اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-12-25

ہندوستان میں امن و اتحاد کے قیام کےلئے حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کی گرانقدر تجاویز

ہندوستان میں امن و اتحاد اور قومی یکجہتی کے قیام کے لئے سیّدنا حضرت اقدس مرزا بشیرالدین محمود صاحب المصلح الموعود خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک لیکچر فرمودہ 14 ؍ نومبر 1923 بمقام بریڈلا ہال لاہور میں جو گرانقدر اور بیش قیمتی تجاویز ارشاد فرمائی تھیں ان کا خلاصہ قارئین بدر کے استفادہ کیلئے پیش کیا جارہا ہے۔ یہ مضمون آج بھی ہندوستان کی اہم ضرورت ہے۔ بلکہ یوں لگتا ہے کہ قریباً ایک صدی قبل یہ لیکچر موجودہ دنوں کو مد نظر رکھ کر ہی ارشاد فرمایا گیا تھا۔ (ادارہ)

سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:
گوہمارے ملک کی اس وقت جو حالت ہے اور جس قسم کے فتنے اور فساد اس میں پیدا ہو رہے ہیں وہ ہر ایسے شخص کو جس کے دل میں اپنے ملک اور اپنے وطن سے ذرّہ بھی الفت اور محبت ہو سکتی ہے متفکّر کرنے کے لئے کافی ہیں لیکن میں ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتا ہوں جس نے اپنی ابتداء اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ سے شروع کرکے امید کا ولولہ پیدا کر دیا ہے۔اور میں اس کتاب سے مذہبی تعلق رکھتا ہوں جس نے مسلمانوں کو یہ کہہ کر وَاٰخِرُدَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ( سورۃ یونس : 11) وہ انجام پر بھی خدا تعالیٰ کی حمد ہی کرنے والے ہونگے میرے دل میں امید کی کبھی نہ ختم ہونے والی لہر پیدا کر دی ہے اس لئے گو موجودہ حالات نہایت ہی تاریک ہیں مگر میں امید سے بھرا ہو ا دل رکھتا ہو ا یقین رکھتا ہوں کہ اگر آج نہیں تو کل ملک میں امن ہو جائے گا اور اگر اس وقت نہیں تو پھر دوسرے وقت میں لوگ فتنہ وفساد نا اتفاقی اور بے اتحادی کی راہ چھوڑ کر صلح اور آشتی کی طرف آجائیں گے۔
پیش آمدہ مشکلات کا حل
میرا آج کا لیکچر … اس امر پر ہے کہ ہمارے ملک میں موجودہ مشکلات جو اتحاد و اتفاق کے متعلق پیدا ہوگئی ہیں اور وہ روکیں جو صلح و آشتی میں رونما ہیں وہ کس طرح دور ہو سکتی ہیں اور ان کا حل کیا ہے اور ہندوستان کی مختلف قوموں میں کسی طرح صلح اور اتحاد ہو سکتا ہے۔اور اس کے متعلق مسلمانوں کا کیا فرض ہے۔
مضمون کا تعلق تمام قوموں سے
میں سمجھتا ہوں یہ ایسا مضمون ہے جو اُن تمام جماعتوں سے تعلق رکھتا ہے جو ہندوستان میں رہتی ہیں یعنی اُن کا تعلق ہندوؤں ‘ سکھوں‘ مسلمانوں وغیر سب سے ہے اور پھر یہی نہیں میں اِن جماعتوں میں گورنمنٹ کو بھی شامل کرتا ہوں کیونکہ وہ بھی ایک جماعت ہے جس کا ہمارے ملک کے نفع ونقصان سے تعلق ہے۔ ہمارے نقصان کے ساتھ اس کا نقصان وابستہ ہے اور ہمارے نفع کے ساتھ اس کا نفع وابستہ ہے۔
مذہبی نقطہ خیال
چونکہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں  جو سیاسی معاملات میں اپنا سارا وقت صرف کرتے ہیں بلکہ میرا وقت مذہبی معاملات میں صرف ہوتا ہے اس لئے میں اس بارے میں وہی نقطہ پیش کروں گا جو مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔
فتنے سے بچو کہ وہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے
سب سے پہلے سامعین کی توجہ اس طرف پھیرنا چاہتا ہوں کہ سب سے زیادہ فتنہ کا باعث افراد کے وہ معاملات ہوتے ہیں جنہیں قومی سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ افراد کے معاملات ایسےنہیں ہوتے جیسے قومی معاملات ہوتے ہیں۔افراد کے معاملات کو قومی بنا لینے کی وجہ سے فتنہ پردازلوگوں کو موقع ملتا ہے کہ قوموں میں فتنہ اور فساد پیدا کردیں اور اتحاد و اتفاق نہ ہونے دیں یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کہتا ہے اَلْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۔ قتل بہت برا فعل سمجھا جاتا ہے اور قاتل کو لوگ نہایت بری نظر سے دیکھتے ہیں مگر ہماری کتاب بتاتی ہے کہ بے شک قاتل بہت برا ہوتا ہے اور قتل بہت برا فعل ہے مگر فتنہ بہت ہی برا فعل ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والا بہت ہی برا ہوتا ہے کیوں؟اس لئے کہ اس سے لاکھوں اور اربوں جانیں چلی جاتی ہیں لیکن قتل سے ایک یا چند
جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ایک فتنہ پرداز شخص ایسی بات کر دیتا ہے کہ جس سے قومیں لڑپڑتی ہیں اور جماعتوں میں تفرقہ اور شقاق پیدا ہو جاتا ہے۔فتنہ باز لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے تو معمولی بات کہی تھی مگر ان کا معمولی بات کہنا ایک زہر ہے جس کا دور دور تک اثر پھیلتا ہے اور پھر اس سے خطرناک قتل شروع ہو جاتا ہے جس سے لاکھوں اور کروڑوں انسان موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔تو فتنہ شروع میں چھوٹا نظر آتا ہے مگر اس کا انجام بہت بڑا ہوتا ہے اسی لئے اسلام نے قتل سے بھی منع کیا ہے مگر فتنہ سے اس سےبھی زور کے ساتھ منع کیا ہے۔افسوس کی بات ہے کہ عام طور پر لوگ قتل سے تو بچنے کی کوشش کرتے ہیں مگر فتنہ سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اگر ان کے سامنے کسی قتل کا ذکر کریں تو وہ کہیں گے کہ افسوس کہ لوگ اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ اپنے بھائیوں کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتے مگر خود فتنہ کے لئے تیار ہو جائیں گے اور نہ صرف تیار ہوں گے بلکہ فتنہ کھڑا کر دیں گے اس لئے ضرورت ہے کہ لوگوں کو فتنہ کی مضرّت اور نقصان سے آگاہ کیا جائے کیونکہ جب لوگ یہ نہ سمجھیں کہ فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر بُرا فعل ہے اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا۔
ملک کی موجودہ حالت
آج ہمارےملک کی ایسی حالت اور ایسا رنگ نظر آرہا ہے کہ کوئی دو جماعتیں آپس میں محبت کرتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔آج سے پہلے محبت کی ایک لہر تھی جو ملک میں پھیلی ہوئی تھی۔مسلمان ہندوؤں کو بھائی سمجھتے تھے اور ہندو مسلمانوں کو بھائی کہتے تھے سکھ دونوں کو بھائی قرار دیتے تھے مگر آج یہ حالت ہے کہ ہر قوم دوسرے کے خلاف کھڑی ہے اور ایک قوم دوسری کی دشمن بنی ہوئی ہے جس سے ملک کی ترقی بہت پیچھے جا پڑی ہے۔
ہم فتنہ پرداز نہیں
کچھ لوگ ہمارے متعلق خیال کرتے ہیں کہ ہم فتنہ کا موجب ہیں اور ہم اتحاد و اتفاق میں رخنہ اندازی کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم سے زیادہ فتنہ کا کوئی دشمن نہیں ہے اور ہمارے دل سے فتنہ سے زیادہ کوئی چیز دورنہیں ہے ہم جس چیز کو برا سمجھتے ہیں وہ وہ ہے جس کے نتیجہ میں فتنہ پیدا ہوتا ہے ورنہ جس امر کے متعلق ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے ملک اور اپنے وطن کے لئے مفید ہے اس کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کرنے اور ہر طرح کی تکالیف اٹھانے کے لئے لبیک کہنے کو ہم تیار ہیں۔
ہماری باہمی مخالفت سے
غیر فائدہ اٹھا رہے ہیں
یہ فتنہ جو اس ملک میں پھیلا ہوا ہے اس کا کیا نتیجہ ہوا ہے یہ کہ دشمن ہم پر ہنس رہے ہیں اور وہ جو ہمیں قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے تھے وہ نفرت اور حقارت سےدیکھ رہے ہیں۔اگر قومی جذبہ کوئی چیز نہ بھی ہو تو اس حقارت اور نفرت کو ہی دیکھ کر ہر ایک شخص کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہونا چاہئے کہ فتنہ مٹ جائے مگر افسوس ہے کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ فتنہ کیوں پیدا ہوا ہے وہ کیا اسباب ہیں جو اس کے پیدا ہونے میں کام کررہے ہیں اور کس طرح یہ مٹ سکتا ہے ان باتوں کی طرف توجہ نہ کرنے کا یہ نتیجہ ہو رہا ہے کہ جو ذرائع اختیار کئے جارہے ہیں وہ چونکہ ایسے نہیں ہیں جو فتنہ کو مٹانے کا موجب ہوں اس لئے فتنہ بڑھتا جا رہا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ اس فتنہ کے اوقات میں بہت سی قومیں ہیں جو نا جائز فائدہ اٹھارہی ہیں۔
عدمِ اتحاد کا ذمہ دار مذہب نہیں
غرض اس وقت ملک کا امن بالکل برباد ہو چکا ہے۔بھائی بھائی سے لڑ رہا ہے اور وہ لوگ جن کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ملک اور قوم کی ترقی کے لئے کوشش کرنی چاہئے تھی آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے ہیں۔اس کی وجہ مذہبی اختلافات نہیں ہو سکتے کیونکہ مذہبی اختلافات کا تو یہ مطلب ہے کہ ایک مذہب والے خدا تک پہنچنے کا اور طریق سمجھتے ہیں اور دوسرے مذہب والے اور۔اگر خدا ہے اور یقیناً ہے تو ممکن نہیں کہ خدا ایسا کرنے سے خوش ہے کہ ایک مذہب والے دوسرے مذہب والوں کو مارتے اور ان کے گلے کاٹتے پھریں۔اگر خدا ہے اور میں یقین ہی سے نہیں بلکہ اپنے مشاہدہ سے کہتا ہوں کہ ہے تو اس کا یہ منشاء ہے کہ تمام انسان ایک دوسرے سے بھائی بھائی جیسا سلوک کریں اور بھائی بھائی جیسا تعلق رکھیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء اس سے زیادہ گہرا تعلق رکھنے کا نہیں بلکہ یہ تو میں نے بطور مثال کہا ہے۔ورنہ خدا تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ اس سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے سے محبت کریں۔
اسلام کی تعلیم آپس کے سلوک کے متعلق
قرآن کریم نے صاف طور پر بتادیا ہے کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے آپ کے تعلقات اور سلوک میں کوئی فرق نہیں آنا چاہئے۔چنانچہ آتا ہے۔ وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْنًا وَاِنْ جَاھَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْھُمَا اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (سورۃ العنکبوت : 9 ) خدا تعالیٰ فرماتا ہے اے مسلمان!اگر تیرے ماں باپ مشرک ہوں تو تجھے یہ نہیں چاہئے کہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ دے ان سے کوئی سلوک نہ کرے۔ان سے ہر طرح کا اچھا سلوک کر اور ان کے احکام کی اطاعت کر۔ ہاں شرک کے معاملہ میں ان کی بات نہ ماننا کیونکہ تیری عقل نے اس بارے میں اَور فیصلہ کیا ہے اور ان کی عقل نے اور۔ مگر دنیاوی معاملات میں تیرا فرض ہے کہ تو ان سے نیک سلوک کرے۔
تو شرک جس کو اسلام نے بدترین گناہ قرار دیا ہے اس کے ہوتے ہوئے بھی کہا ہے کہ اگر تیرے ماں باپ مشرک ہوں تو بھی ان سے تعلق منقطع نہ کر بلکہ ان سے حسن سلوک کر اور اچھے تعلقات رکھ۔
یہ تو قرآن کریم کا حکم ہے۔ اب ہم رسول کریمﷺ کے متعلق دیکھتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت ابوبکر ؓکی لڑکی کے پاس جو رسول کریمﷺ کی بیوی کی بہن تھیں ان کی والدہ آئی تو انہوں نے رسول کریمﷺ سے پوچھا کہ میری ماں آئی ہے اور چاہتی ہے کہ میں اس سے کچھ سلوک کروں مگر وہ کافر ہے کیا میں اس سے سلوک کر سکتی ہوں؟ آپؐنے فرمایا:-
’’ہاں کر یہ دنیاوی معاملہ ہے اس میں کو ئی حرج نہیں ہے ‘‘۔
پھر حضرت عمر؄جیسےانسان جن کے متعلق مسلمان بھی سمجھتے ہیں کہ خشونت والے تھے اور اپنی پہلی حالت میں تلوار لے کر رسول کریمﷺ کو قتل کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تھے ان کے متعلق آتا ہے کہ رسول کریم ؐنے ان کو ایک جُبّہ دیا جو ریشمی تھا۔انہوں نے عرض کی یارسول اللہ میں نے ایک دفعہ آپؐکو ریشمی جبہ دیا تھا مگر آپ نے اس کو پسند نہ فرمایا تھا اب مجھے آپ نے ریشمی جبہ دیا ہے کہ میں اس کو پہن لوں۔آپ نے فرمایا میں نے پہننے کے لئے نہیں دیا کسی کو تحفہ دیدو یا بیچ ڈالو۔ اس پر انہوں نے اپنے اس بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا اور کافر تھا دے دیا۔
مذہب
دنیاوی معاملات میں مانع اتحاد نہیں
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سےتعلقات اور سلوک منقطع نہیں ہو جاتا بلکہ اس لڑائی کے زمانہ میں کافر رشتہ داروں سے سلوک کئے جاتے تھے۔ پس مسلمانوں کی طرف سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چونکہ ہمیں ان سے مذہبی اختلاف ہے اس لئے ہم اُن سے دنیاوی معاملات کے متعلق اتفاق نہیں رکھ سکتے اور اس بارے میں ہماری ان سے صلح نہیں ہو سکتی کیونکہ کوئی مذہب بھی یہ نہیں کہے گا کہ دنیاوی معاملات میں دوسرے مذاہب کے لوگوں سے اتحاد نہ کرو بلکہ ان سے لڑتے جھگڑتے رہو۔یہ بات فطرت صحیحہ کے خلاف ہے۔ جو مذہب یہ تعلیم دیگا اس کو لوگ چھوڑ دیں گے مگر اس کی یہ بات نہ مانیں گے۔
ہندو مسلمانوں میں
کیوں اتحاد قائم نہیں رہا
پس جبکہ مذہبی اختلاف دنیاوی معاملات میں اتحاد کے خلاف نہیں اور نہ روک ہے تو سوال ہوتا ہے کہ پھر کیوں ہندوؤں مسلمانوں میں فساد ہے۔ ایک طرف تو دنیاوی ضروریات ان کو مجبور کرتی ہیں کہ آپس میں اتفاق واتحاد رکھیں اور مل کر رہیں اور دوسری طرف ہر ایک مذہب یہ کہتا ہے کہ ایک دوسرے کے بھائی بن کر رہو تو کیوں ان میں فساد ہوتےہیں اور کیوں ان کا اتحاد قائم نہیں رہتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو مسلمانوں میں جو اتحاد اور صلح ہوئی تھی وہ ایسی بنیاد پر نہ تھی جو ہمیشہ قائم رہتی بلکہ وقتی ضرورتوں اور جوشوں سےفائدہ اٹھا کرصلح کی گئی تھی اور جو کام اس طرح کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ ہمیشہ خراب نکلتا ہے ایسا ہی اس صلح کے متعلق ہوا۔جب لوگوں میں جوش نہ رہا تو صلح بھی نہ رہی۔اگر ایسا نہ کیا جاتا اور صلح کسی مضبوط بنیاد پر کی جاتی تو یہ صلح کم ازکم اتنے وقت تک تو چلتی جتنے وقت دنیا میں صلح چلا کرتی ہے۔بھائی بھائی میں صلح ہوتی ہے ٹوٹ بھی جاتی ہے۔قومیں آپس میں صلح کرتی ہیں اور پھر لڑائی بھی کرتی ہیں مگر ان کی صلح اتنی جلدی نہیں ٹوٹتی۔جتنی جلدی ہندو مسلمانوں کی صلح ٹوٹی۔دیکھو مرنے کو تو ہر ایک انسان مر جاتا ہے لیکن جب کوئی جوانی کی عمر میں مرتا ہے تو اس کے متعلق بہت زیادہ افسوس کیا جاتا ہے اسی طرح اگر ہندو مسلمانوں کی صلح اپنا وقت گزار کر ٹوٹتی تو اتنا افسوس نہ ہوتا لیکن چونکہ یہ قبل از وقت ٹوٹ گئی اس لئے زیادہ افسوس کے قابل ہے۔
صلح کی حقیقی تجویزیں
اب میں وہ تجویزیں پیش کرتا ہوں جو اسلام سے مستنبط ہوتی ہیں اور جن سے صلح ہو سکتی ہے۔
مسلمان اپنے آپ کو مضبوط کریں
پہلی چیزجس سے صلح ہو سکتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو مضبوط کریں۔ میں پنڈت مدن موہن مالویہ صاحب کی اس رائے سے بالکل متفق ہوں کہ جب تک کوئی قوم خود محفوظ نہیں ہوتی دوسری قوم سے صلح قائم نہیں رکھ سکتی۔
مسلمان تمدنی طور پر آزاد ہوں
دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو تمدنی طور پر آزاد ہونا چاہئے۔
پہلے مسلمان آپس میں اتحاد کریں
تیسری بات یہ ہے کہ مسلمان سیاسی اور مذہبی اختلافات کو نظر انداز کرکے آپس میں اتحاد واتفاق پیدا کریں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھ لیں کہ دنیا کے سارے مسلمان ایک ہیں اور سب کااتحاد ہونا چاہئے مگر افسوس کے مسلمانوں میں رواداری کا مادہ ابھی تک پید انہیں ہوا۔ذرا ذرا سے اختلافات پر اپنی مجالس سے مخالف خیال والوں کو نکال دیتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے سے الگ کرنے سے کسی قوم کو طاقت نہیںہوا کرتی بلکہ اپنے اندر جذب کرنے سے طاقت حاصل ہوتی ہے۔ پس مسلمانوں کو چاہئے کہ مذہبی اختلاف کی وجہ سے کسی فرقہ کو جدا نہ کریں اسی طرح سیاسی اختلافات کی وجہ سے بھی علیحدہ کرنے کی پالیسی کو چھوڑ دیں۔ مسلمان بھی اسی طرح ترقی کر سکتے ہیں کہ اپنی انجمن میں ہر قسم کے خیالات کے مسلمانوں کو شامل کریں اور سب لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونا چاہئے۔
مسلمانوں میں مذہبی روح پیدا ہو
چوتھی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں مذہبی روح اور جذبہ پیدا کیا جائے۔میں دیکھ رہا ہوں کہ مسلمان مذہب سے بہت دور جا رہے ہیں جبکہ سیاسی طور پر مذہب سے محبت کا اظہار کررہے ہیں۔چاہئے کہ مسلمان خود بھی مذہبی جذبات پیدا کریں اور اپنے بچوں میں بھی مذہبی روح پیدا کریں۔
تبلیغ اسلام پر زور دیا جائے
پانچویں بات یہ ہے کہ تبلیغ اسلام پر زور دیا جائے۔نیچر میں یہ قانون ہے کہ جو چیز بڑھنے کی طاقت رکھتی ہے اسے اگر روک دیا جائے تو وہ گرنے لگ جاتی ہے اور دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیںبتائی جا سکتی جس نے بڑھنا بند کر دیا ہو اور وہ کم نہ ہونے لگ گئی ہو۔ہر ایک چیز جو بڑھنے سے رک جائیگی ضرور کم ہوگی یہی وجہ ہے کہ جب سے مسلمانوں نے بڑھنا چھوڑ دیا ہے اسی وقت سے کم ہورہے ہیں۔پس میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتے ہیں تو دین کی اشاعت کریں۔ وہ اس پر ناراض نہ ہوں کہ ہندو اپنے مذہب کی اشاعت کرتے ہیں بلکہ خود تبلیغ دین کریں اور دوسرے لوگوں کو اسلام میں داخل کریں قرآن کریم نے تبلیغِ دین ہر ایک مسلمان کا فرض قرار دیا ہے چنانچہ آتا ہے۔کُنْتُمْ خَیْرَاُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ( سورۃ آل عمران : 111) مسلمانوں کی بڑائی اور فضیلت کی وجہ یہی ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگوں کو اسلام کی طرف لائیں۔
غرباء کی خبر گیری کی جائے
چھٹی بات یہ ہے کہ غرباء کی خبر گیری کی جائے۔یہ تمدنی طور پر نہایت ضروری امر ہے کیونکہ جب تک تمام قوم کے افراد میں محبت اور تعلق نہ ہو اس وقت تک کوئی قوم بڑھ نہیں سکتی مگر میں افسوس کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ مسلمانوں میں ایسے امراء ہیں جن کو اپنی جان کی تو فکر ہے مگر غرباء کی کوئی پرواہ نہیں۔ایسی انجمیں اور سوسائٹیاں ہونی چاہئیں جو غرباء کو کام سکھائیں اور پھر ان کے لئے کام نکالیں۔
اپاہجوں کی امداد ہو
ساتویں بات یہ ہے کہ قوم میں جو ایسے لوگ ہیں جو کوئی کام نہیں کر سکتے مثلاً اپاہج‘لولے‘لنگڑے وغیرہ ان کے لئے خاص انتظام کیا جائے۔اسی طرح یتیم بچوں کی پڑھائی اور تربیت کا انتظام کیا جائے۔ رسول کریمﷺ اور اسلام کو ایسےلوگوں کا اس قدر خیال تھا کہ زکوٰۃ کا حکم اسی قسم کے اخراجات کے لئے دیا گیا۔چنانچہ معاذکو جب رسول کریمﷺ نے ایک صوبہ کا حاکم بنا کر بھیجا تو یہ حکم دیا کہ اِنَّ اللہَ اِفْتَرَضَ عَلَیْھِمْ صَدَقَۃً فِیْ اَمْوَالِھِمْ تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِھِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَ ائِھِمْ خدا تعالیٰ نے ہر مالدار پر صدقہ فرض کیا ہے تا امیروں سے لیا جائے اور غریبوں کو دیا جائے پس اسلام نے غرباء کی خبر گیری کو جزوا عظم قرار دیا ہے۔
یہ خود حفاظتی کے متعلق تجاویز ہیں اب میںیہ بتاتا ہوں کہ ہندو مسلمانوں میں صلح کیونکر ہوسکتی ہے۔
صلح کرنے کی خواہش ہے تو
سب فرقوں سے ہونی چاہئے
اول یہ کہ صلح تب تک نہیں ہو سکتی جب تک سب سے نہ ہو۔اگر صلح سے مراد کوئی منصوبہ ہے تو اور بات ہے ورنہ اگر حقیقت میں صلح کرنے کی خواہش ہے تو سب فرقوں سے صلح ہونی چاہئے۔
جب تک مذہبی صلح نہیں ہوتی
ملکی صلح بھی نہیں ہو سکتی
دوسری بات صلح کے لئے یہ ہے کہ جب تک مذہبی صلح نہ ہوگی ملکی صلح نہ ہوسکے گی۔جو لوگ مذہب کو ماننے والے ہیں وہ کبھی ایسی صلح میں شامل نہ ہوسکیں گے جس سے مذہب خطرہ میںپڑتا ہو۔مذہبی صلح سے میری مراد یہ نہیں ہے کہ سارے مسلمان ہندو ہو جائیں یا سارے ہندو مسلمان ہو جائیں بلکہ اس کا طریق یہ ہے کہ سب مذاہب والے ایک دوسرے کے مذاہب کے بزرگوں کا احترام کریں۔
ہر مذہب کے بانی اور پیشوا کی عزت کرو
اگر کہوکہ یہ صلح کیونکر ہو سکتی ہے تو میں بتاتا ہو ں کہ اسلام نے اس کا طریق بتا دیا ہے اور میں اسلام کے اس طریق پر عمل کرنے والاکھڑا ہوں۔کسی مذہب کا بانی اور پیشوا ہو میں اس کی عزت اور احترام کرتا ہوں۔اگر کوئی ہندو کہے کہ کیا تم رامچندر کو مانتے ہو؟تو میں کہوں گا میں ان کو نبی مانتا ہوں کیوں اس لئے کہ قرآن کریم کہتا ہے اِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ (سورۃ فاطر : 25) کہ ہر قوم میں خدا نبی بھیجتارہا ہے پس اگر میں یہ کہوں کہ رام چندر جی اور کرشن جی جھوٹے تھے تو اس سےقرآن مجید غلط ٹھہرتا ہے۔پس قرآن مجید نے اس جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ہے کہ ہر ایک مسلمان دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی عزت کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے بے عزتی کرنے کے لئے نہیں۔یہ تو مسلمانوں کا حال ہے اب میں ہندوؤں سے پوچھتا ہوں(اس پوچھنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ مجھےجوابدیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے دلوں میں غور کریں اور سوچیں)کہ کیا وہ بھی اس کے لئے تیار ہیں۔اگر تیار ہوں تو پھر ایسی مضبوط صُلح ہو سکتی ہے کہ جو عمر بھر نہیں ٹوٹ سکتی۔اس کے متعلق میں یہ نہیں کہتا کہ ہندو یونہی اس بات کو مان لیں بلکہ یہ کہتا ہوں کہ عقل وفکر سے کام لے کر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا ساری دنیا کے انسان خدا کے بندے نہ تھے اگر تھے اور ضرور تھے تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہندوستان میں تو اپنے نبی بھیجے اور دوسرے ممالک میں نہیں بھیجے۔ضرور ہے کہ وہاں بھی بھیجے ہوں پس میں یہ نہیں کہتا کہ ہندو منافقت سے رسول کریمﷺ کی رسالت کا اقرار کریں بلکہ ان میں ان کی عقلوں سے اپیل کرتا ہوں کہ کیا سچی بات نہیں کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت کے لئے آپ کو بھیجا؟
عیب لگانا چھوڑ دو
اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں پیش کرو
اور اگر اس کے لئے بھی تیار نہیں ہیں تو پھر یہ کریں کہ ہندو اور مسلمان اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں۔کیا کوئی ایسا مذہب ہے کہ جس میں کوئی خوبی نہیں … ایسامذہب جس میں کوئی بھی خوبی نہ ہو ایک منٹ کے لئے بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ہر ایک مذہب کا دعوی تو یہ ہے کہ ساری خوبیاں اسی میں ہیں اور کوئی دوسرا مذہب اس کی خوبیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔جب یہ دعوی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس مذہب کے پیرو اس کی خوبیاں بیان نہ کریں۔اسلام اپنے پیروؤں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْ عِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَا دِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَا اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ( سورۃ النحل : 126) اے مسلمانو! حکمت کی باتیں کرو اور اپنے مذہب کے احسن اصول پیش کرو تمہیں دیگر مذاہب پر اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں کیا تم خدا کو بتانا چاہتے ہو کہ فلاں مذہب کے لوگوں میں یہ نقائص ہیں۔ خدا خوب جانتا ہے کہ کون اس کے رستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون سیدھے رستہ پر ہے پس تم اپنے مذہب کی خوبیان بیان کرو۔
پس اگر ہندو صاحبان یہ نہ مانیں کہ رسول کریمﷺ خدا کے سچے نبی تھے تو یہ اقرار تو کریں کہ وہ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں گے اور اسلام پر اعتراض نہیں کریں گے۔اگر یہی مان لیں تو اتحا کے لئے یہ بھی کافی ہے۔ہمارے سلسلہ کے بانی حضرت مرزا صاحب(علیہ الصلوٰۃ والسلام)نے اس امر کو بہت عرصہ قبل پیش کیا تھا مگر افسوس کہ ملک نے توجہ نہ کی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک اتحاد نہ ہو سکا اور نہ آئندہ اس وقت تک ہو سکے گا جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے گا۔
کم از کم دوسرے مذہب کے بزرگوں کو گالیاں نہ دو
تیسرے اگر کوئی کہے کہ یہ بھی نہیں ہو سکتا تو بھی ہم اتفاق واتحاد کے لئے تیار ہیں اور وہ اس اقرار پر کہ ہمارے بزرگوں کو گالیاں مت دو۔ان کو جھوٹا فریبی مکار اور دغا باز مت کہو۔ نہ یہ کہو کہ انہوں نے بے وقوفی اور کم عقلی کی تعلیم دی ہے اور اس قسم کے ٹریکٹ نہ شائع کرو جیسے محمد کا کچا چٹھا وغیرہ کے نام سے شائع کئے گئے ہیں جن میں سوائے گالیوں اور لغو اعتراضات کے کچھ نہیں ہوتا۔ہمارا تو سب کچھ خدا اور اس کا رسول ہی ہےاگر خدا اور رسول کے متعلق ا س قسم کی بدزبانی جاری رکھی جائے گی تو مسلمان قطعاً اتحاد نہیں کر سکیں گے۔اب تو یہ حالت ہے کہ اسلام اور بانی اسلام کے متعلق اس قدر گالیاں دی جاتی اور اتنی بد زبانی کی جاتی ہے کہ ایسی ایک ماہ کی گالیوں کو جمع کرنے سے ایک سو صفحے کا رسالہ تیار ہو سکتا ہے ایسی حالت میں کس طرح امید ہو سکتی ہے کہ اتحاد ہو جائے گا۔اسلام کی تو یہ تعلیم ہے کہ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ فَيَسُبُّوا اللہَ عَدْوًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ( سورۃ الانعام : 109) ان بتوں وغیرہ کو گالیاں نہ دو جن کو مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں اگر ان کو گالیاں دو گے تو وہ بھی اللہ کو گالیاں دیں گے۔
دیکھو یہ کیسی صلح اور اتحاد کی تعلیم ہے اگر اس پر عمل کیا جائے تو کیسا اعلیٰ اتحاد قائم ہو سکتا ہے۔
ہر دوسری قوم کے حقوق کا احترام کرے
اسی طرح دنیاوی امور کے متعلق اتحاد کی بعض شرطیں ہیں۔مثلاً یہ کہ ہر قوم دوسری قوم کے حقوق تسلیم کرے۔عجیب بات ہے کہ ہندو یہ تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو سوراج لے کر دیں گے مگر مسلمانوں کو ان کے چھوٹے چھوٹے حقوق نہیں دینا چاہتے ۔پھر کس طرح مان لیا جائےکہ جب کالجوں میں داخلہ میونسپلٹیوں میں ممبری اور ملازمتوں میں ضروری حقوق نہیں دیتے تو سوراج دیں گے۔جو ایک روپیہ نہیں دے سکتا اس سے یہ توقع کیونکر ہو سکتی ہے کہ ہیرے دیدے گا۔پس یہ ضروری امر ہے کہ ہر ایک قوم کے حقوق تسلیم کئے جائیں۔
مجرموںکو بِلالحاظ فرقہ مجرم قراردو
دوسری ضروری بات یہ ہے کہ اگر کہیں ہندو مسلمان میں جھگڑا ہو تو جو فریق قصوروار ہو اور جس کی زیادتی ہو اس کو پکڑا جائے تب تک کسی قوم سے صلح نہیں ہو سکتی جب تک قوم مجرم قرار نہ دے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ اگر کہیں مسلمانوں کی غلطی ہوتی ہے تو مسلمان ان کی حمایت میں کھڑے ہو جاتے ہیں اوراگر ہندو غلطی کرتے ہیں تو ہندو ان کی تائید میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔مثلاًاگرشاہ آباد اور آرا میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر ظلم کئے تو ہندوؤں نے ان کو نظر انداز کر دیا اور اگر مالا بار میں مسلمانوں کی طرف سے زیادتی ہوئی تو لیکچروں اور تقریروں کے ذریعہ اس کو پھیلانا شروع کر دیا۔اس طرح اپنے مظالم بھول جاتے ہیں اور دوسروں کے یادرکھتے ہیں۔
غرباء کے حقوق کی حفاظت کی جائے
تیسری بات یہ ہے کہ غرباء کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔
دیانتداری پر مبنی ان تجاویزِ صلح پر
عمل کرکے فائدہ اٹھاؤ
میرے نزدیک یہ تجاویز ہیں جن سے ہندو مسلمانوں میں صلح اور اتحاد ہو سکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں ان کے متعلق کسی فریق کو یہ کہنے کا موقع نہیں ہے کہ کسی فرقہ کی پاسداری کی گئی ہے یا تعصب سے کام لیا گیا ہے۔میں نے دیانتداری سے یہ تجاویز بیان کردی ہیں۔ آخرمیں میں نے ان ذمہ داریوں کو یاد دلا کر جو حب الوطنی‘اخلاق‘روح اور انسانیت کی طرف سے آپ لوگوں پر عائد ہوتی ہیں اپیل کرتا ہوں کہ ان تجاویز پر غور کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور دوسرے سب لوگوں کو ان راہوں پر چلنے کی توفیق دے جن سے امن وامان قائم کرسکیں۔
(انوار العلوم جلد 7 صفحہ 295 ، پیغام صلح)
…٭…٭…٭…