اردو   हिंदी   বাংলা   ಕನ್ನಡ   മലയാളം   ଓଡ଼ିଆ   தமிழ்   తెలుగు  




.

2025-07-03

’’سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم --- غزوات میں آپؐکے حُسنِ اخلاق کی روشنی میں ‘‘ ( مکرم مولانامحمد انعام غوری صاحب ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمدیہ قادیان )

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ ﴿لاحزاب:22﴾
یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ۔
وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ﴿ القلم:5﴾
اوریقیناً تُو بہت بڑے خُلق پر فائز ہے ۔
سامعین کرام ! سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفےٰ ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا طُرّۂ امتیاز ہمیشہ یہ رہا کہ آپؐہر امکانی حد تک جنگ وجدال سے بچتے اورہمیشہ امن کی راہیں اختیار کرتے ۔تیرہ سالہ مکّی دَور آپؐکی اور آپؐکے صحابہ کرام کی مظلومیت اورکفارِ مکہ کے ظلم وستم کی المناک داستانوں سے بھرا ہوا ہے اور جب بھی صحابہ کرام نے ظلم وستم سے تنگ آکر فریاد کی تو آپؐکا یہی جواب رہا کہ اِنِّیْ اُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوْا کہ مجھے عفو اور درگزرکا حکم ہوا ہے اسلئے تم لڑائی سے بچتے رہو۔
اس کے باوجود جب کفارِ مکہ کےمظالم کی انتہاء ہوگئی اور جو آنحضرت ﷺکی بعثت کا اصل مقصد توحید کی مُنادی کرنا تھا،ا سکے بھی تمام راستے مسدود کردئیے گئے تب اللہ نے آپ کو ہجرت کرجانے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اپنی نگرانی اور اپنی معیّت اور اپنی حفاظت کے سایہ میں آپ کو مدینہ منوّرہ ،جو اُس وقت یثرب کہلاتا تھا پہنچادیا تاکہ آپ وہاں آزادی کے ساتھ خدائے واحد کاپیغام پہنچاسکیں ۔لیکن کفارِ مکہ کو یہ کب برداشت ہوتا کہ آنحضرت ﷺکا خدائی مشن ،جس کو وہ ناکام کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاچکے تھے ،اب مدینہ سے نکل کر وہ پیغام پورے جزیرۂ عرب میں پھیل جائے ۔
چنانچہ اپنے زعم میں اسلام اور بانیٔ اسلام کو مدینہ سے بھی بے دخل کرکے ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی تڑپ میں ظاہری اور مادّی سامانوں کے ساتھ مدینہ پر حملہ آور ہونے کیلئے تیاری شروع کردی۔تب اللہ تعالیٰ نے مظلوم مسلمانوں کو اپنے دفاع اور مذہبی آزادی کےقیام کی خاطر تلوار کےبالمقابل تلوار اُٹھانے کی اجازت دے دی جبکہ مسلمانوں کےپاس سامانِ حرب بھی پوری طرح میسّر نہیں تھے۔ لیکن اللہ نے وعدہ فرمایا کہ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُ (سورۂ حج :40)فکر نہ کرو اللہ اُن کے خلاف تمہاری مدد کرنےپر قادر ہے ۔
ہجرت مدینہ پر ابھی ایک سال ہی گزراتھا کہ سنہ 2ہجری کےماہ رمضان المبارک میں کفارمکہ ایک ہزار جنگجو سپاہیوں کےلشکر کے ساتھ حملہ آور ہوگئے ۔یہ لوگ رائج الوقت سامانِ حرب سے خوب آراستہ تھے چنانچہ فوج میں سوار ی کے سات سَو اونٹ اور ایک سَو گھوڑے تھے اور سب سوار اور پیادہ فوج زِرہ پوش اوردیگر سامانِ جنگ نیز ے تلواریں تِیر کمان وغیرہ کافی تعداد میں موجود تھے ۔
جبکہ آنحضرت ﷺکے ساتھ صرف تین سَو دس یا تین سَو تیرہ صحابہ تھے جن میں نَو عمر لڑکے بھی تھے اورگھوڑے صرف 2تھے اور اونٹوں کی تعداد سَتّر تھی انہی پر مسلمان باری باری سوار ہوتے تھے۔ اورزِرہ پوش صرف چھ یا سات تھے اور باقی سامانِ حرب بھی بہت تھوڑا اور ناقص تھا ۔
سامعین کرام ! جنگ بدرکی تفصیل بیان کرنا میرا موضوع نہیں ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ اس پہلی جنگ میں جس کو قرآن کریم نے ’’یوم الفرقان‘‘قرار دیا ہے ، آنحضرت ﷺکےکن اخلاقِ فاضلہ کا ظہورہوا۔
سب سے پہلے تو اُس نظارہ کو ذہن میں لائیے جہاں آپ میدانِ بدر میںنصب کردہ ایک سائبان تلےاللہ تعالیٰ کے حضورگریہ وزاری کررہےہیں اور اِس قدر الحاح سے کہ بار بار آپ کی چادر شانوں سے ڈھلک جاتی تھی اور حضرت ابوبکر ؓاِس کو درست کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت ابوبکرؓنے آنحضرت ﷺ کےالحاح اور شدّتِ گریہ کو دیکھ کر بہت متفکّر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ !اب بس کیجئے کیا اللہ نے اپنی نصرت کا وعدہ نہیں دے رکھا۔آپؐنے فرمایا ہاں دے رکھا ہے لیکن مَیں  اُس کی غنا کی صفت سے ڈرتا ہوں کہ مبادا ہماری کوشش وتدبیر میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو الٰہی نصرت کے شاملِ حال ہونے میں توقّف نہ ہوجائے ۔لیکن جب خدا کے حضور متضرّعانہ دُعاؤں کو انتہاء تک پہنچا دیا نیز خدا کی نصرت کوکھینچ لانے کےلئے اوراُس کی غیر ت کو جوش میں لانے کےلئے نہایت اضطراب کی حالت میں خدا کے حضور عرض کیا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَنْشُدُکَ عَھْدَکَ وَوَعْدَکَ اَللّٰھُمَّ اِنْ تُھْلِکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ اَھْلِ الْاِسْلَامِ لَا تُعْبَدْ فِی الْاَرْضِ۔کہ اے میرے خدا ! اپنے وعدوں کو پوراکر!اے میرے مالک ! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج اِس میدان میں ہلاک ہوگئی تو پھر دنیا میں تیری پرستش کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
پھر خدا کی نصرت پر پورے توکّل کے ساتھ باہر نکلے اور خدائی بشارت سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ(القمر:46)(یعنی کفار کا یہ لشکر ضرورپسپا ہوگا اور پیٹھ دکھائے گا)سناکر ریت اور کنکریوں کی ایک مُٹھی اُٹھائی اور کفار کے لشکر کی طرف پھینکتے ہوئے بڑے جوش سے فرمایا ’’شَاھَتِ الْوُجُوْہُ‘‘دشمنوں کے مُنہ بگڑ جائیں گے۔
بس اُس مُٹھی بھر ریت نےیہ معجزہ دکھایا کہ ایسی آندھی اُٹھی کہ کفار کی آنکھیں اورمُنہ اور ناک ریت سے بھرنے لگے پھر حضرت رسول کریم ﷺ کے حکم سے مسلمان لشکر نے یکدم دھاوا بول دیا اوردیکھتے ہی دیکھتے سردارانِ قریش ابوجہل،عتبہ ،شیبہ وغیرہ ہلاک ہوکر خاک آلودہ ہوگئے بالآخر کفار مکہ اپنے ستّر مقتولین اور ستّر ہی قیدیوں کو میدان بدر کے کھلے میدان میں چھوڑ کر باقیماندہ شکست خوردہ لشکر کو لےکر خائب وخاسر مکہ واپس چلے گئے ۔
اس موقع پر آنحضور ﷺکا ایک اور عظیم خُلق یہ سامنے آیا کہ کفار کےلشکرنے اپنے مقتولین کوکُھلے میدان میں چھوڑ کر راہ ِ فرار اختیار کرلی لیکن آنحضرت ﷺ نےیہ گوارا نہ فرمایا کہ وہاں کے مروّجہ طریق کے مطابق جانی دشمنوں کی لاشوں کا مُثلہ کرکے جانوروں کی خوراک بننے کیلئے پڑا رہنے دیا جائے بلکہ ایک گڑھا کھدواکر اسمیں (24)مشرک سرداروں کو دفن کروادیا جس کو قلیب بدرؔ کہتے ہیں۔ (بخاری کتاب المغازی )
سامعین کرام ! آنحضرت ﷺاور مسلمانوں  کےلئے یہ پہلی عظیم الشان فتح تھی جس نے کفار کی کمر توڑ کررکھ دی ۔ لیکن اس فتح پر آپ نے یا آپ کے صحابہ نے کوئی جشن نہیں منایا بلکہ اپنے ربّ کی عظمت کےنعرے ہی بلند کئے ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتےہیں کہ ابوجہل کو قتل کرنے اوراُس پر آخری وار کرنے کےبعد مَیں نے نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر اطلاع کی کہ ابوجہل ہلاک ہوچکا ہے۔ آپؐنے اُس وقت بھی نعرۂ توحید بلند کیا اور فرمایا کیا اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں؟مَیں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ !پھر جب رسول کریم ﷺابوجہل کی نعش کےپاس جاکر کھڑے ہوئے تو فرمایا اُس خدا کی سب تعریف ہے جس نے اے اللہ کے دشمن ! تجھے ذلیل کیا۔ پھر فرمایا ’’یہ اس اُمت کا فرعون تھا‘‘
(معجم الکبیر للطبرانی جلد 9صفحہ 81بیروت
بحوالہ اُسوۂ انسانِ کامل )
سامعین کرام ! یاد رکھنا چاہئیے کہ حضرت رسول کریم ﷺنے اپنے صحابہ کو جنگ کے آداب اور مستقل ہدایات دیتےہوئے پہلےہی فرمادیا تھا کہ
جنگ کے دوران کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو، کمسِن بچےکو اور عورت کو قتل نہ کرنا۔
دشمن پر رات سوتے میں حملہ نہیں کرنا اور شب خون نہ مارنا۔
مذہبی راہنماؤں کو قتل نہ کرنا ،دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچانا ۔
سرسبز پھلدار درختوں کو نہ کاٹنا اور کسی جاندار کو آگ میں نہ جلانا۔
دشمن کی نعشوں کا مُثلہ نہ کرنا اور نہ انہیں کُھلا چھوڑنا کہ درندے ان کو کھاجائیں ۔
خلاصہ کلام یہ کہ دشمن کے حملے سے مجبور ہوکر بحکمِ الٰہی اپنا دفاع کرنے کیلئے رسول کریم ﷺ کو جب تلوار اُٹھا نا پڑی تو جنگ کی حالت میں جہاں دنیا سب کچھ جائزسمجھتی ہے ،آپؐنےپہلی دفعہ دنیا کو جنگ کے آداب سے روشناس کرایا۔اس ضابطہ ٔ اخلاق کے ساتھ جب آپ جنگ کیلئے نکلتے تو پھر آپؐکا تمام تر توکّل اور بھروسہ خدا کی ذات پر ہی ہوتا تھا ۔
حضرت انسؓبیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کسی غزوہ کےلئے نکلتے تو یہ دُعا کرتے
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ عَضُدِیْ وَاَنْتَ نَصِیْرِیْ وَبِکَ اُقَاتِلُ(مسند احمد بن حنبل )
کہ اے اللہ تو ہی میرا سہارا ،تُوہی میرا مددگار ہے اور تیرے بھروسہ پر ہی مَیں لڑتا ہوں۔
ض اب غزوۂ اُحد کےنازک حالات میں حضرت اقدس محمد مصطفےٰ ؐ کےجو اخلاقِ فاضلہ ظاہر ہوئے اُن میں سے اس وقت صرف دو کا ذکر پیش کرتا ہوں ایک تو اپنی جان کے خطرے کےباوجود خدا کی غیر ت کے بے ساختہ اظہار سے تعلق رکھتا ہے جبکہ چند مسلمانوں کی طرف سے آنحضرتؐکے تاکیدی حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے حفاظتی درّہ کو خالی چھوڑنے کے نتیجہ میں جیتی ہوئی جنگ ایک عارضی شکست میں بدل گئی تھی اور خالد بن ولید کی کمان میں کفّار کےلشکر کے عقبی جانب سے اچانک حملہ کی وجہ سے مسلمان لشکر منتشر ہوگیا اور حضرت رسول کریم ؐ چند صحابہ کے ساتھ محصور ہوگئے اس دوران آپ زخمی ہوگئے اور ایک گڑھے میں اوپر تلے صحابہ کے درمیان گِر جانے کے سبب آپؐ کے متعلق شبہ پیدا ہوگیا تھا کہ شاید آپؐشہید ہوگئےہیں۔چنانچہ ابو سفیان اُس درّ ہ کے قریب کھڑے ہوکر پکار کر بولا ۔اے مسلمانو! کیا تم میں محمد ہے (ﷺ )آپؐنے ارشاد فرمایا کوئی جواب نہ دے۔پھر اُس نے حضرت ابوبکرؓاور حضرت عمرؓ کےمتعلق پوچھا تو اس پر بھی آنحضرتؐکی ہدایت کی تعمیل میں کسی نے جواب نہیں دیا ۔جس پر ابوسفیان نے یہ خیال کرکےکہ یہ سب مارے جا چکے ہیں، بلند آواز سے نعرہ مارا اُعْلُ ھُبَلْ۔۔یعنی اے ہُبَل تیری بلندی ہو تب آنحضرتؐنے فرمایا تم جواب کیوں نہیں دیتے ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ !ہم کیا جواب دیں۔ آپؐنےفرمایا اعلان کرو اَللہُ اَعْلٰی وَاَجَلْ،یعنی بلندی وبزرگی صرف اللہ ہی کو حاصل ہے ۔پھر ابوسفیان نے کہا لَنَا الْعُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ،ہمارے ساتھ تو عزّیٰ بت ہے اور تمہارے لئے کوئی عزّیٰ نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایاکہو،اَللہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْ،عزّیٰ کیا چیز ہے ہمارے ساتھ اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارے ساتھ کوئی مددگار نہیں ہے۔
(صحیح بخاری ۔کتاب الجہاد والسّیَر)
دوسرا واقعہ بھی اسی موقع کا ہے جس میں رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺاپنے جانی دشمنوں کیلئے بھی مغفرت اور ہدایت ہی کی دُعا فرماتے ہیں ۔
جیسا کہ ابھی بیان ہوچکا ہے کہ اس معرکہ میں آنحضرت ﷺکو مشرکین کی طرف سے زخم پہنچے اور آپ کی خَود چہرے میں دھنس گئی جس کے نتیجہ میں دودندانِ مبارک شہید ہوگئے۔
اس شدید صدمہ اور تکلیف کےموقع پر آنحضرت ﷺنے بڑے درد کے ساتھ فرمایا کَیْفَ یُفْلَحُ قَوْمٌ خَضَبُوْا وَجْہَ نَبِیِّھِمْ بِالدَّمِ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ ۔کہ کس طرح وہ قوم نجات پائے گی جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا محض اس بناء پر کہ وہ انہیں خدا کی طرف بُلاتا ہے ۔پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد رحمت کےجذبات سے لبریز ہوکر فرمایا اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔یعنی اے میرے اللہ! تو میری قوم کو معاف کردےکیونکہ ان سے یہ قصور جہالت اور لاعلمی میں ہوا ہے ۔ (بخاری ۔کتاب احادیث الْاَنبیاء)
غزوہ بدر اور غزوہ اُحد کے بعد کفار مکہ کی خلش اور مسلمانوں سے عداوت اَور بھی زیادہ ہوگئی اور پھر جلاوطن کئے گئے یہود کے قبیلہ بنو نضیر نے دیگر قبائلِ عرب کو اُکساتے ہوئے قریشِ مکہ کی حسد کی آگ میں مزید ایندھن جھونکنے کا کام کیا ۔چنانچہ ابوسفیان کی سرکردگی میں یہ لشکر مکہ سےنکلا تو دیگر قبائل غطفان اور بنو اسد ، فزارہ ،اشجع ،بنو مرہ وغیرہ بھی اِسمیں شامل ہوتےچلے گئے اور مدینہ پہنچتے پہنچتے قبائلِ عرب کی متحدہ فوجوں کا یہ لشکر دس ہزار تک پہنچ گیا ۔اور ایک سیلِ عظیم کی طرح مدینہ پر اُمڈ آیا اور یہ عزم کیا کہ جب تک اسلام کو صفحہ ٔ دنیا سے مٹا نہیں لیں گے واپس نہیں لوٹیں گے۔
حضرت رسول کریم ﷺکا جاسوسی کا انتظام اسقدر مربوط اور پختہ تھا کہ ابھی قریش کا لشکر مکہ سے نکلا ہی تھا کہ آنحضرت ﷺکو اس کی خبر پہنچ گئی۔ جس پر آپؐنے صحابہ کو جمع کرکے مشورہ فرمایا اور حضرت سلمان فارسیؓکی اس تجویز کو منظورفرمایا کہ مدینہ کے غیر محفوظ حصہ کےسامنے ایک لمبی اور گہری خندق کھود کر اپنے آپ کو محفوظ کرلیا جائے ۔
چنانچہ خندق کی کھدائی کا کام شروع ہوا اِس حال میں کہ مسلمانوں کو کئی وقت کا فاقہ ہورہا تھا اور دیگر صحابہ کے علاوہ خود سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفےٰ  ﷺ بھی بھوک کی تکلیف سے بچنے کےلئے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے ۔
اس نازک دَور میں آنحضرت ﷺکےجو اخلاق ظاہر ہوئے اُن میں سے صرف چند کا ذکر پیش کرتا ہوں۔
ایک تو یہ کہ صحابہ کرام جو مزدوروں کی طرح خندق کی کھدائی میں مصروف تھے اس کام میں ہمارے آقا حضرت محمد ﷺڈیوٹیاں سپرد کرکے کہیں گھر میں  آرام نہیں فرمارہے تھے بلکہ صحابہ کے ساتھ ساتھ کھدائی اور مٹی کی ڈھلائی کا کام بھی کررہے تھے اور صحابہ کی طبیعتوں میں شگفتگی قائم رکھنے کےلئے شعر بھی پڑھتے جاتے تھے چنانچہ یہ شعر تو خصوصیت کے ساتھ مذکورہوا ہے کہ
اَللّٰهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَۃ
فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَ
یعنی اے اللہ !اصل زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے پس تو اپنے فضل سے انصار اور مہاجرین کو اپنی بخشش عطاکر۔اسی طرح بعض اشعار پڑھنے اور صحابہ کے ساتھ سُر ملاکر بھی اشعار پڑھنے کا ذکر ملتا ہے ۔
ایک اَور خُلق جو افسرانِ مجاز اور سپہ سالاروں کیلئے مشعل راہ ہے اُسکی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ خندق کی کھدائی کے دوران ایک چٹان آگئی جو صحابہ کی ضَربوں اور کوششوں سے ٹُوٹنے میں نہیں آرہی تھی ۔ صحابہ کا ملجا ء وماویٰ تو رسول کریم ؐ کی ذات ہی تھی چنانچہ آپؐکی خدمت میں حاضر ہوکر صورتحال عرض کردی ۔ آنحضرت ﷺنےا ُنہیں کوئی ترکیب یا تجویز کے ذریعے رہنمائی کرکے فارغ نہیں کردیا بلکہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور موقع پر پہنچ کر کدال اپنے ہاتھ میں لے کر ضرب لگائی ایک اور دوسری حتیٰ کہ تیسری ضرب میں چٹان پاش پاش ہوگئی۔
اس خُلق عظیم کو بارگاہ ِ ربّ العزت سے اس طرح پذیرائی عطاہوئی کہ ہر ضرب پر آپؐنے اللہ اکبر کا نعرہ بلند فرمایا ۔صحابہ نے وجہ دریافت کی تو فرمایا پہلی ضرب پر اللہ نےجو کشفی نظارہ دکھایا اس میں  مملکتِ شام کی کُنجیاں آپ کو عطا کی گئیں اور شام کے سُرخ محلات دکھائے گئے اور دوسری ضرب پر مملکتِ فارس کی کنجیاں عطا کی گئیں اور مدائن کے سفید محلات آپ کو نظر آرہے تھے ۔تیسری ضرب پر جو شعلہ نکلا اُس میں آپ کو یمن کی کنجیاں دی گئیں اور فرمایا خدا کی قسم صنعاء کے دروازے مجھے اُس وقت دکھائےجارہے تھے ۔اسلئے خدا کی قدرت کے ہر نظارہ پر مَیں نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا کہ قادروتوانا اورہر طرح کی کبریائی کےمالک خدا نے ہماری اس کمزور حالت میں ہمیں آئندہ کی فتوحات اور غلبہ اسلام کےنظارے دکھا دئیے ہیں۔
سامعین کرام ! یہ کوئی کہانی یا افسانہ نہیں ہے بلکہ دُنیا شاہد ہے ان واقعات پر کہ یہ وعدے اپنےاپنے وقت پر یعنی کچھ تو آنحضرتؐکی زندگی کے آخری ایام میں اور زیادہ تر آپ کے خلفائے کرام کےزمانہ میں پورے ہو کر اُن کشفی نظاروں کی تصدیق کردی تھی کہ فی الواقع یہ مستقبل کی فتوحات کے نظارے خدا تعالیٰ نےہی اُس انتہائی کمزوری کےزمانے میں دکھائے تھے ۔
ژ اس غزوہ ٔاحزاب کا خاتمہ 20روز کے صبر آزما محاصرہ کےبعد کسی خونریز جنگ وجدال کےبغیر محض رسول اکرم ؐ کی دُعا اور اللہ تعالیٰ کی معجزانہ قدرت سے ہوگیا جبکہ صحابہ اس محاصرہ سے سخت مصیبت میں مبتلا تھے اور بالآخر آنحضرت ﷺکی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ خدا سے دُعا مانگیں کہ وہ اپنے فضل سے اس مصیبت کو دوٗرفرمائے اور ہمیں بھی کوئی دعا سکھائیے جو ہم اس موقع پر خدا سے مانگیں چنانچہ آپ نے انہیں تسلی دی اور فرمایا کہ تم خدا سے یہ دُعا کیا کرو کہ وہ تمہاری کمزوریوں پر پردہ ڈالے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور تمہاری گھبراہٹ کو دُور فرمائے ۔
اور پھر آپ نے خود یہ دعا فرمائی کہ اَللّٰهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيْعَ الْحِسَابِ،اهْزِمِ الْأَحْزَابَ،اَللّٰهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَاعَلَیْھِمْ وَ زَلْزِلْهُمْ ۔اے قرآن کو نازل فرمانے والے اور دنیا میں اپنے احکا م کو جاری کرنےو الے خدا! اور اے حساب لینے میں دیر نہ کرنے والے تُو اپنے فضل سے کفار کے ان احزاب کو شکست دے اور ہمیں ان پر غلبہ نصیب فرما اور ان کو اچھی طرح ہلادے۔
سامعین کرام ! ان دُعاؤں کا اثر دیکھئےکہ اللہ تعالیٰ نے زمینی اور آسمانی کچھ ایسے سامان فرمائے کہ ایک تو احزاب کےاندر اختلاف کی صورت پیدا ہوگئی اور دوسری طرف رات کے وقت ایسی سخت آندھی چلی کہ کفار کے خیمے اُکھڑ گئے ۔قناتوں کےپردے ٹوٹ کر اُڑ گئے۔ہنڈیاں اُلٹ کر چولہوں میں گرگئیں اور ریت اورکنکروں کی بارش نے لوگوں کے کانوں اور آنکھوں اور نتھنوں کو بھر دیا اور پھر سب سے بڑھ کر یہ غضب ہوا کہ وہ قومی آگیں جو عرب کے قدیم دستور کےمطابق رات کے وقت نہایت التزام سے روشن رکھی جاتی تھیں وہ بُجھنے لگیں ان مناظر نے وہم پرست قلوب کو جو پہلےہی طویل محاصرے سے پریشان ہورہے تھے ایسا متزلزل کردیا کہ لشکر کےسپہ سالار ابوسفیان نے قریش کے رؤساء کو بُلاکر کہا ہماری مشکلات بہت بڑھ رہی ہیں اب یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں ہے یہ کہہ کر اپنے آدمیوں کو واپسی کا حکم دے کر خود اپنے اونٹ پر سوار ہوگیا اور گھبراہٹ کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کے پاؤں کھولنے تک یاد نہ رہے ۔ بہرحال دیکھتے ہی دیکھتے دس ہزار کا لشکر اُس میدانِ حرب سے ایسا بھاگا کہ صبح سے پہلےپہلے مدینہ کا اُفق لشکر ِکفار کے گردوغبار سے صاف ہوگیا ۔
اس نظارہ کو دیکھ کر آنحضرت ﷺنے خدا کی قدرت وعظمت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا تھا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ وَنَصَرَعَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ۔کہ اُس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے اپنے بندہ کی مدد کی اور خود ہی تنہا تمام لشکروں کو پسپا کردیا ۔ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ۔
سامعین کرام !دیگر غزوات کے تذکرہ کو چھوڑتے ہوئے آخر پر خاکسار فتح مکہ کےموقع پر جن بے نظیر وبے مثال اخلاق کا ظہور ہوا اُن میں سے چند ایک کا ذکر کرتا ہے لیکن اس سے پہلے صلح حدیبیہ اور فتح خیبر پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ صلح حدیبیہ کا واقعہ ہی بالآخر فتح مکّہ پر منتج ہوا تھا ۔
یادرکھنا چاہئیے کہ حدیبیہ کا سفر کسی جنگ وجدال کی غرض سے نہیں تھا بلکہ نبی کریم ﷺنےاپنی ایک رؤیا کو طوافِ بیت اللہ کیلئے ایک الٰہی اشارہ سمجھتے ہوئے ماہ ذوالقعدہ سنہ 6ہجری میں اپنےچودہ سَو صحابہ کے ساتھ مکہ کےلئے رختِ سفر باندھا ۔لیکن اللہ کی مشیت کہ مکہ سے نَومیل کے فاصلےپر حدیبیہ کےمقام پر ہی آپ کو پڑاؤ ڈالنا پڑا کیونکہ قریش مکہ کی طرف سے روک ڈالی جارہی تھی جبکہ آنحضرت ﷺاور آپ کے صحابہ نے ذوالحلیفہ سے احرام باندھ لئے تھے اور طواف کے بعد قربانی کرنے کےلئےجانور اپنے ساتھ رکھ لئے تھے ۔ اسکے باوجود آنحضرت ﷺ کا بزورِ شمشیر مکہ میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہ تھا اسلئے اہل مکہ کو سمجھانے کی غرض سےا پنےد اماد حضرت عثمانؓکو بطور سفیر مکہ بھجوایا لیکن حضرت عثمانؓکی واپسی میں کچھ دیر ہوئی اور یہ افواہ بھی اُڑائی گئی کہ حضرت عثمانؓکو شہید کردیا گیا ہے۔
یہ خبر سُن کر رسول اللہ ﷺنےموجود صحابہ میں اعلان کرکے انہیں ایک کِیکر کے درخت کےنیچے جمع کیا اور فرمایا اگر یہ اطلاع درست ہے تو خُدا کی قسم ہم اس جگہ سے اُس وقت تک نہیں ٹلیں گے جب تک کہ عثمان کا بدلہ نہ لےلیں۔ پھر آپ نے صحابہ سے فرمایا۔ آؤ میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ عہد کرو کہ تم میں سے کوئی شخص پیٹھ نہیں دکھائے گا اور اپنی جان پر کھیل جائے گا مگر کسی حال میں اپنی جگہ نہیں چھوڑے گا۔‘‘
اسکےبعد رسول کریم ﷺنے کفارمکہ کو واشگاف الفاظ میں یہ پیغام دیا کہ
’’ہمارا مقصد جنگ وقتال نہیں ۔ہم تو محض طوافِ بیت اللہ کی غرض سے آئے ہیں اس مقصد میں جو روک بنے گا اُس سے مجبوراً ہمیں جنگ بھی کرنی پڑی تو کریں گے ،سوائے اس کے کہ قریش ہم سے کسی خاص مدت تک صلح کا معاہدہ کرلیں ۔‘‘
چنانچہ قریش مکہ کی طرف سے نمائندہ سہیل بن عمروؓکے ساتھ آنحضرت ﷺنے ایک معاہدہ فرمایا جو صلح حدیبیہ کےنام سے مشہور ہے ۔اس معاہدہ کی بعض شرائط ایسی تھیں جو صحابہ کرام کو ناگوار گُزر رہی تھیں اور حضرت عمرؓتو بہت ہی اضطراب کی حالت میں تھے لیکن رسول کریم ﷺ کوہِ وقار بنے ہوئے یہی چاہتے تھے کہ بیت اللہ کاامن خراب نہ ہو چنانچہ آپ نے فرمایا
اُس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے کوئی بھی ایسا مطالبہ جو قریش مکہ مجھ سے کریں جس سےا للہ کی قابلِ احترام چیزوں کی حُرمت قائم ہوتی ہو،مَیں لازماً اسے قبول کروں گا۔
بہرحال یہ صلح نامہ لکھا گیا اور اس کو اللہ ربّ العزت نےایسی پذیرائی بخشی اور حضرت رسول کریم ؐ کےاس اقدامِ صلح کو جو بظاہر ناپسند معلوم ہورہاتھا، اسی صلح سے واپس لوٹتے ہوئے اللہ نے آپ پر وہ عظیم الشان سورۃ نازل فرمائی جو سورۃ الفتح کے نام سے قرآن کریم میں درج ہے ۔بسم اللہ کے بعد اسکی پہلی آیت میںہی اس صلح کو فتحِ مبین قرارد یتےہوئے فرمایا اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا(الفتح :2) یقیناًہم نے تجھے کُھلی کُھلی فتح عطا کی ہے ۔
پھر اس صلح کےموقع پر جانوں کی قربانی کے عہد پر آنحضرت ﷺکے ہاتھ پر جو بیعت کی گئی اس کےمتعلق فرمایا ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ۔(الفتح : 11)یقیناً وہ لوگ جو تیری بیعت کرتےہیں وہ اللہ ہی کی بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ہےجو اُن کےہاتھ پر ہے ۔ پس کسقدر عظیم ہےیہ رسول جس کے ہاتھ کو خدا نے اپنا ہاتھ قرار دیا اورکس قدر خوش نصیب ہیں وہ صحابہ جو گویا اللہ کےہاتھ پر بیعت کررہے تھے ۔
چنانچہ اسی سورۃ کی آیت نمبر 19میں ان مبائعین کو اپنی رضامندی کی سند عطا فرماتے ہوئے اللہ نےفرمایا لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُوْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا۔کہ یقیناً اللہ ان مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تیری بیعت کررہے تھے وہ جانتا ہے جو جذبہ اُن کےدلوں میں تھا ۔پس اس نے ان پر سکینت اُتاری اور انہیں ایک فتح قریب عطا کی ۔
پس جیسا کہ اس سورۃ الفتح کے ابتداء میں فتحِ مبین کی بشارت عطا فرمائی تھی جو آگے چل کر فتح مکہ کی تکمیل پر منتج ہونی تھی ۔اسکےعلاوہ فوری تسلّی کےلئے ایک فتحِ قریب کی نوید بھی سنادی جو بغیر کسی جنگ وجدال کے فتحِ خیبر کی صورت میں ظاہر ہوئی ۔
اب خاکسار فتح خیبر کے واقعات کے ذکر کو چھوڑتے ہوئے اس فتح کے بعد ظاہر ہونےو الے صرف ایک خُلق کا ذکر کرکے فتح مکہ کےموقع پر ظاہر ہونےو الے اخلاقِ فاضلہ کا مختصر ذکر کرےگا۔
حضرت عرباض بن ساریہ ؓ بیان کرتےہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکےساتھ غزوۂ خیبر میں شریک تھے۔ والی ٔ خیبر ایک سخت قسم کا بے لحاظ انسان تھا ۔فتح کےبعد اُس نے رسول اللہ ﷺکےپاس آکر کہا اے محمد ! (ﷺ ) کیا تم لوگوں کو حق پہنچتاہے کہ ہمارے جانور ذبح کرو،ہمارے پھل کھاؤ اور ہماری عورتوں کو مارو۔نبی کریم ﷺیہ سُن کر بہت ناراض ہوئے اور عبد الرحمٰن بن عوف ؓ کے ذریعہ اعلان کرواکر لوگوں کو نماز کے لئے جمع کروایا اور صحابہ سے خطاب کرتےہوئے فرمایا :
’’کیا تم میں کوئی تکیہ پر ٹیک لگاکر بیٹھا ہوا یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ نے سوائے اس کے جو قرآن میں ہے، کوئی چیز حرام نہیں کی ۔سُنو مَیں نے بھی کچھ احکام دئیے ہیں اور بعض باتوں سے روکا ہے وہ بھی قرآن کی طرح ہی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جائزنہیں رکھا کہ تم اہل کتاب کےگھروں میں بلااجازت داخل ہو۔نہ ہی ان کی عورتوں کو مارنےکی اجازت دی ہے اور نہ اُن کے پھل کھانے کی ۔جبکہ (معاہد ہ کےمطابق ) وہ تمہیں کچھ دے رہے ہوں جو اُن کے ذمّہ ہے (یعنی جزیہ اداکررہے ہوں) (ابوداؤد)
صلح حدیبیہ کے ثمرات میں سےایک تو فتح خیبر، فتح قریب کی بشارت میں پوری ہوئی ۔پھر اس کے دوسال بعد سنہ 8ہجری میں فتح مکہ کا نظارہ دنیا نے دیکھا۔ یہ فتح بھی دراصل قریشِ مکہ کی طرف سے صلح حدیبیہ کے توڑنے کا اعلان کرنے کا پیش خیمہ بنی ۔
آنحضرت ﷺدس ہزار قدّوسیوں کی جمعیت کے ساتھ مدینہ سےمکہ کی طرف عازمِ سفرہوئے۔ یہاں قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ اس قدر بھاری جمعیت والے لشکر کی تیاری اور نقل وحرکت کو راز داری میں رکھنا بظاہر ایک ناممکن امر تھا ۔لیکن رسول اللہ ﷺجو ہر کٹھن مرحلہ پر دُعا اور تدبیر کو کام میںلاتے تھے ۔ آپؐنے دعا کی۔اَللّٰھُمَّ خُذِ الْعُیُوْنَ وَالْاَخْبَارَ عَنْ قُرَیْشٍ کہ اے اللہ قریش کے جاسوسوں کو روک رکھ اور ہماری خبریں اُن تک نہ پہنچیں اور تدبیر یہ فرمائی کہ مدینہ سے مکہ کی طرف جانے والے تمام راستوں پر پہرے بٹھادئیے ۔
چنانچہ اللہ نے آپ کی دعا ؤں اور تدابیر کو اس رنگ میں شرفِ قبولیت عطا فرمایا کہ معجزانہ طور پر یہ عظیم الشان لشکر کسی اطلاع یا مزاحمت کےبغیر مکہ کی وادی میں داخل ہوگیا ۔آپؐنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ مختلف ٹیلوں پر بکھر جائیں اورہر شخص آگ کا اَلاؤ روشن کرے اس طرح اُس رات دس ہزار آگیں روشن ہوکر مرالظّہران کے ٹیلوں پر ایک پُرشکوہ اور ہیبت ناک منظر پیش کرنے لگیں ۔ (بخاری )
اُدھر ابوسفیان اور اس کے ساتھی رات کو مکہ کی گشت پر نکلے تو یہ اَن گنت روشنیاں دیکھ کر حیران وششدر رہ گئے ۔
چونکہ آنحضرت ﷺ،ابوسفیان کیلئے امن کا اعلان کرچکے تھے اور حضرت عباسؓ نے انہیں پناہ دی تھی۔ صبح جب ابوسفیان کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپؐنےفرمایا ۔ابوسفیان! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔تب وہ ابوسفیان جس نے غزوہ اُحد میں آنحضرت ﷺکی شہادت کے اعلان سے خوش ہوکر ہبل بُت کی بلندی کا نعرہ لگایا تھا اور عُزّیٰ بت کو اپنا مولیٰ ہونےکا اعلان کردیا تھا،اب آنحضرت ﷺکےسامنے بے ساختہ یہ گواہی دی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان۔آپ نہایت حلیم ،شریف اور صلہ رحمی کرنے والےہیں ۔اگر خدا کے سوا کوئی اَور معبود ہوتا تو وہ ضرور ہماری مدد کرتا ۔ (ابن ہشام )
سامعین کرام ! حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سباؔ کوجب توحید کا اوراطاعت کا پیغام دیا تو اُس نے درباریوں سے مشورہ طلب کیا جس پر ملکہ سباؔنےجو نہایت زیرک اور بادشاہوں اور فاتحین کےسلوک سے بخوبی واقف تھی ،کہا۔اِنَّ الْمُلُوْکَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَۃً اَفْسَدُوْہَا وَجَعَلُوْا اَعِزَّۃَ اَہْلِہَا اَذِلَّۃً ۚ وَکَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ۔(سورہ نمل آیت 35)
یادرکھو جب فاتح بادشاہ کسی مفتوح علاقے میں داخل ہوتےہیں تواس میں فساد برپا کردیتے ہیں اور وہاں کے باشندوں میں سےمعزّز لوگوں کو ذلیل کرکےرکھ دیتےہیں اور وہ اسی طرح کیا کرتےہیں ۔
لیکن آئیے دیکھیں فتح مکہ کے دن حضرت اقدس محمد مصطفےٰ ؐکےکیا اخلاق ظاہر ہوتےہیں ۔مشرکین مکہ کے ساتھ کیا سلوک کیاجاتا ہے ہاں اُن مشرکین سے جنہوں نے مکہ میں تیرہ سال تک آپؐکی ذات اورآپ کے اہل بیت اورآپ کے صحابہ پر ایسے ایسے مظالم ڈھاتے رہے جن کو پڑھ اورسُن کر بدن پر لرزہ طاری ہوتا ہے۔ پھر مدینہ ہجرت کرجانے کےبعد بھی آپ کو اور آپ کے صحابہ کو سُکھ چین سے بیٹھنے نہ دیا ۔ بدرؔ اور اُحد میں نہتّے مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے اور اسلام کا نام مٹانے کیلئے لاؤ لشکر کے ساتھ حملہ آور ہوئے پھر اردگرد کے قبائل کو اکٹھا کرکے دس بارہ ہزار کا عظیم لشکر لےکر مدینہ پر حملہ آور ہوئے اور کمزور مسلمانوںنے بھوکےپیاسے خندق کھود کر اپنی حفاظت کے سامان کئے تھے پھر جب طواف کعبہ کےلئے آئے تو حدیبیہ کےمقام پرہی روک کر اپنی مرضی کی شرائط پر صلح کرکے واپس چلےجانے پر مجبور کردیا تھا ۔اِن سب مظالم کی داستانِ الم کو سامنے رکھتےہوئے اس رحمۃللعالمین کےاخلاقِ فاضلہ کو ملاحظہ فرمائیں ۔
امن وسلامتی کے شہنشاہ حضرت اقدس محمد مصطفےٰ  ﷺکی طرف سے جب ان ظالم کفار مکہ سے پوچھا گیا کہ اب تمہیں کس سلوک کی توقع ہے ۔ انہوں نے جواب دیا ’’آپ جو چاہیں کرسکتےہیں مگر آپ جیسے کریم انسان سےہمیں نیک سلوک کی ہی اُمید ہے اُس سلوک کی جو حضرت یوسف ؑ نےاپنے بھائیوں سے کیا تھا ۔‘‘
سامعین کرام ! حضرت رسول کریم ﷺکی یہ فتح صرف شہر مکہ اور اہل مکہ پرہی نہیں بلکہ آپؐکے خُلقِ عظیم کی فتح تھی جس کا دشمن بھی اعتراف کررہا تھا۔ بہرحال اُن کی توقعات سے کہیں بڑھ کر رحمۃ للعالمین ﷺ نےان سے رحمت کا سلوک فرمایا اور ان کے تمام مظالم کو نظر انداز کرتےہوئے فرمایا اِذْھَبُوْا اَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللہُ لَکُمْ کہ جاؤ تم سب آزاد ہو ۔آج تم پر کوئی گرفت نہیںہوگی مَیں تمہیں معاف ہی نہیں کرتا بلکہ اپنےر بّ سے بھی تمہارے لئے بخشش کا طلبگار ہوں ۔(ابن ہشام )
اور امن کی ضمانت پر مشتمل یہ اعلانِ عام بھی کروادیا کہ
’’آج مسجد حرام میں داخل ہونے والے ہر شخص کو امان دی جاتی ہے ۔ اور امان دی جاتی ہے ہر اُس شخص کو جو ابوسفیان کے گھر میںداخل ہوجائے یا اپنے ہتھیار پھینک دے اور اپنا درواز ہ بند کرکے بیٹھا رہے۔ ہاں اُس شخص کو بھی پناہ دی جاتی ہے جو بلال حبشی ؓکےجھنڈے تلے آجائے ۔(الحلبیہ)
سامعینِ کرا م ! غزوات میں آنحضرت ﷺ کے اخلاقِ فاضلہ کا ذکر نامکمل رہے گا اگر جنگوں کے ہنگامی حالات میں آپؐکی عبادات کا حال بیان نہ کیا جائے ۔
مختصر یہ کہ جنگوں کے دوران خوف وخطرات کے ماحول میں بھی آنحضرتؐ نے نماز باجماعت نہیں چھوڑی۔ اس حالت میں بھی صحابہ کو اس طرح باجماعت نماز پڑھائی کہ ایک گروہ تو دُشمن کےسامنے صف آراء رہا تو دوسرے گروہ نے آپؐکے پیچھے کھڑے ہوکر نصف نماز اداکی پھر پہلے گروہ نے آکر نصف نماز ادا کی اور پھر دونوں گروہوں نے اپنی بقیہ نماز خود مکمل کرلی ۔ اس طرح آپؐنے اپنے عملی نمونہ سے اُمت کو سمجھادیا کہ موت کے بڑے سے بڑے خطرے کی حالت میں  بھی فرض نماز معاف نہیں ہوتی ۔
روایات میں آتاہے کہ غزوۂ احزاب میں دشمن کی کڑی نگرانی اور ان کے مسلسل حملوں کے سبب ظہر وعصر کی نمازیں وقت پر ادانہ ہوسکیں یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا ۔تب آنحضرتؐنے بروقت نماز کی ادائیگی کا موقع نہ ملنے پر بے قرار ہوکر فرمایا خُدا ان کو غارت کرے انہوں نے ہمیں نماز سے روک دیا۔ پھر آپؐنےصحابہؓ کواکٹھا کیا اور فوت شدہ نماز یں پڑھائیں ۔ (بخاری )
ضآجکل ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ  المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی مختلف غزوات کےحوالے سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ بیان فرمارہے ہیں ۔ایک غزوہ کے ذکر میں فرمایا :
’’آنحضرت ﷺکی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی۔یعنی آپؐکے دل میں ان (مشرکین ) کے لئے کسی ذاتی دشمنی کےجذبات نہیں تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کومٹانے والوں کےخلاف جنگ تھی…پھر آپؐنےجنگ کے اصول وقواعد مقرر فرمائے۔ معاہدوں کا بھی پاس کیا اور ان چیزوں پر انتہائی درجہ تک عمل بھی کیا ۔ آجکل کی دُنیا کی طرح نہیں کہ اصول وضوابطہ تو بے شمار بنائےہیں لیکن عمل کوئی نہیں بلکہ دوہرے معیار ہیں ۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم دسمبر2023ء بمقام مسجد مبارک ،اسلام آباد ،ٹلفورڈ، یوکے)
ض حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ خلافت پر متمکن ہونے سے قبل جلسہ سالانہ کےموقع پر غزوات میں آنحضرتؐکے خُلق عظیم کےعنوان پر تقاریر فرماتے رہےہیں ۔غزوہ اُحد کے ذکر میں ایک مقام پر فرمایا :
’’ہر چند کہ غزوات نبویؐ پر نظر ڈالنے سے آنحضورؐکی احسن بے مثل استعدادوں پر بھی حیران کُن روشنی پڑتی ہے جو بحیثیت ایک سالارِ جیش آپ ؐ کی ذات میں بدرجۂ اَتم موجود تھیں ۔لیکن آنحضور ﷺ کی اوّل وآخر حیثیت ایک جنگی ماہر کی نہیں  بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی سردار کی تھی جس کے ہاتھوں میں مکارمِ اخلاق کا جھنڈا تھمایا گیا تھا ۔ اعلیٰ اخلاق کا جھنڈا بلند رکھنے اور بلند تر کرتے جانے کے جس عظیم جہاد میں مصروف تھے وہ ایک مسلسل کبھی نہ ختم ہونے والا ایک ایسا مجاہدہ تھا جو امن کی حالت میں بھی اُسی طرح جاری رہا جیسے جنگ کی حالت میں۔ دن کو بھی آپؐنے اس عَلَم کی حفاظت کی اور رات کو بھی …اور فاتح اعظم حضرت محمد مصطفےٰ ؐکوہر بار ہر اخلاقی معرکے میں عظیم فتح نصیب ہوئی۔‘‘
(بحوالہ تقاریر جلسہ سالانہ قبل از خلافت صفحہ 334تاصفحہ 335)
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ آجکل کی مسلم تنظیمو ں کو آنحضرتؐکے اِن پاک نمونوں کو ہمیشہ سامنے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔
واٰخر دعوانا ان الحمد للہ ربّ العالمین
٭…٭…٭