اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-25

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بیان فرمودہ قومی یکجہتی کے زریں ارشادات ( ایچ شمس الدین ، مدیر اخبار بدر ملیالم ایڈیشن)

قومی یکجہتی سے مراد ایک قوم کے افراد کے درمیان ایسا اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی اعتماد ہے جو نسل، زبان، مذہب یا علاقائی فرق سے بالاتر ہو۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں قوم کے تمام طبقات اور گروہ مشترکہ مقاصد کے لیے مل کر کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہتے ہیں۔دنیا کے ہر خطے میں پائیدار ترقی اور امن کا راز اسی اصول میں پوشیدہ ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب کوئی قوم اتحاد کے رشتے میں بندھی رہتی ہے تو وہ بیرونی اور اندرونی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے، لیکن جب اس میں انتشار پیدا ہو جائے تو وہ اپنی طاقت کھو بیٹھتی ہے۔
قومی یکجہتی اور نبی اکرم ﷺ
قرآن کریم نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے فرمایا: كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَّاحِدَة (البقرہ: 214)یعنی سب انسان ایک ہی امت تھے۔ افسوس کہ انسانیت نے اس حقیقت کو فراموش کر کے اختلافات کو جنم دیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو دوبارہ ایک لڑی میں پرونے کے لیے سردارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ارشاد فرمایا: قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللہِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِيْ وَيُمِيْتُ فَاٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَكَلِمَاتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (الاعراف 159)
اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی اُمّی پر جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے، اور اُسی کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔
اس مقصد کی تکمیل کے لیے آپ ﷺ کو عالمی شریعت یعنی قرآن مجید عطا ہوا جو تمام عالم کے لیے نذیر ہے (الفرقان: 2)۔ اس کتاب میں اہلِ کتاب اور تمام انسانیت کو یہ پیغام دیا گیا: قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْئًا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّهِ (آل عمران: 65) آؤ اس کلمہ پر متحد ہو جائیں کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا ربّ بنائے۔
پھر آپ نے قومی یکجہتی کاایسا اعلیٰ نمونہ قائم فرمایا کہ کالے ۔گورے، غلام ۔آقااور عربی ۔عجمی سب کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کردیاکہ پھرـ ’نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز!‘
نیز حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے اپنے آخری پیغام میں ایک بار پھر عوام الناس کو قومی یکجہتی کا درس دیتے ہوئےاپنی امت کو یہ ہدایت بھی دی کہ أَلَا فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ یعنی جو شخص یہاں موجود ہے، وہ اس پیغام کو اس تک پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں۔(بخاری، کتاب العلم، باب: لِيُبَلِّغِ العِلْمَ الشَّاهِدُ الغَائِبَ)
مَردِ فارس اور اُمت واحدہ کا قیام!
اگرچہ نبی اکرم ﷺ کے فرمان میں مذکور لفظ مِنْکُمْ (تم میں سے) کے اولین مخاطب تمام صحابہؓ ہی تھے، لیکن ان میں حضرت سلمان فارسیؓ بھی شامل تھے۔ چنانچہ آپؓ اپنی ایک روایت میں بیان کرتے ہیں: فَشَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الخَنْدَقَ، ثُمَّ لَمْ يَفُتْنِي مَعَهُ مَشْهَدٌ یعنی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ خندق میں شریک ہوا، اور اس کے بعد آپ ﷺ کے ساتھ کسی موقع پر بھی
شریک ہونے سے محروم نہ رہا۔ (احمد (5 / 441 - 444) وابن سعد في الطبقات (4 / 53 - 57 )من طريق ابن إسحاق حدثني عاصم بن عمر بن قتادۃالانصاري عن محمود بن لبيد عن عبد اللهبن عباس اور دلائل النبوۃ للبَیہقی میں سند کے ساتھ آئی ہے ) اس عمومی بیان سے غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ حضرت سلمان الفارسیؓ حجۃ الوداع (۱۰ ہجری) جیسے عظیم اجتماع میں بھی ضرور شریک تھے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
بہر کیف، اللہ تعالیٰ کو اس وقت وہاں موجود صحابہؓ میں سے حضرت سلمان فارسیؓ کی قوم ہی کو تعمیلِ ارشادِ نبوی ﷺ کی یہ عظیم خدمت سپرد فرمانا منظور تھا۔ چنانچہ آخری زمانہ میں رسول مقبول ﷺ نے اپنی بعثت کے مقصد کی تکمیل کے لیے اَبناءُ الفارس میں سے بعض جلیل القدر رجال کی آمد کی بشارت دی تھی۔پھر اسی بابرکت نسل میں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود و مہدی معہود بنا کر مبعوث فرمایا، جن کے بارے میں خود خدا تعالیٰ نے یہ گواہی دی: ھٰذَا رَجُلٌ یُّحِبُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ یہ وہ رجل(مرد) ہے جو رسول مقبول ﷺ سے سچی محبت رکھتا ہے۔
قومی یکجہتی اور حضرت مسیح موعود ؑ
اس زمانے میں امام مہدی کی آمدکی اصل غرض امت کو پھر سے ایک منفرد جماعت بنانا ہے ۔ اور رسول مقبول ﷺ نے امام مہدی کے ذریعہ قائم ہونے والےگروہ کے متعلق فرمایا تھا کہ وھی الجماعۃ یعنی وہ ایک جماعت ہوگی۔ نیز آپ ﷺ نے امت کو یہ ہدایت بھی دی کہ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِيْنَ وَاِمَامَهُمْ۔یعنی تم جماعۃ المسلمین اور اس کے امام کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا ۔ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا ، وَلَوْ أَنْ تَعُضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ ، حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ ، وَأَنْتَ عَلَى ذٰلِكَ یعنی ہر کسی فرقہ سے دست بردار ہوجانا ۔چاہے تجھے کسی درخت کی جڑ کھاکر گزارا کرنا پڑےاور یہاں تک کہ اسی حالت میں تیری موت آجائے وہی تیرے لئے بہتر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نےاسی مرد فارس حضرت مسیح موعود ؑ کو حکم دیا کہ : اَجْمِعُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ لِیَجْتَمِعُوْا عَلیٰ دِیْنٍ وَّاحِدٍ
اس کی وضاحت میں حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں ـ:’’ یہ امر جو ہے کہ سب مسلمانوں کو جو رُوئے زمین پر ہیں جمع کرو۔ عَلیٰ دِیْنٍ وَّاحِدٍ۔ یہ ایک خاص قسم کا امر ہےاور یہ امر جو میرے اِس الہام میں ہے یہ بھی اسی قسم کا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسلمانانِ رُوئے زمین عَلیٰ دِیْنٍ وَّاحِدٍ جمع ہوں اور وہ ہوکر رہیں گے۔ ہاں اِس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں کوئی کسی قِسم کا بھی اختلاف نہ رہے۔ اختلاف بھی رہے گا مگر وہ ایسا ہوگا جو قابل ذکر اور قابل لحاظ نہیں۔‘‘
( الحکم جلد 9 نمبر42 مؤرخہ30 نومبر1905ء صفحہ2)
آخری زمانے میں پھر سے لوگوں کو ایک ہی امت بنانے قومی یکجہتی اور وحدت کے سلسلہ میں حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے مبارک
ارشادات نہ صرف رہنما اصول بلکہ مشعل راہ بھی ہیں ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’سو خدا نے قوموں کے جُدا جُدا گروہ مقرر کئے اور ہر ایک قوم میں ایک وحدت پیدا کی اور اس میں یہ حکمت تھی کہ تا قوموں کے تعارف میں سہولت اور آسانی پیدا ہو اور ان کے باہمی تعلقات پیدا ہونے میں کچھ دقّت نہ ہو اور پھر جب قوموں کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تعارف پیدا ہوگیا تو پھر خدا نے چاہا کہ سب قوموں کو ایک قوم بنا وے جیسے مثلاً ایک شخص باغ لگاتا ہے اور باغ کے مختلف بوٹوں کو مختلف تختوں پر تقسیم کرتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد تمام باغ کے ارد گرد دیوار کھینچ کر سب درختوں کو ایک ہی دائرہ کے اندر کر لیتاہے اِسی کی طرف قرآن شریف نے اشارہ فرمایا ہے اوروہ یہ آیت ہے۔ إِنَّ هَذِهٖ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَّاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ (المؤمنون :53) یعنی اے دنیا کے مختلف حصوں کے نبیو ! یہ مسلمان جو مختلف قوموں میں سے اس دنیا میں اکٹھے ہوئے ہیں یہ تم سب کی ایک اُمّت ہے جو سب پر ایمان لاتے ہیں اور میں تمہارا خدا ہوں سو تم سب مل کر میری ہی عبادت کرو۔سو یہی سنت اللہ الہامی کتابوں میں ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ نوع انسان کی وحدت کا دائرہ کمال تک پہنچادے۔ اوّل تھوڑے تھوڑے ملکوں کے حصوں میں وحدت پیدا کرے اور پھر آخر میں حج کے اجتماع کی طرح سب کو ایک جگہ جمع کردیوے جیسا کہ اس کا وعدہ قرآن شریف میں ہے کہ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا(الکہف:100) یعنی آخری زمانہ میں خدا اپنی آواز سے تمام سعید لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کردے گا جیساکہ وہ ابتداء میں ایک مذہب پر جمع تھے تاکہ اول اورآخر میں مناسبت پیدا ہو جائے۔غرض پہلے نوع انسان صرف ایک قوم کی طرح تھی اور پھر وہ تمام زمین پر پھیل گئے تو خدا نے اُن کے سہولت تعارف کے لئے ان کو قوموں پر منقسم کردیا اور ہر ایک قوم کے لئے اُس کے مناسب حال ایک مذہب مقرر کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے: يٰا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَ جَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا (الحجرات:14)
اور پھر فرماتا ہے: لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَكِنْ لِيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوْا الْخَيْرَاتِ (المائدۃ:49) (ترجمہ) اے لوگو! ہم نے مرد اور عورت سے تمہیں پیدا کیا ہے اورہم نے تمہارے کنبے اور قبیلے مقرر کئے یہ اس لئے کیا کہ تاتم میں باہم تعارف پیدا ہو۔ اور ہر ایک قوم کے لئے ہم نے ایک مشرب اور مذہب مقرر کیا تاہم مختلف فطرتوں کے جو ہر بذریعہ اپنی مختلف ہدایتوں کے ظاہرکردیں پس تم اے مسلمانو! تمام بھلائیوں کو دوڑ کرلو کیونکہ تم تمام قوموں کا مجموعہ ہو اور تمام فطرتیں تمہارے اندر ہیں۔
(چشمہ معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۴۴۔۱۴۶)
وَضَعْنَا النَّاسَ تَحْتَ أَقْدَامِکَ
اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدسؑ کے وحدت و یکجہتی کے اس الٰہی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے آپؑکے بعد آپؑہی کی ذریت میں سے، یعنی اَبْنَاءُ الْفَارِس کے ذریعہ، خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے سلسلے کو جاری فرمایا۔اس بارے میں رسول مقبول ﷺ نے خوشخبری دی تھی کہ رِجَالٌ مِّنْ هَؤُلَاءِ یعنی ان میں سے جلیل القدر اشخاص کو کھڑا کیا جائے گا۔ چنانچہ اسی پیشگوئی کے مطابق یکے بعد دیگرے پانچ خلفائے عظام آپ کی جانشینی پر فائز ہوئے۔مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو الہام عطا فرمایا: ا ِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْر جس کے ذریعہ حضرت مرزا مسرور احمد، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خلافت کی طرف نشاندہی بھی فرما دی گئی تھی۔
اسی تسلسل میں آپؑکو یہ الہام بھی ہوا: وَضَعْنَا النَّاسَ تَحْتَ أَقْدَامِکَ یعنی ہم نے لوگوں کو تیرے قدموں کے نیچے کر دیا۔
(تذکرہ:630)۔
قومی یکجہتی کے لئے
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس
ایدہ اللہ تعالیٰ کی کاوشیں
یہ الہامات اس حقیقت کو بھی واضح کرتے ہیں کہ قومی یکجہتی کا عظیم الشان مشن، حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ذریعہ ہی اپنی تکمیل کو پہنچے گا۔ چنانچہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے متعدد خطبات، خطابات اور مضامین میں نہ صرف اس حقیقت کو اجاگر فرماتےہیں بلکہ اس کے عملی تقاضوں کی بھی رہنمائی عطا فرمارہے ہیں۔
قومی یکجہتی کی حقیقت
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’کسی ملک کا شہری ملک کا شہری ہونے کی حیثیت سے باہم ملک سے وفا اور محبت کا تعلق بھی رکھتے ہیں۔ اور ہر ملک کے احمدی کو اپنے ملک کو دنیا کے ملکوں میں نمایاں طور پر دیکھنے کی خواہش بھی ہے۔ اور اس کے لئے وہ کوشش بھی کرتا ہے اور دعا بھی کرتا ہے اور کرنی چاہئے۔ اور ایک احمدی اپنی ذاتی حیثیت سے کسی بھی ملک کی سیاست میں یا کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ جُڑ کر سیاست میں حصہ بھی لیتا ہے۔ دنیا کے کئی ملک ہیں جہاں احمدی اگر حکومتی پارٹی میں شامل ہو کر ملک کی بہتری کے لئے کردار ادا کر رہے ہیں تو غیر حکومتی یا حزبِ مخالف پارٹی جو ہے اس میں بھی شامل ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پس ہر احمدی کی ملک کے شہری کی حیثیت سے تو ملک کے سیاسی معاملات میں دلچسپی ہے، ہو سکتی ہے اور ہونی چاہئے۔ لیکن جماعت احمدیہ کو بحیثیت جماعت یا خلافتِ احمدیہ کو کسی حکومت، کسی ملک کی حکومت پر قبضہ کرنے میں نہ کوئی دلچسپی ہے اور نہ یہ ہمارا مقصد ہے۔ کیونکہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقِ صادق نے جو راہ دکھلائی ہے وہ مادی ملکوں کے حاصل کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ روحانی بادشاہت کے حصول کے لئے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا تاج ہے جس کا حصول ہمارا مقصود ہے۔ ہاں جب بھی کسی بھی حکومتِ وقت کو ملک کی تعمیر و ترقی اور بقاء کے لئے مشوروں کی اور قربانیوں کی ضرورت ہوئی تو جماعت احمدیہ نے حصہ لیا اور حصہ لیتی ہے۔
ہماری بے چینی حکومتوں کے لئے نہیں، ہماری بے چینی ملک کی بقا کے لئے ہے۔ ہماری بے چینی ملک کے عوام کے لئے ہے۔ اور ہم یہ کوشش کرتے ہیں بلکہ جہاں تک وسائل اجازت دیتے ہیں دنیا میں پھر کر بھی ملک کو کسی بھی قسم کی مشکل سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور یہ عمل ہماری اس تعلیم کی وجہ سے ہیں جو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہے۔ یہ عمل ہمارے اس اُسوہ پر چلنے کی کوشش کی وجہ سے ہیں جو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔ اور جس کی خدا تعالیٰ نے ہمیں ہدایت فرمائی کہ یہی وہ میرا پیارا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے اُسوہ پر چلنا خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے فرض قرار دے دیا ہے۔ اور جو اُسوہ اس محسنِ انسانیت اور رحمۃللعالمین نے پیش کیا وہ یہ ہے کہ اپنے دکھوں کو بھول کر انسانیت کی خدمت کرو۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ 8؍ اکتوبر 2010ء )
مسلم امت کو وحدت کی نصیحت
مسلم امت کو مخاطب ہوکر آپ ایدہ اللہ فرماتے ہیں : ’’سعودی عرب میں ابھی گزشتہ دنوں یعنی پرسوں جو عید گزری ہے ، اس میں امامِ کعبہ نے بھی مکّہ میں حج کے خطبہ میں مسلمان ملکوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے، مسلمان اُمّت کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور یہ کہ ہمیںوحدت کی طرف توجہ دینی چاہئے ۔ لمبا چوڑا خطبہ ہے لیکن اُس کا خلاصہ یہی ہے ۔لیکن اب ان کے لئے یہ وحدت حاصل کرنا اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق ممکن نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا پہلی بات تو یہ کہ سب کچھ بھول چکے ہیں۔ نہ غیرت رہی ہے نہ دین رہا ہے، جس سے دین بھی گیا اور دنیا بھی گئی۔ اُمّتِ مسلمہ کو ایک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر ہی چلنا ہو گا۔ کسی کے خود ساختہ طریق اور کسی امام کا کوئی طریق کام نہیں آ سکتا۔ اُسی امام کا طریق کام آئے گا جس کو خدا تعالیٰ نے امام بنا کر بھیجا ہے۔ اُس شخص کے ساتھ جڑنا ہو گا جس کو خدا تعالیٰ نے الہاماً فرمایا ہے کہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلٰی دِیْنٍ وَاحِدٍ۔ پس زمانے کے امام کے ساتھ جڑنے والے ہی اُس مقصد کو پا سکیں گے ۔ ‘‘
(ازخطبہ عیدالاضحیہ 7؍نومبر 2011ء)
یکجا کلمہ گو مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ
حضورؐ کی پُراثر اور پُردرد نصیحت ایک کلمہ پڑھنے والے مسلمانوں کے لیے بالعموم، اور مسلم ممالک کے لیے بالخصوص، نہایت ہی گہرا اور سوچنے پر مجبور کرنے والا لمحۂ فکریہ ہے۔ حضور ارشاد فرماتے ہیں:
’’مسلمان ملکوں کو کم از کم ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ اپنے اختلافات مٹا کر اپنی وحدت کو قائم کرنا چاہیے۔اگر مسلمانوں کو یہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے دی ہے کہ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ (آل عمران:65) اس کلمے کی طرف آ جاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تو مسلمان جن کا کلمہ مکمل طور پر ایک ہے کیوں اختلافات ختم کرکے اکٹھے نہیں ہو سکتے؟ پس سوچیں اور اپنی وحدت کو قائم کریں اور یہی دنیا سے فساد دُور کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہےاور پھر ایک ہو کر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ہر جگہ مظلوم کے حقوق قائم کرنے کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں۔ایک ہوں گے، وحدت ہو گی تو آواز میں بھی طاقت ہو گی ورنہ معصوم مسلمانوں کی جانوں کے ضائع ہونے کے یہ لوگ ذمہ دار ہوں گے، مسلمان حکومتیں ذمہ دار ہوں گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ 13؍ اکتوبر 2023ء)
انتشار سے بچو!
اللہ تعالیٰ نے آخری زمانے میں امام مہدی کے ذریعہ خلافت کی مضبوط رسی عطاکر امت کو نصیحت فرمائی ہے کہ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا(آل عمران 104) یعنی اور اللہ کی رسی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کویاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر اس کی نعمت سے تم بھائی بھائی ہو گئے ۔
اس ارشادِ ربّانی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور اُمتِ مسلمہ میں پائے جانے والے انتشار اور اس کے تباہ کُن نتائج کا ذکر کرتے ہوئے، حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’مسلمان اگر ایک ہو جائیں تو ان مشکلات سے نکل سکتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 7 ؍جولائی 2023 ء)
یہ بیان امت مسلمہ کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ انتشار اور تفرقہ انہیں نہ صرف کمزور کرتا ہے بلکہ ان کے دشمنوں کو ان پر غلبہ پانے کا موقع بھی دیتا ہے۔
عالمی امن کے لیے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئےیوکرائن اور روس کے تنازعہ کے تناظر میں آپ نے فرمایا: ’’ ساتھ ہی یہ جنگ جو ہے اس سے ہمیں، مسلمانوں کو بھی سبق لینا چاہیے کہ کس طرح یہ لوگ ایک ہو گئے ہیں لیکن مسلمان باوجود ایک کلمہ پڑھنے کے کبھی ایک نہیں ہوتے۔ ایک ملک تباہ کیا، عراق تباہ کروایا، سیریا تباہ کروایا، یمن کی تباہی ہو رہی ہے اور غیروں سے کرواتے ہیں اور خود بھی کر رہے ہیں بجائے اس کے کہ ایک ہوں۔کم از کم یہ اکائی کا سبق ہی یہ مسلمان ان لوگوں سے سیکھ لیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 11؍مارچ 2022 ء)
یہ پیغام واضح کرتا ہے کہ قومی یکجہتی صرف اندرونی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ عالمی امن میں بھی اس کا کردار بنیادی ہے۔
انصاف اور تعاون
اتحاد کا بنیادی مضمون : Global Unity:The Key to Peace میں آپ نے فرمایا:
ـ‘‘If these measures are taken then it will soon become apparent that the existing conflicts will end and be replaced by peace and mutual respect, provided true justice is practiced and each country realises its responsibility. It is with great regret that I must say that, although it is an Islamic teaching, the Islamic countries have been unable to unite amongst themselves.’’
(اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو جلد ہی یہ ظاہر ہو جائے گا کہ موجودہ تنازعات ختم ہو کر امن اور باہمی احترام میں بدل جائیں گے، بشرطیکہ حقیقی انصاف کو قائم کیا جائے اور ہر ملک اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ مجھے کہنا پڑتا ہے کہ، اگرچہ یہ ایک اسلامی تعلیم ہے، لیکن اسلامی ممالک آپس میں اتحاد قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔)
(پریس رلیز ازalislam.org )
یہ ارشاد قومی یکجہتی کے اس اصولی پہلو کی وضاحت کرتا ہے جس کے بغیر اتحاد پائیدار نہیں رہ سکتا یعنی عدل اور باہمی تعاون۔
عموی ہدایات
27ویں جلسہ سالانہ، فرانس(منعقدہ 5؍اکتوبر 2019) کے موقع پرمعززشہریوں اور مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
A true Muslim is a person who is himself peaceful and who strives to establish peace and harmony in the world
ایک حقیقی مسلمان وہ ہے جو خود پُرامن ہو اور دنیا میں امن و ہم آہنگی قائم کرنے کی کوشش کرے۔
(الفضل انٹر نیشنل 14 جولائی 2020ء)
اسی طرح یورپی پارلیمنٹ(بمقام بلجیئم) میں پریس کانفرنس کے دوران (منعقدہ 4؍دسمبر 2012)حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“Islam’s message of peace is universal, which is why our motto is Love for All, Hatred for None. ’’
اسلام کا پیغام امن کا پیغام ہے، اسی لیے ہمارا نعرہ ہے: ’ ’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سےنہیں۔‘‘
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ 13؍جون 2025ء میں ایران اسرائیل تنازعہ کے پیش نظر دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ’’اس وقت دنیا کے عمومی حالات کے لیے بھی میں کہنا چاہتا ہوں، اکثر کہتا ہوں، دعائیں کرتے رہیں۔ جنگ کے پھیلنے کے امکانات بڑھتے چلے جارہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اِس کی تباہ کاری سے ہمیں محفوظ رکھے کیونکہ اب تو ایران پر اسرائیل نے حملہ کر دیا ہے اور یہ جنگ کی حالت خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔
یہ لوگ تو اب یہی چاہیں گے، اسرائیل کی حکومت، کہ ایک ایک کرکے تمام مسلمان ممالک کو نقصان پہنچائیں۔ لیکن مسلمان ملک سوئے ہوئے ہیں، اپنی ترقی اور اپنی دوسری ترجیحات جو ہیں، اُنہی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہوناہے۔
مسلمانوں کے نہ تو عمل رہے ہیں نہ ان کی دعا کی طرف توجہ ہے اور پھر ایسی حالت میں پھر جو نقصان پہنچے گا اس کا یہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ اِن کو عقل دے اور یہ اِس طرف توجہ کریں اور اپنی اکائی قائم کرنے کی کوشش کریں۔
یہ نہیں کہ یہ فلاں فرقہ ہے اور فلاں فرقہ ہے تو ہم اس کی اس لیے مدد نہیں کر رہے۔ سب ملک خطرے میں ہیں کیوں کہ اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَّاحِدَہ ہو چکا ہے۔ کفّار جو ہیں وہ سب ایک ملّت واحدہ بن گئے ہیں اور اب مسلمانوں کو بھی امت واحدہ بننا پڑے گا تبھی ان کی بچت ہے۔ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر معصوم کو، ہر مظلوم کو بڑے نقصان سے بچائے اور ہمیں دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اِس کی توفیق بھی عطا فرمائے ۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 7؍فروری 2025ء میں دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:
جیسا کہ میں دعا کے لیے کہتا رہتا ہوں دنیا کے حالات کے بارے میں ، مسلمانوں کے حالات کے بارے میں، فلسطینیوں کے لیے خصوصاً اور مسلمان دنیا کے لیے عموماً بہت دعا کریں۔ ان کے حالات بظاہر تو یہ لگتا ہے لوگ خوش ہیں کہ شاید ceasefire ہوگئی تو بہتر ہوجائیں گے لیکن بد سے بدتر ہورہے ہیں۔ نئے امریکن صدر کی پالیسی اور سکیم ظلم کی ایک اَور انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، پہلے تو امریکن کہتے تھے کہ ہمارے ملک کے لیے خطرناک ہے، باہر دنیا میں دخل اندازی نہیں کرتا، لیکن اب تو یہ ساری دنیا کے لیے خطرناک بن چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ فلسطینیوں پر رحم فرمائے اور دنیا پر رحم فرمائے اور اس سے بچے رہیں۔ عرب ممالک اب بھی اپنی آنکھیں کھولیں اور اتحاد قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ ورنہ فلسطین ہی نہیں باقی بھی عرب ممالک بھی سخت مشکلات کا سامنا کریں گے۔
(الفضل انٹر نیشنل 10 فروری 2025ء)
حضور پُر نور ایدہ اللہ قومی یکجہتی پر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اطاعت قوم کے اتحاد کی بنیادی اکائی ہے۔
(ازاختتامی خطاب سالانہ اجتماع واقفینِ نَو (یوکے) الفضل انٹر نیشنل 30 مئی 2024ء)
سلسلہ عالیہ احمدیہ کی غرض وغائت
اس خدائی سلسلہ کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ فرماتے ہیں :
ــ’’پس یہ باتیں جو میں نے بیان کی ہیں یہی سلسلہ کے قائم ہونے کی غرض ہے اور اس کے لیے ہمیں قربانیاں دینی چاہئیں اور اس کا اعلان بھی بارہا حضرت مسیح موعود ؑنے فرمایا ہے۔ یہ باتیں قربانی چاہتی ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ صرف قربانی کے واقعات پڑھ کر انقلاب نہیں آیا کرتے ، اس کے لیے ہر احمدی عورت کو ہاجرہ بننا پڑے گا اور ہر احمدی نوجوان کو اسماعیل بننا پڑے گا اور ہر ملک اور ہر قوم اور ہر نسل میں سے ہر احمدی کو یہ معیار دکھانے ہوں گے تبھی ہم دنیا میں ایک وحدت پیدا کر سکتے ہیں۔
(خطبہ جمعہ 31؍جولائی2020ء)
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صدسالہ جوبلی خلافتِ احمدیہ کے موقع پر عالم گیر جماعت احمدیہ کے نام ایک پُر معارف پیغام عطا فرمایا جس میں فرمایا:
یہ الہٰی تقدیر ہے ۔ یہ اسی خدا کا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹے وعدے نہیں کرتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ پیارے جو آپ کے حکم کے ماتحت قدرت ثانیہ سے چمٹے ہوئے ہیں،انہوں نے دنیا پر غالب آنا ہےکیونکہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ آج اس قدرت کو سوسال ہو رہے ہیں اور ہر روز نئی شان سے ہم اس وعدہ کو پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو قدرت ثانیہ سے چمٹ کر اپنی تمام استعدادوں کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کرے ۔آج ہم نے عیسائیوں کو بھی آنحضرتﷺ کے جھنڈے تلے لانا ہے۔یہودیوں کو بھی آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے لانا ہے۔ ہندوؤ ں کو بھی اور ہر مذہب کے ماننے والے کو بھی آنحضرت ﷺکے جھنڈے تلے لانا ہے۔یہ خلافتِ احمدیہ ہے جس کے ساتھ جڑ کرہم نے روئے زمین کے تمام مسلمانوں کو بھی مسیح و مہدی کے ہاتھ پر جمع کرنا ہے۔
پس اے احمدیو! جو دنیا کے کسی بھی خطہ زمین میں یا ملک میں بستے ہو، اس اصل کو پکڑلو اور جو کام تمہارے سپرد امام الزمان اور مسیح و مہدی نے اللہ تعالیٰ سے اذن پاکر کیا اسے پورا کرو جیسا کہ آپ علیہ السلام نے ‘یہ وعدہ تمہاری نسبت ہے’ کے الفاظ فرما کریہ عظیم ذمہ داری ہمارے سپرد کردی ہے۔ وعدے تبھی پورے ہوتے ہیں جب ان کی شرائط بھی پوری کی جائیں۔
پس اے مسیح محمدی کے ماننے والو! اے وہ لوگوجو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیار ے اور آپ کے درخت وجود کی سر سبز شاخیں ہو، اٹھواور خلافتِ احمدیہ کی مضبوطی کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہو تاکہ مسیح محمدی اپنے آقا و مطاع کے جس پیغام کو لے کر دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ، اس حبل اللہ کو مضبوطی سے پکڑ تے ہوئے دنیا کے کونے کونے میں پھیلادو ۔ دنیا کے ہر فرد تک یہ پیغام پہنچادو کہ تمہاری بقاخدائے واحدو یگانہ سے تعلق جوڑنے میں ہے ۔ دنیاکا امن اس مہدی و مسیح کی جماعت سے منسلک ہونے سے وابستہ ہے کیونکہ امن و سلامتی کی حقیقی اسلامی تعلیم کایہی علمبردار ہے، جس کی کوئی مثال روئے زمین پر نہیں پائی جاتی ۔آج اس مسیح محمدی کے مشن کو دنیا میں قائم کرنے اور وحدت کی لڑی میں پروئے جانےکا حل صرف اور صرف خلافتِ احمدیہ سے جڑے رہنے سے وابستہ ہے اور اسی سے خدا والوں نے دنیا میں ایک انقلاب لانا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو مضبوطی ایمان کے ساتھ اس خوبصورت حقیقت کو دنیا کےہر فرد تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(خطابات ، امام جماعت احمدیہ عالمگیر حضرت مرزا مسرور احمد صاحب،
خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔
صفحہ 18تا20۔ ناشر اسلام انٹر نیشنل پبلیکیشنز ، یوکے)
احمدیوں سے خطاب
قومی یکجہتی کے سلسلے میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے متعدد بار احمدیوں کو خاص امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ذیل میں ان ارشادات میں سے چند اہم نصائح پیش کی جاتی ہیں:
جماعت اور یکجہتی : ایک جماعت ہونے میں یہی برکت ہے کہ ایک اکائی قائم ہو، وحدت قائم ہو اور یہی مقصد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کا اور یہی مقصد تھا مہدی معہود کے آنے کا کہ مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کریں ۔ امّت واحدہ بنائیں ۔
(خطبہ جمعہ26؍ اکتوبر 2018ء)
جماعت اور وحدت : اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اور یہی بات ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی ملتی ہے۔ اور جب تک یہ وحدت قائم نہیں ہو گی نہ خدا تعالیٰ ملے گا نہ دوسری کامیابیاں مل سکیں گی۔ خدا تعالیٰ بھی انہی کو ملتا ہے، توحید کا صحیح ادراک بھی انہیں ہی ہوتا ہے جن میں وحدت ہوتی ہے۔
(خطبہ جمعہ 5؍ دسمبر 2014ء)
باجماعت نماز اور وحدت : آپس میں ملتے جلتے ہیں تو بہرحال اثر ہوتا ہے لیکن یہ تو ان لوگوں کے لیے جو بالکل ہی ایمان میں کمزور ہیں لیکن حقیقی ایمان یہی ہے کہ پانچ وقت نمازوں کے لیے مسجد میں آؤ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ مسجد عطا کر دی ہے تو آپ لوگوں کو جمع ہو کر اس وحدت کا نظارہ بھی یہاں پیش کرنا چاہیے۔
(خطبہ جمعہ 11؍ اکتوبر 2019ء)
اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو بھیجا جنہوں نے ہمیں عبادتوں اور نمازوں کا صحیح اِدراک پیدا کرنے کی طرف رہنمائی فرمائی۔ پس اگر ہم ایک طرف تو یہ دعویٰ کریں کہ ہم نے اپنی روحانی حالت کی بہتری اور وحدت کے قیام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق اور مسیح موعود اور مہدی معہود کو مان لیا ہے ۔
(خطبہ جمعہ 20؍ جنوری 2017ء)
شوریٰ کا نظام : ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض معاملات میں مشورہ لینا حقیقت میں ہمیں صحیح راستے پر چلانے اور باہمی تعاون اور مشورےسے کام کرنے کی طرف راہنمائی کے لیے ہے اور امّت میں وحدت پیدا کرنے کے لیے ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ 12؍ مئی 2023ء)
معروف فیصلہ اور وحدت : ’’معروف فیصلہ کی تشریح کرنا کسی شخص کا کام نہیں ہے معروف فیصلہ وہ ہے جو قرآن کے مطابق ہے اور سنت کے مطابق ہے اور حدیث کے مطابق ہے اور اس زمانے کے حکم عدل کے احکامات کے مطابق ہے۔ اور یہی وہ ذریعہ ہے جس سے جماعت کی وحدت قائم رہ سکتی ہے۔ اور یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے کہ وحدت پیدا کی جائے اور مخلصین اور اطاعت گزار لوگوں کی ایک جماعت پیدا ہو۔‘‘
(خطبہ جمعہ2؍ نومبر 2018ء)
اقتصادی بہتری کی ضرورت
قومی یکجہتی میں اقتصادیت کو بھی بہت بڑا دخل ہے چنانچہ اس سلسلہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا بیان ایک رہنما اصول ہے۔ حضور فرماتے ہیں :
’’ یہ صورتِ حال صرف یہاں نہیں ہے ، امریکہ میں بھی ہے اور دُنیا میں بھی ہے ۔ تو بہر حال جیسا کہ مَیں نے کہا کہ قانون قدر ت پھر اپنا کام کرتا ہے۔ جب ایک حد کو پہنچ کر لوگوں کی قرض کی واپسی کی طاقت ختم ہوئی تو بینکوں کو ہوش آئی کہ ہمارا اپنا پیسہ تو قرض میں تھانہیں ۔ یہ تو دوسروں کا پیسہ تھااور پھر اُنہوں نے مزید قرضے دینے بند کردئیے اورنہ صرف ان غیر پیداواری مقاصد کے لئے قرضے دینے بند کردئیے بلکہ پیداوری مقاصد کے لئے بھی قرضے دینے بند کردئیے ۔ اس کا پھر یہی نتیجہ نکلا کہ پوری معیشت متاثر ہوگئی اور ملکوں کی معیشتوں کا کیونکہ ایک دوسرے پر انحصار ہے اس لئے پوری دُنیا اس لپیٹ میں آگئی ۔ ‘‘
آپ نے دنیا کو نصیحتاً فرمایا : ’’ تو یہ سب کچھ جو دنیا میں معاشی بحران کی صورت میں ہمیں نظر آرہا ہے اس کی اصل وجہ کی طرف اب بھی ان لوگوں کی سوچیں نہیں جارہیں اور وہ ہے سب قدرتوں کے مالک اور رازق خدا کو حقیقی طور پر نہ ماننا ۔ یا ماننے کا حق ادا نہ کرنا، یہ بھی نہ ماننا ہی ہے ۔ یہ طاقتیں یا ملک جو معاشی لحاظ سے مضبوط ہیں یا کچھ عرصہ پہلے تک مضبوط تھے اس طرف کم توجہ دیتے ہیں کہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا کا اپنا بھی ایک قانون چل رہا ہے ۔ ‘‘
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں : ’’اس وقت ہم احمدیوں کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کو اس بات سے ہوشیار کریں کہ ان سب آفتوں اور بحرانوں کی اصل وجہ خدا تعالیٰ سے دُوری ہے ۔ بندوں کے حقوق ادا کرنے کی طرف عدم توجہگی ہے ۔ دوسروں کے وسائل پر حریصانہ نظر رکھنا ہے ۔ پس اگر مستقل حل چاہتے ہیں تو ان چیزوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ کئی بیلین ڈالر زیا کئی بیلین پاؤنڈز کی جو بیل آؤٹ (Bailout) ہے، یا خرچ کرنا ہے، یا امداد ہے وہ مستقل حل نہیں ہے۔ کیونکہ اگر سوچا جائے تو یہ رقم بھی اسی جیب سے نکلتی ہے جسکو پہلے ہی نقصان ہوچکا ہے ۔ اور آج مسلمان ممالک کا بھی یہی حال ہے کہ وہ بھی دنیا کے معاشی نظام کی طرف چل پڑے ہیں ۔بجائے اس کے کہ اس سے راہنمائی لیتے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اُن کو راہنمائی دی ہے ۔ ‘‘
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں : ’’ لیکن اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی اس آواز کو بھی سُننا ہوگا جو اس کے مسیح و مہدی کے ذریعہ ہم تک پہنچی کیونکہ اس کے بغیر اس زمانے میں کوئی نجات نہیں ۔ کوئی تحفظ نہیں ، کوئی ضمانت نہیں ۔ ‘‘
’’ خدا تعالیٰ دنیا کو توفیق دے کہ اس نُور کے دائرے کے اندر آجائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی کی وجہ سے جو اس دُنیا میں فساد برپا ہے اس سے بچ سکیں کیونکہ اب خدا کی پہچان کروانے ، اس تک پہنچانے کا یہی ایک ذریعہ ہے جو بندے کو خدا کا صحیح عابد بنائے گا ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح اور حقیقی مطیع اور فرمانبرداربنائے گا ۔ اللہ کرے کہ دنیا اس اہم بنیادی اصول اور نکتے کو پہچان لے ۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ 31؍اکتوبر 2008ء )
خلافت ہی قومی یکجہتی کا ضامن ہے
امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز وحدت قومی کے تعلق میں فرماتے ہیں:’’اطاعت رسول کا ایک مقصد جو وحدت کی لڑی میں پرویا جانا ہے وہ بھی خلافت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ دوسرے مسلمان بیشک نمازیں بھی پڑھتے ہیں لیکن ایک وحدت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دل میں پھوٹ ہے۔ ایک ہی مسلک ہونے کے باوجود جزئیات میں پڑ کر تفرقہ پیدا کیا ہوا ہے۔ علماء اپنے منبروں کے لئے اور اپنے مقاصد کے لئے، اب تو پاکستان میں علماء کے سیاسی مقاصد بھی ہو گئے ہیں ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں۔ یہی حال پھر ان کے پیچھے چلنے والوں کا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 25؍ مئی 2018ء)
’’اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے احمدیوں پر کہ نہ صر ف ہادیٔ کاملﷺ کی اُمت میں شامل ہونے کی توفیق ملی بلکہ اس زمانے میں مسیح موعود اور مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق بھی اس نے عطا فرمائی جس میں ایک نظام قائم ہے، ایک نظام خلافت قائم ہے، ایک مضبوط کڑا آپ کے ہاتھ میں ہے جس کاٹوٹنا ممکن نہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ یہ کڑا تو ٹوٹنے والا نہیں لیکن اگر آپ نے اپنے ہاتھ اگر ذرا ڈھیلے کئے تو آپ کے ٹوٹنے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے بچائے۔اس لئے اس حکم کو ہمیشہ یا درکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ ے رکھو اور نظام جماعت سے ہمیشہ چمٹے رہو۔ کیونکہ اب اس کے بغیر آپ کی بقا نہیں۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل 17؍اکتوبر 2003ء )
خلیفۂ وقت کا ارشادات اور یکجہتی : دین سیکھنے اور اصلاح کے لئے اور وحدت قائم کرنے کے لئے خلیفۂ وقت کے پروگراموں کے ساتھ جڑنا بے انتہا ضروری ہے۔
(خطبہ جمعہ 20؍ نومبر 2015ء)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے منصبِ خلافت پر متمکن ہونے کے بعداحباب جماعت کے نام اپنے پہلے تحریری پیغام میں خلافت سے وابستگی کی برکات بیان کرتے ہوئے تحریرفرمایا تھاکہ’’قدرت ثانیہ خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے جس کا مقصد قوم کو متحدکرنا اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ وہ لڑی ہے جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی ہوئی ہے۔ اگر موتی بکھرے ہوں تو نہ تو محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ ایک لڑی میں پروئے ہوئے موتی ہی خوبصورت اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تو دین حق کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔ پس اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص اور محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں اور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائمی بنائیں اور اس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں۔ امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں اور وہی آپ کے لئے ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں کے مقابلہ کے لئے ایک ڈھال ہے۔
پس اگر آپ نے ترقی کرنی ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے تو میری آپ کو یہی نصیحت ہے اور میرا یہی پیغام ہے کہ آپ خلافت سے وابستہ ہوجائیں۔ اس حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ہماری ساری ترقیات کا دارومدار خلافت سے وابستگی میں ہی پنہاں ہے۔ اللہ آپ سب کا حامی وناصر ہو اورآپ کو خلافت ِ احمدیہ سے کامِل وفا اور وابستگی کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل 23؍مئی 2003ء)
خلافت اور اطاعت کا کردار
مئی 2024 کے وُقفِ نو اجتماع برطانیہ میں آپ نے فرمایا:
“Obedience is the chief means of strengthening the bonds of unity amongst communities.
(https://www.reviewofreligio
ns.org/45323/prioritising-
serving-your-faith-above-
all-else)
ترجمہ : اطاعت ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جو قوموں کے مابین اتحاد کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔یہ نکتہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ کسی بھی قوم یا جماعت میں اتحاد اس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتا جب تک کہ وہ ایک منظم قیادت کے تحت اطاعت گزار نہ ہو۔خلافت کی اطاعت کے عہد کو اس لئے نبھانا ہے کہ ایک امام کی سرکردگی میں خدا تعالیٰ کی حکومت کو دنیا کے دلوں میں بٹھانے کی مشترکہ کوشش کرنی ہے۔
(خطبہ جمعہ6؍ جون 2014ء)
بین الاقوامی وحدت
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بین المذاہب امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر National Peace Symposium منعقد فرمارہے ہیں اور عالمی طور پر اس طرح کے پروگرامز کی مہم جاری فرمائی۔
اسی طرح کتاب World Crises and Pathway to Peace جس میں خطابات جوکہ آپ نے مختلف ممالک کے پارلیمنٹ اور سرکاری ایوانوں میں فرمایا اور سربراہان ممالک کے نام پر خطوط، اور ملاقاتوں پرمشتمل ہے قومی یکجہتی کے سلسلہ میں خلافت خامسہ کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے۔
قومی یکجہتی :
حضورِ انور ایدہ اللہ کی مساعی پر غیروں کی آراء
قومی یکجہتی کے قیام میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خداداد مساعی اور بصیرت افروز رہنمائی کا اعتراف غیر بھی کرتے ہیںجن میں سے چند پیش خدمت ہیں:
مورخہ 4؍دسمبر 2012ء کوحضور انور ایدہ اللہ کے اعزاز میںیورپین پاریمنٹ برسلزمیں منعقدہ ایک تقریب میں شامل ایک عیسائی راہنماجو س Bishop نےحضور انور کے متعلق برملا کہا : 
ـ’’ یہ شخص جادوگر نہیں لیکن ان کے الفاظ جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ لہجہ دھیماہے لیکن ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ غیر معمولی طاقت، شوکت اور اثر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اس طرح کا جرأت مند انسان مَیں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ آپ کی طرح کے صرف تین انسان اگر اس دنیا کو مل جائیں تو امن عامہ کے حوالے سے اس دنیامیں حیرت انگیز انقلاب مہینوں نہیں بلکہ دنوں کے اندر برپا ہوسکتا ہے اور یہ دنیا امن اور بھائی چارہ کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ مَیں اسلام کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا تھا۔ آپ کے خطاب نے اسلام کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کو کلیۃً تبدیل کردیا ہے۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل4؍جنوری 2013ء)
اسی طرح یونیورسٹی آف مالٹا (Malta) سے Prof.Amold Cassola (جوکہ 30 سے زائد کتب کا مصنف ہے اور اٹالین پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے ہیں ) نے کہا :
’’کانفرنس کا انتظام نہایت اعلیٰ تھا یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بھی خاص طور پر خیال رکھا گیا اور کہیں کسی قسم کی کمی نظر نہیں آئی۔ جماعت احمدیہ کا عالمی بھائی چارے کا تصور اور ماٹو ’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ‘ایک نہایت اہمیت کا حامل تصور ہے جو تمام انسانیت کو اکٹھا کردیتا ہے اور ہر قسم کے نسلی اور مذہبی تفریق کو الگ کرکے انسانیت کو یکجا کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ خلیفہ (ایدہ اللہ تعالیٰ ) کی تقریر عالمی امن کے قیام کی جدوجہد کی واضح عکاسی ہے۔ درحقیقت جماعت احمدیہ دنیا کے تمام لوگوں کے لئے جو امن اور رواداری کی تلاش میں ہیں مذاکرات کا ایک اہم پلیٹ فارم مہیا کررہی ہے، یہاں تک کہ سیاسی سطح پر بھی وہ اس معاملہ کو خوب اچھی طرح پیش کررہی ہے۔ ‘‘
( الفضل انٹرنیشنل4؍جنوری 2013ء )
ملک مالٹا ہی سے آنے والے ایک دوسرے مہمان Ivan Bartolo جوکہ دو پروگراموں کے پروڈیوسر اور میزبان ہیں۔ موصوف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا :’’ درحقیقت عزت مآب خلیفہ امن کے عظیم سفیر ہیں اور مَیں آپ کی شخصیت اور امن اور عالمی بھائی چارے کے لئے آپ کے مشن اور جدوجہد سے بہت متأثر ہوا ہوں۔ ‘‘
( الفضل انٹرنیشنل4؍جنوری 2013ء )
سپین سے ایک اورممبر پارلیمنٹ محترمہ Rocio Lopez موصوفہ سپین کے صوبہ Toledo سے کانگریس وومین ہیںآپ لکھتی ہیں :’’اس تقریب نے دوستی اور بھائی چارے کے اثرات چھوڑے ہیں۔ برسلز کے اس پروگرام نے ایک متحرک جماعت کا علم دیا جو مسلسل تعمیری کاموںمیں مصروف ہے۔ عزت مآب مرزا مسرور احمد کی قیادت میں ’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ‘‘جیسے ماٹو کے تحت مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے احمدی باہم مل جل گئے ہیں۔دنیا جو اپنے نشے میں دھت چلی جارہی ہے اور جہاں امن اور محبت کا پیغام انتہائی اہم ہے، ایسی دنیا میں آپ لوگوں کے بارے میں جاننا ہی ایک اعزاز کی بات ہے۔ اس بات سے زیادہ کیا چیز خوبصورت ہوسکتی ہے کہ آپ کے امام سے کچھ تبادلہ خیال ہوجائے یا ان کی تشدد کے خلاف تقریر کو غور سے سنا جائے۔ میں آپ کے تصورات کی کامل تائید کرتی ہوں۔ میں اس مردِخدا کی طرف سے عالمی انسانی حقوق کی بحالی اور دنیا میں امن کے قیام کی تمام باتوں سے اتفاق کرتی ہوں۔میں ہمیشہ مذہب کی بنیاد پر مظالم کی مذمت کرتی رہوں گی۔ خدا آپ پر ہمیشہ مہربان رہے۔
( الفضل انٹرنیشنل4؍جنوری 2013ء )
پروفیسر ڈاکٹر جیالو ژاں (Djialo Jean) برکینا فاسو کے بہت معروف آئی سپیشلسٹ ہیں، میڈیکل یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور آرمی میں حاضر سروس کرنل ہیں۔ ہمارے آئی انسٹیٹیوٹ میں بھی آتے رہتے ہیں۔ انہوں نے پہلی بار شرکت کی توفیق پائی۔ کہتے ہیں میں نے پہلی دفعہ جلسےمیں شرکت کی۔ سب سے پہلے جس چیز نے مجھے بہت متاثر کیا ہے ہزاروں افراد ایک مشترکہ مقصد کیلئے ایک مقام پر جمع ہیں، ایک مذہبی لیڈر کے گرد جمع ہیں۔ سب کے سب متحد ہیں، سب کا مطمح نظر ایک ہے۔ مختلف علاقوں، قوموں اور ملکوں کے متفرق شعبوں سے منسلک الگ الگ معاشرتی طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا ایک مقصد کیلئے ایک مقام پر ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو جانا غیر معمولی واقعہ ہے۔
(خطبہ جمعہ 4 ؍ اگست 2023)
ہیٹی(Haiti)سے مسٹر یوایل ٹیورین (Joel Turenne) جو وزارت مذہبی امور ہیٹی کے نمائندے کہتے ہیں : کہتے ہیں کہ باوجود مختلف کلچر،رنگ و نسل کے ہر شخص ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مل رہا تھا جیسے ایک ہی خاندان کے افراد ہوں۔ایک ہی قسم کا کھانا روزانہ مختلف اقوام کے لوگ ایسے کھا رہے تھے۔
(خطبہ جمعہ 4 ؍ اگست 2023)
پھر پیئر عمانوایل (Pierre Emmanuel) ہیٹی کے جوڈیشری پولیس کے نمائندہ ہیں۔ کہتے ہیں احمدیہ مسلم جماعت انٹرنیشنل کے جلسہ سالانہ یوکے میں شرکت کر کے ان مہمانوں میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ایک عیسائی کے طور پر اس جلسےمیں شامل ہو کر مجھے نہ صرف اسلام بلکہ مذہب کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ مختلف عقائد،ثقافت، زبان اور منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ جن کے رسم و رواج بھی مختلف تھے کس طرح ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ یہ عجیب نظارہ تھا، یقیناًقابل تحسین اور تقلید ہے۔
(خطبہ جمعہ 4 ؍ اگست 2023)
قزاقستان سے آئی ہوئی وہاں کی ایک سیاسی لیڈر کہنے لگیں مَیں د عا کرتی ہوں، یہ سب ماحول دیکھنے کے بعد اور تم لوگوں کی باتیں سننے کے بعد، تمہاری تقریریں سننے کے بعد کہ تمام دنیا جماعت کے جھنڈے تلے آ جائے۔
(خطبہ جمعہ یکم اگست 2008ء)
چائنہ کے اویغور مسلم (Uyghur Muslims) جو ہیں ان کے نمائندے بھی تھے۔ وہ کہتے ہیں میں نے جلسہ سالانہ یوکے اور یو ایس اے دونوں میں شرکت کی ہے اور جس طرح جماعت مل جل کر کام کرتی ہے یہ دیکھنا نہایت تعجب انگیز ہے۔ تمام جماعتی رضاکاران کا بے لوث خدمت کرنا بہت متاثر کن تھا۔ اس جلسے نے نوجوانوں کو اتحاد کی طرف مائل کیا اور یکجہتی کا ماحول بھی پیدا ہوا۔
(خطبہ جمعہ 9؍ اگست 2019ء)
ایک جاپانی خاتون کا تبصرہ؛ ’’خلیفہ کا کہنا تھا کہ یہ وقت ایک دوسرے کو انگیخت کرنے کا نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لئے محبت کے اظہار کا ہے اور یہ وقت یکجہتی پیدا کرنے کا ہے۔ خلیفہ نے بالخصوص ہم جاپانیوں کو ہماری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے ‘‘
(خطبہ جمعہ27؍ نومبر 2015ء)
حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی
حضرت مسیح محمدی کے ذریعہ قومی یکجہتی کا عمل میں آنا ایک خدائی فیصلہ ہے اور اس کا قائم ہونا ناگزیر ہے۔نیز حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے دَور کے امن اور قومی یکجہتی کے متعلق ایک منظوم کلام میں آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی یَضَعُ الحَرْب (کہ آنے والا مسیح جنگوں کو ختم کر دے گا) اور بائبل کی اس بشارت کو کہ:’’بھیڑیا برّہ کے ساتھ بسے گا اور چیتا بکری کے ساتھ لیٹے گا، بچھڑا، شیر بچہ اور موٹا بچھڑا سب مل کر رہیں گے اور ایک چھوٹا بچہ ان کی رہنمائی کرے گا۔ گائے اور ریچھنی اکٹھے چرائیں گے، ان کے بچے ساتھ ساتھ لیٹیں گے اور شیر ببر گائے کی طرح بھوسا کھائے گا۔‘‘ (یسعیاہ 11:6-7)یوں بیان فرمایا ہے:
فرما چکا ہے سیدِ کونین مصطفٰےؐ
عیسیٰ مسیح جنگوں کا کردے گا التوا
جب آئے گا تو صلح کو وہ ساتھ لائے گا
جنگوں کے سِلسلے کو وہ یکسر مٹائے گا
پیویں گے ایک گھاٹ پہ شیر اور گوسپند کھیلیں گے بچے سانپوں سے بے خوف دبے گزند
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک اور موقع پر فرماتے ہیں:
دنیا میں ایک ہی مذہب ہو گا اور ایک ہی پیشوا۔ میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے‘‘۔
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 67)
’’ میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22صفحہ 269)
’’ اے تمام وہ لوگو جو زمین پر رہتے ہو! اور اے تمام وہ انسانی روحو جو مشرق اور مغرب میں آباد ہو! میں پورے زور کے ساتھ آپ کو اس طرف دعوت کرتا ہوں کہ اب زمین پر سچا مذہب صرف اسلام ہے اور سچا خدا بھی وہی خدا ہے جو قرآن نے بیان کیاہے۔ اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والا نبی اورجلال اور تقدّس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کی روحانی زندگی اور پاک جلال کا ہمیں یہ ثبوت ملا ہے کہ اس کی پیروی اور محبت سے ہم رُوح القدس اور خدا کے مکالمہ اور آسمانی نشانوں کے انعام پاتے ہیں۔‘‘
(روحانی خزائن ۔جلد 15ص141)
تختِ مہدی کے وارث، مسیحا نفس
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ قومی یکجہتی کے اس حقیقی ’’بادشاہــــ‘‘ میں لوگوں نے اپنی آنکھوں سے مسیحائی نفس کا مشاہدہ کیا ہے چنانچہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جب 21؍ جون 2004ء کو کینیڈا تشریف لائے تو استقبال کا پروگرام MTA پر Liveدکھایا گیا۔ سیٹلائٹ پر سگنل بھیجنے والے ٹرک کا آپریٹر ایک عیسائی تھا۔ وہ استقبال کا منظر دیکھ کر ایسا مبہوت ہوا کہ گویا اس کوکچھ سمجھ نہ آئی کہ کیاہو رہاہے؟ کچھ دیر کے بعد کہنے لگا میرے ذہن میںمسیح کی آمد ثانی کا جو نقشہ تھا و ہ بعینہٖ یہ ہے جو آج مَیں نے دیکھا ہے۔
(بحوالہ : روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24مئی 2011ء)
عام خلق اللہ کیلئےحضور انور ایدہ اللہ کا پیغام
’’گویا خداتعالیٰ نے تمام دنیا میں رہنے والے ہر ملک اور قوم کے احمدی کو ایک ایسے تجربے سے گزارا جو انہیں وحدت کی لڑی میں پروئے ہوئے ہے۔ یہ ایک منفرد اور روحانی تجربہ تھا اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت اور آپؑ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کا ایک عظیم اظہار تھاجسے اپنوں نے بھی دیکھا اور محسوس کیا اور غیروں نے بھی دیکھا۔ 27مئی کایہ دن جس میں خلافت احمدیہ کے 100سال پورے ہوئے اپنوں اور غیروں کو اللہ تعالیٰ کی تائیدو نصرت کے نشان دکھا
گیا ... پس اس خلافت جوبلی کے جلسہ میں جس میں اپنوں اور غیروں نے وحدت کی ایک نئی شان دیکھی ہے یہ آج صرف اور صرف حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام کی جماعت کا خاصّہ ہے۔ آج اس وحدت کی وجہ سے عافیت کے حصار میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق کوئی جماعت ہے تو وہ صرف اور صرف مسیح محمدی کی جماعت ہے۔ باقی سب انتشار کا شکار ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 30؍ مئی 2008ء)
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیزنے اس عالمگیر وحدت و الفت باہمی کو تائید الٰہی کا نشان قرار دیتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا: ’’اب ان دُور دراز علاقوں میں مختلف
ممالک میں رہنے والے جو احمدی ہیں، مختلف قوموں کے ہیں، نسلوں کے ہیں، خلافت سے
تعلق کون پیدا کر رہا ہے، یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت ہے ورنہ انسانی سوچ اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ دنیادار اس کو نہیں سمجھ سکتے۔ جرمنی میں ایک عرب نے بیعت کی تو اس کے واقف کار نے اس سے کہا کہ تم کیا قادیانی ہوگئے ہو؟ اس نو مبائع نے جواب دیا کہ تم لوگ یہاں سوعرب ہو، عرب تھا یہ، تم لوگ کسی بات پر اکٹھے نہیں ہو سکتے ہو۔ جماعت احمدیہ میں ایک امام ہے اور اس کے کہنے پر جماعت اٹھتی اور بیٹھتی ہے اور اسی لیے اس کے کاموں میں برکت ہے۔ تو اب بتاؤ تمہارے میں کیا خوبی ہے جو میں تمہارے ساتھ مل جاؤں اور ان کو چھوڑ دوں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 27؍ مئی 2022ء)
قوم کے لوگو! اِدھر آؤ کہ نکلا آفتاب
وادئ ظلمت میں کیا بیٹھے ہو تم لیل و نہار
خ خ خ