اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-07-03

’’ ختم نبوت کے بارے میں جماعت احمدیہ کا اسلامی عقیدہ‘‘ ( منصور احمد مسرور، ایڈیٹر بدر )

اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ حْدَہٗ لاشَریْکَ لَہُ
وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
اَمَّا بَعْدُ فَاَ عُوْذُ باِللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیمْ۔بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا۝۴۱ۧ (احزاب آیت:41)
قابل احترام صدر جلسہ اور معزز سامعین!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جیسا کہ آپ نے سماعت فرمالیا ہے خاکسار کی تقریر کا عنوان ہے :
’’ختم نبوت کے بارے میں 
جماعت احمدیہ کا اسلامی عقیدہ‘‘
ابھی خاکسار نے آپ کے سامنے آیت خاتم النّبیین کی تلاوت کی جس کا ترجمہ یہ ہے :
ﷴ تمہارے (جیسے) مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور (اس سے بھی بڑھ کر) نبیوں کی مہر ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔
معزز سامعین!غیر احمدیوں کی طرف سے احمدیوں پر بے شمار الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ایک اُن میں سے بہت ہی تکلیف دہ اور بے بنیاد الزام یہ ہے کہ سیّدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام اور آپؑکی جماعت آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین نہیں مانتی۔ یہ ایک ایسا جھوٹا اور بے بنیاد الزام ہےجو ہمیں بہت ہی دُکھ اور تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔سب سے پہلے مَیں خاتم النّبیین کے متعلق حضرت مسیح موعودد علیہ السلام کاحلفیہ بیان پیش کرتا ہوں۔ آپؑفرماتے ہیں :
مجھے خدا کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ …مَیں ایمان رکھتا ہوں اِس بات پر کہ ہمارے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ تمام رسولوں سے افضل اور خاتم النّبیین ہیں۔ ( حمامۃ البشریٰ اُردو ترجمہ صفحہ36)
ایک اَور مقام پر آپؑفرماتے ہیں :
اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کو خاتم النّبیین نہیں مانتے، یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں، اُس کا لاکھواں حصہ بھی دوسرے لوگ نہیں مانتے، اور اُن کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وہ اُس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ اُنہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سنا ہوا ہے مگراُس کی حقیقت سے بے خبرہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتاہے اوراُس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔ اور خداتعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اِس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا بجزان لوگوں کے جو اِس چشمہ سے سیراب ہوں۔
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 227 مطبوعہ قادیان 2003)
پس جس یقین، اور بصیرت کے ساتھ مسیح موعود اورآپؑکی جماعت آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین مانتی ہے اُس کا لاکھواں حصہ بھی اپنے آپ کو ختم نبوت کا محافظ کہنے والے نہیں مانتے۔
معزز سامعین! آنحضرت ﷺ کو جب وہ بھی خاتم الانبیاء مانتے ہیں اور ہم بھی مانتے ہیں توپھر اختلاف کس بات کا ؟ اختلاف دراصل خاتم النّبیین کی تفسیر میں ہے۔ ہم خاتم النّبیین کی تفسیر قرآن کریم کی آیات اور احادیث مبارکہ اور بزرگانِ اُمت کے اقوال کی روشنی میں کرتے ہیںجس سے آنحضرت ﷺ کی شان میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ہمارے غیر احمدی بھائیوں کے نزدیک خاتم النّبیین کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیںاور آپؐکے بعد کسی قسم کا کوئی بھی نبی نہیں آسکتا۔
معزز سامعین! نبی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک شرعی نبی:: جوشریعت لاتے ہیں۔جیسےحضرت موسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ۔ دوسرے غیر شرعی نبی یا مستقل نبی:: جوکوئی شریعت نہیں لاتےلیکن پہلی شریعت کی خدمت کے لئے آتے ہیں۔ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو موسوی شریعت کی خدمت کیلئے آئے تھے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فیض رسانی کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی بنایا۔اور تیسرے اُمتی نبی:: جو کسی شرعی نبی کے واسطہ سےاور اس کی کامل پیروی کے نتیجہ میں نبوت کا انعام پاتا ہے۔ جیسے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام جنہیں آنحضرت ﷺ کی کامل غلامی اور کامل پیروی کے نتیجہ میںنبوت کا انعام ملا۔
معزز سامعین!ہم دل و جان سے اس بات پر ایمان لاتے ہیںکہ آنحضرت ﷺ آخری شرعی نبی ہیں، آپؐکے بعد قیامت تک کوئی شرعی نبی نہیں آسکتا، اور اسی طرح نہ کوئی مستقل نبی آسکتا ہے۔ البتہ اُمتی نبی آسکتا ہے۔ یعنی آنحضرت ﷺ کی کامل پیروی کے نتیجہ میں ایک امتی، نبوت کے منصب اور مقام پر فائز ہوسکتا ہے۔لیکن ہمارے غیر احمدی بھائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اب کوئی ، اُمتی نبی بھی نہیں آسکتا۔
معزز سامعین!ہم اپنے غیر احمدی بھائیوں سے پوچھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اگر اُمتینبی نہیں آسکتاتو جب حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہونگے، تو وہ نبی ہونگے یا نہیں؟ اس سوال سے اُن کے بدن پرزلزلہ طاری ہوتا ہے،کیونکہ اُن کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگتا ہے کہ اب کیا جواب دیں؟ ایک طرف ہمارا یہ عقیدہ کہ کوئی نبی نہیں آئے گا ، اور دوسری طرف اِس کے بالکل اُلٹ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ آئیں گے۔
تو وہ جواب میں کہتے ہیںکہ وہ تو اُمتی نبی ہونگے۔ ہم اُنہیں کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے بھی اُمتی نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ یہ شرف مجھے محض آنحضرت ﷺ کی پَیروی سے حاصل ہوا۔ اگر مَیں آنحضرت ﷺ کی اُمّت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی مَیں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہر گز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں ۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے، مگر وہی جو پہلے اُمّتی ہو۔ پس اِسی بنا پر مَیں اُمتی بھی ہوں اور نبی بھی۔ ‘‘
(تجلیات الٰہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 411)
اُس نُور پر فدا ہوں اُس کا ہی مَیں ہوا ہوں
وہ ہے مَیں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے
معزز سامعین! جس دروازہ کو آنحضرت ﷺ نے بند کردیا ہے دُنیا کی کوئی طاقت اُس دروازہ کو کھول نہیں سکتی۔ لیکن جس دروازہ کو آنحضرت ﷺ نے قیامت تک کھلا رکھاہے اُس دروازہ کواب کوئی بند نہیں کرسکتا۔ آنحضرت ﷺ نے شرعی نبی کا دروازہ بند کردیا یہ اب قیامت تک بند رہے گا۔ آپؑنے مستقل نبی کا دروازہ بند کردیا یہ اب قیامت تک بند رہے گا ۔ لیکن آپؑنے اُمتی نبی کا دروازہ بند نہیں کیابلکہ کھلا رکھا ہے اور یہ دروازہ اب قیامت تک خلافت علیٰ منہاج نبوۃ کی شکل میں کھلا رہے گا۔
معزز سامعین ! قرآن کریم میں ایک بھی آیت ایسی نہیں ہے جو یہ بتاتی ہو کہ نبوت کا دروازہ اب کلی طور پر بند ہوچکا ہے ۔ بلکہ متعدد آیات ایسی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ نبوت کا دروازہ کھلاہے۔
اللہ تعالیٰ سورہ نساء میں فرماتا ہے وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۝۰ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا۝۶۹ۭ
کہ جو (لوگ بھی) اللہ اور اِس رسول کی اطاعت کریں گے (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی) وہ اُن لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین (میں) اور یہ لوگ (بہت ہی) اچھے رفیق ہیں۔
اس آیت میںا للہ تعالیٰ نے نبی ، صدیق، شہید اور صالح ،اِن چاروں مقامات کا دینا آنحضرت ﷺ کی اطاعت کےساتھ مشروط کیا ہے۔یعنی ایک امتی آنحضرتؐ کی کامل پیروی کے نتیجہ میں نبوت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سورۃ الحج میں فرماتا ہے : اَللہُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ۝(سورۃ الحج آیت : 76)
یعنی اللہ فرشتوں میں سے رسول چنتاہے اور انسانوں میں سے بھی۔ یقینا اللہ بہت سننے والا (اور) گہری نظر رکھنے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دائمی سنت کا اعلان فرمایا ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ، فرشتوں کو یا انسانوں کو اپنا رسول بناکر بھیجا کرتا ہے۔یَصْطَفِیْ مضارع کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے وہ چنتا ہے اور آئندہ بھی چُنے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف میں فرماتا ہے : يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَـقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ۝۰ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ۝۳۶
(سورۃ الاعراف آیت :36)
کہ اَےبنی آدم! اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول آئیں جو تم پر میری آیات پڑھتے ہوں تو جو بھی تقویٰ اختیار کرے اور اصلاح کرے تو ان لوگوں پر کوئی خوف نہیں ہو گا اورنہ وہ غمگین ہونگے۔
یہ آیت کریمہ بتارہی ہے کہ اَے بنی آدم جب کبھی تمہارے پاس رسول آئیں تو تم اس کا انکار نہ کرنا ، اُس پر ایمان لے آنا ،اگر کسی رسول نے آنا ہی نہیں تھا تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ اَے بنی آدم آئندہ کبھی کوئی رسول اب تمہارے پاس نہیں آئے گا۔ صرف نمونہ کے طور پر چند آیتیں خاکسار نے پیش کی ہیں۔ہمارے مخالفین کے پاس لے دے کے ایک ہی آیت،آیت خاتم النّبیین ہےجو زیر بحث اور متنازعہ فیہ ہے، اور اس کی تائید میں ان کے پاس ایک بھی آیت نہیں۔ اور آیت خاتم النّبیین بھی دراصل نبوت کا درازہ کھولتی ہے نہ کہ بند کرتی ہے۔
اب خاکسار احادیث کی طرف آتا ہے۔ احادیث سے بھی ہمیں یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے، ہرگز بند نہیں ہوا۔ آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم جب فوت ہوئے تو آپؐنے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی اورفرمایا:لَوْ عَاشَ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَبِیًّا۔کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرورسچانبی ہوتا۔
(ابن ماجہ کتاب الجنائز باب مَاجَاءَ فِی الصَّلٰوۃِ عَلٰی ابْنِ رَسُوْلِ اللہِ )
آیت خاتم النّبیین کے نازل ہونیکے چار سال بعد حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی۔ اگر آنحضرت ﷺ ’’خاتَمَ النَّبَیِیّنَ‘‘ کا مطلب یہ سمجھتے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو آپؐکو فرمانا چاہئے تھاکہ اگر ابراہیم زندہ رہتا ، تب بھی نبی نہ ہوتا کیونکہ میں خاتم النّبیین ہوں۔
(2) مسلم کی حدیث میں آنحضرت ﷺ نے آنیوالے مسیح کو چار دفعہ نبی اللہ کہکر پکارا ہے۔
(مسلم باب صفت الدجال )
(3) آنحضرت ﷺنےفرمایا : اَبُوْبَکْرٍ اَفْضَلُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ نَبِیٌّ ۔
یعنی ابوبکرؓ اس اُمّت میںسب سےا فضل ہیں سوائے اسکے کہ کوئی نبی ہو۔
(کنوز الحقائق فی حدیث خیرالخلائق)
(4) آنحضرت ﷺ نے فرمایا :
ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ ۔
(مسند احمد، مشکوٰۃ باب الانذار والتحذیر)
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اسلام پر آنے والے مختلف اَدوار کا ذکر فرمایا ہے ۔ پھر فرمایا کہ اُن تمام اَدوار کے گزرجانے کے بعد خلافت علیٰ منہاج نبوت کا قیام ہوگا۔
مشکوٰۃ کے مصنف نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے: ’’ الظَّاھِرُ اَنَّ الْمُرَادَ بِہٖ زَمَنُ عِیْسٰی وَالْمَھْدِیْ‘‘کہ ظاہر ہے کہ منہاج نبوت پر دوبارہ خلافت قائم ہونے کازمانہ مسیح موعود اورمہدی معہود کا زمانہ ہوگا۔
اللہ کے فضل و کرم سے مخبر صادق آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی پوری ہوچکی ہے اور جماعت احمدیہ میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود کی وفات کے بعد خلافت علیٰ منہاج نبوت کاسلسلہ قائم ہے۔ اور آج مسیح و مہدی کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد، احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی پوری دُنیا میں شاندار رنگ میں قیادت فرمارہے ہیں۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔
معزز سامعین! قرآن و حدیث کی روشنی میں اُمت کےبزرگان بھی اس بات پر متفق ہیں کہ صرف شرعی نبوت کا دروازہ بند ہوا ہے ، امتی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا ۔ایک نہیں دو نہیں بیسیوں علماءِ اُمت کا یہ عقیدہ ہے۔وقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے صرف دو حوالے پیش کرتا ہوں۔
(1) اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : قُوْلُوْااِنَّہٗ خَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ کہ اَے لوگو تم آنحضرت ﷺ کو خاتم الانبیاء تو کہو لیکن یہ نہ کہو کہ آپؐکے بعد کوئی نبی نہیں۔
(تکملہ مجمع البحار صفحہ ۸۵، دُر منثور جلد 5)
(2) بانی دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
’’اگر بالفرض بعد زمانہ نبویؐ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ ‘‘
(تحذیرالناس مطبوعہ سہارنپور صفحہ نمبر 3،
بحوالہ ختم نبوت کی حقیقت صفحہ 159)
معزز سامعین! خاتَم النّبیین کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺکی پیروی کے نتیجہ میں، روحانیت میں ترقی کرتے کرتے ایک امتی نبوت کے مقام و مرتبہ سے سرفراز ہوسکتا ہے۔ اِسی میں آنحضرت ﷺ کی شان اور اِسی میں آپؐکی فضیلت ہے، اور اِسی وجہ سے یہ اُمت خیر امت کہلاتی ہے۔
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں  :
٭ حضرت موسیٰ کی اُمّت میں … جس قدر نبی گزرے ہیں اُن سب کو خدا نے براہ راست چُن لیا تھا۔ حضرت موسیٰ کا اُس میں کچھ بھی دخل نہیں تھا، لیکن اِس اُمّت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزارہا اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو اُمّتی بھی ہے اور نبی بھی۔
(حقیقۃ الوحی رُوحانی خزائن جلد 22 صفحہ 30، حاشیہ)
سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں  :
٭ ہم رسول اﷲ ﷺ کو چشمہ ٔ افادیت مانتے ہیں۔ایک چراغ اگر ایسا ہو جس سے کوئی دوسرا روشن نہ ہو،وہ قابل تعریف نہیں ہے،مگر رسول اﷲ ﷺ کو ہم ایسا نور مانتے ہیں کہ آپ سے دوسرے روشنی پاتے ہیں۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 317، مطبوعہ قادیان 2003)
سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
ہم کبھی ایک منٹ کے لئے بھی اس امر کو جائز نہیں سمجھتے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص آئے جو آپؐکی رسالت کو ختم کردے اور نیا کلمہ اور نیا قبلہ بنائے اور نئی شریعت اپنے ساتھ لائے یا شریعت کا کوئی حکم بدل دے یا جو لوگوں کو رسول کریم ؐ کی اطاعت سے نکال کر اپنی اطاعت میں لے آئے …لیکن ہم اس امر کو بھی کبھی پسند نہیں کر سکتے کہ رسول کریم ؐ کے وجود کو ایسا سمجھا جائے کہ گویا آپؐنے تمام فیوض الٰہی کو روک دیا ہے…رسول کریم ؐفرماتے ہیں کہ محدَّث حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں بھی بہت سے گزرے ہیں۔ پس اگر آنحضرت ﷺ کی قوتِ قدسیہ بھی انسان کو محدَّثیت کے مقام تک ہی پہنچا سکتی ہے تو پھر آپؐکو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت رہی اور آپؐسید ولد آدم اور نبیوں کے سردار کیونکر ٹھہرے۔ خیر الرسل ہونے کیلئے ضروری ہے کہ آپؐمیں بعض ایسے کمالات پائے جائیں جو پہلے نبیوں میں نہیں پائے جاتے تھے اور ہمارے نزدیک یہ کمال آپؐمیںہی ہے کہ پہلے انبیاء کے امتی اُن کی قوتِ جذب سے صرف محدَّثیت کے مقام تک پہنچ سکتے تھے مگر رسول کریم ﷺ کے امتی مقام نبوت تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور یہی آپ کی قوتِ قدسیہ کا کمال ہے جو ایک مومن کے دل کو آپؐکی محبت اور آپؐکے عشق کے جذبہ سے بھر دیتا ہے۔
اگر آپؐکے آنے سے اِس قسم کی نبوت کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے تو پھر آپؐکی آمددنیا کے لئے ایک عذاب بن جاتی ہے اور قرآن کریم کا وجود بے فائدہ ہوجاتا ہے کیونکہ اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ آپؐکی بعثت سے پہلے تو انسان بڑے بڑے درجوں تک پہنچ جاتا تھا مگرآپؐکی بعثت کے بعد وہ اُن درجوں کے پانے سے روک دیا گیا اور یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم سے پہلی کتب تو نبوت کا درجہ پانے میں مُمد ہوا کرتی تھیں یعنی اُن کے ذریعہ سے انسان اُس مقام تک پہنچ جاتا تھا جہاں سے اللہ تعالیٰ اُسے نبوت کے مقام کی تربیت کے لئے چُن لیتا تھا ،لیکن قرآن کریم پر عمل کر کے انسان اُس درجہ کو نہیں پہنچ سکتا، اگر فی الواقع یہ بات ہو تو اللہ تعالیٰ کے سچے پرستاروں کے دل خُون ہو جائیں اور اُن کی کمریں ٹوٹ جائیں کیونکہ وہ تو رحمۃ للعالمین اور سید الانبیاء کی آمد پر یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اب ہماری روحانی ترقیات کے لئے نئے دروازے کھُل جائیں گے اور اپنے محبوب ربّ العالمین کے اور بھی قریب ہو جائیں گے،لیکن نتیجہ نعوذ باللہ من ذالک یہ نکلا کہ آپؐنے آکر جو دروازے پہلے کھلے تھے اُن کو بھی بند کر دیا۔
کیا کوئی مومن رسول کریم ﷺ کی نسبت اس قسم کا خیال ایک آنِ واحد کے لئے بھی اپنے دل میں آنے دے سکتا ہے ؟کیا کوئی آپؐکا عاشق ایک ساعت کے لئے بھی اس عقیدہ پر قائم رہ سکتاہے؟ بخدا آپؐبرکت کا ایک سمندر تھے اور روحانی ترقی کا ایک آسمان تھے جس کی وسعت کو کوئی نہیں پا سکتا۔ آپؐنے رحمت کے دروازے بند نہیں کر دئیے بلکہ کھول دئیے ہیں۔
سیّدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
رسول کریم ﷺ کا یہ مقام جو اوپر بیان ہوا ہے ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اس قسم کی نبوت کا سلسلہ آپؐکے بعد جاری سمجھیں کیونکہ اس میں آپؐکی عزت ہے اور اس کے بند کر نے میں آپؐکی سخت ہتک ہے۔ کون نہیں سمجھ سکتا کہ لائق استاد کی علامت یہ ہے کہ اس کے لائق شاگرد ہوں اور بڑے بادشاہ کی علامت یہ ہے کہ اس کے ماتحت بڑے بڑے حکمران ہوں۔ اگر کسی استاد کے شاگرد ادنیٰ درجے کے ہیں تو اسے کوئی لائق استاد نہیں کہہ سکتا اور اگر کسی بادشاہ کے ماتحت ادنیٰ درجے کے لوگ ہوں تو اسے کوئی بڑا بادشاہ نہیں کہہ سکتا۔ شہنشاہ دُنیا میں عزت کا لقب ہے نہ کہ ذلّت اور حقارت کا۔ اسی طرح وہ نبی ان نبیوں سے بڑا ہے جسکے اُمتی نبوت کا مقام پاتے ہیں اور پھر بھی اُمتی ہی رہتے ہیں۔
(دعوۃ الامیرصفحہ 44 تا 48، مطبوعہ قادیان 2017)
معزز سامعین!آیت خاتم النّبیین کا شانِ  نزول یہ ہے کہ کفارِ مکہ آنحضرت ﷺ کو طعنہ دیا کرتے تھے کہ آپؐکی کوئی بھی نرینہ اولاد نہیںاور نعوذ باللہ من ذالک آپؐابتر ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اِنَّ شَانِئَكَ ہُوَالْاَبْتَرُ۝ یقیناً تیرا دشمن ہی ابتر ہے۔ اس پر آیت خاتم النّبیین نازل ہوئی کہ محمد تم جیسے مَردوں کے جسمانی باپ تو نہیں البتہ وہ خاتم النّبیین ہونے کے اعتبار سے مومنوں کے اور نبیوں کے رُوحانی باپ ہیں۔
آیت خاتم النّبیین میںجو لٰکِنْ کا لفظ ہے یہ استدراک کیلئے آتا ہے۔ یعنی پہلے جملہ میں اگر کوئی شبہ پیدا ہوتا ہو تو لٰکِنْ کے بعد دوسرے جملہ میں اس شبہ کا ازالہ کردیا جائے۔پہلے فقرہ میں یہ بتایا گیا کہ محمد ؐتم جیسے مَردوں کے جسمانی باپ نہیں ہیں ۔ پھر اگلے فقرہ میں لٰکِنْ کے ذریعہ اِس شبہ کا ازالہ کیا گیا کہ وہ جسمانی باپ تو نہیں لیکن خاتم النّبیین ہیں، یعنی انبیاء اور اولیاء کے رُوحانی باپ ہیں۔
معزز سامعین! کس قدر فصیح و بلیغ کلام اور کس قدر اعلیٰ مضمون ہے کہ ایک طرف جسمانی باپ ہونےکا انکار کیا گیا تو دوسری طرف انبیاء اور اولیاء کے رُوحانی باپ ہونے کا اقرار کیا گیا ۔
اب غیر احمدیوں کا ترجمہ سماعت فرمائیے اُن کا ترجمہ یہ ہے کہ محمد ؐتم جیسے مَردوں کے جسمانی باپ نہیں لیکن وہ آخری نبی ہیں۔ یہ بالکل ایک بے ربط اور بے معنی کلام بن جاتا ہے جسے خدائے علیم و حکیم ہستی کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
خدا تعالیٰ نے آپؐکی جسمانی ابوت کی نفی کی لیکن آپؐکی روحانی ابوت کا استثناء کیا ہے۔اگر یہ مانا جائے جیسا کہ ہمارے مخالف کہتے ہیں کہ آپ کا نہ کوئی جسمانی بیٹا ہے نہ روحانی تو پھر اس طرح پر معاذ اﷲ یہ لوگ آپؐکو ابتر ٹھہراتے ہیں،مگر ایسا نہیں، آپ کی شان تو یہ ہے کہ : اِنَّآ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۝۲ۭ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ۝۳ۭ اِنَّ شَانِئَكَ ہُوَالْاَبْتَرُ۝۴ۧ
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 317)
معزز سامعین! خاتَم کے ایک معنی مہر کے ہیں۔ وہ مہر جو تصدیق کیلئے خطوط یا سندات پر ثبت کی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے خاتم النّبیین کےمعنی یہ بنتے ہیں کہ آپؐصرف نبی نہیں بلکہ نبیوں کی مہر ہیں۔ یعنی آئندہ کوئی نبی آپؐکی مہر تصدیق کے بغیر سچانہیں سمجھا جاسکتا۔گویا آپؐصرف نبی نہیں بلکہ نبی تراش بھی ہیں اور یہ فضیلت کسی اَور نبی کو حاصل نہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
٭ اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحبِ خاتَم بنایا یعنی آپؐکو افاضۂ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اَور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپؐکا نام خاتَم النّبیین ٹھہرا۔ یعنی آپؐکی پیروی کمالاتِ نبوت بخشتی ہے اور آپؐکی توجہ رُوحانی نبی تراش ہے اور یہ قوتِ قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔
(حقیقۃ الوحی رُوحانی خزائن جلد 22، صفحہ 100، حاشیہ )
معززسامعین! خاتم النّبیین کے جو معنے زمانے کے امام مسیح موعودؑ و مہدی معہود علیہ السلام نے ہمیں  بتائے اور سمجھائے اُس سے آنحضرت ﷺ کی شان میں بے انتہا اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ جو معنے آپؑنے کئے ہیں اُن میں آپؑاکیلے ہیں، بزرگانِ اُمت نے بھی وہ معنے کئے ہیں اور اُنہیں کو فوقیت دی ہے۔
(1)سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں  :
بلاشُبہ یہ سچ بات ہے کہ حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت کے کمالاتِ قدسیہ سے شریک مساوی نہیں ہوسکتا بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں، چہ جائیکہ کسی اور کو آنحضرت کے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔
(براہین احمدیہ رُوحانی خزائن جلد 1
صفحہ 268، حاشیہ درحاشیہ نمبر1)
(2)حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست اورفہم تمام اُمت کی مجموعی فراست اور فہم سے زیادہ ہے بلکہ اگر ہمارے بھائی جلدی سے جوش میں نہ آجائیں تو میرا تو یہی مذہب ہے جس کو دلیل کے ساتھ پیش کرسکتا ہوں کہ تمام نبیوں کی فراست اور فہم آپ کی فہم اور فراست کے برابر نہیں۔
(ازالہ اوہام حصہ اوّل رُوحانی خزائن جلد 3صفحہ 307)
(3)حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گزر چکیں اُن کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمدؐیہ اُن سب پر مشتمل اور حاوی ہے۔ اور بجز اِس کے سب راہیں بند ہیں۔ تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اِسی کے اندر ہیں نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں اس لئے اِس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہئے تھا ‘‘
(الوصیت رُوحانی خزائن جلد 20، صفحہ 311)
یہ ہے ختم نبوت کا عرفان کہ آپؐکا رُوحانی مقام اس قدر بلند ہے کہ کوئی نبی آپؐکے رُوحانی مقام کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا، اور فرشتوں کو بھی اس جگہ کوئی دم مارنے کی توفیق و اجازت نہیں۔ خاتم النّبیین کےیہ معانی اور مطالب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائے ہیں، صلحاءِ اُمت نے بھی بیان کئے ہیں۔
(1)حضرت شیخ ابو عبداللہ محمد الحسن الحکیم الترمذی متوفی 308 ہجری فرماتے ہیں :
یعنی ہمارے نزدیک خاتم النّبیین کے یہ معنے ہیں کہ نبوت اپنے جملہ کمالات کے ساتھ اور پوری شان کے ساتھ محمد ﷺ میں جمع ہوگئی ہے اور اس کے جمع کرنے کے لئے خدا نے آپؐکے دل کو برتن قرار دے دیا۔
(کتاب ختم الاولیاء صفحہ 341، بیروت المطبعۃ الکاثولیکیہ، بحوالہ کتاب عرفانِ ختم نبوت صفحہ329، اختتامی خطاب جلسہ سالانہ 7؍اپریل 1985، اسلام آباد، یُوکے)
(2)حضرت امام فخر الدین رازی متوفی 544 ہجری فرماتے ہیں :
یعنی عقل کا یہ مقام اور مرتبہ ہے کہ وہ ہر چیز کی خاتم ہےاور خاتم کے لئے واجب ہے کہ وہ افضل ہو۔ دیکھو ہمارے رسول اللہ ﷺ خاتم النّبیین ہوئے تو سب نبیوں سے افضل قرار پائے۔
(تفسیر کبیر رازی جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 31، بحوالہ ایضاً صفحہ 329)
(3)حضرت ابوسعید مبارک ابن علی محزومی متوفی 513 ہجری فرماتے ہیں کہ :
کائنات میں آخری مرتبہ انسان کا ہے جب وہ عروج پاتا ہے تو اس میں مراتب مذکورہ اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ ظاہر ہوجاتے ہیں اور اس کو انسان کامل کہا جاتا ہے اور عروجِ کمالات اور سب مراتب کا پھیلاؤ کامل طور پر ہمارے نبی ﷺ میں ہے اور اسی لئے آنحضرت ﷺ خاتم النّبیین ہیں۔
(تحفہ مرسلہ شریف مترجم صفحہ 51، بحوالہ ایضاً صفحہ 331)
آخر پر خاکسار سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض ارشادات پیش کرکے اپنی تقریر ختم کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں  :
’’ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا، جو خاتم المؤمنینؐ، خاتم العارفین ؐ اور خاتم النّبیین ہے اور اسی طرح پروہ کتاب اُس پر نازل کی جو جامع الکُتب اور خاتم الکُتب ہے ۔ رسول اللہ ﷺ جو خاتم النّبیین ہیں اور آپؐپر نبوت ختم ہوگئی تو یہ نبوت اِس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلا گھونٹ کر ختم کردے۔ ایسا ختم قابل فخر نہیں  ہوتا۔بلکہ رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے سے یہ مُراد ہے کہ طبعی طور پر آپؐپر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔ یعنی وہ تمام کمالاتِ متفرقہ جو آدم ؑ سے لیکر مسیح ابن مریمؑتک نبیوں کو دیئے گئے تھے، کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی، وہ سب کے سب آنحضرت ﷺ میں جمع کردیئے گئے اور اس طرح پر طبعاً آپ خاتم النّبیین ٹھہرے۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 227،مطبوعہ قادیان 2003)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں  :
’’دُنیا کی مثالوں میں سے ہم ختم نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پرآکر اُس کاکمال ہوجاتا ہے جبکہ اُسے بدْر کہا جاتا ہے، اسی طرح پر آنحضرتﷺ پر آکر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔ جو لوگ یہ مذہب رکھتے ہیں کہ نبوت زبردستی ختم ہوگئی اور آنحضرت ﷺ کو یونس ؑ بن متیٰ پر بھی ترجیح نہیں دینی چاہیے، اُنہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں اورآنحضرتﷺ کے فضائل اور کمالات کا کوئی علم ہی اُن کو نہیں ہے۔ باوجود اس کمزوری فہم اور کمی ٔ علم کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختم نبوت کے منکر ہیں۔ میں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اوراُن پر کیا افسوس کروں۔ اگر اُن کی یہ حالت نہ ہوگئی ہوتی اور وہ حقیقت اسلام سے بکلی دور نہ جاپڑے ہوتے، تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی؟ اِن لوگو کی ایمانی حالتیں بہت کمزورہوگئی ہیں اور وہ اسلام کے مفہوم اور مقصد سے محض ناواقف ہیں، ورنہ کوئی وجہ نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ اہل حق سے عداوت کرتے جس کا نتیجہ کافربنادیتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 228،مطبوعہ قادیان 2003)
یہ ہے ختم نبوت کے بارے میں جماعت احمدیہ کا اسلامی عقیدہ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے غیر احمدی بھائیوں کو بھی اسے سمجھنے اور ماننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
واخر دعوانا ان الحمد للہ ربّ العالمین۔
…٭…٭…٭…