اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-07-03

’’ اسلامی آداب و اخلاق ‘‘ ( کھانے پینے ، صفائی ، راستوں کے حقوق، غض بصر، آداب مجالس اور آداب مساجدکی روشنی میں) ( مکرم مولانا عطاء المجیب لون صاحب صدر مجلس انصاراللہ بھارت )

امام دوران حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ الطریقۃ کلھا ادب‘‘ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 640ایڈیشن1988ء)یعنی روحانیت کی تمام تر بنیاد ادب پر ہے۔ روحانیت کی ترقی کے لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اسلام کے پیش کردہ آداب کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں ۔ یہی وہ کنجی ہے جس کے ذریعہ ہم کامل اخلاق کی طرف اپنا قدم آگے بڑھاسکتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ روحانیت کے اعلیٰ مدارج کی طرف رواں دواں رہ سکتے ہیں ۔
حضورعلیہ السلام فرماتے ہیں:’’قُرآن کریم وہ تمام آداب سکھاتا ہے کہ جن کا جاننا انسان کو انسان بننے کے لئے نہایت ضروری ہے اور ہر ایک فساد کی اسی زور سے مدافعت کرتا ہے کہ جس زور سے وہ آج کل پھیلا ہوا ہے ۔ اس کی تعلیم نہایت مستقیم اور قوی اور سلیم ہے ۔ گویا احکام قدرتی کا ایک آئینہ ہے اور قانونِ فطرت کی ایک عکسی تصویر ہے ۔ ‘‘
( براہین احمدیہ حصہ دوم ، روحانی خزائن جلد 1صفحہ 82 )
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اپنی کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں اصلاح کے جو تین طریق بیان فرمائے ہیں اُن میں پہلا طریق آپ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ’’بے تمیز وحشیوں کو اس ادنیٰ خُلق پر قائم کیا جائے کہ وہ کھانے پینے اور شادی وغیرہ تمدنی امور میں انسانیت کے طریقے پر چلیں ۔ نہ ننگے پھریں اور نہ کتوں کی طرح مردار خوار ہوں اور نہ کوئی اور بے تمیزی ظاہر کریں ۔ یہ طبعی حالتوں کی اصلاحوں میں سےادنیٰ درجہ کی اصلاح ہے.یہ اس قسم کی اصلاح ہے کہ اگر مثلاً پورٹ بلیر کے جنگلی آدمیوں میں سے کسی آدمی کو انسانیت کے لوازم سکھلانا ہو تو پہلے ادنیٰ ادنیٰ اخلاق انسانیت اور طریق ادب کی ان کو تعلیم دی جائے گی۔‘‘
(اسلامی اصول کی فلاسفی)
سامعین کرام !ہمارے پیارے آقا سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ خاتم النبیین ﷺ نےجو عظیم الشان انقلاب عرب کے بیابانی ملک میں برپا کیا اُس کی بنیاد انسانی آداب و اخلاق سکھانے کے ذریعہ سے ہی آپ نے رکھی ۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:’’درحقیقت یہ کامل اصلاح آپ ہی سے مخصوص تھی کہ آپ نے ایک قوم وحشی سیرت اور بہائم خصلت کو انسانی عادات سکھلائے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ بہائم کو انسان بنایا اور پھر انسانوں سے تعلیم یافتہ انسان بنایا۔ اور پھر تعلیم یافتہ انسانوں سے باخدا انسان بنایا۔ اور روحانیت کی کیفیت ان میں پھونک دی اور سچے خدا کے ساتھ ان کا تعلق پیدا کر دیا‘‘
(لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 206-207)
رسول کریم ﷺ جس زمانہ میں دنیا میں مبعوث ہوئے اُس زمانہ میں انسان کی کیا حالت تھی اُس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر فرمایا کہ ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ(الروم :42)یعنی کیا انسانی آداب کے لحاظ سے ، کیا اخلاقی لحاظ سے اور کیا روحانی لحاظ سے ہر لحاظ سے انسان کی حالت بد سے بد تر تھی ۔ فساد ہی فساد تھا ۔ اور انسان کی حالت مردہ کی طرح تھی ۔ایسے میں رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا۔(الحدید:18) یعنی یہ بات جان لو کہ اب اللہ تعالیٰ نئے سرے سے زمین کو بعد اس کے مرنے کے زندہ کرنے لگا ہے۔
الغرض رسول پاک ﷺ ایک ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے جس میں عرب کے لوگ انسانی آداب سے بالکل عاری تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اُن کے بارہ میں فرمایا کہ اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ یعنی وہ وحشیوں کی طرح بلکہ اس سے بھی گمراہ کن حالات میں تھے ۔(الاعراف:180)
اس مقام سے اُٹھا کر آنحضرت ﷺ نے اُن کو اُس مقام تک پہنچایا جس میں اُنہوں نے نہ صرف انسانی آداب سیکھے ، بلکہ انہوں نے اخلاق کے بھی اعلیٰ ترین معیار حاصل کئے اور پھر روحانیت کے بھی بلند ترین مقام پر فائز ہوئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ کی عظیم سند عطا کی یعنی اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہوااور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے ۔
حضرت رسول اکرم ﷺ نے اُنہیں اُٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے کے آداب سکھائے ، کھانے پینےاور دعوتوںکے آداب ،ملاقات کے آداب، بڑوں اور بزروگوں کا ادب و احترام،گفتگو اور بات کرنےکے آداب، سونے جاگنے کے آداب، کپڑے پہننے کے آداب، صفائی کے آداب،نکاح اور شادی کے آداب، رشتوں کے حقوق اور آداب، ہمسائیگی کے آداب، تجارت اور روزمرہ کے کام کاج کے آداب، خرید و فروخت کے آداب، سفر کے آداب، میل ملاپ اور ملاقات کے آداب،کسی کے گھر جانے کے آداب، گھر سےنکلنے اور واپس داخل ہونے کے آداب، عیادت کے آداب، تعزیت کے آداب، تجہیز و تکفین کے آداب،مجالس کے آداب، مساجد کے آداب، عبادت اور دعاکے آداب،غرض کہ ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز سکھائی۔یہاں تک کہ بیت الخلاء کے بھی آداب سکھائے۔پھر اُنہوں نے یہ آداب و اخلاق ایسے سیکھے کہ دنیا کے لئے قابل تقلید بن گئے۔ اور رسول اکرم ﷺ نے اُنہیں یہ سند عطا کی کہ اَصْحَابیِ کَالنَّجُوْم فبایھمُ اقْتدیم اِھتدیتم کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں اُن میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے ۔
(جامع البیان العلم وفضلہ)
حضرت مسیح موعودؑ نے کیا خوب نقشہ کھنچاہے کہ :
صَادَفْتَھُمْ قَوْمًا کَرَوْثٍ ذِلَّۃً
فَجَعَلْتَھُمْ کَسَبِیْقَۃِ الْعِقْیَانٖ
کہ تو نے اُن کو گوبر کی طرح ذلیل پایا اور پھر سونے کی ڈھلی کی مانند بنا دیا۔
آئیے سرسری نگاہ سے اُن آداب کا جائزہ لیتے ہیں جو اسلام اور بانی اسلام نے ہمیں سکھائے ہیں ۔
کھانے پینے کے آداب:سب سے پہلے کھانے پینے کے آداب کی بات کرتے ہیں ۔غذا انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے ۔ غذا جہاں انسان کے جسم کی نشو نما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے وہاں انسان کے اخلاق پر بھی غذا کا ایک گہرا اور لازمی اثر ہوتا ہے ۔ اس حقیقت کے پیش نظر کھانے پینے کے اسلامی آداب میں نہ صرف یہ بات شامل ہے کہ ہمیں کس طرح کھانا چاہئے بلکہ یہ بھی شامل ہے کہ ہمیں کیا کھانا چاہئے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ۔ کہ وہ رزق جوہم نے تمہے دیا ہے اُس میں سے پاک چیزیں کھاؤ۔ ( البقرہ: 173)پھر فرمایا کہ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا۔ اے لوگو اُس میںسےجو زمین میں ہے حلال اور طیب کھاؤ ۔ ( البقرہ: 169)حلال و حرام کی تفصیل بیان کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان ہدایات میں پاکیزہ چیزیں کھانے کی تاکید فرمائی ہے اور پاکیزہ چیزوں میں ہر وہ حلال چیز شامل ہے جو انسان کے جسم کی نشو نما میں مثبت کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی اخلاقی اور روحانی ترقی کا بھی باعث ہو ۔ پس یہ وہ بنیادی اصول ہے جو ہماری اس بات کی طرف راہنمائی کرتا ہے کہ ہمیں کیا کھانا چاہئے۔ پھرکھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، صاف برتن میں کھانا کھانا، اللہ کا نام لے کر بسم اللہ علیٰ برکۃ اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرنااور کھانا ختم کرنے پر الحمد للہ الذی اطعمنا و سقانا و جعلنا من المسلمین پڑھنااور کھانا کھانے کے بعد کلی کرنا اور ہاتھ اور برتن صاف کرناایسے آداب ہیں جن کو ہم میں سے ہر ایک جانتا ہے اور عمل بھی کرتا ہے ۔حفظان صحت کے لئے یہ ایسے اصول ہیں کہ ان کے بارہ میں دلائل دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔
کوئی بھی کھانے یا پینے والی چیز دائیں ہاتھ سے استعمال کرنا بھی سنت رسول ﷺ ہے ۔اور اس سلسلہ میں آنحضور ﷺ کا تاکیدی ارشاد بھی موجود ہے ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ دونوں ہاتھ اللہ نے دئے ہیں جس ہاتھ سے بھی انسان کھائے اس میں کیا حرج ہے ۔ ایسے لوگوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ کیا جو ہاتھ بیت الخلاء میں گندگی صاف کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اُسی ہاتھ سے کھانا کھانا انسان کی فطرت قبول کرتی ہے ۔ ہاں کھانے یا پینے کے لئے دائیں ہاتھ کی معاونت میں کوئی بے ادبی یا عیب نہیں ہے ۔
اللہ کے دئے ہوئے رزق کی قدر کرنا ، اس کا ادب و احترام کرنا بھی ہم پر واجب ہے ۔ بعض لوگ لیٹے ہوئے یا تکیہ کے سہارے ٹیک لگائے ہوئے کھانا کھاتے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے تکیہ لگا کر کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے ۔(بخاری کتاب الاطعمہ) کیونکہ یہ ایک متکبرانہ انداز ہے اور یہ طریق اللہ کے دئیے ہوئے رزق کی نا قدری کا مترادف ہے ۔
بعض لوگوں کی عادت ہے کہ خوب پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں یہاں تک کہ ڈکارنےلگ جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یا د رکھنا چاہئے کہ مومن کی یہ صفت ہے کہ وہ کم خور ہوتا ہے ۔ حضور ﷺ کی خوراک بہت کم اور سادہ ہوتی تھی ۔آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ کہ دو آدمی کا کھانا تین کو اور تین کا چار کو کفایت کرتا ہے ۔
( مسلم کتاب الاشربہ)
بعض علاقوں میںلوگ شادی بیاہ کے موقعہ پر ، دعوتوں اور ولیموں وغیرہ میں بہت زیادہ اسراف کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض دفعہ غریب لوگ اسراف کر کے مالی مشکلات کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ اسلام نے قطعاً یہ طریق ہمیں نہیں سکھایا ہے ۔ بلکہ صرف حسب ضرورت کھانے پینے کی تعلیم دیتے ہوئے اسراف سے کلیۃً ممانعت فرمائی ہے ۔ اس سلسلہ میں یہ اہم اور بنیادی ہدایت ہے کہ : کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا۔ کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو۔ (سورۃ الاعراف :32)
پھردعوتوں کے آداب میں ایک لازمی عنصر یہ ہے کہ امیر لوگ جب دعوت کریں تو امیروں کے ساتھ ساتھ غریبوں کو بھی دعوت میں بلائیں ۔ آنحضرت ﷺ فرماتے تھے کہ بد ترین دعوت وہ ہے جس میں امیر لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نظر انداز کر دیا جائے ۔ ( بخاری کتاب النکاح)اسی طرح اگر کوئی غریب اُمراء کو دعوت پر بلائے تو اُن کو چاہئے کہ لازماً اس دعوت میں شامل ہوں ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ لو دُعیتُ الی کراعٍ لَاُجبتُ ۔ کہ کوئی غریب شخص بکری کے کھُر پر بھی مجھے دعوت پر بلائے تو میں اس کی دعوت کو ضرور قبول کروں گا۔
( شمائل ترمذی باب ماجاء فی تواضع رسول اللہ ﷺ)
دعوتوں میںحسب ضرورت ہی کھانا لینا چاہئے تاکہ کھانا ضائع نہ ہو۔ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر بھی ہم حضرت مسیح موعودؑ کے لنگر سے تیار کردہ ضیافت سے استفادہ کرتے ہیں ۔ اس موقعہ پر بھی ہمیں کھانے کے ان آداب کو بخوبی یاد رکھنا چاہئے ۔ کھانے کی حرص دکھانے کی بجائے بھوک مٹانے کی حد تک کھانا کھانا چاہئے ۔ کھانا ضائع کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے ، کھانے کے برتن ، کھانے کی جگہ اور آس پاس کے ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھنا چاہئے۔یہی ان اسلامی آداب کا تقاضا ہےجو کھانے پینے سے تعلق رکھتے ہیں ۔
پانی یا مشروبات کے استعمال کے سلسلہ میں اس چیز کا خیال رکھنا بھی شامل ہے کہ پینے کا برتن دائیں ہاتھ سے پکڑا جائے ۔ بلا ضرورت کھڑے ہو کر پانی نہ پیا جائے ۔ ایک موقعہ پر آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ اونٹ کی مانند ایک دم مت پیا کرو بلکہ دو تین سانس لے کر پیا کرو۔ ( ترمذی ابواب الاشربۃ)اسی طرح آپ ﷺ نے پانی پیتے وقت برتن کے اندر سانس لینے سے بھی منع فرمایا ہے ۔ ( مسلم کتاب الاشربۃ)
یہ بھی عرض کردوں کی پانی کے استعمال کے آداب میں یہ ضروری چیز بھی شامل ہے کہ پانی ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔ آج کل پانی کے بہت مسائل دنیا میں پیدا ہو رہے ہیںپانی کی کمی ہورہی ہے دنیا پریشان ہے۔ لیکن ہمارے پیارے آقا حضرت محمد عربی ﷺ نے آج سے پندرہ سو سال پہلے ہمیں پانی کو ضائع کرنے سے بچنے کی تلقین فرمائی ۔ ایک بار آپ ﷺ نے ایک صحابی کو وضو کرتے ہوئے پانی کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرتے ہوئے دیکھا تو اُسے نصیحت فرمائی کہ ’’پانی ضائع نہ کروخواہ بہتے ہوئے دریا کے کنارے پر ہو‘‘ ( مسند احمد بن حنبل) غور کا مقام ہے بہتے ہوئے دریا پر جہاں وافر مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے وہاں پانی ضائع نہ کرنے کی نصیحت ہے تو اپنے گھروں یا دوسری جگہوں میں ہمیں پانی کے استعمال میں کتنی احتیاط برتنی چاہئے ۔
صفائی کے آداب:پھر صفائی کے اسلامی آداب ہیں۔صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے کے بارہ میں کون انکار کر سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ قُرآن مجید میںفرماتا ہے:اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ (سورۃ البقرہ آیت 223:) یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے بھی محبت کرتا ہے اور ظاہری صفائی اختیار کرنے والوں سے بھی محبت کرتا ہے ۔
بانی جماعت احمدیہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ اس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہےَ‘‘ ۔
(الحکم ۱۷ ستمبر ۱۹۰۴ء جلد نمبر ۸ نمبر ۳۱
بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ جلد اوّل صفحہ ۷۰۵)
اسلام اس بات پر زور دیتا ہے کہ اگر تم باطنی پاکیزگی یعنی روحانی پاکیزگی چاہتے ہو تو اس کے لئے ظاہری پاکیزگی اور صفائی شرط ہے ۔ ظاہری صفائی اور پاکیزگی کے بغیر باطنی صفائی اور پاکیزگی حاصل نہیں ہوسکتی ۔
بانی اسلام حضرت محمد عربی ﷺ نےصفائی کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے فرمایا اَلطَّہُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ ۔(مسلم کتاب الطہارۃ ) پھر اللہ تعالیٰ نے قُرآن مجید میں فرمایا: وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ۔ وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ (المدثر:۵۔ ۶) اپنے کپڑے صاف رکھو، بدن کو، اور گھر کو اور کوچہ کو اور ہر ایک جگہ کو جہاں تمہاری نشست ہو پلیدی اور میل کچیل اور کثافت سے بچاؤ۔
(اسلامی اصول کی فلاسفی)
ایک بارآنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے تو فرمایا کہ سر اور داڑھی کے بال درست کرو۔ جب وہ سر کے بال ٹھیک ٹھاک کرکے آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ خوبصورت شکل بہتر ہے یا یہ کہ انسان کے بال اس طرح بکھرے اور پراگندہ ہوں کہ وہ شیطان اور بھوت لگے۔ (موطا ء امام مالک۔ باب ما جاء فی الطعام و الشراب و اصلاح الشعر)پھرگھروں، گلی کوچوں اور سڑکوں کی صفائی کا بھی اسلام میں حکم ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ اگر سڑک پر جھاڑیاں یا پتھر اور کوئی گندی چیز ہوتی تو آنحضرت ﷺ اسے خود اٹھا کر ایک طرف کر دیتے اور فرماتے کہ جوشخص سڑکوں کی صفائی کا خیال رکھتا ہے خدا اس پر خوش ہوتا ہے اور اسے ثواب عطا کرتا ہے۔ (مسلم۔ کتاب البر و الصلۃ)
حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’ تیسری دنیا کے ممالک میں اکثر جہاں گھر کا کوڑا کرکٹ اٹھانے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں ہے، گھر سے باہر گند پھینک دیتے ہیں حالانکہ ماحول کو صاف رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اپنے گھر کو صاف رکھنا۔ ورنہ تو پھر اس گند کو باہر پھینک کر ماحول کوگندا کر رہے ہوں گے اور ماحول میں بیماریاں پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہوں گے۔ اس لئے احمدیوں کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ کوئی ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ گھروں کے باہر گند نظر نہ آئے۔‘‘ (خطبہ جمعہ 23؍ اپریل 2004ء)
پھرآنحضرت ﷺ دانتوں کی صفائی کے بارہ میں فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے لوگوں کی تکلیف کا خیال نہ ہوتا تو میں ان کو یہ حکم دیتا کہ ہر نماز سے پہلے مسواک کیا کریں۔ (بخاری۔ کتاب الصلوٰۃ بالسواک یوم الجمعۃ)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس سلسلہ میں فرماتے ہیں :
’’ ایک تحقیق یہ بھی کہتی ہے کہ آدمی جب صبح اٹھتا ہے تو اس کے دانتوں پر چھ سو مختلف سپیشیز(species) کے لاتعداد بیکٹیریا ہوتے ہیں۔ سپیشیز (species) ہی چھ سو ہوتی ہیں جو دانتوں پہ لگی ہوتی ہیں اور تعداد کتنی ہے، یہ پتہ نہیں۔ لیکن دیکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ سو سال پہلے ہمیں بتا دیا کہ سو کر اٹھو تو پہلے دانت صاف کرو۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ 23؍ اپریل 2004ء)
جسمانی صفائی کے پس منظر میں ہی کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے کا حکم ، کھانا کھانے کے بعد کلی کرنے کا حکم ہے، مونچھیں تراشنے، ناک صاف رکھنے، ناخن باقاعدگی کے ساتھ کٹوانے،بغلوں کے بال کاٹنے، استنجا کرنے ،باقاعدہ غسل کرنے، ہر نماز کے لئے وضو کرنے وغیرہ کے تعلق سے احکام موجود ہیں۔پھر مساجد اور اجتماع کی جگہوں میں بد بو دار چیز کھا کر نہ جانےکا بھی حکم ہے ۔ اور یہ تمام احکام حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ظاہری پاکیزگی اختیار کرنے کے بارہ میں مختلف آداب سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اسلامی تعلیمات کا حُسن ہے کہ ہر وہ چیز جو انسان کی جسمانی ، اخلاقی ، روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے اُس کو ہر پہلو سے کامل رنگ میں بیان کیا گیا ہے ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفائی اور جسمانی طہارت کے آداب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’ ہماری جسمانی پاکیزگی کو ہماری روحانی پاکیزگی میں بہت کچھ دخل ہے۔ کیونکہ جب ہم جسمانی پاکیزگی کو چھوڑ کر اس کے بد نتائج یعنی خطرناک بیماریوں کو بھگتنے لگتے ہیں تواس وقت ہمارے دینی فرائض میں بھی بہت حرج ہو جاتا ہے اور ہم بیمار ہو کر ایسے نکمے ہو جاتے ہیں کہ کوئی خدمت دینی بجا نہیں لا سکتے اور چند روز دکھ اٹھا کر اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں بلکہ بجائے اس کے کہ بنی نوع کی خدمت کر سکیں اپنی جسمانی ناپاکیوں اور ترکِ قواعدِ حفظان صحت سےاوروں کے لئے وبال جان ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
(ایام الصلح صفحہ ۹۵، ۹۶۔ بحوالہ تفسیر
حضرت مسیح موعود ؑ جلد چہارم صفحہ ۴۹۶، ۴۹۷)
راستوں کے حقوق و آداب(غض بصر):اب راستوں کے حقوق و آداب کا ذکر کرتا ہوں ۔سر ور دو عالم حضرت محمد عربی ﷺ نے ہمیں جہاں خدا تک پہنچنے کا رستہ دکھایا وہاں آپ نے عام چلنے والے راستوں اور ان پر موجود نشست گاہوں کے استعمال کے آداب بھی سکھائے تاکہ مسلمان کے ہاتھ ، زبان یہاں تک کہ نظر سے بھی کسی کو دُکھ یا تکلیف نہ پہنچے۔ آپ ﷺ نے راستوں پر بلا وجہ بیٹھنے سے ہمیں منع فرمایا ہے فرمایا: اِیَّاکُم و الجلوسَ علی الطریقاتِ ۔خبردار راستوں پر نہ بیٹھنا۔ (مسلم کتاب السلام)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:
’’ آپؐ نے فرمایا کہ راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ جب صحابہ نے کہا کہ ہم بیٹھنے پر مجبور ہیں کیونکہ اس زمانے میں کاروباری جگہیں تو نہیں تھیں، دفاتر نہیں ہوتے تھے کہ وہاں بیٹھ کر کاروباری معاملات طے کریں اس لئے بازاروں میں بیٹھ کر، راستوں میں بیٹھ کر طے کئے جاتے تھے۔ آپ نے اس بات کو سن کر فرمایا کہ پھر راستوں کے حق ادا کرو۔ جب عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! راستوں کے حق کیا ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظریں نیچی رکھا کرو۔ دکھ دینے سے بچو کہ یہ راستے کا حق ہے۔ سلام کا جواب دو کہ یہ راستے کا حق ہے۔ نیک بات کی تلقین کرو اور بری بات سے روکو کہ یہ راستے کا حق ہے۔ ‘‘
(صحیح البخاری کتاب المظالم والغضب)
(بحوالہ خطبہ جمعہ یکم دسمبر 2017ء)
تکلیف دہ چیز کوراستہ سے ہٹانے کے حوالے سے حضور ﷺ نےفرمایا کہ میں نے ایک آدمی کو بہشت میں سیر کرتے دیکھا اس عمل کے ثواب میں کہ ایک درخت مسلمانوں کی راہ میں ایذا دیتا تھا ۔ اُس نے اس کی ایذا دینے والی شاخ کو کاٹ کر الگ کر دیا۔
( مسلم کتاب الادب)
پھر راستے کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اگر بامر مجبوری راستہ میں کھڑا رہنا بھی پڑے تو نگاہیں نیچی رکھی جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ۔ تو مومنوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں ۔ ( النور : 31)اسی طرح عورتوں کو بھی راستوں سے گزرتے وقت اپنی زینت کو ظاہر نہ کرنے اور نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے ۔ فرمایا:وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ۔ اور تو مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ۔
( النور :32)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’مومن کو نہیں چاہئے کہ دریدہ دہن بنے یا بے محابا اپنی آنکھ کو ہر طرف اٹھائے پھرے بلکہ یغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ(النور:31) پر عمل کر کے نظر کو نیچی رکھنا چاہئے اور بد نظری کے اسباب سے بچنا چاہئے۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 53مطبوعہ ربوہ)
راستے میں آنے جانے والوں کو ایک دوسرے کو سلام کہہ کر دعا دینے کابھی حکم ہے ۔آنحضور ﷺ نے سلام کو رواج دینے کی تعلیم دی ہے فرمایا اَفشوا السلامَ بینکم کہ اپنے درمیان سلام کو رواج دو۔خود آنحضور ﷺ مسلم غیر مسلم سب کو سلام کہا کرتے تھے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ ﷺ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان، مشرکین، بُت پرست، یہود سب ملے جُلے بیٹھے تھے آپ نے اُن سب کو سلام کہا ۔
(بخاری کتاب الاستیذان)
گفتگو کے آداب:آپس میں بات چیت کرنے اور گفتگو کرنے کے بھی آداب اسلام نے بیان کئے ہیں ۔زبان ، جسم کا وہ عضو ہے جس سے انسان جنت اور دوزخ کی راہ استوار کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قُرآن مجید میں فرماتا ہے کہ مَا یَلفِظُ مِن قَولٍ اِلّآ لَدَیہِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ۔ یعنی انسان کوئی بات نہیں کرتا مگر اُس کے پاس ایک نگران یا محافظ ہوتا ہے ۔ ( سورۃ قٓ : 19) رسول کریم ﷺ صحابہ کو فرمایا کرتے تھے کہ دوزخ کی آگ میں اوندھے مہنہ انسان کی زبانوںکے پھل ہی گرائیںگے ۔ ( ترمذی ابواب الایمان)آنحضرت ﷺ نے یہ اصول بھی بیان فرمایا ہے کہ المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ۔کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں ۔
(بخاری حدیث 6484)
آداب کلام اور گفتگو میں سب سے بنیادی بات اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھائی ہے کہ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا۔ یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ۔ یعنی وہ بات کہو جو سچی ہو ۔اس کے نتیجہ میں وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔(سورۃ الاحزاب:71،72)پھر فرمایا کہ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ۔ کہ تم لوگوں سے ملاطفت سے بات کیا کرو۔ ( البقرہ: 84)اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قَوْلًا لَّیِّنًا یعنی نرم بات کرنے کی تاکید بھی فرمائی ہے ۔ (طہ: 45)
مومنین کی صفت قُرآن مجید میں کاظمین الغیظ بیان ہوئی ہے کہ وہ غصہ پی جانے والے ہیں اور نرمی اور ملاطفت سے بات کرتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو دوسروں کو پچھاڑتا ہے بلکہ وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے ۔ (بخاری کتاب الادب)
زبان کا اخلاق کی نشو نما کے سلسلہ میں ایک اہم کردار ہے ۔ اس لئے ایک مسلما ن کے لئے ضروری ہے کہ وہ آداب گفتگو کو ملحوظ رکھے ، سخت زبان نہ ہو، برے نام سے پکارنے والا نہ ہو، گالی گلوچ اور لعن طعن کرنے والا نہ ہو،چغلی کرنے والا اور تہمت لگانے والا نہ ہو،اپنی باتوں سے کسی کی حقارت کرکے اُس کی ہنسی اُڑانے والا نہ ہو،لغو باتوں سے پرہیز کرنے والا اور اعراض کرنے والا ہو، اُس کے کلام میں غیبت اور عیب چینی اور بد ظنی نہ ہو،طنزیہ یا دل شکنی کرنے والا مذاق کرنے والا نہ ہو،صاف اور کھری بات کرنے والا ہو،ہمیشہ نرمی سےنیک بات کرنے والا ہو، اُس کا کلام لوگوں میں دوری پیدا کرنے والا نہ ہو بلکہ اُن کو جوڑنے والا ہو۔ اگر ایسا ہو گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اُس کے اخلاق بھی سنور جائیں گے اور ایسے اخلاق کا وہ حامل بنے گا جس کے نتیجہ میں اُس کا قدم روحانیت میں ترقی کی طرف بڑھے گا۔
پھر حضور ﷺ نے ہمیں یہ بھی سکھایاکہ بہت زیادہ کلام بھی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ بعض اوقات کثرت کلام سے فساد پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ بعض لوگ دعوتوں میں، راستوں میں کھڑے ہو کر ہنسی ، ٹھٹھامذاق اور فضول کی باتوں میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ گھنٹوںبرباد کردیتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے اس سلسلہ میں ہمیں یہ ادب سکھایا ہے کہ اللہ کے ذکر کے بغیر زیادہ کلا نہ کرو ۔فرمایا: لَا تُکْثِرُوا الْکَلَامَ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللّٰہِ فَتَقْسُوَ قُلُوْبُکُمْ فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِیَ بَعِیْدٌ مِّنَ اللّٰہِ۔ اللہ کے ذکر کے بغیر کثرت کلام سے دل سخت ہو جاتا ہے اور سنگ دل آدمی اللہ سے سب کے مقابلہ میں دور تر ہوتا ہے ۔
( ترمذی ابواب الزہد)
یہ بھی آداب گفتگو میں شامل ہے کہ بزرگوں کے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کرنی چاہئے ۔ مومنین کو یہ ادب آنحضرت ﷺ کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کرنے کی تاکید کرتے ہوئے یوں سکھایا گیاکہ یا ایھا الذین آمنو لا ترفعوا اَصواتکم فوق صوتِ النبیّ۔ اے مومنوا نبی ﷺ کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرو۔ ( الحجرات: 3)
آداب مجالس:اب کچھ ذکر آداب مجالس کا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دنیا میں بھیجتا ہے وہ پاک لوگوں کی مجلس میں آتے ہیں تو وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور پروں سے اس کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ ساری فضا ان کے سایہ برکت سے معمور ہوجاتی ہے ۔ جب لوگ اس مجلس سے اُٹھ جاتے ہیں تو وہ بھی آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں ۔ وہاں اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا۔ وہ کہتے ہیں ہم نے ایک مجلس دیکھی تھی جس میں لوگ تیری تسبیح و تحمید اور تیرا ذکر کر رہے تھے ۔ مگر ایک شخص ان میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں وہ بھی اُنہی میں سے تھا کیونکہ ھُم قومٌ لا یشقیٰ بِھِم جَلِیسُھُم یعنی وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم اور بد بخت نہیں رہتا۔ ( مسلم کتاب الذکر)
معزز سامعین! آپ بھی اس وقت یقینا ایک ایسی ہی مجلس میں بیٹھے ہیں۔ اس مجلس کی برکات سے حصہ پانے کے لئے اُن آداب کو ملحوظ رکھنا بھی از حد ضروری ہے جو ہمیں اسلام نے کامل رنگ میں سکھائے ہیں ۔ آئیے اس سلسلہ میں قُرآن و حدیث میں بیان کردہ آداب کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اس عظیم مجلس کے ادب کے تقاضوں کو ہم ملحوظ رکھ سکیں۔
ارشادباری تعالیٰ ہے کہ اے مومنو ! جب تم سے کہا جائے کہ مجالس میں کھُل کر بیٹھو اور دوسروں کو جگہ دو تو کھل کر بیٹھ جایا کرو۔ اللہ بھی تمہارے لئے کشادگی کے سامان پیدا کرے گا۔ ( المجادلہ : 12)پھر مجالس میں بیٹھنے والوں کو اس حکم کے ذریعہ بھی ایک ادب سکھایا گیا ہے کہ ’’ وَ اِذا قِیلَ انْشُزُوا فانشُزُوا‘‘ کہ جب تمہیں کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اُٹھ جایا کرو۔ (المجادلہ:12) اس حکم میں ہی یہ حکم اور ادب بھی مضمر ہے کہ جب تک مجلس سے اُٹھنے کے لئے نہ کہا جائے بلا وجہ اُٹھ کر نہیں جانا چاہئے ۔
اس جلسہ سالانہ میں بھی دیکھا گیا ہے کہ ابھی صدر اجلاس نے اجلاس کے اختتام کا اعلان نہیں کیا ہوتا ہے لیکن لوگ اس سے پہلے ہی اُٹھ کر جانے لگتے ہیں ۔ یہ بھی مجلس کے آداب کے خلاف ہے ۔پھر اس جلسہ سالانہ کے آخری اجلاس میں سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایم ٹی اےکے واسطہ سے ہم میں  موجود ہوتے ہیں۔ اس مجلس کے ادب کا بھی تقاضا ہے کہ جب تک ہمارے پیارے آقا کرسی پر رونق افروز ہیں اور ترانے سماعت فرما رہے ہیں تو ہم میں سے ایک بھی شخص ایسا نہیں ہونا چاہئے جو کھڑا ہو جائے اور اس بابرکت مجلس کی بے ادبی کا مرتکب بن جائے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے ۔آمین
مجلس میں کوئی ایسی حرکت نہیںکرنی چاہئے جو دوسروں کو ناگوار گزرے ۔ چھینک آئے تو جہاں تک ہو سکے آواز کو نیچا کرنا چاہئے ۔آنحضرت ﷺ کی عادت تھی کہ جب آپ کو مجلس میں چھینک آتی تو اپنا ہاتھ یا کپڑا منہ کے سامنے رکھ لیتے اور جس قدر ہو سکتا آواز کو دبا دیتے ۔ ( ترمذی کتاب الاستیذان)
مجالس میں تسبیح و تحمید،استغفار ، درود شریف کا ورد کرتے رہنا چاہئے ۔آنحضرت ﷺ نے ایک دفعہ صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو! جنت کے باغوں میں چرنے کی کوشش کرو۔ پوچھا گیا کہ جنت کے باغ سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا ’’ ذکر کی مجالس جنت کے باغ ہیں ۔ یعنی جن مجالس میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے وہ جنت کے باغوں کی مانند ہیں ۔
( حدیقۃ الصالحین۔بحوالہقشیریہ باب الذکر )
آداب مساجد:اب آداب مساجد کا کچھ ذکر کرتا ہوں۔مساجد اللہ کا گھر ہیںاور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اُس کی عباد کے لئے مخصوص ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنے اور مناجات کرنے کی جگہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے انوار و برکات کی تجلّی گاہ ہیں ۔مساجد در اصل خانہ کعبہ کا ظل ہیں ۔پس مساجد کا ادب و احترام کرنا اور ان کے تقدس کا خیال رکھنا ہر ایک لئے نہایت ضروری ہے ۔ مساجد کو ہمیشہ پاک صاف رکھنا ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَطَھِّرْ بَیْتِیْکہ میرے گھر کو ہمیشہ صاف اور پاک رکھو۔( الحج : 27)
پھر مسجد کا ادب یہ بھی ہے کہ پاک صاف ہو کر اور صاف ستھرا لباس پہن کر اور باوضو ہو کر جانا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ یٰبنی آدم خذوا زینتکم عند کل مسجد ۔( الاعراف: 32) یعنی اے آدم کے بیٹو ہر مسجد کے قریب زینت اختیار کر لیا کرو۔
حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’مساجد کے ماحول کو بھی پھولوں، کیاریوں اور سبزے سے خوبصورت رکھنا چاہئے، خوبصورت بنانا چاہئے۔ اور اس کے ساتھ ہی مسجد کے اندر کی صفائی کا بھی خاص اہتمام ہونا چاہئے… خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان میں مسجد کے اندر ہال کی صفائی کا بھی باقاعدہ انتظام ہو… صفیں اٹھا کر صفائی کی جائے، وہاں دیواروں پر جالے بڑی جلدی لگ جاتے ہیں، جالوں کی صفائی کی جائے۔ پنکھوں وغیرہ پر مٹی نظر آ رہی ہوتی ہے وہ صاف ہونے چاہئیں۔ غرض جب آدمی مسجد کے اندر جائے تو انتہائی صفائی کا احساس ہونا چاہئے کہ ایسی جگہ آ گیا ہے جو دوسری جگہوں سے مختلف ہے اور منفرد ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ 23؍ اپریل 2004ء)
اسی طرح مسجد کے ادب کا تقاضا ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پاؤں اندر رکھا جائےاور داخل ہونے کی دعا پڑھی جائےاور بلند آواز سے السلام علیکم کہا جائے اور باہر نکلتے وقت پہلے بایاں پاؤں باہر رکھا جائے اور باہر نکلنے کی دعا پڑھی جائے۔
مساجد میں بیٹھ کر گپیں ہانکنا اور ادھر اُدھر کی فضول باتیں کرنا،موبائل کا استعمال سخت ناپسندیدہ حرکت اور مسجد کے ادب اور تقدس کے خلاف ہے کیونکہ مساجد عبادت کے لئے بنائی گئی ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا انما ھی لذکرِ اللہ تعالیٰ و قِراءَۃِ القُرآن۔کہ مساجد اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قُرآن مجید پڑھنے کے لئے تعمیر کی جاتی ہیں ۔
(مسلم کتاب الطہارۃ)
مسجد میں نمازی کا بھی ادب ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو پاس بیٹھنے والے لوگوں کو اونچی آواز میں باتیں نہیں کرنی چاہئیں جس کی وجہ سے اُس کی نماز میں اور توجہ میں خلل واقع ہوسکتا ہے ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں:
’’مساجدذکر الہٰی کے لئے ہیں لیکن ذکر الہٰی ان تمام باتوں پر مشتمل ہے جو انسان کی ملّی،سیاسی، علمی اور قومی برتری اور ترقی کے لئے ہوں۔ لیکن وہ تمام باتیں جو لڑائی، دنگہ،فساد یا قانون شکنی سے تعلق رکھتی ہوں خواہ ان کا نام ملّی رکھ لو یا سیاسی۔ قومی رکھ لو یا دینی ان کا
مساجد میں کرنا ناجائز ہے۔ اسی طرح مساجد میں ذاتی امور کے متعلق باتیں کرنا بھی منع ہے کیو نکہ اسلام مسجد کو بیت اللہ قرار دیتا اور اسے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے مخصوص قرار دیتا ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد 6ص 29)
سامعین کرام!خاکسار نے نہایت اختصار کے ساتھ چند آداب کا ذکر کیا ہے۔ ان امورکے بارہ میں مزید تفصیلات بھی ہمیں قُرآن و حدیث میں ملتی ہیں ۔ یہ تفصیلات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اللہ اور اُس کے رسول ﷺ نے ہر چیز کی باریک در باریک باتیں ہمیںسکھائی ہیں ۔زندگی کے یہ آداب رہتی دنیا تک ہم سب کے لئے مشعل راہ ہیں ۔
ہمیں اس حقیقت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ آداب ہی در اصل ایک مومن کا حقیقی زیوراور اُس کی اصل پہچان ہیں ۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک مومن کے اندر ایمان تو ہو لیکن وہ ان آداب زندگی سے عاری ہو ۔ یہ آداب زندگی ہی حقیقی اور سچے اخلاق کے حصول کا ذریعہ ہیں اور پھر اخلاق حسنہ سے آراستہ ہونے کے بعدہی ایک انسان ایمان اور تقویٰ کے اعلیٰ مدارج حاصل کرسکتا ہے ۔
پس ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر قوموں کی رِیس میں ہم زندگی کے ان آداب سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم حسن اخلاق اور ایمان سے بھی بے بہرہ ہوجائیں گے۔ پس ہمیں چاہئے کہ ان آداب کو خود بھی اپنائیں اور اپنی آئندہ آنے والی نسل کو بھی ان آداب سے واقف کرائیں تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی ان آداب و اخلاق سے مزین و آراستہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔