اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-08-14

’’انشا ء اللہ اذان ہوگی اور خوب ہوگی ‘‘ (حضرت مسیح موعودعلیہ السلام) (شیراز احمد ننگلی مبلغ سلسلہ ضلع گیا/پٹنا صوبہ بہار)

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:
وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْن ۔
(آل عمران :140)
یعنی اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب ہو گے ۔
نیز فرماتا ہے:
اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
(المجادلہ23)
یعنی اللہ کے لشکر ہی غالب آتے ہیں۔
یہ قرآنی آیات ان لشکروں کی کامیابی کیلئے نازل ہوئی جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے منسلک ہوں انکے ہر کام خدا کیلئے ہوں انکا مطمع نظر صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہواسی تسلسل میں آج ایک مضمون قارئین کی نظر کرنا چاہتا ہوں جو ہندوستان کے ایک صوبہ ہریانہ سے متعلق ہے جو کہ قادیان سے 384 کلومیٹر جنوب کی طرف واقع ہے۔ صوبہ ہریانہ کی پیدائش عملاً سن 1966ء کی ہے جب اس صوبہ کو پنجاب سے الگ کیا گیا اس سے پہلے یہ صوبہ بھی پنجاب میں ہی شامل تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کے دعوے کی آواز ابتداء میں ہی اس خطہ میں پہنچ گئی تھی اور بہت سی نیک روحیں اس خطہ سے آپ علیہ السلام کی بیعت میں آئیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش تو سرساوہ ضلع سہارنپور میں ہوئی مگر آپ علیہ السلام کی بیعت سے پہلے آپ کا دارالعمل یہ خطہ ہی رہا اور ہانسی ضلع حصار میں آپ نے اپنا مرکز بنایا اور ہزاروں مریدین نے ہانسی، جیند،دادری وغیرہ سے آپ کی بیعت کی مگر جب حضرت پیر صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حق کو پہچان گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی تو آپ نے پیری مریدی والا سلسلہ ترک کر دیا اور اپنے تمام مریدوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی اطلاع دی اور تمام مریدوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہونے کی تبلیغ بھی کی اسی تسلسل میں ایک واقعہ آپ نے اپنی کتاب تذکرۃ المہدی (سفر نامہ) میں درج کیا ہے جو کہ اس مضمون کا مغز ہے اور جو صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نشان ہےجوآج ہم نے اپنی انکھوں سے دیکھا ۔
آپ تحریر فرماتے ہیںکہ :(جن ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی میں مقیم تھے۔ ناقل) جس وقت حضرت اقدس علیہ السلام نے (دہلی سے۔ ناقل) قادیان شریف جانے کی تیاری کی اور نماز عشاء کی پڑھنے لگے تو ابھی ہم نے نیت نہیں باندھی تھی کہ حاجی حکیم اللہ بندہ جیند سے آگئے اور وہ نماز میں شامل ہو گئے بعد سلام کے کہا کہ آج مجھے تین روز دہلی آئے ہوئے ہو گئے مجھے یہاں آنے کا موقع نہ ملا اور نہ لوگوں نے آنے دیا اور کہا کہ وہ تو کافر ہے تو بھی کافر ہوگا آج اتفاق سے میں نے آپ (حضرت پیر صاحب۔ناقل) کودیکھ لیا تو میں دوڑ کر آگیا مجھے حضرت اقدس علیہ السلام سے بیعت کرا دو میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت یہ حاجی حکیم اللہ بندہ 60 کوس جیند سے آیا ہے اور لوگوں نے آنے نہ دیا یہ میرا واقف کار ہے اس کے بیوی اور بچے مجھ سے مرید ہیں لیکن یہ اور شخص سے مرید تھا اب آپ سے بیعت کرنی چاہتا ہے آپ نے فرمایا اب تو ہم چلتے ہیں پھر میں نے عرض کیا کہ چلتے بھی دیر لگے گی آپ ان کو بیعت ہی کر لیجئے اور یہ وہی شخص حکیم اللہ بندہ حاجی ہے جس کا ذکر یوسف علی مرحوم کے ذکر کے ساتھ ا ٓچکا ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا اچھا بلاؤ میں نے کہا کہ حکیم صاحب آؤ اور بیعت کرو ۔حکیم جی آئے اور حضرت اقدس علیہ السلام نے ہاتھ بڑھا دیا تو حاجی حکیم اللہ بندہ نے ہاتھ نہ بڑھایا اور عرض کیا کہ حضرت پہلے میری عرض سن لیں فرمایا کہو عرض کیا کہ شہر جیند سکھوں کی ریاست اور ملک ہے وہاں کئی صدیوں سے اذان نہیں ہوتی اور جو کوئی اذان اتفاق سے کہہ دے تو 25 روپیہ جرمانہ ہوتا ہے آپ یہ دعا کریں کہ وہاں اذان ہونے لگے یہ آپ کا بڑا بھاری نشان ہے ،تب تو میں بیعت کر لوں ورنہ نہیں سبحان اللہ وہ کیا وقت مبارک تھا فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ اذان ہوگی اور خوب ہوگی آؤ بیعت کر لو حاجی صاحب نے ہاتھ بڑھا کر اور ہاتھ دے کر بیعت کی اور بہت رویا اور کہنے لگا کہ مجھ سے گستاخی تو ہوئی لیکن دین کے کام میںاس نفس کا اس میں کوئی دخل نہ تھا۔ خدا کی قدرت کے قربان !خدا جانے آپ نے کس درد سے یا الہام و وحی سے فرمایا تھا کہ خدا تعالیٰ نے چند سال کے بعد ریل جاری کرائی اور ریل والے اذان کہنے لگے اور اب خود رئیس نے عام اجازت دے دی کہ مسلمان کھلم کھلا اذان مسجدوں میں کہیں کوئی روک ٹوک نہیں اس پر ہندو اور برہمنو ںنے غل مچایا کہ یہ پوتر(پاک) اور دھرم دھرتی (مذہبی زمین)ہے اس میں کبھی اذان ہوئی ہی نہیں آپ کیوں اجازت دیتے ہیں مگر رئیس نے ان کا کہنا نہ مانا اور عام اجازت اذان کی دے دی سو دے دی بلکہ دفتر میں بھی لکھا گیا ۔
(تذکرۃ االمہدی ص260)
پس اُس دور میں عین آپ علیہ السلام کی دعا کےمطابق اذان تو شروع ہو گئی اور اگر آج کے دور کی بات کریں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے کی زبان سے جو الفاظ نکالے تھے اس کو ہر اعتبار سے پورا کر کے دکھایا۔ دور خلافت رابعہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے صوبہ ہریانہ میں بہت کام ہوا۔ صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم و مغفور کی نگرانی میںمکرم مولانا منیر احمد خادم صاحب اور آپ کی زیر نگرانی کام کرنے والے مبلغین و معلمین نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں بہت محنت سے حضرت مسیح موعود ؑ کا پیغام اس علاقہ میں پھیلانا شروع کیا اُس وقت ہریانہ میں چند ایک جماعت قائم تھی مگر خدا نے اپنے پیارے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کو پورا کرنے کے لیےصوبہ ہریانہ میں غیر معمولی حالات پیدا فرما دئیے اور چند سالوں میں صوبہ ہریانہ میں 50 سے زائد جماعتیں قائم ہو گئیں ۔حضرت حاجی حکیم اللہ بندہ صاحب جنہوں نے جیند سے آکر بیعت کی تھی اور جیند کیلئے خاص دعا کی درخواست کی تھی کہ وہاں اذان ہو، اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو 1200 گز زمین بالکل شہرجیند کے درمیان خریدنے کی توفیق ملی اور جب یہ زمین خریدی گئی اور اس میں جماعت نے کوشش کی کہ ایک مسجد کی تعمیر کی جائے تو اس وقت شدید مخالفت بعض ہندو تنظیموں کی طرف سے اور مسلم تنظیموں کی طرف سے بھی ہوئی مگر اللہ تعالیٰ نے جیسے پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کے نتیجہ میں اس خطہ میں شدید مخالفت کے باوجود اذان شروع کروائی اسی دعا کی برکت سے دوبارہ شدید ترین مخالفت کے باوجود اس زمین میں شاندار مسجد کی تعمیر ہوئی ۔ مسجد کی تعمیر کے بعد مرکز کی طرف سے سب سے پہلے مکرم مولوی طاہر احمد طارق صاحب کو بطور مبلغ اور صوبہ انچارج کی حیثیت سے جماعت نے متعین کیا اور پھر جس طرح سے اس مشن ہاؤس کو اس مسجد کو اللہ نے آباد کیا وہ اپنے آپ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک زبردست نشان ہے خاکسار کو بطور مبلغ اس جماعت میں 2021 ءتا مئی 2025 ء رہنے کی توفیق ملی اور خاکسار نے مشاہدہ کیا کہ پورےصوبہ میں ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو خوب نوازا ہے مالی قربانی کے اعتبار سے یہ چھوٹی سی جماعت سب سے آگے ہے۔ اس جماعت میں 50 فیصد احمدی نظام وصیت میں شامل ہیں اور اس جماعت کے سیاسی روابط بھی بہت مضبوط ہیں ۔ یہ سب صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ نشانات ہیں جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا تھا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچ جاؤں گا اور یہ وعدہ بہرحال پورا ہونا ہے اور ہو رہا ہے۔