اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ۔وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہٗ۔
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔
﷽
وَاِذَاسَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ۔ (سورہ بقرہ آیت 187)
وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ
(سورۃالمومن آیت 61)
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْٓءَ وَیَجْعَلُکُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ (سورۃ النمل آیت 63)
قابل احترام صدر اجلاس و معزز سامعین!!
خاکسارنےہستی باری تعالیٰ کو صفت سمیع الدعا کی روشنی میںکچھ بیان کرنا ہےتاکہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے ذریعہ ہم اس کی معرفت حاصل کر سکیں۔
سامعین کرام ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری پکار سنوں گا۔آج کی جدید نسل، مذہب،اور اللہ تعالیٰ سے اس لئے دور ہوتی چلی جا رہی ہے کہ ان کے مذہبی راہنما ان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی پہچان کرنے کا جو طریق بتاتے ہیں وہ نتیجہ خیزثابت نہیں ہوتا ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنی کسی حاجت روائی کے لئے کسی گھر کے دروازےکو اِس اُمید کے ساتھ کھٹکھٹائے کہ گھر والا اس کی مددکرےگا۔مگر بار بار کھٹکھٹانےکے اگر دروازہ نہیں کھلتا تو وہ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہوگا کہ گھر کے اندر کوئی نہیں ہےاور اگر ہوتاتو جواب دیتا۔ وہ ناامید ہوکر یہ سمجھ لیتا ہے کہ خدا کا وجود ہے ہی نہیں۔ اس کے بالمقابل سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
’’ جو ڈھونڈتا ہے پاتاہے اور جومانگتا ہے اس کو دیاجاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جاتا ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد1صفحہ430-429)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں کہ:
بارگاہِ ایزدی سے تو نہ یوں مایوس ہو
مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کشا کے سامنے
حاجتیں پوری کریں گے کیا تیری عاجز بشر
کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے
ان اشعار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہر انسان کو نصیحت فرماتے ہیں کہ تجھے اپنی اس دنیاوی زندگی میں مستقل اور لازمی طور پر رنج وغم،ناامیدی،الم،فکر و بلا اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑےگا اور اس کا علاج یہ ہے کہ تو بارگاہ ایزدی یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات سے مایوس نہ ہو۔مشکل کشاکے سامنے اپنی مشکلوں کو بیان کرتا چلا جا اور اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اسی کے در پر جھکارہ وہی حاجت روا تیری ضرورتوں کو پورا کرےگا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے لاکھوں افراد نے اس روحانی نسخے کو آزمایا اور اللہ سمیع الدعا کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ان کے لئے بارگاہ الٰہی کھولا گیا۔ اسی طرح سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسوۂ حسنہ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر مشکل کے پیش آنے پر آپؑنے اللہ سمیع الدعا کا دروازہ کھٹکھٹایا اور خدائے رحیم و کریم نے ان کی دعاؤں کو قبول کیا۔
سامعین کرام! اس مضمون کی مزید وضاحت کے لئے چند مثالیں بیان کی جاتی ہیں:
ایک اندازے کے مطابق سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر پہلی وحی مؤرخہ20؍اگست 610ء کو نازل ہوئی۔ابتداء میں آپﷺ کی زیادہ مخالفت نہیںہوئی لیکن اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعداد کو بڑھتے دیکھ کر مکّہ والوں نے آپﷺ کی سخت مخالفت شروع کر دی اور آپﷺ کو تبلیغ اسلام سے روکنے کے لئے ہر جائز و ناجائز کوششیں کیں۔اور جب یہ مخالفتیں اور رکاوٹیں انتہاء کو پہنچ گئیں تو سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے خدائے سمیع الدعا کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے بڑے درد کے ساتھ یہ دعا کی :
اَللّٰهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(مشکوٰۃ کتاب الفتن :5787)
یعنی اے اللہ ابی جہل یا عمر بن خطاب کے ذریعہ اسلام کی تائید و نصرت فرما۔
سامعین کرام!! ایک طرف حضور ﷺ کی یہ دعا تھی اور دوسری طرف حضرت عمر جو کہ ان دنوں آنحضرت ﷺ کے شدید مخالف اور دشمن تھے ۔ایک دن ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ اس مذہب کے بانی کا ہی کام تمام کردیا جائے اور اس خیال کے آتے ہی انہوں نے تلوار ہاتھ میں لی اور رسول کریمﷺ کے قتل کیلئے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ راستہ میں کسی نے پوچھاکہ عمرؓ کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کرنے کیلئے جا رہا ہوں۔ اس شخص نے ہنس کر کہا پہلےاپنے گھر کی تو خبر لو۔ تمہاری بہن اور بہنوئی تو مسلمان ہوگئے ہیں۔ حضرت عمر یہ سنتے ہی اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر چلے گئے اور باہر سے سنا کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت کر رہے ہیں گھر میں داخل ہوتے ہی اپنے بہنوئی کو مارنے کیلئے آگے بڑھے۔ آپ کی بہن اپنے خاوند کے بچاؤ کے لئےدرمیان میں آگئیں۔ حضرت عمرؓ چونکہ ہاتھ اٹھا چکے تھے اور ان کی بہن اچانک درمیان میں آگئیں وہ اپنا ہاتھ روک نہ سکے اور ان کا ہاتھ زور سے ان کی ناک پر لگا اور اس سے خون بہنے لگا۔ بہن کا بہتاخون دیکھتے ہی حضرت رسول اکرمﷺ کا دعا کا اثر شروع ہوا اور حضرت عمر نےپوچھا بتاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے؟ بہن نے سمجھ لیا کہ عمرؓ کے اندر نرمی کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس نے کہا جاؤ تمہارے جیسے انسان کے ہاتھ میں مَیں وہ پاک چیز دینے کیلئے تیار نہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا پھر مَیں کیا کروں؟ بہن نے کہا وہ سامنے پانی ہے نہا کر آؤ تب وہ چیز تمہارے ہاتھ میں دی جاسکتی ہے۔ حضرت عمرؓغسل کرکے واپس آئے۔ بہن نے قرآن مجیدکے اور اق جو وہ سن رہے تھے آپ کے ہاتھ میں دئیے چونکہ حضرت عمرؓ کے اندر ایک تغیر پیدا ہو چکا تھا اس لئے قرآنی آیات پڑھتے ہی ان کے اندر رقت پیدا ہوئی اور جب وہ آیات ختم کر چکے تو بےاختیار انہوں نے کہا کہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً ارَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟بتایاگیاکہ آپؐ دارِ ارقم میں تشریف رکھتے ہیں۔ حضرت عمرؓ فوراً اسی حالت میں وہاں پہنچےاور دستک دی۔حضرت عمر ؓ کے اس طرح غیر متوقع طور پر آنے کی وجہ سے مسلمان خوف زدہ ہوگئے ۔حضرت حمزہؓ نئے نئے ایمان لائے ہوئے تھے وہ سپاہیانہ طرز کے آدمی تھے۔ انہوں نے کہا دروازہ کھول دو۔ مَیں دیکھوں گا وہ کیاکرتا ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے دروازہ کھول دیا۔ حضرت عمرؓ آگے بڑھے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔ عمر! کس لئے آئے ہو؟ حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہؐ ! مَیں تو آپؐکا غلام بننے کیلئے آیا ہوں۔یہ سننا تھا کہ مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اورجوش میں آکر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔‘‘
(بحوالہتفسیر کبیر جلد6 صفحہ141تا143)
سامعین کرام! ذرا غور کریں! رسول کریم ﷺ کو شدید مخالفت کا سامنا تھا اورآپﷺ نے خدائے سمیع الدعا کا دروازہ کھٹکھٹایااور اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سینے کو اسلام کے لئے کھول دیا۔اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہی تھا جو اتنے شدید مخالف کو قبول اسلام کے لئے آمادہ کر سکتا تھاورنہ کوئی اور ہستی اس تبدیلی پر قدرت نہیں رکھتی تھی۔
سامعین کرام! اسی طرح کا ایک واقعہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں ملتا ہے۔ آپ ؑ اپنی ایک عربی عبارت میں فرماتے ہیں جس کا اردو خلاصہ یہ ہے:
’’ میں رات دن گریہ وزاری کرتے ہوئے فریاد کیا کرتا تھا کہ اے رب! میرا بندوں میں سے کون مددگار ہے۔اے اللہ! میں کمزور فرد ہوں۔جب میں متواتر دعاکے لئےہاتھ اٹھاتا رہا اور دعاؤں سے آسمان کی فضائیں بھر گئیں تو میری دعا قبول ہوگئی اور اللہ رب العالمین کی رحمت جوش میں آئی اور رب کریم نے مجھے سچا دوست عطا فرمایا اس کا نام اس کی نورانی صفات کی طرح نور الدین ہے۔
(خلاصہ از عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام ،
روحانی خزائن جلد5صفحہ582-581)
حضرت مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سےاپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
میں جموں سے بٹالہ آیا اور وہاں سے یکہ لے کر قادیان پہنچااور قادیان اب جہا ںمسجد مبارک کے مشرق میں بڑا گیٹ ہے وہاں پہنچ کریکہ بان سے پوچھا مرزا صاحب کا مکان کونسا ہے۔تو اس نے مرز ا امام دین سے ملا دیا جن کو دیکھ کر میری طبیعت میں سخت انقباض پیدا ہوا کہ میں ان شخص سے ملنے کے لئے تو نہیں آیا … اسی شخص نے کہاں آپ کو مرزا غلام احمد صاحب سے ملنا ہے تو ان کا گھر پیچھے ہے۔اس کی یہ بات سن کر میری جان میں جان آئی کہ اب مجھے وہ مرزا مل جائےگا جسے میں تلاش کرنے آیا ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام عصر کی نماز کے بعد مسجدمبارک کی شمالی مغربی چھوٹی سیڑھیوں سےنیچے تشریف لارہے تھے۔مولانا نور الدین صاحب کی نظر جونہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر پڑی تو آپؓنے دل میں کہا کہ بس یہی مرزا ہے اور اس پر میں سارا ہی قربان ہو جاؤں۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 1صفحہ212)
سامعین کرام! اس واقعہ سے اظہر من الشمس کی طرح واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے اور ہر مضطر کی دعا کو قبول کرتی ہے۔بشرط کہ وہ دعا ،شرائط قبولیت کے مطابق ہو۔
سامعین کرام! اسلامی تاریخ میں سب سے پہلی جنگ غزوۂ بدر تھی جو مؤرخہ17؍رمضان 2 ہجری بمطابق 14؍مارچ 624ء کو بدر کے میدان میں لڑی گئی۔کفار مکہ کے پاس قریباً ایک ہزار تجربہ کار جنگجوں افراد کی فوج تھی جو اس زمانہ کے جدید ترین اسلحہ اور فوجی سامان کے ساتھ مسلح تھی۔دوسری طرف مسلمانوں کی تعداد 313افراد پر مشتمل تھی جوان کے مقابلہ کے لئے کھڑی تھی۔جن میں سے اکثر ناتجربہ کارتھے اور جنگی سامان نہ ہونے کے برابر تھا۔ان کو مکہ سے ہجرت کرکے آئے ہوئے ابھی دو سال ہوئے تھے ان کے پاس کھانے پینے اور رہائش کا بھی کوئی خاص ٹھکانہ نہ تھا تو انہوں نے جنگی تیاریاںکیا کرنی تھیں۔جب یہ دونوں طرف کی فوجیں آمنے سامنےکھڑی تھیں اگر اس زمانہ میں کوئی غیر جانبدار فریقین کاجائزہ لیتا تو بآسانی یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہو جاتا کہ کفار مکہ کا لشکر مسلمانوںکو چند منٹوں میں ہی نیست و نابود کر دےگا۔کیونکہ یہ ایک غیر متوازن مقابلہ تھا۔سیدنا حضرت محمد مصطفیﷺ کو مسلمانوں کی اس ظاہری کمزوری کا اندازہ تھا لہٰذا آپ ﷺ نے خدائے سمیع الدعا ء کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے بڑے الحاح سے یہ عرض کیا:
’’ اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ اِنْ تُھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِیْ الْاَرْضِ۔ ‘‘
اے میرے اللہ! اگر یہ مسلمانوں کی جماعت ہلاک کر دی گئی تو پھر زمین میں تیری سچی عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔
اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پکار کو سنا اورمٹھی بھرمسلمانوں کو تجربہ کار جنگجوں پر عظیم الشان فتح عطا فرمائی۔کفار مکہ کے 24رؤسا جن میں ابو جہل بھی شامل تھا قتل ہوئےا ور مسلمانوں نے ان کے70قیدی پکڑے۔
جس خدائے سمیع الدعا نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعا کو سنا آج بھی وہ آنحضرت ﷺ کے غلاموں کی دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کے لئے بھی قبولیت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
سامعین کرام!! عصر حاضر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو بھی قبول فرما کر دنیا پریہ واضح کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر زماںو مکاں میں موجود ہےاور وہی مشکل کشااور حاجت روا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔
جس طرح محمد مصطفیٰ ﷺ کے چچا ابو لہب اور قریبی رشتہ داروں نے تبلیغ اسلام کا ہر راستہ روکنے کی کوشش کی بعینہٖ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچازاد بھائیوں نے بھی ہر وہ رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش کی جس سے تبلیغ احمدیت کو روکا جا سکے۔
مؤرخہ5؍جنوری1900ء کو مرزا امام دین اور نظام دین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑکے صحابہ ؓکو تکلیف دینے کے لئے مسجد مبارک کے نیچے سے جو گلی مسجد اقصیٰ کی طرف جاتی ہے اس کے راستہ میں دیوار تعمیر کر دی اور راستہ بند کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ضلعی سرکاری افسران،ڈپٹی کمشنر گورداسپور سے رابطہ کرکے اس دیوار کو ہٹانے کی کوشش کی مگر ان کاروّیہ انتہائی مخالفانہ بلکہ جارحانہ تھا۔بالآخر آپؑنے گورداسپور کے ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں مقدمہ درج کروایا ۔مگر اس مقدمے کے دوران بھی ابتدائی طور پر کوئی امید افزاء صورت حال نظر نہیں آتی تھی۔ ان تشویشناک حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سمیع الدعا خدا کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اللہ تعالیٰ نے آپؑکو بذریعہ الہام یہ خوشخبری عطا فرمائی کہ
’’اَلرَّحٰی تَدُوْرُ وَیَنْزِلُ الْقَضَاءُ۔اِنَّ فَضْلَ اللہِ لَاٰتٍ وَلَیْسَ لِاَحَدٍ اَنْ یُّرُدَّ مَا اَتٰی۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد 2صفحہ73)
یعنی چکی گھومے گی اور قضاو قدر نازل ہوگی یعنی مقدمہ کی صورت بدل جائےگی۔یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جس کا وعدہ دیا گیا کہ ضرور آئےگا اور کسی کی مجال نہیں جو اس کو رد کر سکے۔
حضرات ِگرامی!! خدائے سمیع الدعا کی طرف سے خوشخبری ملنے کے بعد جج نے اپنے مخالفانہ رویہ کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا اور دیوار گرانے کا حکم دیا۔مرزا نظام دین پر اخراجات مقدمہ کے علاوہ 100روپئے جرمانہ بھی عائد کیا اور مؤرخہ12؍اگست 1901ء کو انہی ہاتھوں نے دیوار کو منہدم کیا جنہوں نے اس دیوار کو تعمیر کیا تھا۔
سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو رحمۃ للعٰلمین تھے اسی طرح آپﷺ کی بعثت ثانیہ کے مظہر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام رحمت مجسم تھے۔آپؑنے اپنے ان شدید ترین مخالفین کا ہرجانہ معاف فرمادیا۔
اس خاندان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کی وجہ سے مصائب کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا جو حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی جاری رہا۔چنانچہ ان مصائب سے تنگ آکر ان سے نجات کے لئے مرزا نظام دین حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے مکان پر آئے اور چوکھٹ پر سر رکھ کر زار زار رونے لگےاور کہنے لگا مولوی صاحب کیا ہماری مصیبت کا کوئی علاج نہیں ؟ خلیفۃ المسیح الاوّلؓنے جواب دیا مرزا صاحب ،میں خدائی تقدیر کو کس طرح بدل سکتا ہوں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ654روایت نمبر720)
سامعین کرام! اس واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین احمدیت اور دشمنان احمدیت کے لئے اس میں ایک انذار اور انتباہ ہے گو دشمنان احمدیت جو احمدیت کی ترقی اور تبلیغ کی راہوں میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ جلد یادیر اَلرَّحٰی۔ تَدُوْرُ وَیَنْزِلُ الْقَضَاءُ خدائےسمیع الدعا کی چکی گھومے گی اور مخالفین پر قضا نازل ہوگی۔اس وقت یہ رکاوٹیں کھڑی کرنے والےمعاندین خلیفۃ المسیح کی چوکھٹ پر سر رکھ کر کہیں گے کہ کیا ہماری مصیبت کا کوئی علاج نہیں؟اس وقت خلیفۃ المسیح اپنا فیصلہ سنائیں گے۔
جماعت احمدیہ مخالفین احمدیت سے نصیحتًا کہتی ہےکہ جس خدانے ماضی میں رکاوٹ کھڑی کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دیںوہی سمیع الدعا خدا زمانہ حال اور مستقبل میں سزا دینے پر قادر ہے۔لہٰذا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس نصرہ اللہ نصراً عزیزا کی نصیحتوں کو سنیں اور توبہ کرتے ہوئے جماعت احمدیہ میں شامل ہو جائیں۔ وما علینا الا البلاغ۔
سامعین کرام! قادیان سے قریباً 70کلو میٹر کے فاصلہ پر ایک شہر کپورتھلہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں یہاں ایک مخلص جماعت تھی اور منشی حبیب الرحمٰن صاحبؓکی ایک خاندانی مسجد تھی جو ان کے قبولیت احمدیت کے بعد احمدی احباب کے قبضہ میں تھی اور وہی اس میں نمازیں ادا کرتے اوریہیں جماعتی تقاریب منعقد ہوتی تھیں۔مخالفین احمدیت نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ یہ مسجد غیر احمدی مسلمانوں کو ملنی چاہیئے اورمتعدد عدالتوں اور پیشیوں میں سے یہ مقدمہ گزرتا ہوا اپنے آخری مرحلہ میں پہنچا تو احمدی احباب کو یہ علم ہواکہ فیصلہ کرنے والا جج بھی جماعت احمدیہ کا شدید مخالف ہے اور اس نے جماعت احمدیہ کے خلاف فیصلہ لکھ دیا ہے جو وہ عدالت میں سنا دےگا۔
اس حالت میں جماعت کپورتھلہ نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خطوط لکھے اور دعا کے لئے درخواست کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو جواب لکھا کہ’’ اگر میں سچا ہوں تو مسجد تم کو مل جائے گی‘‘۔ مگر جج نے بدستور مخالفانہ روش قائم رکھی۔آخر اس نے احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھا۔جس دن اس نے فیصلہ سنانا تھا اس دن وہ صبح کے وقت کپڑے پہن کر اپنی کوٹھی کے برآمدہ میں نکلا اور اپنے نوکر کو کہا کہ بوٹ پہنائو اور آپ ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔نوکر نے بوٹ پہناکر فیتہ باندھنا شروع کیا کہ یکلخت اسے کھٹ کی سی آواز آئی اس نے اوپر نظر اٹھائی تو دیکھا کہ جج کرسی پر اوندھا پڑا تھا۔اس نے ہاتھ لگایا تو معلوم ہوا مرا ہوا ہے گویا یکلخت دل کی حرکت بند ہوکر اس کی جان نکل گئی۔بعدازاں اُس جج کا قائم مقام ایک ہندوجج مقرر ہوا جس نے از سرنوتحقیق کرکےپہلے جج کا فیصلہ کاٹ کر احمدیوں کے حق میں فیصلہ کر دیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ57 روایت نمبر79)
حاضرین کرام! غور فرمائیںکہ فیصلہ بدلوانا کسی احمدی کے اختیار میں نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سچائی کو ثابت کرنے ،اورمسجد ،احمدیوں کو مل جانے کے لئے مخالف فیصلہ لکھنے والے جج کو صفحۂ ہستی سے مٹادینا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں تھا۔اور خدائے سمیع الدعا نے اپنی فعلی شہادت سے ثابت کر دیا کہ وہ عصر حاضر میں اپنے نیک بندوں کی دعائیں قبول کرکے اپنی ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔
سامعین کرام !سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عربی تعلیم کسی کالج یا یونیورسٹی سے حاصل نہیں کی تھی۔بلکہ بچپن میں چند قواعد صرف و نحو کی کتابیں آپ علیہ السلام نے ایک استاذ سے پڑھیں تھیں۔اس کے علاوہ آپ علیہ السلام نے کوئی عربی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مسیح موعود و مہدی معہود اور امتی نبی اور رسول کے روحانی مقام پر فائز فرمایا تو آپ علیہ السلام نے اردو اور فارسی میں تحریرات کا سلسلہ شروع کیا۔1893ء میں آپ علیہ السلام کتاب آئینہ کمالات اسلام تحریر فرمارہے تھے تو حضرت مولانا عبد الکریم صاحبؓنے اس کتاب کا کچھ حصہ عربی میں لکھنے کی درخواست کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی سادگی اور معصومیت سے فرمایا کہ’’ میں عربی نہیں جانتا۔‘‘اس جواب میں وہی جھلک تھی جو آنحضرت ﷺ کے اس جواب میں تھی جو آپؐنے غار حرا میں جبریلؑ کو دیا تھا۔ مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ۔اس پرحضرت مولانا عبد الکریم صاحبؓ نے فرمایا کہ میں کب کہتا ہوں کہ حضور عربی جانتے ہیں۔میری غرض یہ ہے کہ آپ کوہ ِطور پر جائیں اور وہاں سے کچھ لائیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا’’ میں دعا کروں گا۔‘‘
اللہ سمیع الدعا نے آپ علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا ۔حضور علیہ السلام اپنی کتاب انجام آتھم میں فرماتے ہیں۔علمت اربعین الفا من اللغات العربیۃ میں چالیس ہزار عربی لغات یعنی مصادر سکھایاگیا ہوں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس دعا کی قبولیت کے بعد کم و بیش 20عربی کتب تصنیف فرمائی۔سورہ فاتحہ کی تفسیر عربی زبان میں تحریر فرمائی اور اپنی کتاب اعجاز المسیح میں بڑی تحدی کے ساتھ اعلان فرمایا کہ:
’’ اگر آپ کے مقابل پر دنیا بھر کے علماء،حکماء اور فقہاء اور چھوٹے بڑے سب جمع ہوکر اس جیسی تفسیر لکھنا چاہیں تو وہ ہرگز نہیں لکھ سکیں گے۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ168)
پھر 15؍نومبر1902ء میں آپؑنے کتاب اعجاز احمدی شائع فرمائی جس میں اردو مضمون کے علاوہ 533 اشعار عربی زبان میں مناظرہ لُد کے متعلق تحریرفرمائے اور پھر فرمایا کہ میں نے یہ کتاب اور533 عربی اشعار صرف 5دنوں میں لکھے ہیں۔اگر مخالفین علماء 12دن میں ایسا قصیدہ لکھیں تو میں بلا توقف 10ہزار روپئے ان کو دے دوں گا۔122سال گزر گئے کسی کو جواب لکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔
سامعین کرام! حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو مولوی عبد الکریم صاحبؓکو فرمارہے تھے کہ میں عربی نہیں جانتا میں دعا کروں گا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدائے سمیع الدعا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کو قبول کرتے ہوئے چالیس ہزار مصدر نہیں سکھائے تو پھر کس نے یہ مصادر آپؑکو سکھائےاور پھر کس طرح آپؑنے عربی زبان میں معرکۃ آلاراء کتب و قصائد تصنیف فرمائے۔حضور علیہ السلام نے سچ فرمایاکہ:
قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے
سامعین کرام !! اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جماعت احمدیہ قرآن مجید اور سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالیٰ کی معرفت ، اس کی پہچان اور اس تک پہنچنے اور رسائی کے بارے میں جو طریق اور اصول بیان کرتی ہے ہزاروں احمدی افراد کے تجربہ سے ثابت ہے کہ وہ بالکل درست اور صحیح ہے۔ اس کو اختیار کرکے آج بھی ہرانسان خدائے سمیع الدعا کے حضور دعائیں کرکے اس کے وجود کو پہچان سکتا ہے اور اپنے ایمان کو مضبوط کر سکتا ہے۔
حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ:
حضرت مولانا صاحب قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کے بعد واپس اپنے گاؤں جا رہے تھے۔جب آپؓدریائےچناب بذریعہ کشتی عبور کرنے کے لئے ساحل پر پہنچے تو ملاح نے گرد آلود مطلع کی وجہ سے کشتی چلانے سےانکار کر دیا۔ مگر ایک بارات والوں کے اصرار پر وہ کشتی چلانے پر تیار ہوگیا۔ حضرت مولانا صاحب بھی ان کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے ۔جب کشتی دریا کے وسط میں پہنچی اور سورج غروب ہونے کو تھا تو آندھی چل پڑی جس کی وجہ سے ملاح نے کہا کہ آپ کو سوائے خداکے اور کوئی نہیں بچا سکتا۔ دریا ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔جب کشتی میں سوار تمام لوگوں نے حالات کی مایوسی دیکھی تو اس وقت تمام لوگوں نے بے اختیار چلانا شروع کر دیاکہ پیر بخاری اور خواجہ خضر اور پیر جیلانی مگر صورت حال تبدیل نہ ہوئی۔
حضرت مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے جب ان لوگوں کی آہ وزاری دیکھی تو میں نے بھی اس وقت دعا شروع کر دی ۔میرے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض کتابیں تھیں اس لئے میں نے خدا تعالیٰ کے حضور ان کتابوں کا واسطہ دیتے ہوئے یہ دعا کی کہ’’ اے مولیٰ کریم اگر ہم سب لوگ اس قابل ہیں کہ دریا میں غرق کر دئےجائیںا ور ہمارا کوئی عمل ایسا نہیں جو ہماری نجات کا موجب ہو سکے پھر تُو اپنے مقدس اور پیارے مسیح کی ان کتابوں کے طفیل جو انہوں نےلوگوں کے ہدایت اور نجات کے لئے شائع کروائی ہیں اس آندھی کو چلنے سے روک دے اور ہمیں بخیریت کنارے پر لگا دے۔‘‘
حضرت مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دو مرتبہ ہی ان دعائیہ کلمات کو دہرایا تھا کہ آندھی یک دم تھم گئی اور ہم لوگ بخیرت کنارے تک پہنچ گئے۔
(حیات قدسی صفحہ34)
اس واقعہ سے واضح ہے کہ عصر حاضر میں بھی اللہ تعالیٰ کی ہستی موجود ہے اور وہ قبولیت دعا کے ذریعہ پہچانی جاتی ہے جس کا کوئی بھی سعید الفطر ت انکار نہیں کر سکتا۔
آپ علیہ السلام نےرسالہ الوصیت میں نبوت کو قدرت اولیٰ اور خلافت کو قدرت ثانیہ تحریر فرمایا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات کا ثبوت قدرت اولیٰ کےذریعہ بھی دیتا ہے اور قدرت ثانیہ کے ذریعہ بھی۔چنانچہ عصر حاضر میں قدرت ثانیہ کے مظہر سیدناحضرت خلیفۃ المسیح الخامس نصرہ اللہ کے ایمان افروز واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی قبولیت دعا کے ذریعہ دنیا کو اپنی ذات کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔
مکرم عبد الماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن بیان کرتے ہیں کہ:
مئی 2006ء جمعرات کا دن تھا۔حضورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے فارایسٹ ممالک کے دورہ کے دوران ’’ناندی‘‘ فجی میں تھے۔ رات قریباًاڑھائی تین بجے کا وقت تھا کہ ربوہ،لندن اور دنیا کے مختلف ممالک سے فون آنے شروع ہو گئے کہ اس وقت ٹی وی پر جو خبریں آرہی ہیں ان کے مطابق ایک بہت بڑا سونامی( طوفان) فجی کے ساتھ والے جزائر Tonga میں آیا ہے اور یہ طوفان طاقت کے لحاظ سے انڈو نیشیا والے سونامی سے بڑا ہے۔ جس نے لکھو کھا لوگوں کو غرق کر دیا تھا اور دنیا کے کئی ممالک میں تباہی مچائی تھی ۔ جب ٹی وی آن کیا تو یہ خبریں آرہی تھیں کہ یہ سونامی مسلسل اپنی شدت اور طاقت میں بڑھ رہا ہے اور صبح کے وقت ’’ناندی‘‘ فجی کا سارا علاقہ غرق ہو جائے گا اور ارد گرد کے جزائر بھی غرق ہو جا ئیں گے۔ آسٹریلیا کا ایک حصہ بھی غرق ہو گا اور یہ نیوزی لینڈ کے بھی ایک بڑے حصہ کو غرق کر دے گا۔
صبح ساڑھے چار بجے جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نماز فجر کی ادائیگی کیلئے تشریف لائے تو حضور انور کی خدمت میں اس طوفان کے بارہ میں رپورٹ پیش ہوئی اور جو پیغامات خیریت دریافت کرنے کیلئے فون پر موصول ہور تھے ان کے متعلق بتایا گیا۔ حضور انور نے نماز فجر پڑھائی اوربڑےلمبے سجدے کئے اور خدا کے حضور مناجات کیں ۔ نماز سے فارغ ہو کر مسیح کے خلیفہ نے احباب جماعت کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ’’ فکر نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا ۔ کچھ نہیں ہوگا‘‘۔
اسکے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ہوٹل واپس تشریف لے آئے ۔ واپس آکر جب ہم نے ٹی وی آن کیا تو ٹی وی پر یہ خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ اس سونامی کازورٹوٹ رہا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی شدت ختم ہورہی ہے۔ پھرتقریباً دواڑھائی گھنٹے بعد یہ خبریں آئیں کہ اس سونامی کا وجودہی مٹ گیاہے۔
پس اس روز دنیا نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ وہ سونامی جس نے اگلے چند گھنٹوں میں لکھو کھا لوگوں کو غرق کرتے ہوئے اس سارے علاقہ کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا تھا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعا سے چند گھنٹوں میں خود اس کا وجود مٹ گیا۔اس روز فجی کے اخبارات نے یہ خبریں لگائیں کہ سونامی کا ٹل جانا کسی معجزہ سے کم نہیں۔مکرم عبد الماجد طاہر صاحب کہتے ہیں کہ میں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں اور میں اس بات کا گواہ ہوں کہ یہ معجزہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعا سے رونما ہوا۔
(الفضل انٹرنیشنل مؤرخہ 21 نومبر 2014 ءصفحہ15-16)
سامعین کرام!! خلیفۂ وقت کی دعائیں اور اس کی طرف سے عطا کردہ تبرک بہتوں کی شفا کا موجب بنتا ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور سمیع الدعا ہونے کا نشان دکھاتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ:
حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک دفعہ قیصر کے سر میں شدید درد ہوا ور باوجود ہر قسم کے علاج کے اُسے آرام نہ آیا۔کسی نے اسے کہا کہ حضرت عمرؓ کو اپنے حالات لکھ کر بھجوادو اور ان سے تبرک کے طور پر کوئی چیزمنگواؤ وہ تمہارے لئے دعا بھی کریں گے اور تبرک بھی بھجوادیں گے ان کی دعا سے تمہیں ضرور شفا حاصل ہو جائےگی۔اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا سفیر بھیجا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ یہ متکبر لوگ ہیں میرے پاس اس نے کہاں آنا تھا اب یہ دُکھ میںمبتلا ہوا ہے تو اس نے اپنا سفیر میرے پاس بھیج دیا۔ اگر میں نے اُسے کوئی اور تبرک بھیجا تو ممکن ہے وہ اسے حقیر سمجھ کر استعمال نہ کرے اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز بھجوانی چاہئے جو تبرک کا بھی کام دے اور اس کے تکبر کو بھی توڑ دے۔چنانچہ انہوں نے اپنی ایک پرانی ٹوپی جس پر جگہ جگہ داغ لگے ہوئے تھے اور جو میل کی وجہ سے کالی ہو چکی تھی اسے تبرک کے طور پر بھجوادی۔اس نے جب یہ ٹوپی دیکھی تو اسے بہت بُرا لگا تو اس نے ٹوپی نہ پہنی مگر خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ تمہیں برکت اب محمدرسول اللہ ﷺ کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ اسے اتنا شدید دردِسر ہواکہ اُس نے اپنے نوکروں سے کہا وہی ٹوپی لاؤ جو عمرؓ نے بھجوائی تھی تاکہ میں اُسے اپنے سر پر رکھوں ۔ چنانچہ اس نے ٹوپی پہنی اور اس کا درد جاتا رہا۔چونکہ اس کو ہر آٹھویں ،دسویں دن سر درد ہو جایا کرتا تھا،اس لئے پھر تو اسکا یہ معمول ہوگیا کہ وہ دربار میں بیٹھتا تو وہی حضرت عمر ؓ کی میلی کچیلی ٹوپی اس نے اپنے سر پر رکھی ہوئی ہوتی۔
(بحوالہ سیر روحانی صفحہ326)
دعا اور تبرک کے ذریعہ شفاپانے والے واقعات خلافت خامسہ میں بھی رونما ہوئے۔وقت کے رعایت سے ان میں سے ایک پیش خدمت ہے۔
ملک الجزائر سے تعلق رکھنے والی ایک نو احمدی خاتون نازیہ کاظمی صاحبہ نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات میں اپنی والدہ کی کینسر کی بیماری سے شفایابی کے لئے دعا کی درخواست کی۔جس پر حضور انور نے فرمایا کہ
’’ اللہ تعالیٰ صحت دے گا اور فضل کرےگا‘‘ اور ساتھ ہی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کے لئے ایک اَلَیْسَ اللہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ والی انگوٹھی بھی دی جو ان کی والدہ نے پہن لی ۔کچھ عرصہ بعد جب ان کی والدہ چیک اپ کے لئےگئیں تو ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان کو اب کسی قسم کے ٹیسٹ یا کیموتھراپی کی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی صحت اب کینسر ہونے سے پہلے کی صحت سے بھی زیادہ اچھی اور بہتر ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعا کی قبولیت کے اس نشان نے ان کے سارے خاندان کے دلوں کو بدل دیا اور اس نشان کو دیکھ کر 36افراد پر مشتمل خاندان بیعت کرکے جماعت میں داخل ہوگیا۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل مؤرخہ21؍نومبر2014ء صفحہ14)
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ’’ سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خداتو دعاؤں سے پہچانا جاتا ہے … بولنے والا خدا ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے۔ جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔جس نے کہا ہے ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْتم مجھے پکاروں میں تم کو جواب دوں گا ۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ کوئی ہو جو ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہووہ مجاہدہ کرےا ور دعاؤں میں لگا رہے۔ آخر اس کی دعاؤں کا جواب اسے ضرور دیاجائےگا۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ201،ایڈیشن 1984)
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’خدااس جماعت کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جس کے نمونے سے لوگوں کو خدا یاد آوے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ504ایڈیشن 1989ء)
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو اس قوم میں سے بنادے جس کے نمونے سے لوگوں کو خدا یاد آوئے۔آمین اللھم آمین۔
و اخر دعونا ان الحمد للہ رب العالمین
٭ ٭ ٭ ٭ ٭