اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-25

مذہبی فضاء میں امن کا پیغامبر (منیر احمد خادم ایڈیٹر ہفت روزہ اخبار بدرقادیان )

آج دنیا حق و راستی کی پیاسی اورعدل و انصاف کی متلاشی ہے ۔ جدھر دیکھو ظلمت و تاریکی نے اپنی سیاہ چادر پھیلا رکھی ہے۔ کہیں ذات پات کے جھگڑے ہیں تو کہیں لِسانی فسادات۔ کہیں مذہب کے نام پر فتنے ہیں تو کہیں ہمسایہ ملکوں کے باہمی اختلافات اور منافرتیں۔ غرضیکہ حضرت انسان نے اپنے چاروں طرف تباہی و بربادی کے ایسے خطرناک گڑھے کھود رکھے ہیں کہ انہیں پُر کرکے ایک ہموار راستہ بنانا بھی اُسے اپنے اختیار سے باہر نظر آنے لگا ہے۔ کٹّرپن جس نے تنگ نظری کو جنم دیا اور جس کے نتیجہ میں تشدّد اور بےجا ظلم کا خوفناک جنّ دنیا میں چاروں طرف گھومنے لگا اور پھر اسلحے کی ایسی خطرناک دوڑ کی ابتداء ہوئی کہ آج اسلحے کی دوڑ کو روکنا تو الگ رہا دنیا کی عظیم طاقتیں اس کی تخفیف کے مسئلہ پر بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ پھر ایسے ماحول میں بے چارے اشرف المخلوقات کو کیا کرنا چاہئے؟ مایوسی اور قنوطیت کا شکار ہوکر اپنی مخلصی کی کوششیں ترک کردے یا پھر روشنی کی کوئی کرن ہے؟ یقیناً ہے! لیکن اب یہ کام کسی کے بس کی بات نہیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے امام حضرت مرزا غُلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہُود علیہ الصلوٰۃ والسّلام، آپ کے خلفاء عظام اور اس جماعت کو مامُور فرمایا ہے جس کا نام جماعتِ احمدیہ ہے۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خود مُسلمان کہلانے والے بھی اسلام کی پُرامن تعلیم سے نہ صرف کوسوں دُور ہیں بلکہ اسلام کے حسین چہرے پر انہوں نے ایسے بدنُما داغ لگا دیئے ہیں جس سے غیروں کو برملا یہ کہنے کا موقع ملا ہے کہ اسلام ایک خُونی مذہب ہے اور یہ کہ اسلام کو اپنی اشاعت کے لئے تلوار کے استعمال کی ضرورت ہے اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔
چنانچہ خُونی مہدی کی آمد کا عقیدہ اور اس کا اپنی آمد کے بعد اسلام کو تلوار کے زور سے پھیلانا یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس سے دیگر مذاہب کے ماننے والے اسلام سے سخت متنفّر اور بیزار ہوئے اور اس عقیدے سے تبلیغِ اسلام کی راہ میں زبردست رُکاوٹیں کھڑی ہوگئیں۔
سُنئے خونی مہدی کی آمد کے متعلق کیا فرماتے ہیں علماء دین! حُجج الکرامہ میں لکھا ہے خُلاصہ درج کرتا ہوں۔
’’ مہدی کے متعلق اہلِ حدیث کا عقیدہ یہ ہے کہ مہدی ظاہر ہوتے ہی عیسائیوں کو قتل کرے گا جو ان میں سے باقی رہ جائیں گے اُن کو حکومت اور بادشاہت کا حوصلہ نہ رہے گا اور ریاست کی بُو اُن کے دماغ سے نکل جائے گی اور ذلیل ہو کر بھاگ جائیں گے۔ ‘‘
پھر ’حُجج الکرامہ‘کے صفحہ 374 میں لکھا ہے:
اس فتح کے بعد مہدی ہندوستان پر چڑھائی کرے گا ہندوستان کے بادشاہ کو گردن میں طوق ڈال کر اس کے سامنے حاضر کیا جائے گا اور تمام خزانے اور بینک گورنمنٹ کے لُوٹ لیں گے۔
اسی طرح ’حجج الکرامہ ‘ کے صفحہ 424 پر لکھا ہے:
عیسیٰ بھی مہدی کی طرح تلوار سے اسلام پھیلائے گا دو ہی باتیں ہوں گی یا قتل یا اسلام۔
کتاب ’ احوال الآخرۃ ‘ میں لکھا ہے۔
جو عیسائی ایمان نہیں لائیں گے وہ سب قتل کردیئے جائیں گے۔
(بحوالہ حقیقۃ المہدی)
اس باطل عقیدہ کو پاش پاش کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص اس وقت دین کے لئے لڑائی کرتا ہے یا کسی لڑنے والے کی تائید کرتا ہے یا ظاہر یا پوشیدہ طور پر ایسا مشورہ دیتا ہے یا دِل میں ایسی آرزوئیں رکھتا ہے وہ خدا اور رسولؐ کا نافرمان ہے۔ ‘‘
(حقیقۃ المہدی صفحہ 4)
نیز فرمایا:
’’ اے مسلمانو اپنے دین کی ہمدردی تو اختیار کرو مگر سچّی ہمدردی۔ کیا اس معقولیت کے زمانہ میں دین کے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم تلوار سے لوگوں کومسلمان کرنا چاہیں… خدا سے ڈرو اور یہ بیہُودہ الزام دینِ اسلام پر مت لگاؤ … معاذ اللہ ہرگز قرآن شریف کی یہ تعلیم نہیں ہے اور نہ کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ کوئی خُونی مہدی یا خُونی مسیح آئے گا جو جبراً مسلمان کرے گا اور انسانوں کو قتل کرنا اس کا کام ہوگا۔‘‘
(تریاق القُلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 156)
حضرت مرزا غُلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی مسعُود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قُران و سُنّت کی روشنی میں مُسلمانوں کے سامنے جب یہ عقیدہ رکھا کہ کسی خُونی مہدی کا آنا مذہبِ اسلام کے خلاف ہے اور یہ کہ اسلام کو پھیلانے کے لئے کِسی تیر و تلوار اور بندوق و توپ کی ضرورت نہیں کیونکہ اسلام ، مذہب کو پھیلانے کے لئے انسانی خون کو بہانے کا سخت مخالف ہے تو مخالف مولویوں اور کٹّر ملاؤں نے اس شہزادۂ امن و انسانیت کو نعوذ باللہ کافر، بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’ افسوس کہ جس وقت سے مَیں نے ہندوستان کے مُسلمانوں کو یہ خبر سُنائی ہے کہ کوئی خُونی مہدی یا خُونی مسیح دنیا میں آنے والا نہیں ہے بلکہ ایک شخص صُلح کاری کے ساتھ آنے والا تھا جو میں ہوں اس وقت سے یہ نادان مولوی مجھ سے بغض رکھتے ہیں اور مجھ کو کافر اور دین سے خارج ٹھہراتے ہیں عجیب بات ہے کہ یہ لوگ بنی نوع کی خُونریزی سے خوش ہوتے ہیں مگر یہ قُرآنی تعلیم نہیں ہے۔‘‘
( تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 265)
معزّز قارئین! یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعتِ احمدیہ کے علاوہ دیگر فرقہ ہائے اسلامیہ کے نزدیک اسلام کے پھیلانے کا واحد ذریعہ تلوار ہی تھی گویا ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی بیش قیمت نصائح کُفّارِ مکّہ پر اثر نہ کرسکیں تب نعوذ باللہ من ذٰلک مجبور ہو کر رسُول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو تلوار ہاتھ میں لینا پڑی اور یہی فلسفہ ہے ان کے نزدیک اِسلامی جہاد کا۔ چنانچہ اس بارہ میں جماعتِ اسلامی کے لیڈر مولانا ابوالاعلیٰ مَودودی کا ایک حوالہ ان کی کتاب ’’ الجہاد فی الاسلام‘‘ سے پیش ہے۔ موصوف رقمطراز ہیں:
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ برس تک عرب کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ وعظ و تلقین کا جو مؤثر انداز ہو سکتا تھا اُسے اختیار کیا۔ مضبوط دلائل دیئے۔ واضح حجتیں پیش کیں ۔ فصاحت و بلاغت اور زورِ خطابت سے دِلوں کو گرمایا۔ اللہ کی جانب سے محیّرالعقول معجزے دکھائے۔ اپنے اخلاق اور پاک زندگی سے نیکی کا بہترین نمونہ پیش کیا اور کوئی ذریعہ ایسا نہ چھوڑا جو حق کے اظہار و اثبات کےلئے مفید ہوسکتا تھا لیکن آپ کی قوم نے آفتاب کی طرح آپ کی صداقت کے روشن ہوجانے کے باوجود آپ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا … لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعئ اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی … تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی و شرارت کا زنگ چھوٹنے لگا۔ طبیعتوں سے فاسد مادّے خود بخود نکل گئے۔ رُوحوں کی کثافتیں دُور ہو گئیں اور صرف یہی نہیں کہ آنکھوں سے پردہ ہٹ کر حق کا نُور صاف عیاں ہوگیا بلکہ گردنوں میں وہ سختی اور سروں میں وہ نخوت بھی باقی نہ رہی جو ظہورِ حق کے بعد انسان کو اس کے آگے جھکنے سے باز رکھتی ہے‘‘
اسی طرح لکھتے ہیں:
’’ عرب کی طرح دوسرے ممالک نے بھی جو اسلام کو اس سُرعت سے قبول کیا کہ ایک صدی کے اندر چوتھائی دنیا مسلمان ہوگئی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اسلام کی تلوار نے ان پردوں کو چاک کردیا جو دلوں پر پڑے ہوئے تھے‘‘
مولانا مودودی صاحب کا مذکورہ اقتباس اگر ان کے نام اور کتاب کے حوالہ کے بغیر پڑھا جائے تو صاف معلوم ہوگا کہ یہ اقتباس کسی اسلام دشمن یہودی کی کتاب کا تو ہوسکتا ہے، کسی عیسائی کی کتاب کا تو ہوسکتا ہے لیکن کسی مخلص مسلمان کا نہیں اور وہ بھی ایسا مسلمان جو ایک طرف ’’راہنما‘‘ ہونے کے دعویدار کے علاوہ ’’مزاج شناس رسولؐ ‘‘ ہونے کا مدّعی بھی ہے۔ چنانچہ سُنئے ڈوزؔی لکھتا ہے:
’’ محمد کے جرنیل ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن لے کر تلقین کرتے تھے‘‘۔
سمتھؔ کا دعویٰ ہے کہ جرنیلوں کاکیا سوال خود
’’ آپؐایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن لے کر مختلف اقوام کے پاس جاتے تھے‘‘
پس وہ پتّھر جو اسلام کے حسین چہرے پر غیروں نے پھینکے ہیں وُہی پتّھر آج ان لوگوں کی طرف سے بھی پڑے جو خود کو مُسلم راہنما اور اسلام کے ٹھیکیدار بتاتے ہیں۔
امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ ان سب دُشمنانِ اسلام کی آوازوں کو سُنئے اور پھر مولانا مودودی کی مندرجہ بالا عبارت کا مطالعہ کیجئے کیا یہ بعینہٖ وہی الزام نہیں
جو اس سے پہلے بیسیوں دشمنانِ اسلام نے رسول معصُوم کی ذات پر لگایا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک اور اس سے بھی زیادہ آپؐکی قوتِ قُدسیہ پر حملہ کرنے والا۔ آپ دُشمنانِ اسلام کی عبارتیں پڑھ کر دیکھ لیجئے کہیں بھی آپ کو آنحضرت کی قوتِ قدسیہ کی مزعُومہ کمزوری اور معجزات کی ناطاقتی کا ایسا ہولناک نقشہ نظر نہیں آئے گا جیسا مولانا مَودودی نے کھینچا ہے۔ یعنی آپؐکی مسلسل تیرہ سال کی دعوتِ اسلام تو دِلوں کو فتح کرنے سے قاصر رہی مگر تلوار اور جُبروت نے دلوں کو فتح کرلیا۔ وعظ و تلقین کے مؤثر سے مؤثر انداز تو صحرائی ہواؤں کی نذر ہوگئے مگر نیزوں کی اَنی نے دلوں کی گہرائی تک اسلام پہنچا دیا۔ آپؐکے ’’ مضبُوط دلائل ‘‘ تو عقلِ انسانی میں جاگزیں نہ ہوسکے مگر گُرزوں کی مار خودوں کو توڑ کر اُن کی عقلوں کو قائل کر گئی۔ واضح بحثیں اُن کی قوتِ استدلال کو متاثر نہ کر سکیں مگر گھوڑوں کی ٹاپوں نے اُن کو اسلام کی صداقتوں کے تمام راز سمجھا دیئے۔ فصاحت و بلاغت بیکار گئی اور زورِ خطابت دلوں کو اس درجہ گرما نہ سکا کہ اسلام کا نُور ان کے دلوں میں چمک اُٹھتا حتّٰی کہ خود عرش کے خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والے محیّر العقول معجزے بھی خائب و خاسر رہے او رایک ادنیٰ سی پاک تبدیلی بھی پیدا نہ کرسکے … ’’ جب داعئ اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی ‘‘ … اِنّا لِلّٰہ وانّا الَیْہ راجعُون کس قدر مضحکہ خیز ہے یہ تصوّر اور کیسے تحقیر آمیز الفاظ ہیں کہ جن کو پڑھ کر رونا آتا ہے کہ ایک اسلامی راہنما کے قلم سے نکلے ہیں جو رسولؐ کی محبّت کا دعویدار ہے ‘‘
(مذہب کے نام پر خون صفحہ 30)
لیکن آج سے ٹھیک سو سال قبل ایک عاشقِ اسلام عاشقِ رسُول اور عاشقِ قرآن حضرت مِرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعُود و مہدی معہُود علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے مذہبی دُنیا میں شہزادۂ امن و سلامتی بن کر اسلام کی حسین تعلیم کو دُنیا کے سامنے پیش فرمایا۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان ظاہر بین سیاسی اور مفاد پرست علماء نے نہ صرف خدا کے اس فرستادے کی آواز کو ٹھکرادیا بلکہ اس کی مخالفت میں اس کو دُکھ پہنچانے میں اور ستانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔
اسلامی جہاد کی حقیقت
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلامی جہاد کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ بعض نا سمجھ جو اسلام پر جہاد کا الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب لوگ جبراً تلوار سے مسلمان کئے گئے تھے۔ افسوس ہزار افسوس کہ وہ اپنی بے انصافی اور حق پوشی میں  حد سے گزر گئے ہیں۔ ہائے افسوس ان کو کیا ہوگیا کہ وہ عمدًا صحیح واقعات سے مُنہ پھیر لیتے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے ملک میں ایک بادشاہ کی حیثیت سے ظہور فرما نہیں ہوئے تھے تا یہ گمان کیا جاتا کہ چونکہ وہ بادشاہی جبروت ا ورشوکت اپنے ساتھ رکھتے تھے اس لئے لوگ جان بچانے کے لئے ان کے جھنڈے کے نیچے آگئے تھے۔
پس سوال تو یہ ہے کہ جب کہ آپؐنے اپنی غریبی اور مسکینی اور تنہائی کی حالت میں خدا کی توحید اور اپنی نبوت کے بارے میں منادی شروع کی تھی تو اس وقت کس تلوار کے خوف سے لوگ آپؐپر ایمان لے آئے تھے اور اگر ایمان نہیں لائے تھے تو پھر جبر کرنے کے لئے کِس بادشاہ سے کوئی لشکر مانگا گیا تھا اور مدد طلب کی گئی تھی۔ اے حق کے طالبو! تُم یقیناً سمجھو کہ یہ سب باتیں ان لوگوں کی افتراء ہیں جو اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ تاریخ کو دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہوگیا اور ماں صرف چند ماہ کا بچّہ چھوڑ کر مرگئی تھی ۔ تب وہ بچّہ جس کے
ساتھ خُدا کا ہاتھ تھا بغیر کسی کے سہارے کے خدا کی پناہ میں پرورش پاتا رہا اور اس مصیبت اور یتیمی کے ایّام میں بعض لوگوں کی بکریاں بھی چَرائیں اور بجز خدا کے کوئی متکفّل نہ تھا اور پچیس برس تک پہنچ کر بھی کِسی چچا نے بھی آپؐکو اپنی لڑکی نہ دی کیونکہ جیسا کہ بظاہر نظر آتا تھا آپؐاس لائق نہ تھے کہ خانہ داری کے اخراجات کے متحمل ہوسکیں اور نیز محض اُمّی تھے اور کوئی حرفہ اور پیشہ نہیں جانتے تھے۔ پھر جب آپؐچالیس برس کے سِن تک پہنچے تو یک دفعہ آپؐکا دِل خدا کی طرف کھینچا گیا۔ ایک غار مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے جس کا نام حرؔاء ہے۔ آپؐاکیلے وہاں جاتے اور غار کے اندر چُھپ جاتے اور اپنے خدا کو یاد کرتے۔ ایک دن اُسی غار میں آپؐپوشیدہ طور پر عبادت کر رہے تھے تب خداتعالیٰ آپ پر ظاہر ہوا اور آپ کو حکم ہوا کہ دنیا نے خُدا کی راہ کو چھوڑ دیا ہے اور زمین گناہ سے آلُودہ ہوگئی ہے۔ اس لئے مَیں تجھے اپنا رسُول کرکے بھیجتا ہوں اب تُو اور لوگوں کو متنّبہ کر کہ وہ عذاب سے پہلے خُدا کی طرف رجوع کریں ۔ اس حکم کے سُننے سے آپؐڈرے کہ مَیں ایک اُمّی یعنی ناخواندہ آدمی ہوں اور عرض کی کہ مَیں پڑھنا نہیں جانتا۔ تب خُدا نے آپؐکے سینہ میں تمام رُوحانی علوم بھردیئے اور آپؐکےدل کو روشن کیا تھا۔ آپؐکی قوّتِ قدسیہ کی تاثیر سے غریب اور عاجز لوگ آپ کے حلقۂ اطاعت میں آنے شروع ہوگئے اور جو بڑے بڑے آدمی تھے انہوںنے دُشمنی پر کمر باندھ لی یہاں تک کہ آخر کار آپؐکو قتل کرنا چاہا اور کئی مرد اور کئی عورتیں بڑے عذاب کےساتھ قتل کردیئے گئے اور آخری حملہ یہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے آپؐکےگھر کا محاصرہ کر لیا مگر جس کو خدا بچاوے اس کو کون مارے۔ خدا نے آپؐکو اپنی وحی سے اطلاع دی کہ آپؐاس شہر سے نِکل جاؤ اور میں ہر قدم میں تمہارے ساتھ ہوں گا۔ پس آپ شہر مکّہ سے ابوبکرؓکو ساتھ لے کر نکل آئے اور تین رات تک غارِ ثور میں چھُپے رہے۔ دشمنوں نے تعاقب کیا اور ایک سُراغرسان کو لے کر غار تک پہنچے۔ اس شخص نے غار تک قدم کا نشان پہنچا دیا اور کہا کہ اس غار میں تلاش کرو اس کے آگے قدم نہیں اور اگر اس کے آگے گیا ہے تو پھر آسمان پر چڑھ گیا ہوگا۔ مگر خدا کی قُدرت کے عجائبات کی کون حد بست کرسکتا ہے۔ خدا نے ایک ہی رات میں یہ قدرت نُمائی کی کہ عنکبوت نے اپنی جالی سے غار کا تمام منہ بند کردیا اور ایک کبُوتری نے غار کے منہ پر گھونسلا بنا کر انڈے دے دیئے اور جب سُراغرساں نے لوگوں کو غار کے اندر جانے کی ترغیب دی تو ایک بُڈھا آدمی بولا کہ یہ سُراغرساں تو پاگل ہوگیا ہے۔ مَیں تو اس جالی کو غار کے منہ پر اس زمانہ سے دیکھ رہا ہوں جب کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ اس بات کو سُن کر سب لوگ منتشر ہوگئے اور غار کا خیال چھوڑ دیا۔
اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ طور پر مدینہ میں پہنچے اور مدینہ کے اکثر لوگوں نے آپ کو قبول کر لیا۔ اس پر مکہ والوں کا غضب بھڑکا اور افسوس کیا کہ ہمارا شکار ہمارے ہاتھ سے نکل گیا اور پھر کیا تھا دن رات انہیں منصوبوں میں لگے کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیں او رکُچھ تھوڑا گروہ مکّہ والوں کا کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا تھا وہ بھی مکہ سے ہجرت کرکے مختلف ممالک کی طرف چلے گئے۔ بعض نے حبشہ کے بادشاہ کی پناہ لے لی تھی اور بعض مکّہ میں ہی رہے کیونکہ وہ سفر کرنے کے لئے زاد راہ نہیں رکھتے تھے اور وہ بہت دُکھ دیئے گئے۔ قرآن شریف میں اُن کا ذکر ہے کہ کیونکر وہ دن رات فریاد کرتے تھے۔
اور جب کُفار قریش کا حد سے زیادہ ظلم بڑھ گیا اور انہوں نے غریب عورتوں اور یتیم بچوں کو قتل کرنا شروع کیا اور بعض عورتوں کو ایسی بے دردی سے مارا کہ ان کی دونوں ٹانگیں دو رسّوں سے باندھ کر دو اونٹوں کے ساتھ وہ رسّے خوب جکڑ دیئے اور پھر ان اونٹوں کو دو مختلف جہات میں دوڑایا اور اس طرح پر وہ عورتیں دو ٹکڑے ہوکر مرگئیں۔
جب بے رحم کافروں کا ظلم اس حد تک پہنچ گیا خدا نے جو آخر اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے اپنے رسُول پر اپنی وحی نازل کی کہ مظلوموں کی فریاد میرے تک پہنچ گئی آج میں اجازت دیتا ہوں کہ تُم بھی ان کا مقابلہ کرو اور یاد رکھو کہ جولوگ بے گناہ لوگوں پر تلوار اُٹھاتے ہیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے جائیں گے مگر تم کوئی زیادتی مت کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
یہ ہے حقیقت اسلام کے جہاد کی جس کو نہایت ظلم سے بُرے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے … مَیں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سُن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے ۔ خُدا تو قرآن شریف میں فرماتا ہے لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ یعنی دین اسلام میں جبر نہیں‘‘۔
(پیغامِ صُلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 464)
پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بادلائل ثابت فرمایا کہ مذہبِ اسلام کی پُر امن اور بے جبر تعلیم میں نہ تو کسی خونی مہدی کی آمد کی گنجائش ہے اور نہ ہی یہ مذہب کبھی بھی کسی قسم کے تشدّد، جبر اور تیر و تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ قارئین کرام ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ صرف یہ کہ اسلام کے رُوح پرور اور سر سبز باغ کے راستوں پر پڑے ہوئے ان کانٹوں کو صاف کیا ہے جو کہ اپنوں اور پرایوں نے نہایت بے دَردی سے اس گُلشن میں بچھائے تھے بلکہ آپؐنے قرآن مجید کی تعلیم کی روشنی میں قومی یکجہتی اور آپسی اتحاد و اتفاق کے لئے درج ذیل حسین گُر بھی بیان فرمائے ہیں۔
قومی یکجہتی و قیامِ امن کے لئے حسین گُر
(1) ۔ بانیانِ مذاہب اور کتبِ مقدّسہ کی عزّت کی جائے
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ امنِ عالم کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ تمام مذاہب کے بانیان اور اُن کی کتبِ مقدسہ کی عزّت و صداقت کو قائم کیا جائے۔ آپؑفرماتے ہیں:
’’ یہ اُصول نہایت پیارا اورامن بخش اور صلح کاری کی بُنیاد ڈالنے والا اور اخلاقی حالتوں کو مدد دینے والا ہے کہ ہم ان تمام نبیوں کو سچّا سمجھ لیں جو دنیا میں آئے خواہ ہند میں ظاہر ہوئے یا فارس میں یا چین میں یا کسی اور ملک میں اور خدا نے کروڑہا دلوںمیں ان کی عزّت اور عظمت بٹھا دی او راُن کے مذہب کی جڑ قائم کردی اور کئی صدیوں تک وہ مذہب چلا آیا۔ یہی اصول ہے جو قرآن نے ہمیں سکھلایا ۔ اسی اُصول کے لحاظ سے ہم ہر ایک مذہب کے پیشوا کو جن کی سوانح اس تعریف کے نیچے آگئی ہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں گو وہ ہندوؤں کے مذہب کے پیشوا ہوں یا فارسیوں کے مذہب کے یا چینیوں کے مذہب کے یا یہودیوں کے مذہب کے یا عیسائیوں کے مذہب کے‘‘
(تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 259)
ویدوں کے متعلق بانیٔ سلسلہ عالیہ احمدیہ کا عقیدہ
حضور علیہ السّلام فرماتے ہیں:
’’ ہم وید کو بھی خدا کی طرف سے مانتے ہیں اور اس کے رشیوں کو بزرگ اور مقدّس سمجھتے ہیں … خدا کی تعلیم کے موافق ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ وید انسان کا افتراء نہیں ہے۔ انسان کے افتراء میں یہ قوت نہیں ہوتی کہ کروڑہا لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لے ‘‘
(پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 453)
ز شری کرشن جی مہاراج کےمتعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ شری کرشن اپنے وقت کا نبی اور اوتار تھا اور خدا اس سے ہمکلام ہوتا تھا‘‘
(پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 445)
ز حضرت بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق بانیٔ سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں:
’’ اس بات میں کچھ شک نہیں ہوسکتا کہ باوا نانک ایک نیک اور برگزیدہ انسان تھا اور ان لوگوں میں سے تھا جن کو خدائے عزوجل اپنی محبت کا شربت پلاتا ہے … وہ ہندو مذہب اور اسلام میں صُلح کرانے آیا تھا مگر افسوس کہ اس کی تعلیم پر کسی نے توجّہ نہیں کی اگر اس کے وجود اور اس کی پاک تعلیموں سے کچھ فائدہ اُٹھایا جاتا تو آج ہندو اور مسلمان سب ایک ہوتے ‘‘
(پیغام صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 445 و 446)
حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے اظہارِ محبّت کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبّت کرنے کا دعویٰ ہے وُہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترک جائیداد کی طرح ہے اور مجھے سب سے زیادہ حق ہے کیونکہ میری طبیعت یسوع میں مستغرق ہے ‘‘
(تحفۂ قیصریہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 275)
حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے فرمایا کہ قیامِ امن کے لئے ضروری ہے کہ … مسلمان تمام انبیاء اور ان کی مقدّس کتب کا احترام کریں۔ اسی طرح غیر مذاہب والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی شان میں گُستاخی نہ کریں۔ یہ اصول ایسا امن بخش اصول ہے کہ جس کے نتیجہ میں آج دنیا میں حقیقی امن قائم ہوسکتا ہے لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج سوائے جماعت احمدیہ کے نہ تو دیگر مسلمان اس اصول پر قائم ہیں اور نہ ہی دیگر مذاہب کے ماننے والے اس سُنہری اُصول پر عمل پیرا ہیں۔ مسلمانوں کا تو یہ حال ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شری کرشن جی مہاراج اور رام چندر جی مہاراج کو خداتعالیٰ کے انبیاء میں سے ثابت فرمایا اسی طرح ویدوں کی تقدیس کو قائم فرمایا تو چاروں طرف سے کافر کافر کی آوازیں اُٹھنے لگیں۔ لیکن جماعتِ احمدیہ ڈنکے کی چوٹ اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ اُسے کسی کے کافر کافر کہنے کی قطعاً پرواہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور ان کی مقدس کتب کی عزت و ناموس کی خاطر جماعتِ احمدیہ کو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بھی بہا دینا پڑا تو جماعتِ احمدیہ اس قُربانی کے لئے تیار ہے۔ مگر جماعتِ احمدیہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے بھی یہی درخواست کرے گی کہ جو عزّت و پیار ہم آپ کے انبیاء اور رشیوں منیوں کو دیتے ہیں اور جس طرح ہم آپ کی مقدس کتب کا احترام کرتے ہیں ویسی ہی عزت و تکریم ہم آپ لوگوں سے بھی پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور قُرآن مجید کے لئے چاہتے ہیں۔
دَرد مندانہ نصیحت
حضرت بانیٔ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی درج ذیل درد مندانہ نصیحت ذرا غور سے پڑھئے:
’’ اے عزیزو ! قدیم تجربہ اور بار بار کی آزمائش نے اس امر کو ثابت کردیا ہے کہ مختلف قوموں کے نبیوں اور رسولوں کو توہین سے یاد کرنا اور ان کو گالیاں دینا ایک ایسی زہر ہے کہ نہ صرف انجام کار جسم کو ہلاک کرتی ہے بلکہ رُوح کو بھی ہلاک کرکے دین اور دنیا دونوں کو تباہ کرتی ہے۔ وہ ملک آرام سے زندگی بسر نہیں کرسکتا جس کے باشندے ایک دوسرے کے رہبرِدین کی عیب شُماری اور ازالہ حیثیت عُرنی میں مشغُول ہیں اور ان قوموں میں ہرگز سچّا اتفاق نہیں ہوسکتا جن میں سے ایک قوم یا دونوں ایک دوسرے کے نبی یا رشی اور اوتار کو بدی یا بدزبانی کے ساتھ یاد کرتے رہتے ہیں۔ اپنے نبی یا پیشوا کی ہتک سُن کر کس کو جوش نہیں آتا … وہ دلی صفائی جس کو درحقیقت صفائی کہنا چاہئے صرف اسی حالت میں پیدا ہوگی جبکہ آپ لوگ وید اور وید کے رشیوں کو سچے دل سے خدا کی طرف سے قبول کرلوگے اور ایسا ہی ہندو لوگ بھی اپنے بخل کو دُور کرکے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کی تصدیق کر لیں گے۔ یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ تُم میں اور ہندو صاحبوں میں سچی صُلح کرانے والا صرف یہی ایک اُصول اور یہی ایک ایسا پانی ہے جو کدورتوں کو دھو دے گا ‘‘
(پیغامِ صُلح صفحہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 452 اور 458)
(۲) عبادت خانوں کا عزّت و احترام
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے جہاں مذہبی راہنماؤں اور کتبِ مقدّسہ کی تعظیم و تکریم کو قائم فرمایا ہے وہاں قرآن مجید کی تعلیم کی روشنی میں ان کی مذہبی عبادت گاہوں کی تقدیس و حُرمت کا بھی خیال رکھا ہے۔ اس ضمن اسلامی تعلیم بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ:
’’ تمام عبادت خانوں کا میں ہی حامی ہوں اور اسلام کا فرض ہے کہ اگر مثلاً کسی عیسائی ملک پر قبضہ کرے تو ان کے عبادت خانوں سےکچھ تعرّض نہ کرے اور منع کردے کہ ان کے گرجے مسمار نہ کئے جائیں اور یہی ہدایت احادیثِ نبویہ سے مفہُوم ہوتی ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کہ کوئی اسلامی سپہ سالار کسی قوم کے مقابلہ کے لئے مامُور ہوتا تھا تو اس کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں اورفقراء کے خلوتخانوں سے تعرض نہ کرے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کس قدر تعصّب کے طریقوں سے دُور ہے کہ وہ عیسائیوں کے گرجاؤں اور یہودیوں کے معبدوں کا ایسا ہی حامی ہے جیسا کہ مساجد کا حامی ہے ‘‘
(چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 393)
(۳) کِسی قوم کی ملک سے وفاداری کو
مشکوک نہ سمجھا جائے!
شہزادہ امن حضرت مسیح موعُود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نصیحت فرمائی ہے کہ قیامِ امن کے لئے ضروری ہے کہ ایک ہی ملک میں رہنے والے کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اپنے ہی ملک کے دوسرے باشندوں کی ملک سے وفاداری کو مشکوک سمجھیں اس سے نہ صرف یہ کہ مُلکی امن برباد ہوتا ہے بلکہ اس طریقے سے ہم غیروں کو اپنے اُوپر مُسلّط ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ فرماتے ہیں:
’’ ہندو اور مسلمان اس ملک میں دو ایسی قومیں ہیں کہ یہ ایک خیال محال ہے کہ کسی وقت مثلاً ہندو جمع ہوکر مسلمانوں کو اس ملک سے باہر نکال دیں گے یا مسلمان اکٹھے ہوکر ہندوؤں کو جلا وطن کردیں گے … جو شخص تم دونوں قوموں میں سے دُوسری قوم کی تباہی کی فکر میں ہے اس کی اس شخص کی مثال ہے کہ جو ایک شاخ پر بیٹھ کر اُسی کو کاٹتا ہے ‘‘
(پیغامِ صلح روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 443)
(۴) ہر شہری میں حُبّ الوطنی کا جذبہ پیدا کیا جائے
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قیام امن کے لئے ضروری قرار دیا ہے کہ ہر شہری میں وطن سے محبّت کے جذبہ کو اُجاگر کیا جائے۔ اسی طرح حُکّامِ وقت کی اطاعت کے جذبہ کو پیدا کیا جائے۔ سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے حُبُّ الوطن من الایمان کہ وطن سے محبت ایمان کا جزء ہے۔ اسی طرح حکامِ وقت کی اطاعت بھی دینِ اسلام کا حصّہ ہے۔ حضرت بانیٔ سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ایک سچّا مسلمان جو اپنے دین سے واقعی خبر رکھتا ہو اس گورنمنٹ کی نسبت جس کی ظلِ عاطفت کےنیچے امن کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے ہمیشہ اخلاص اور اطاعت کا خیال رکھتا ہے اور مذہب کا اختلاف اس کو سچّی اطاعت اور فرمانبرداری سے نہیں روکتا ‘‘
(تحفۂ قیصریہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 281)
نیز فرمایا:
’’ اسلام ہمیں ہرگز یہ نہیں سکھلاتا کہ ہم ایک غیر قوم اور غیر مذہب والے بادشاہ کی رعایا ہو کر اور اس کے زیرِ سایہ ہر ایک دُشمن سے امن میں رہ کر پھر اسی کی نسبت بد اندیشی اور بغاوت کا خیال دِل میں لاویں بلکہ وہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر تُم اس بادشاہ کا شکر نہ کرو جس کے زیرِ سایہ تُم امن میں رہتے ہو تو پھر تُم نے خدا کا شکر بھی نہیں کیا ‘‘
(روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 282)
اسی بناء پر جماعت احمدیہ کی ذیلی تنظیموں کے عہدناموں میں نوجوانوں اور بچوں سے جہاں یہ عہد لیا جاتا ہے کہ وہ دینی خدمات کے لئے ہر دم تیار رہیں گے وہاں یہ عہد بھی لیا جاتا ہے کہ ہر نوجوان اپنے ملک کی خدمت کے لئے ہر وقت تیار رہے گا۔ جماعتِ احمدیہ کے پندرہ سال سے چالیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں سے جو عہد لیا جاتا ہے اس کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’ مَیں اقرار کرتا ہوں کہ دینی قومی اور ملّی یعنی ملکی مفاد کی خاطِر میں اپنی جان مال وقت اورعزّت کو قُربان کرنے کے لئے ہردم تیار رہوں گا ‘‘
گویا وطن کی عزت و آبرو کے لئے ہر قسم کی قربانی کی خاطر ہر وقت تیار رہنے کا حکم ہر احمدی نوجوان کو ہے۔ اسی طرح سات سال سے پندرہ سال تک کے احمدی اطفال سے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ:
مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ دینِ اسلام اور وطن کی خدمت کےلئے ہر دم تیار رہوں گا۔
ان عہد ناموں سے صاف طور پر عیاں ہوتا ہے کہ کوئی احمدی اپنے دین پر اس وقت تک پابند قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک کہ وہ پوری طرح اپنے وطن سے محبّت کرنے والا نہ ہو اور اپنے وطن کی عزّت و ناموس کی خاطر ہر طرح کی قُربانی دینے کےلئے تیار نہ ہو۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا احسان ہے کہ آپ نے اسلامی تعلیم کی روشنی میں وطن کی محبّت اور حکامِ وطن کی اطاعت کے جذبہ کو اس رنگ میں اپنی جماعت میں قائم فرمایا ہے کہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے احمدی دنیا کے جس ملک میں بھی موجود ہیں اپنے اپنے ملک کی محبّت میں باقی تمام لوگوں سے آگے ہیں۔ دنیا گواہ ہے کہ آج تک احمدیوں کی طرف سے کِسی قسم کی تخریب کاری توڑ پھوڑ اور ملکی املاک کو نقصان پہنچانے کا ایک بھی واقعہ منظرِ عام پر نہیں آیا۔
(۵) مذہبی سٹیج کو اشتعال انگیزی کا ذریعہ نہ بنایا جائے
ہمارے آج کے مذہبی سٹیجوں کو اگر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوگا کہ وہاں سے کی جانے والی اکثر تقریریں اشتعال پھیلانے والی اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے والی ہوتی ہیں۔ بجائے اپنے مذہب کی بات کرنے کے بہت حدتک دوسروں پر کیچڑ اُچھالے جانے کو ہی اپنی خوبی خیال کیا جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کو اچھی طرح محسوس فرمایا اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے فتنہ و فساد کو بھی آپ کی مستقبل کی دُور نظر آنکھ نے خوب غور سے دیکھا۔ چنانچہ آپ نے دنیا کےتمام مذہبی لیڈروں سے اس سلسلہ میں نہایت دردمندانہ اپیل کی کہ اگر تمام مذاہب والے اپنے اپنے مذہبی سٹیج کے رُخ کو بدل لیں اور بجائے اس کے کہ دوسرے کے مذہب پر حملہ کریں اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں اپنی اپنی مقدس کتب کی روشنی میں بیان کریں تو اس طرح جس سٹیج پر بھی کوئی سامع جائے گا وہ اس مذہب کی خوبیاں سُنے گا۔ اس طرح جہاں پیار و محبّت کی فضا قائم ہوگی امن و اتحاد کے پُھول کھلیں گے وہاں ایک دُوسرے کے جذبات بھی مجروُح نہیں ہوں گے اور جذبات کے مجروح ہونے کے نتیجہ میں جو فتنہ و فساد ہوگا اور ظلم و ستم کی مسمُوم ہوا چلے گی ایسی ہوا کہ جس کے چلنے کے نتیجہ میں معصُوم لوگوں کا خون ہوتا ہے اور خدا کی اس زمین پر ان کا چلنا دو بھر ہوجاتا ہے ان سب ظلموں سے معصوُم انسان محفوظ ہوجائیں گے۔ ہر طرف پیار و محبّت کی خُوشبودار ہوا چلے گی۔
بانیٔ احمدیت حضرت مرزا غُلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس سنہری تعلیم کی روشنی میں جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جماعت میں جلسہ ہائے پیشوایانِ مذاہب کی بُنیاد ڈالی۔ چنانچہ 1939ء سے جماعت باقاعدگی سے پیشوایانِ مذاہب کے جلسے منعقد کررہی ہے۔ ان اجلاسات میںجہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیّبہ کا تذکرہ ہوتا ہے وہاں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام، حضرت کرشن علیہ السّلام، حضرت رام چندر جی مہاراج، حضرت بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے بانیانِ مذاہب کی تعریف میں پُر اخلاص تقریریں کی جاتی ہیں۔ ان کی سیرت سوانح اور عمدہ اخلاق کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ یقیناً یہ ایک مبارک قدم ہے جس کے لئے اگر خلوصِ قلب اور مستقل مزاجی کے ساتھ دیگر اہلِ مذاہب بھی جماعتِ احمدیہ کو تعاون دیں تو اس سے ملک کی زہریلی فضا کو صاف کرنے میں بہت بھاری مدد ملے گی۔
(۶) پُرانے واقعات کو نہ اُکھیڑا جائے
ہمارے آج کے ملکی اور بین الاقوامی ماحول کو خراب کرنے والی منجملہ اور بہت سی محرکات کے ایک محرک پُرانے مذہبی واقعات اور ظلموں کی داستانوں کو خواہ وہ فرضی ہوں یا حقیقی دہرا کر اور کتابوں و اخبارات میں شائع کر کے قوموں میں باہم منافرت پیدا کرنا ہے۔ اس طرح پُرانے زخم ہرے ہوکر باہم کشیدگی اور نااتفاقی کی زہریلی ہوا چلتی ہے حالانکہ زمانہ ماضی کے وہ ظالم بھی گزر گئے اور وہ مظلوم بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔ زمانہ بدل گیا اور حالات بھی بدل گئے۔ موجودہ نسل اور افراد کا ان مظالم و واقعات سے کوئی بھی تعلق اور سروکار نہیں ہوتا۔ اس کے متعلق قرآن مجید کی بے نظیر تعلیم اس طرح ہے:
تِلْکَ اُمَّۃٌقَدْ خَلَتْ لَھَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَا کَسَبْتُمْ وَلَا تُسْئَلُونَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ
پہلےلوگ خواہ وہ چھوٹے تھے یا بڑے، اچھے تھے یابُرے وہ گزر گئے۔ ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ وہ اپنے اعمال کی جزا سزا پائیں گے اور تم اپنے اعمال کی۔ تمہیں گزشتہ لوگوں کے اعمال کے بارہ میں پوچھا نہیں جائے گا۔
قرآن مجید کی اس تعلیم کی روشنی میں بانیٔ سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اہلِ دنیا کو باہمی اتحاد و اتفاق اور امن و سلامتی کی جو تعلیم دی وہ اس طرح ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ہم اس بات کو بھی افسوس سے لکھنا چاہتے ہیں کہ جو اسلامی بادشاہوں کے وقت میں سِکھ صاحبوں سے اسلامی حکومتوں نے کچھ نزاعیں کیں یا لڑائیاں ہوئیں تو یہ تمام باتیں درحقیقت دنیوی اُمور تھے اور نفسانیت کے تقاضے سے ان کی ترقی ہوئی تھی اور دنیا پرستی نے ایسی نزاعوں کو باہم بہت بڑھا دیا تھا۔ مگر دنیا پرستوں پر افسوس کا مقام نہیں ہوتا بلکہ تاریخ بہت سی شہادتیں پیش کرتی ہے کہ ہریک مذہب کے لوگوں میں یہ نمونے موجود ہیں کہ راج اور بادشاہت کی حالت میں بھائی کو بھائی نے اور بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کردیا۔ ایسے لوگوں کو مذہب اور دیانت اور آخرت کی پرواہ نہیں ہوتی … ہریک فریق کے نیک دل اور شریف آدمی کو چاہئے کہ خود غرض بادشاہوں اور راجوں کے قصّوں کو درمیان میں لاکر خواہ نخواہ اُن کے بےجا کینوں سے جو محض نفسانی اغراض پرمشتمل تھے آپ حصّہ نہ لیں۔ وہ ایک قوم تھی جو گزر گئی۔ ان کے اعمال ان کے لئے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی کھیتی میں ان کے کانٹوں کو نہ بوئیں اور اپنے دلوں کو محض اس وجہ سے خراب نہ کریں کہ ہم سے پہلے بعض ہماری قوم میں سے ایسا کر چکے ہیں‘‘
(سَت بچن روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 241)
اس سُنہری اصول کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آئندہ قیامت تک کے لئے ظلم کے اس تسلسل اور فتنہ و فساد کی ان کڑیوں کا خاتمہ فرمادیا ہے جو ایک نسل کےبعد دُوسری نسل کی طرف منتقل ہوتی ہیں اور معصُوم انسانوں کو ان کے ناکردہ گناہوں کی پاداش میں ختم کرتی ہیں اور پھر انسانی خون نہایت ارزاں ہوکر شہروں کی گلیوں میں اور بازاروں میں بہتا ہے اورانسان شیطان کا روپ دھارن کر کے بربریت کا ننگا ناچ ناچتا ہے۔
اس زرّیں اصول کے تحت یہ ضروری ہے کہ گزشتہ بادشاہوں یاقوموں کی کسی سختی یازیادتی کو سامنے لاکر موجودہ فضا کو خراب نہ کیا جائے۔ ان لوگوں نے جو کچھ کیا اس کے نتائج انہوں نے خود بخود بھگت لئے۔ ان باتوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنے اعمال و اخلاق کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر ہم اپنے اندر امن و صلح اور اتفاق و اتحاد اور رواداری کو پیدا کریں گے تو اس کے شیریں پھل بھی ہم خود ہی کھائیں گے۔
آج پھر ضرورت ہے کہ ہم معصوم انسانی جانوں کےخلاف لڑنے کی بجائے ظلم، نفرت، عدمِ مساوات، جہالت، بے کاری، تعصّب اور تنگ نظری کے خلاف جہاد کریں۔ یہی وہ حقیقی جہاد ہے جس کی مذہبِ اسلام تلقین کرتا ہے۔