اطاعت کرے یا کفریہ امور میں ان کا ہمنوا بنے۔لیکن دنیاوی امور میں بہر حال ان کے ساتھ حسن سلوک اور عدل وانصاف کرنے کا واضح حکم دیتے ہوئے فرمایا: ۔وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا۔(لقمان : 17)یعنی۔ اگر والدین تمہیں میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں جس کے بارے میں تمہیں علم نہیں ہے تو تم ان کی اطاعت مت کرو، لیکن دنیا میں ان کیساتھ حسن سلوک کرو۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : ’’میرے پاس میری والدہ(جو کہ غیر مسلم تھی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تشریف لائیں ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ : میری والدہ میرے پاس آئیں ہیں اور وہ مجھ سے کافی محبت کرتی ہیں، تو کیا میں صلہ رحمی کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں ، اپنی والدہ کیساتھ صلہ رحمی کرو)‘‘بخاری: 2477 )
حکومت ،عدلیہ اور انتظامی امور کے تعلق سے عدل وانصاف کی تعلیم :
اسلام نے زندگی کے ہر شعبے و معاملے میں خواہ وہ معاشی ہو، معاشرتی ہو، سیاسی ہویاقانونی ہر حال میں عدل و انصاف کو ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی ہے۔ تاکہ ایک پر امن معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے جس میں امن و سلامتی وحدت امت، باہمی ہم آہنگی اور ملکی سالمیت کو تحفظ حاصل ہو ۔چنانچہ فرمایا
اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۰ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۰ۭ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِہٖ۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۔(النساء:59) یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کیا کرو اور جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو تو انصاف کے ساتھ حکومت کرو۔ یقیناً بہت ہی عمدہ ہے جو اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے یقیناً اللہ بہت سننے والا (اور) گہری نظر رکھنے والا ہے۔
کسی بھی مملکت کا کام معاشرے میں توازن و اعتدال قائم کرنا ہے اور یہ عدل کے بغیر ممکن نہیں۔ سیاسی عدل یہ ہے کہ ریاست کے سیاسی اداروں میں ہر شخص کو برابری کے حقوق حاصل ہوں۔ رعایا اور شہریوں کےساتھ عدل وانصاف پر مبنی مساوی سلوک ہو۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہوں ۔چھوٹے بڑے، امیر غریب میں تفریق نہ ہو یہی عدل وانصاف کا تقاضا ہے ۔اس لحاظ بھی اسلامی تعلیم اور پھر رسول کریم ﷺ کا اسوہ بیمثال ہے ۔چنانچہ قرآن مجید نےعدلیہ ،حکمرانوں اور انتظامی امور کے ذمہ داران کو واضح رنگ میں عدل وانصاف کی تعلیم کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ :
وَ اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ یعنی جب تم لوگوں کے درمیان حکومت کرو یا فیصلے کروتو انصاف کے ساتھ کرو۔حضرت رسول کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ اس قرآنی حکم کی عملی تفسیر ہے ۔ آنحضرت ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے قبل یہود کے قبائل بنونضیر اور بنو قریضہ میں سے بنو نضیر زیادہ معزز سمجھے جاتے تھے ۔چنانچہ جب بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنی نضیر کے کسی آدمی کو قتل کرتا تو قصاص میں قتل کیا جاتا اور جب بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریضہ کے کسی آدمی کو قتل کرتا تو اس کی دیت سو وسق کھجور ادا کر دی جاتی ۔ نبی کریم ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے بعد ایک نضیری نے قرظی کو قتل کر دیا تو بنو قریظہ نے قصاص کا مطالبہ کیا اور اپنا ثالث رسول کریم ؐ کو مقرر کیا اور آپؐکی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے جاہلیت کے طریق کے برخلاف اس قرآنی ارشاد پر عمل فرمایا کہ وَاِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ (المائدہ :43)یعنی جب تو ان یہود کے درمیان فیصلہ کرے تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کر چنانچہ آپؐ نے جان کے بدلے جان کا فیصلہ فرمایا
(ابودائود کتاب الدیات باب النفس بالنفس)
اسی طرح بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کتاب تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء نے (اس کی سزا) چہرہ کو سیاہ کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرنا تجویز کی ہوئی ہے۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! ان سے توریت منگوائیے۔ جب توریت لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اور اس سے آگے اور پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ (اور جب اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو) آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور انہیں رجم کر دیا گیا“
(صحيح البخاري/کتاب المحاربين حدیث نمبر: 6819)
یہ بھی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہؓ بن سلام نے بتایا کہ یا رسول اللہ! تورات میں اس جرم کی اصل سزا تو رجم ہی تھی لیکن جوں جوں زمانہ بدلا یہودی علماء نے اس سزا کے اطلاق میں خیانت کرنا شروع کر دی کہ جب کوئی غریب آدمی اس جرم میں پکڑا جاتا تو اسے سنگسار کر دیتے لیکن کوئی امیر اور صاحب ثروت آدمی پکڑا جاتا تو اس کو نرم سی سزا دے کر چھوڑ دیتے۔ یہاں نبی کریمؐ نے ایک بات فرمائی جو کہ کسی بھی معاشرے میں انصاف کی بنیاد ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب کسی قوم میں یہ بات آجائے کہ عام آدمی جرم کرے تو سزا مختلف ہو اور کوئی بڑا آدمی جرم کرے تو سزا مختلف ہو، پھر اس قوم کو تباہی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی قوم کی تباہی کا آغاز ہی یہیں سے ہوتا ہے کہ قانون کی نظر میں اونچ نیچ آجائے۔
بخاری کی ہی ایک اور روایت میں حضورؐ کے عدل و انصاف کا ایک اور واقعہ درج ہے کہ ’’ایک دفعہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کے قمتی زیور دیکھ کر اس کا سر پتھر کے ساتھ کچل کر قتل کر دیا ۔مقتولہ کو نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس میں کچھ جان باقی تھی ۔آپؐنے اس سے ایک شخص کا نام لے کر پوچھا کہ فلاں نے تمہیں قتل کیا ہے اس نے سرکے اشارے سے کہا کہ نہیں ، پھر آپؐنے دوسرے کا نا م لیا تو اس نے نفی میں جواب دیا ۔پھر نبی کریم ﷺنے تیسرے یہودی شخص کا نام لیا تو اس نے سر ہلا کر اثبات میں جواب دیا ۔آپؐنے اس یہودی کو بلا کر پوچھا تو اس نے قتل کا اعتراف کر لیا۔چنانچہ اس شخص کو قصاص میں قتل کیا گیا ۔
( بخاری کتاب الدیات باب من اقاد بحجر )
اس روایت سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضورؐ بنا مکمل تحقیق کئے اور بنا کسی کو مجرم ثابت کئے کسی کو سزا نہیں دیتے تھے۔بلکہ آپؐ کامل انصاف کرنے والے تھے اور آپؐ کی اپنی امت کے لئے یہی تعلیم اور نمونہ ہے ۔
اسی طرح کی ایک اور روایت میں آتا ہے،حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ (ایک مرتبہ) قریشی صحابہ ایک مخزومی عورت کے بارے میں بہت فکر مند تھے جس نے چوری کی تھی (اور لوگوں سے عاریۃ) سامان لے کر مکر بھی جاتی تھی اور آنحضرت ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا) ان قریشی صحابہ نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ اس عورت کے مقدمہ میں کون شخص آنحضرت ﷺ سے گفتگو (یعنی سفارش) کرسکتا ہے اور پھر انہوں نے یہ کہا کہ حضرت اسامہ ابن زید سے رسول کریم ﷺ کو بہت محبت وتعلق ہے اس لئے اس بارے میں آپ سے کچھ کہنے کی جرأت اسامہ کے علاوہ اور کسی کو نہیں ہوسکتی (چنانچہ ان سب نے حضرت اسامہ کو اس پر تیار کیا کہ وہ اس عورت
کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے گفتگو کریں ) حضرت اسامہ نے (ان لوگوں کے کہنے پر ) آنحضرت ﷺ سے گفتگو کی، رسول کریم ﷺ نے (ان کی بات سن کر) فرمایا کہ تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟ اور پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے خطبہ دیا اور (حمد وثنا کے بعد اس خطبہ میں) فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ جو گذرے ہیں ان کو اسی چیز نے ہلاک کیا کہ ان میں سے کوئی شریف آدمی (یعنی دنیاوی عزت و طاقت رکھنے والا) چوری کرتا تو وہ اس کو (سزا دیئے بغیر) چھوڑ دیتے تھے اور اگر ان میں سے کوئی کمزور و غریب آدمی چوری کرتا تو سزا دیتے تھے، قسم ہے اللہ کی! اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت عائشہ نے بیان کیا ایک مخزومی عورت (کی یہ عادت) تھی کہ وہ لوگوں سے عاریۃً کوئی چیز لیتی اور پھر اس سے انکار کردیتی تھی، چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالنے کا حکم دے دیا (جب) اس عورت کے اعزا (کو اس کا علم ہوا تو وہ) حضرت اسامہ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں گفتگو کی (کہ وہ آنحضرت ﷺ سے سفارش کریں) اور پھر حضرت اسامہ نے آنحضرت ﷺ سے اس کے متعلق عرض کیا۔ اس کے بعد حدیث کے وہی الفاظ مذکور ہیں جو اوپر کی حدیث میں نقل کئے گئے ہیں۔
(مشکوٰۃ المصابیح - حدود کے مقدمہ میں سفارش کا بیان - حدیث نمبر3568)
پھر سورۃ مائدہ میں اللہ تعالیٰ دشمنوںسے بھی عدل وانصاف کی تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے :
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ لَایَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰی اَلَّا تَعْدِلُوْاطاِعْدِلُوْاہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللہَ اِنَّ اللہَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔
(المائدہ:9)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو انصاف کرو یہ تقوی کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضور ؐ نے صرف یہود یا دیگر مذاہب کے لوگوں کے مابین ہی عدل و انصاف پر مبنی فیصلے صادر نہیں فرمائے بلکہ اگر کسی یہودی یا کسی دیگر مذہب یا قو م کے آدمی کا کسی مسلمان کے ساتھ بھی کبھی کوئی تنازعہ ہوا تو آپؐنے مکمل انصاف فرمایا اور آیت قرآنیہ کہ لَایَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰی اَلَّا تَعْدِلُوْاط اِعْدِلُوْاہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ۔ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو انصاف کرو یہ تقوی کے سب سے زیادہ قریب ہے۔پر عمل کرتےہوئے رہتی دنیا کے لئے ایک کامل نمونہ چھوڑا ہے چنانچہ’’عبداللہ بن ابی حدردالاسلمیؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی کا ان کے ذمہ چار درہم قرض تھا جس کی میعاد ختم ہوگئی ۔اس یہودی نے آکر آنحضرت ﷺ سے شکایت کی کہ اس شخص کے ذمے میرے چار درہم ہیں اور یہ مجھے ادا نہیں کرتا ۔رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ ؓسے کہا کہ اس یہودی کا حق دے دو ۔عبداللہؓ نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپؐکو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ مجھے قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں ہے آپؐنے دوبارہ فرمایا ’’ اس کا حق اسے لوٹا دو ۔‘‘ عبداللہ ؓ نے پھر وہی عذر کیا اور کہا کہ میں نے اسے بتا دیا ہے کہ آپؐہمیں خیبر بھجوائیں گے اور مال غنیمت میں سے کچھ حصہ دیں گے تو واپس آکر میں اس کا قرض چکا دوں گا ۔آپؐنے فرمایا ’’ابھی اس کا حق ادا کرو۔‘‘نبی کریم ؐ جب کوئی بات تین دفعہ فرما دیتے تھے تو وہ قطعی فیصلہ سمجھا جاتا تھا ۔چنانچہ عبداللہ ؓ اسی وقت وہاں سے بازار گئے ۔انہوں نے ایک چادر بطور تہہ بند کےباندھ رکھی تھی ۔سرکا کپڑا اتار کر تہہ بند کی جگہ باندھا اور چادر چار درہم میں بیچ کر قرض ادا کر دیا۔ اتنے میں وہاں سے ایک بڑھیا گزری ۔وہ کہنے لگی ۔’’ اے رسول اللہ ؐ کے صحابی آپ کو کیا ہوا؟‘‘ عبداللہ ؓ نے سارا قصہ سنایا تو اس نے اسی وقت اپنی چادر جو اوڑھ رکھی تھی ان کو دے دی اور یوں رسول اللہؐ کے عادلانہ فیصلے کی برکت سے دونوں فریق کا بھلا ہو گیا ۔
(مسند احمد جلد 3 صفحہ نمبر 42)
ایک اور روایت میںہے کہ ’’ایک دفعہ ایک یہودی بازار میں سودا بیچ رہاتھا ،اسے ایک مسلمان نے کسی چیز کی تھوڑی قیمت بتائی ،جو اسے سخت ناگوار گزری ۔اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیؑ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے اس بات پر مسلمان نے اس کو تھپڑ رسید کر دیا اور کہاکہ نبی کریمؐ پر بھی موسیؑ کو فضیلت دیتے ہو؟ وہ یہودی رسول کریم ؐ کی خدمت میں حاضر ہو ا اور عرض کی ۔ کہ اے ابو القاسم ہم آپ کی ذمہ داری اور امان میں ہیں اور آپ کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے اور اس مسلمان نے مجھے تھپڑ مار کر زیادتی کی ہے۔ نبی کریم اس پر ناراض ہوئے اور فرمایا مجھے نبیوں کے مابین فضیلت نہ دیا کرو۔(بخاری کتاب الانبیا وان یونس لمن المرسلین)۔ آیت لایَجْرِ مَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍکی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا:
’’ خدا تعالیٰ نے عدل کے باریمیں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارے کے حاصل نہیں ہو سکتی ۔ فرمایاہے کہ لَایَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰی اَلَّا تَعْدِلُوْا۔اِعْدِلُوْا۟ ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی یعنی دشمن قوموں کی دشمنی
تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو ۔انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ اسی میں ہے ۔اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قومیںنا حق ستاویں اور دکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا اور پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتائو کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی …میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جوانمردوں کا کام ہے ، اکثر لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت تو کرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں مگر ان کے حقوق دبا لیتے ہیں ۔ ایک بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے اور محبت کے پردہ میں دھوکہ دیکر اس کے حقوق دبا لیتا ہے مثلاً زمیندار ہے تو چالاکی سے اس کا نام کاغذات بندوبست میں نہیں لکھواتا اور یوں اتنی محبت کے اس پر قربان ہوا جاتا ہے پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا بلکہ معیار محبت کا ذکر کیا کیونکہ جو شخص اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا اور سچائی اور انصاف سے درگزر نہیں کرے وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے ۔
( نور القرآن نمبر 2 روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 401،410
بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ جلد 4 صفحہ 30،30)
قومی وبین الاقوامی معاملات میں
اسلام کی عدل وانصاف کی تعلیم :
اسلام قومی معاملات اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی عدل و انصاف کو ایک بنیادی اصول کے طور پر اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اپنی قوم کی حمیت بھی عدل سے ہٹنے نہ دے اور دوسری قوم کی دشمنی بھی عدل سے پھرنے نہ دے۔ جیسا کہ فرمایا: لَایَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰی اَلَّا تَعْدِلُوْاطاِعْدِلُوْا۟ ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی یعنی کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو انصاف کرو یہ تقوی کے سب سے زیادہ قریب ہے۔
حضرت خلفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اسلام ہر معاملہ میں کامل عدل اور مساوات کا درس دیتا ہے۔ چنانچہ سورۃ المائدہ آیت نمبر 3 میں ہمیں ایک اور بہت ہی اہم راہنما اصول ملتا ہے۔ اس میں یہ بیان ہے کہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان لوگوں سے بھی عدل وانصاف کا سلوک کیا جائے جو اپنی دشمنی اور نفرت میں تمام حدود پار کر گئے ہیں۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ جہاں کہیں بھی اور جو کوئی بھی تمہیں نیکی اور بھلائی کی نصیحت کرے اسے قبول کرنا چاہیے اور جہاں کہیں بھی اور جو کوئی بھی تمہیں گناہ اور نا انصافی کی طرف بلائے تمہیں چاہیے کہ تم اس کوردکر دو۔‘‘
(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ :76)
موجودہ زمانے میں نظریاتی اختلافات، سرحدوں کے تنازعات، لین دین کے معاملات اور صلح و جنگ کے مسائل آئے روز یہ سوال پیدا کرتے ہیں کہ کون سی بات عدل کے مطابق ہے اور کون سی بات خلاف عدل ہے۔چنانچہ اس ضمن میں قرآن مجید نےاصولی راہنمائی عطا فرمائی ہے جو کہ دراصل معیار عدل ہے ۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ(الحجرات: 14)ترجمہ: : اے لوگو! ہم نے تم کو مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کئی گروہوں اور قبائل میں تقسیم کر دیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے ۔ اللہ یقینا ً بہت علم رکھنے والا اور بہت خبر رکھنے والا ہے ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی اس اصولی تعلیم پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’انصاف کی بنیاد پر قائم بین الاقوامی تعلقات کے متعلق اسلام کیا تعلیم دیتا ہے جو قیام امن کا ذریعہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر فرما دیا ہے کہ ہماری قومیتیں اور نسلی پس منظر ہماری شناخت کا ذریعہ تو ہیں لیکن وہ ہمیں کسی قسم کی برتری اور فوقیت کا مستحق نہیں بناتیں ۔ چنانچہ قرآن کریم نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ تمام لوگ بحیثیت انسان برابر ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ ہمیشہ یا درکھیں کہ کسی عربی کو غیر عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔ نہ ہی کسی غیر عربی کو عربی پر کوئی برتری حاصل ہے۔ آپ نے سکھایا کہ کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں ہے نہ ہی کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت ہے۔ چنانچہ اسلام کی یہ واضح تعلیم ہے کہ تمام قوموں اور نسلوں کے لوگ برابر ہیں ۔ آپ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ سب لوگوں کو بلا امتیاز اور بلا تعصب یکساں حقوق ملنے چاہیں۔ یہ وہ بنیادی اور سنہری اصول سے جو بین الاقوامی امن اوراور ہم آہنگی کی بنیاد رکھتا ہے۔‘‘
(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ :75)
آجکل کی مادی دنیا میں تمام دنیا اور بالخصوص ترقی یافتہ اقوام میں یہ دوڑ لگی ہوئی ہے کس طرح غریب اقوام کے قدرتی وسائل کو اپنے قبضہ میں کیا جائے اور ان کو ہمیشہ کی غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے ۔چنانچہ اس غیر منصفانہ رجحان کو روکنے کے ضمن میں قرآن مجید نے یہ اصول بیان فرمایا:لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهٖ أَزْوَاجًا مِّنْهُم( سورۃ الحجر آیت نمبر 89 )یعنی جو ہم نے ان میں سے گروہوں کو(عارضی نفع کا) سامان دیا ہے اس کی طرف لالچ سے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نہ دیکھ۔
اس آیت کی تفسیر میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’انصاف پر مبنی بین الاقوامی امن کے ایک اور تقاضا کا ذکر سورۃ الحجر آیت نمبر 89 میں کیا گیا ہے جہاں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کسی فریق کو نہیں چاہیے کہ وہ دوسروں کی دولت اور ان کے وسائل کو کبھی بھی حاسدانہ رنگ میں دیکھے ۔اسی طرح کسی ملک کو نہیں چاہیے کہ وہ نا انصافی کرتے ہوئے دوسرے ممالک کے وسائل پر ان کی مدد کرنے کے جھوٹے عذر کا سہارا لے کر غاصبانہ قبضہ کرلے۔ اسی طرح تکنیکی مہارت فراہم کرنے کی بنیاد پر حکومتوں کو نہیں چاہیے کہ وہ دوسری اقوام کے ساتھ غیر منصفانہ تجارتی معاملات یا معاہدات کر کے ناجائز فائدہ اُٹھائیں۔اس طرح مدد یا مہارت فراہم کرنے کی بنیاد پر حکومتوں کوترقی پذیر ا قوام کے اثاثوں یا قدرتی وسائل کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ البتہ جہاں کم تعلیم یافتہ افراد یا حکومتوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہو کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کو کس طرح صحیح رنگ میں استعمال کر سکتے ہیں تو یہ کرنا چاہیے۔پھر قوموں اور حکومتوں کو ہمیشہ ان کی خدمت اور مدد کی کوشش بھی کرنی چاہیے جن کے پاس وسائل کم ہیں لیکن یہ مدد اپنے قومی یا سیاسی مفاد کی خاطر یا کسی قسم کا کوئی اور فائدہ اٹھانے کی نیت سے نہیں ہونی چاہیے۔
(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ :76،77)
اسلام نے بین الاقوامی تعلقات کو خوشگوار اور استوار رکھنے کے لئے کامل عدل وانصاف پر مبنی ایک اور ایسا اصول بیان فرمایا ہے جس کی مذاہب عالم میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ قرآن کریم فرماتا ہے :وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ( الحجرات:10)ترجمہ : اور اگر مومنو کے دو گرو آپس میں لڑ پڑیںتو ان دونوں میں صلح کروادو ۔پھر اگر صلح ہو جانے کے بعد ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر چڑھائی کرے ،تو سب مل کراس چڑھائی کرنے والے کے خلاف جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے ۔پھر اگر وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو عدل کے ساتھ ان ( دونوں لڑنے والوں )میں صلح کرادو اور انصاف کو مدنظر رکھو ۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔
اس آیت میں لفظ مومن کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں:
’’ لفظ مومن سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔ مومن کا لفظ اس لئے رکھا ہے کہ مسلمان قومیں مسلمانوں کے درمیان ہی فیصلہ کراسکتی ہیں ورنہ اصولی طور پر یہ آیات ساری قوموں کے لئے اپنے اندررہنمائی رکھتی ہیں۔
(تفسیر صغیر صفحہ 857 حاشیہ )
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اسی آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں؛
اگر… کوئی ملک سراسر زیادتی کرتے ہوئے کسی دوسرے ملک پر حملہ کرے اور اُس کے وسائل پر نا جائز طور پر قبضہ کرنا چاہے تو دوسرے ممالک کو چاہیے کہ وہ ضرور اس قسم کے ظلم کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے بھی انہیں ہمیشہ انصاف سے کام لینا چاہیے ۔ اسلامی تعلیم پر مبنی اس سی قسم کا قدم جن حالات میں اُٹھایا جائے گا اس کی تفصیل سورۃ الحجرات میں بیان ہے ۔ جہاں فرمایا کہ جب دوقوموں کا اختلاف جنگ کی شکل اختیار کر جائے تو دیگر اقوام کو چاہیے کہ وہ انہیں مذاکرات اور سیاسی روابط کی طرف لانے کی پُر زور تحر یک کریں تا کہ وہ بات چیت کی بنیاد پر صلح کی طرف آسکیں لیکن اگر ایک فریق صلح کی شرائط تسلیم کرنے سے انکار کر دے اور جنگ کی آگ بھڑکائے تو دیگر ممالک اس کو روکنے کے لیے اکھٹے ہوکر اس سے جنگ کریں۔ جب جارحیت کرنے والی قوم شکست کھا کر باہمی مذاکرات پر آمادہ ہو جائے تب تمام فریق ایک ایسے معاہدہ کے لیے کوشش کریں جس کے نتیجہ میں صلح ہو اور دیر پا امن قائم ہو۔ ایسی سخت اور غیر منصفانہ شرائط عاید نہیں کرنی چاہئیں جو کسی قوم کے ہاتھ پاؤں باندھ دینے کے مترادف ہوں کیونکہ ان شرائط سے ایک ایسی بے چینی پیدا ہوگی جو بڑھتی اور پھیلتی جائے گی اور بالآخر مزید فساد پر منتج ہوگی۔ پس ایسے حالات میں جو حکومت فریقین کے مابین صلح کروانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرے تو اسے پورے خلوص اور مکمل غیر جانبداری سے کام کرنا چاہیے۔ اگر کوئی ایک فریق اس کے خلاف بولے تب بھی یہ غیر جانبداری قائم رہنی چاہیے۔ پس ان حالات میں ثالث کو کسی غصہ کا اظہار یا کوئی انتقامی کارروائی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی کسی رنگ میں کوئی نا انصافی کرنی چاہیے۔ ہر فریق کواس کے جائز حقوق ملنے چاہیں۔پس انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معاہدہ کی خاطر بات چیت کروانے والے ممالک خود اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں نہ ہی کسی ملک سے ناجائز طور پر فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔ انہیں کسی قسم کی غیر منصفانہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ نہ ہی کسی ایک فریق پر کوئی ناحق دباؤ ڈالنا چاہیے۔ کسی بھی ملک کے قدرتی وسائل سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ایسے ممالک پر غیر ضروری اور ناحق پابندیاں عاید نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ یہ نہ تو انصافی کا طریق ہے اور نہ ہی اس طرح کبھی بھی ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری پیدا ہوسکتی ہے۔
(عالمی بحران اور امن کی راہ صفحہ :76،77)
مذہبی معاملات میں اسلام کی
عدل وانصاف کی تعلیم :
اسلام نے ہر شخص کو مذہبی آزادی کا جوحق دیا ہے وہ بھی اس کے کمال عدل وانصاف کی تعلیم پر مبنی ہے ۔چنانچہ فرمایا:لَا إِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِ ۔ (سورۃ البقرۃ:۲۵۶)۔ اسلام میں کوئی جبر نہیں ہے ہدایت صاف اور واضح ہے اور گمراہی سے الگ تھلگ ہے۔ دوسری جگہ قرآن کہتا ہے: ’’أَفَأَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتَّی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ۔(سورہ یونس:۹۹) یعنی اے محمد ﷺ کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ ایمان لے آئیں۔
ہرانسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ اسے عقیدے اور ضمیر کی مکمل آزادی حاصل ہو، زور زبردستی سے اس کو کسی نظریہ کے ماننے پر مجبور نہ کیا جائے عقیدہ اور مذہب ایسی چیز نہیں ہے کہ اس سلسلہ میں کسی قسم کا جبر اور دبائو ڈالا جاسکے۔ قرآن وسنت کی متعدد نصوص اور صحابہؓ کے تعامل سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام نے مذہبی معاملات میں کسی قسم کے جبر کو روا نہیں رکھا۔
مذہبی اختلاف کو اسلام حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ دیگر مذاہب، عقائد اور نظریات کے وجود کو تسلیم کرتا ہے۔ اس کا رویہ دیگر مذاہب کے ساتھ معاندانہ نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے انسانی معاشرہ کی تشکیل چاہتا ہے جس میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو یکساں مذہبی اور شہری حقوق حاصل ہوں ۔ اسلام ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے جس میں مسلمانوں اور غیرمسلموں کے تعلقات مذہبی رواداری، نیکی ورحمدلی اور عدل وانصاف کی بنیاد پر استوار ہوں ۔ اسلام بلا امتیاز مذہب تمام انسانوں کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ اس نے غیرمسلموں کو وہ تمام بنیادی حقوق دیے ہیں جو حقوق اس نے مسلمانوں کو دیے ہیں ۔
اسلام نے مذہبی تفریق سے بالاتر ہوکر ہر انسان کو محترم قرار دیا ہے خواہ اس کا تعلق کسی دین اور عقیدے سے ہو۔ انسان جس طرح اپنی زندگی میں محترم ہے، اسی طرح مرنے کے بعد بھی اس کا احترام ضروری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزررہا تھا، آپؐکھڑے ہوگئے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جنازہ یہودی کاہے، آپ نے فرمایا: ’’أو لیست
نفسا کیا یہ انسان نہیں ہے؟ (ابوداؤد باب القیام للجنازۃ) غزوئہ احزاب کے موقع پر مشرکین میں سے ایک شخص مارا گیا تو مشرکین نے قیمت دے کر اس کی لاش لینا چاہی، آپ نے بغیرقیمت لیے لاش ان کو سونپ دی؛ کیونکہ انسان کی خریدوفروخت اس کی عزت وتکریم کے منافی ہے، اسلام کی نظر میں انسانی جان کس قدر محترم ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کسی بے قصور انسان کا قتل اسلام کے نزدیک تمام انسانوں کے قتل کے مترادف ہے اور کسی ایک انسان کی زندگی بچانا ساری انسانیت کی نجات ہے۔
اسلام سے پہلے جنگی قوانین کا کوئی تصور نہیں تھا، فاتح قومیں مفتوح اقوام پر ہر طرح کا ستم روا رکھتی تھیں ، مقتولوں کی لاش کا مثلہ کیا جاتا تھا، انسانی جان کی حرمت کو ہر طرح پامال کیاجاتا تھا، اسلام نے جنگی قوانین کی تہذیب کی، اس نے بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں کے قتل سے منع کیا، کمزوروں پر ہاتھ اٹھانے، مذہبی پیشوائوں کو اپنی تلواروں کا نشانہ بنانے سے روکا اس نے صرف برسرِپیکار دشمنوں ، ظلم وزیادتی اور جبر واستبداد کے خلاف قتال کی اجازت دی ہے۔
اس لیے معاشرے کے ہر ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسان کی تکریم اور انسانی جان کا احترام کرے۔ ظلم وجبر اور تشدد سے بچے، ناحق انسانوں کا خون نہ بہائے اور دوسروں کی عزت وآبرو کو اپنی عزت اور آبرو سمجھے۔
ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر رسانی کے لئے کچھ صحابہ کو مکہ بھجوایا۔ مسلمانوں کے اس وقت جو حالات تھے وہ انتہائی خطرناک تھے۔ ہر وقت دشمنوں کے حملوں اور ان کی طرف سے نقصان پہنچانے کی کوششوں کا خطرہ رہتا تھا۔ ایسے حالات میں جب یہ صحابہ خبر لانے کے لئے گئے تو حرم کی حد میں انہیں کچھ آدمی ملے۔ دشمنوں کے آدمی تھے۔ ان مسلمانوں نے سوچا کہ انہوں نے ہمیں دیکھ لیا ہے اس لئے اگر ہم نے اب ان کو زندہ چھوڑا تو یہ مکہ والوں کو خبر کر دیں گے اور وہ ہم پر حملہ کر دیں گے اور ہمیں مار دیں گے۔ اس سوچ کے ساتھ صحابہ نے حملہ کر کے ان کافروں میں سے ایک یا دو کو مار دیا۔ جب یہ صحابہ واپس مدینہ پہنچے تو پیچھے مکہ والوں کے آدمی بھی آ گئے کہ اس طرح آپ کے لوگ ہمارے دو آدمی مار کر آ گئے ہیں اور انہوں نے حرم کے اندر مارے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن کر یہ نہیں فرمایا کہ تم لوگ بھی ظلم کرتے رہے ہو۔ اب تمہارے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے تو اتنا شور کیوں مچا رہے ہو۔ بلکہ آپ نے جو فوری کارروائی کی اور ان کو جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ تمہارے ساتھ غلط ہوا ہے اور بے انصافی ہوئی ہے۔ ممکن ہے حرم میں ہونے کی وجہ سے کافروں نے پوری طرح دفاع کی کوشش نہ کی ہو۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عربوں کے دستور کے مطابق دونوں مقتولین کا خون بہا ادا کیا جائے گا اور یہ آپ نے ادا کیا اور ساتھ ہی صحابہ کی بھی بڑی سرزنش کی کہ تم نے یہ کیا غلط کام کیا۔ (شرح زرقانی علی مواہب اللدنیہ جلد 2 صفحہ 238 تا 241 سریہ امیر المومنین عبد اللہ بن جحش مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء)اسی طرح ایک واقعہ ملتا ہے کہ ایک جنگ میں غلطی سے ایک عورت صحابہ کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔ آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ صحابہ پر بڑے خفا ہوئے۔ اور روایت میں آتا ہے کہ آپ کے چہرہ پر اس وقت اتنے غصّے کے آثار تھے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ صحابہ نے کہا بھی کہ عورت غلطی سے ماری گئی ہے۔ لیکن اس کے غلطی سے مارے جانے کے باوجود آپ کو بڑی سخت تکلیف پہنچی کہ انصاف قائم نہیں ہوا۔
(صحیح البخاری کتاب الجہاد و السیر باب قتل الصبیان فی الحرب 3014)
تاریخ طبری کا درج ذیل اقتباس جو دراصل اس معاہدہ کا ایک جزہے جو حضرت عمرؓکے عہد خلافت میں اہل ایلیا (قدس) کے ساتھ کیاگیااس میں بھی مکمل عدل وانصاف کی تعلیم جھلکتی ہے:
’’اللہ کے بندے عمر امیرالمومنین نے قدس کے باشندوں کو امان دی، جان ومال کی امان، ان کے کلیسائوں اور صلیبوں اور دین کے تحفظ کی ضمانت، ان کے کلیسائوں میں کوئی دخل انداز نہیں ہوگا۔ نہ انھیں گرایا اور نقصان پہنچایا جائے گا، نہ ان کی صلیب لی جائے گی، نہ ان کا کوئی مال چھینا جائے گا، نہ مذہب کے سلسلہ میں ان پر کوئی جبر کیا جائے گا، نہ ان میں سے کسی کو اذیت دی جائے گی، نہ ایلیا میں کوئی یہودی قیام کرے گا۔‘‘
(تاریخ طبری ج۳ ص۶۰۹)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جماعت کو عدل وانصاف کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
سورۃ اعراف کی جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اسی بات کا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جنہیں ہم نے پیدا کیا ان میں سے ایسے لوگ بھی تھے جو حق کے ساتھ لوگوں کو ہدایت دیتے تھے اور اسی کے ذریعہ سے انصاف کرتے تھے۔
ہدایت دینے والے وہی ہمیشہ رہے ہیں جو حق و انصاف کی بات کرتے ہوئے پھر ہدایت دے رہے ہیں اور آج بھی ایسے لوگ کامیاب ہوں گے جو حق کے ساتھ ہدایت دینے والے ہیں اور انصاف قائم کرنے والے ہیں۔ جب انسان خود ہدایت پر قائم نہ ہو تو دوسروں کو کیا ہدایت دے گا۔ جب تک خود انسان انصاف پر قائم نہ ہو تو دوسروں کو کیا انصاف دے سکے گا۔
پس ہم نے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عہد بیعت کو پورا کرنا ہے اور آپ کے مشن کی تکمیل کرنی ہے اور اسلام کے
پیغام کو دنیا تک پہنچانا ہے اور تبلیغ کا حق ادا کرنا ہے تو پھر اسی اصول کے مطابق تمام اعلیٰ اخلاق کو اپنانا ہو گا جو اسلام کی تعلیم ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے ہیں، جن کے بارے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ کرو۔ اگر ہماری گواہیاں حق اور انصاف کے مطابق نہیں ہیں، اگر ہمارے گھریلو اور معاشرتی تعلقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق نہیں ہیں، اگر ہمارے دل دشمنوں کے لئے بھی بغض اور کینوں سے پاک نہیں ہیں تو پھر ہماری تبلیغ حقیقی ہدایت پہنچانے والی تبلیغ نہیں ہو گی۔ ہماری حالتوں اور ہمارے انصاف کے معیاروں کو دیکھ کر غیر ہمیں کہیں گے کہ پہلے خود تو ہدایت پر عمل کرو۔ پہلے خود تو انصاف کو اپنے معاشرے میں لاگو کرو پھر ہمیں کہنا۔ پس بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہر احمدی کی ہے کہ اپنے عمل سے تبلیغ کے راستے کھولیں اور جو تبلیغ کے راستے ہمارے عمل سے کھلیں گے، جو لوگ اسلام سے ہمارے عمل کو دیکھتے ہوئے متعارف ہوں گے وہ اسلام کی خوبیوں کے معترف ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔
(خطبہ جمعہ 10؍ نومبر 2017ء)