اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَآشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدَہٗ وَرَسُوْلَہٗ۔
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
رَبُّنَا الَّذِیْ اَعْطٰی کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی
(سورۃ طٰہٰ آیت 51)
ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو (اس کی ضرورت کے مطابق) اعضاعطا کیے ہیں اور پھر ان (اعضا) سے کام لینے کا طریقہ سکھایا ہے۔
قابلِ احترام صدر صاحبہ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معزز مہمانان اور اہلیان قادیان دارالامان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میری تقریر کا عنوان ہے’’اولاد کی تربیت میں ماؤں کا کردار حضور انور کے ارشادات کی روشنی میں‘‘ اس وسیع اور اہم موضوع پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گی۔ و ما توفیقی الا باللہ
معزز سامعات ! میں اپنی تقریر کا آغاز ایک سوال سے کرنا چاہتی ہوں۔
ہم میں سے کتنے لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ جب ایک پودا اُگتا ہے، تو وہ زمین کے اندر بھی ویسے ہی بڑھتا ہے جیسے کہ زمین کے اوپر ظاہر میں دکھائی دیتا ہے۔ پودے کا وہ حصہ جو زمین کے اندر بڑھتا ہے، اُسے Gravitropic Growth کہتے ہیں، جو زمین کی سخت سطحوں کو چیرتا ہوا اپنی پکڑ کو مضبوط کرتا ہے۔ اس کے برعکس زمین کے اوپر ہواؤں میں لہلہاتا ہوا یہ پودا سورج کی روشنی کی طرف بڑھتا ہے، جسے فوٹونک گروتھ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ سوچ رہے ہونگے، میں آپکو یہ سب کیوں بتا رہی ہوں؟در اصل یہ زمین کے اندر کششِ ثقل یعنی Gravitational Force مٹی میں موجود غذائی اجزاء اور معدنیات سورج کی روشنی، ہوا اور بارش کا پانی یہ سب خدا کی ظاہری و باطنی عنایات ہیں جو ایک پودے کو سرسبز و شاداب بنانے کیلئے ضروری ہیں۔
معزز سامعات ! بعینہ اسی طرح ایک ماں اپنے بچے کو نہ صرف ظاہری طور پر نشوونما دیتی ہے بلکہ پوشیدہ طور پر بھی اُسکے اخلاق، اُسکے کردار، اور اُسکی تمام تر خوبیوں کو بروئے کار لانے میںاور اُسے ایک مکمل انسان بنانےمیں مدد کرتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ اولاد کی تربیت کیا ہے جو ہمیں بڑے محتاط ہو کر کرنا ہے ؟اور سب سے زیادہ ذمہ داری اس میں ماں کی ہی کیوں ہے کہ وہ اولاد کی صحیح پرورش کرے؟
سو ہمیں جاننا چاہئےابھی جس آیت کی میں نے آپکے سامنے تلاوت کی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کے لئے کچھ خاص ذمہ داریاں مقرر فرمائی ہیں۔ ان میں سے ایک ماؤں کا اپنی اولاد کی صحیح پرورش کرنا بھی شامل ہے۔
اولاد کی پرورش ایک ماں کی اولین ذمہ داری اسلئے بھی ہے کیونکہ پیدا ہونے سے پہلے بچہ اپنی ماں کے رحم میں پرورش پاتا ہے اور یہ رحم خدا تعالیٰ کی صفت رحمٰن اور رحیم کے اصل لفظ ’’ر-ح-م‘‘ سے نکلا ہے، اس سے مراد محبت اور شفقت کا فطری رشتہ ہے جو خاص طور پر ماں اور اس کےبچے کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ ہر جاندار، چاہے وہ چرند ہو، پرند ہو یا انسان، سب سے پہلے اپنی ماں کی گود سے ہی تعلیم و تربیت حاصل کرتا ہے۔
اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 36میں رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ کہہ کر بتا دیا کہ بچے کی تربیت ماں کے پیٹ سے شروع ہوتی ہے۔
اس کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں پس بڑے خوف سے اور شکر گذاری کے جذبات سے لبریز ہو کر بچوں کی پیدائش کے بعد عبادتوں کی طرف ہر ماں کو توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے پہلے تم لوگ مرد اور عورت دونوں صحت مند بچے کی دعا مانگتے ہو جب اللہ تعالیٰ بچہ دے دیتا ہے تو پھر اسے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں شریک بنالیتے ہو بچپن میں نہیں تو بڑے ہو کر بچے پھر خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اور دین سے بھی ہٹ جاتے ہیں پھر لوگ خط لکھتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا ہوا ہمارا بچہ بگڑ گیا…اگر بچپن سے ہی بچوں کیلئے دعا کریں اور انکے سامنے اپنے نمونے قائم کریں اور جن ماؤں کے یہ نمونے ہوتے ہیں الا ماشاء اللہ بچے نیکیوں پر بھی قائم ہوتے ہیں اور ماں باپ کے بھی اطاعت گزار ہوتے ہیں ۔‘‘
(لجنہ سے خطاب جلسہ سالانہ یو کے 2024)
سامعات! اب میں آپ کے سامنے حضرت غلام رسول صاحب راجیکیؓ کا ایک واقعہ پیش کرونگی جس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ کس طرح انجانے میں ہماری اولاد دینی کاموں میں حائل ہو جاتی ہے۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ آپ تبلیغی دورہ پر گئے ہوئے تھے ۔ ایک نیک خاتون جومسجد کی بے لوث خدمت کرتی تھیں مگر اسکے ہاں اولاد نہیں تھی آپ نے ان کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے سے نوازا ۔مگر بیٹے کی پیدائش کے بعد خدمت کی وہ بات نہیں رہی۔ آپ نے پوچھا تو اس خاتون نے جواب دیا کہ بیٹے کی دیکھ بھال کی مصروفیت سے مجھے اب وقت نہیں مل رہا ہے۔ اس پر آپ نے بڑے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ بی بی آؤ تم اور میں دونوں مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ کے کام میں اگر یہ بچہ روک بن رہا ہے تواے اللہ تو اس روک کو ہٹا دے ۔ یہ بات سنتے ہی اس عورت پر لرزہ طاری ہوگیا۔اور آپؓکے قدموں پر گر کر معافی مانگنے لگیں کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ۔ آئندہ میں پہلے کی طرح خدمت کرونگی۔
تو میری بہنو ہمیں اپنے نفسوں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ہماری اولاد ہماری خدمتِ دین کے مقابلہ میں روک بن کر تو نہیں کھڑی ہے؟
کیا ہم وہ مائیں ہیں؟ جو آنحضرت ﷺ کی حدیث جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے کے مصداق بننے والی ہیں؟ کیا ہم اولاد کی صحیح تربیت کرکے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والی ہیں؟ اگر نہیں تو ذرا اس حدیث پر تو نظر دوڑا کر دیکھیں۔آپﷺ نے فرمایا :
’’اے عورتو! سمجھو اور ان عورتوں کو بتاؤ جن کی تم نمائندگی کر رہی ہو کہ ایک عورت جو اپنے گھر کو اس کے شوہر کی غیر موجودگی میں بہترین طریقے سے سنبھالتی ہے اور اس کے بچوں کی اچھے اخلاق کے ساتھ پرورش کرتی ہے، اُسے وہی انعام ملے گا جو دوسرے اچھے اعمال کرنے والے مرد اور جہاد کرنے والوں کو ملتا ہے۔‘‘
ہم عورتوں کیلئے یہ بہت بڑی بات ہے۔
لہٰذا اولاد کی اچھی تربیت ان کا بنیادی حق ہے جس پر والدین کو خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اُن کے دل میں نیکی اور تقویٰ کا بیج بوکر اُس کی آبیاری کرنا بھی ضروری ہے تاکہ گھروں میں اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے نام کی کھیتیاں لہلہائیں اور ہمارے بچے بڑے ہوکر جماعت اور معاشرے کا مفید وجود ثابت ہوں۔
اب آئیے میں آپ لوگوں کی توجہ کو ایک حیرت انگیز تحقیق کی طرف مبذول کروانا چاہتی ہوں جس سے آپ لوگوں کو پتہ چل جائیگا کہ بچوں کی تربیت کا اصل زمانہ کون سا ہے۔
اتفاق کی بات ہے امریکہ میں 1300 لوگوں پر کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ جو بچے بچپن میں جلد ہی نرسری یا پلے اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں، وہ زیادہ جارحانہ رویے دکھاتے ہیں۔ بنسبت ان بچوں کے جو اپنی ماں کی گود سے تربیت پاکر اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں اورایسے بچے جو ماں کی ممتا اور تربیت سے نا آشنا ہوتے ہیں بڑے ہونے کے بعد انہیں سماجی، جذباتی یا نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس بات کو ہمارے پیارے امام حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کتنے پیارے انداز میں ہمیں سمجھایا ہے۔آپ فرماتے ہیں:
’’پھر یہ بات بھی بہت توجہ طلب ہے کہ بچوں کی تربیت کی عمر انتہائی بچپن سے ہی ہے۔ یہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ یہ خیال نہ آئے کہ بچہ بڑا ہوگا تو پھر تربیت شروع ہوگی۔ دو تین سال کی عمر بھی بچے کی تربیت کی عمر ہے۔ دیکھیں فرمایاکہ دو تین سال کی عمر بھی بچے کی تربیت کی عمر ہے۔نیز فرماتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا، بچہ گھر میں ماں باپ سے اور بڑوں سے سیکھتا ہے اور ان کو دیکھتا ہے اور ان کی نقل کرتا ہے۔ ماں باپ کو کبھی یہ خیال نہیں ہونا چاہیے کہ ابھی بچہ چھوٹا ہے، اسے کیا پتہ ؟ اسے ہر بات پتہ ہوتی ہے اور بچہ ماں باپ کی ہر حرکت دیکھ رہا ہوتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 13 دسمبر 2013)
معزز سامعات! اللہ کا شکر ہے کہ ہم احمدی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن تک اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی حقیقی تعلیمات کو من و عن پہنچانے کیلئے اور اس پر عمل کروانے کیلئے اس زمانہ کے امام حضرت مسیح موعودؑ اور خلافت کا نظام ہمیں عطاہوا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بچوں کی تربیت کو بہت اہمیت دیتے تھے اور اس معاملہ میں سب سے پہلے خدا سے مدد مانگنے کی ہمیشہ تلقین فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ آپؑفرماتے ہیں :
’’ہدایت اور تربیت حقیقی خدا کا فعل ہے… ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔ بس اس سے زیادہ نہیں۔ اور پھر اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں۔ جیسا کہ کسی میں سعادت کا تخم ہوگا وقت پر سرسبز ہوجائے گا۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 309۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
اسی بات کو تفصیل سے سمجھاتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہم والدین کو اپنا جائزہ لینے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:
’’تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کوحاصل کرنے کے لئے کیا کام کیے ہیں۔ تم نے اپنے مستقبل کی نسل کو سنبھالنے کے لئے کیا کام کیے ہیں۔ ہماری کل صرف ہماری زندگی کی کل اور مرنے کے بعد کی کل نہیں ہے بلکہ ہماری کل ہماری اولاد بھی ہے۔ اس کی نیک تربیت، اس کے اعلیٰ اخلاق ،اس کا دین پر قائم رہنا، اس کا ملک کا وفادار شہری بننا، اسے ہر لحاظ سے ایک اعلیٰ کردار کا مالک ہونا جہاں ہماری اولاد کی زندگی سنوارنے والا اور اس کی عاقبت سنوارنے والا اور اسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا بنائے گا وہاں اس کی نیک تربیت کی وجہ سے ہمیں بھی اللہ تعالیٰ اجر حاصل کرنے والا بنائے گا۔‘‘
(جلسہ سالانہ یوکے 29اگست 2017ء)
پھر آپ نے جلسہ سالانہ یو کے 2024 کے موقع پر عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
’’ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرلیں تو خود بھی بچ سکتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی بچا سکتے ہیں۔ خدا کرے کہ ہر ماں اپنے بچوں کے دل میں یہ بات میخ کی طرح گاڑ دے کہ بغیر خدا کے نہ ہماری دنیا ہے نہ عاقبت …فرمایا : اگر دلوں میں یہ بات بیٹھ جائے تو پھر بہت حد تک اس فکر سے آزاد ہوجائینگی کہ باہر کے ماحول کے زیرِ اثر ہمارے بچے مذہب سے دور نہ ہوجائیں ۔‘‘
دیکھیں ایک بہترین لائحہ عمل ہے جو ہمارے پیارے امام نے ہمیں عطا فرمایا۔
میری پیاری بہنوں جب اولاد کی تربیت کی بات ہوتی ہے تو ہم ڈکٹیٹر بن جاتے ہیں اور اولاد کو نصیحت کرنا شروع کردیتے ہیں کہ بیٹا تم 5 وقت کی نماز پڑھو، روزانہ تلاوت کرو۔ نیکیوں پر چلودین کو دنیا پر مقدم کرو۔ جبکہ والدین کا عمل اسکے بالکل برعکس ہوتا ہے …میں اپنے ذاتی تجربے کی ایک بات آپ کے سامنے رکھتی ہوں ۔ جب میں نے تربیتِ اولاد کیلئے قرآن مجید ،احادیث ، حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء کرام کے ارشادات کی چھان بین کرنے کی کوشش کی تو میری حیرت کی انتہانہ رہی کیونکہ اس میں اولاد کی تربیت پر زیادہ زور دینے کی بجائے والدین کی تربیت پر زیادہ توجہ دلائی گئی۔
اس کا یہ مطلب ہوا کہ نیک اولاد کے لئے پہلے ہم ماؤں کا نیک ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ وہ راز ہے جسے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ اَعِیْنُوْا اَوْلَادَکُمْ عَلَی الْبِرِّ یعنی نیکی کے کاموں میں اپنی اولاد کی مدد کیا کرو۔(ابن ماجہ)
کس رنگ میں اولادکی مدد کی جاسکتی ہے ؟ حضرت مسیح موعود ؑ کے اس پیارے انداز کو تو دیکھیں۔
آپؑفرماتے ہیں: ’’ سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔ یہ ایک قسم کا شرکِ خفی ہے۔ اس سے ہماری جماعت کو پرہیز کرنا چاہئے ۔‘‘
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 309۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
دیکھیں یہ وہ تربیت کے سنہری گُر ہیں جنہیں ہمیں اپنانا چاہئے۔یہی نیک اولاد کی مسقبل کی ضمانت ہیں۔
معزز سامعات : دنیا کی وہ کونسی ماں ہے جو نیک اولاد نہیں چاہتی؟
اولاد کا نیک ہونا اور انکے دل میں دین کے لئے تڑپ ہونا ہر مومن ماں کی اولین خواہش تو ہوتی ہے لیکن اس کیلئے اُس طرح کی کوشش نہیں ہوتی۔اگر کوشش ہوگی تو یقیناً اللہ بھی اپنا فضل فرمائیگا ۔ انشاء اللہ
چنانچہ ہمیں اپنے بچوں کے دلوں میں بچپن سے ہی خدا تعالیٰ کی محبت ڈالنے کی ضرورت ہے، بچپن سے ہی انہیں نماز کا عادی بنانے کی ضرورت ہے اور قرآن کریم کی روزانہ تلاوت کروانے کی ضرورت ہے۔یہ تب ممکن ہوگا جب ہم خلیفۂ وقت کےتمام ارشادات پر عمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرینگے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے جب نماز کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: ’’آپ خود نماز کی طرف زیادہ توجّہ رکھیں بچوں کے سامنے نماز پڑھیں اور جب آپکو دیکھیں گے بچّے نماز پڑھ رہی ہے میری ماں اور بڑے خوف خشیت سے اور سوز سے نماز پڑھ رہی ہے اور دعا بھی کر رہی ہے تو ایک نفسیاتی اثر بچّے پہ بھی ہوگا کہ مجھے بھی اپنی ماں کی طرح کرنا چاہیے۔ آپ مزید فرماتے ہیں:…لیکن سب سے بڑا سمجھانے کا طریقہ یہی ہے کہ خود ماں باپ کا عمل نیک ہو، اگر وہ نمازیں پڑھنے والے ہونگے، توجّہ دینے والے ہونگے ایک درد کے ساتھ دعا کرنے والے ہونگے تو یقیناً بچّوں پہ اسکا اچھا اور نیک اثر ہوگا۔ انشاءاللہ! ‘‘
(ورچول ملاقات جماعتِ احمدیہ کوسووو 29 اکتوبر 2023)
اسی طرح ایک اور مرتبہ قرآن مجید کے متعلق آپ نے بڑے درد کے ساتھ اسے پڑھنے کی طرف توجہ دلائی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کے لئے اور فرشتوں کے حلقے میں آنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک قرآن کریم پڑھے اور اس کو سمجھے، اپنے بچوں کو پڑھائیں، انہیں تلقین کریں کہ وہ روزانہ تلاوت کریں۔ اور یاد رکھیں کہ جب تک ان چیزوں پہ عمل کرنے کے ماں باپ کے اپنے نمونے بچوں کے سامنے قائم نہیںہوں گے اس وقت تک بچوں پہ اثر نہیں ہو گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ مورخہ 16 ستمبر 2005ء)
سامعات! یہ ارشادات ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں کہ کس طرح ہم نے اپنی اولادوں کو ایک زندہ مثال کے طور پر آئندہ کی نسلوں کیلئے چھوڑ جانا ہے۔ ہماری گودوں میں صرف اولادیں نہیں پل رہیں بلکہ ہم مائیں ہیں انکی جنہیں جماعتِ احمدیہ کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرانا ہے تو کیا ایسی اولادوں کی پرورش عام اور لاپرواہی سے کی جا سکتی ہے۔ نہیں بالکل نہیں ۔ ہم احمدی ماؤں پر وہ عظیم ذمہ داری عائد ہے جو کسی دنیادار ماں پر نہیں ۔
معزز سامعات!کوئی اس بات کو ماننے کیلئے تیار ہو نہ ہو مگر یہ حقیقت ہیکہ بعض گھروں میں بچوں کے بگڑنے میں والدین ہی ذمے دار ہوتے ہیں۔ اولاد کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر انکو تنبیہ کرکے انکی اصلاح کرنے کی بجائے انکے ہاں میں ہاں ملا کر انکی عاقبت کو خراب کر رہے ہوتے ہیں۔کاش کہ اگر اس معاملہ میں بر وقت تربیت کی جاتی تو آج کے زمانہ کے درپیش بے شمار مسائل پنپنے کی بجائے یہیں ختم ہو جاتے۔
اس ضمن میں ایک مشہور واقعہ جو حضور انور کے کئی خطبات میں ہم نے سنا ہےآپ کے سامنے پیش کرتی ہوں۔
ایک شرارتی نوجوان لڑکا تھا اسکی ماں اس سے بیجا لاڈ پیار کرتی جس کی آڑ میں وہ شرارت میں مزید آگے بڑھتا، جھوٹ بولنا غلط کاموں میں ملوث ہونا اس کا پیشہ بن گیا۔ جب لوگ اسے شکایتاً اسکی ماں کے پاس لاتے تو وہ تنبیہ کرنے کی بجائے طرفداری کرتی بات اس حد تک بڑھ گئی کہ وہ قاتل ہو گیا اس جرم میں اسے پکڑ کر سزائے موت سنادی گئی ۔ اس سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اپنی ماں کی زبان کو چومنا چاہا ۔ جب ماں نے اپنی زبان باہر نکالا تو اس لڑکے نے اتنی زور سے ماں کی زبان کو کاٹا کہ وہ کٹ کر الگ ہو گئی۔ جب ماں چیخنے چلانے لگی تو لوگوں نے حیرت سے اس حرکت کی وجہ پوچھی تو اس لڑکے نے جواب دیا جب بھی میں نے کوئی غلطی کی تو میری ماں نےروکنے کی بجائے میری برائیوں کو چھپایا جسکی وجہ سے میں سنگ دل مجرم بن گیا۔
معزز سامعات! اولاد کی تربیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ آجکل یہ بھی ہے کہ بچوں کے ساتھ والدین کا رویہ سخت ہوتا ہےجبکہ ماں باپ کو چاہیے کہ بچّے کے ساتھ بیجا لاڈ پیار کرنے کی بجائے یا بے وجہ سختی کرنے کی بجائے ایک دوستانہ ماحول قائم کریں جہاں بچّے آپ سے بات کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کریں، گھر میں ہی ایسے کھیل انکے لئے میسر کریں جہاں انکا آپ سے ایک اٹیچمنٹ قائم ہو۔
جب آپ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزسے سوال ہوا کہ والدین کا بچوں کے ساتھ کمیونیکیشن گیپ کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ کھل کر ایک دوسرے سے بات اور احساسات شیئر کرسکیں؟آپ نے فرمایا ’’…ہر ایک گھر میں، اپنے ماحول میں ہر ایک کو اپنے حساب سے تربیت کرنی پڑیگی بچوں کو قریب لانا پڑےگا، اگر ماں اور باپ دونوں اسی طرح اس اٹیچمنٹ کو جاری رکھیں تو یہ بات ممکن ہے۔ اگر گھر کا ماحول پر امن ہو اور ماں باپ کے ساتھ بچوں کو یہ احساس ہو کہ ہمارا دوستی کا رشتہ ہے علاوہ ماں باپ کے رشتے کے، تو وہ بہت ساری باتیں شیئر بھی کرتے ہیں اور گھر میں بھی وقت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج کل کے ماحول کی خرابی ہے، برائیاں ہیں،اگر بچہ نہیں بھی کہتا تو کہانیوں کی صورت میں بناکر بچوں سے شیئر کریں کہ یہ برائیاں پیدا ہو گئی ہیں…بچوں کو اچھائی برائی کا فرق بتائینگے نہیں تو بچے کو سمجھ کیسے آئے گی اور چھوٹے ہونے سے لیکر بڑے ہونے تک 15-16 سال کی عمر تک بچوں کی آپ نگرانی کریں گے تو پھر آگے ٹھیک نکل آتے ہیں۔‘‘
(9جون 2023، ورچوئل ملاقات، مجلس عاملہ انصاراللہ کینیڈا)
معزز سامعات! ہم دیکھتے ہیں کہ آج جس تیزی سے دنیا جدید سائنسی ترقیات کے منازل طے کرتی جا رہی ہے، اتنی ہی تیزی کے ساتھ ہمارے معاشرے میں بدیاں جڑ پکڑ رہی ہیں اگر ہم مائیں اپنے فرائض کو ابھی بھی نہیں سمجھیں گی تو اپنی اولاد کو اس دلدل میں ڈوبنے سے نہیں بچا پائیں گی جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی قرآن مجید میں تنبیہ کی ہوئی ہے۔یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَ اَھْلِیْکُمْ نَارًا(التحریم:7)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ۔
وہ آگ کیا ہے؟بظاہر ہم سب جانتے ہیں ۔ اسکی کئی شکلیں ہیں ۔اسکی ایک شکل بڑھتی ہوئی نئی ٹکنالوجی ہے فون ہے اور مختلف قسم کے سوشل میڈیا کے ایپس ہیں جنکے غلط استعمال سے بیہودگیاں اور برائیوں کو ہم اپنے گھروں میں جگہ دیئے ہوئے ہیں۔
سامعات ! آج کل کے معاشرے میں بچے سے لیکر بڑے تک سب کو سوشل میڈیا کے بد اثرات اپنے لپیٹ میں لئے ہوئے ہے ۔ اس ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تنبیہ کرتے ہوئےفرمایا:
’’اس زمانے میں تو اس کے مختلف قسم کے ذریعے نکل آئے ہیں۔ اس زمانے میں انٹرنیٹ ہے، اس پر بیہودہ فلمیں آ جاتی ہیں، ویب سائٹس پر، ٹی وی پر بیہودہ فلمیں ہیں، بیہودہ اور لغو قسم کے رسالے ہیں، ان بیہودہ رسالوں کے بارے میںجو
پورنوگرافی pornography وغیرہ کہلاتے ہیں اب یہاں بھی آواز اُٹھنے لگ گئی ہے کہ ایسے رسالوں کو سٹالوں اور دکانوں پر کھلے عام نہ رکھا جائے کیونکہ بچوں کے اخلاق پر بھی بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ ان کو تو آج یہ خیال آیا ہے لیکن قرآنِ کریم نے چودہ سو سال پہلے یہ حکم دیا کہ یہ سب بے حیائیاں ہیں، ان کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ یہ تمہیں بے حیا بنا دیں گی۔ تمہیں خدا سے دُور کر دیں گی، دین سے دُور کر دیں گی بلکہ قانون توڑنے والا بھی بنا دیں گی۔ اسلام صرف ظاہری بے حیائیوں سے نہیں روکتا بلکہ چھپی ہوئی بے حیائیوں سے بھی روکتا ہے۔‘‘
( خطبہ جمعہ 2 اگست 2013)
اس لئے ہم ماؤں کو اپنی اولادوں کی چیٹنگ اور ان کے رابطوں پر نظر رکھنا ہوگا۔کئی بار بچے ہماری نظروں کے سامنے نا زیبا رابطے بنا رہے ہوتے ہیں جن کے اثر بعد میں ظاہر ہوتے ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ ماؤں کو اس کی بالکل خبر نہیں ہوتی اگر ہم مائیں اپنی اولادوں کو بروقت توجہ دیکر کڑی نگرانی کریں گی تو یہ عین ممکن ہے کہ ان بلاؤں سے ہم اپنی اولادوں کو محفوظ رکھ سکیں گے۔
معزز سامعات! اس آگ سے بچنے کا واحد ذریعہ اور دنیا کے تمام مسائل کا حل،ہر بیماری کا علاج،امن و سکون کا راز اللہ کی رسی یعنی خلافت میں مضمر ہے ۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے جب پوچھا گیا کیا آپ کو اپنے بچپن کا کوئی واقعہ یاد ہے؟ تو آپ نے فرمایا :
’’میں کچھ 8-9 برس کا ہوںگا، ایک مرتبہ جب خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی طبیعت ناساز تھی اور آپؓپلنگ پر آرام فرما رہے تھے، میرے دادا شریف احمدمجھے عیادت کے لئے لے گئے، سب سے پہلے تو خلیفہٴ وقت سے اتنا قریبی رشتہ ہونے کے باوجود، ملاقات کی اجازت طلب کی اور کرسی ہونے کے بعد بھی زمین پر بیٹھے، باتیں کی اور رُخ پلٹائے بِنا اُسی طرح کمرے سے باہرتشریف لے گئے۔ اس وقت سے ہی میرے دل میں خلافت کے لئے ایک الگ ہی محبت اور احترام پیدا ہوگیا۔‘‘
(This week with Huzur 26th November 2021)
معزز سامعات !ہمیں اپنا جائزہ لینا ہوگا کہ کیا ہمارا نمونہ بھی ایسا ہے؟خلافت کے ساتھ ہمارا اس طرح کا وفا کا تعلق ہے؟جس کو دیکھ کر ہمارے بچے سیکھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم میں بھی اور ہماری اولادوں کے دل میں بھی اسی طرح خلافت کے لئے احترام اور محبت پیدا کرےاور ہمیں ایسی مائیں بنائے جو اپنی اولاد کی صحیح رنگ میں پرورش کا حق ادا کرنے والی ہوں۔
اسلئےہم تمام ماؤں کو چاہیے کہ ہمارا اور ہماری اولادوں کا بھی خلیفۂ وقت سے ذاتی تعلق پیدا ہوجس کیلئے ضروری ہے کہ گھروں میں حضور انور کے خطبات اور خطابات کو لائیو سننے کا اہتمام کریں ہر ممکن کوشش کریں کہ ان بتائے گئے ارشادات پر خود بھی عمل کریں اور بچوں کو بھی عمل کرنے کی تلقین کریںاور پیارے حضور کے ساتھ خطوط کے ذریعہ ذاتی تعلق پیدا کریں تاکہ براہِ راست آپ کی دعاؤں کا وارث بن سکیں۔
آخر میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ایک ارشاد سے جو آپ نے جلسہ سالانہ یو کے 2024 کے لجنہ سے خطاب کے موقع پر بڑے درد کے ساتھ فرمایا اپنی تقریر کو ختم کرتی ہوں۔ آپ فرماتے ہیں:
’’پس ہمیشہ یاد رکھیں جب ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے تو حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا اگر تم نے حقیقت میں اس عہد کو پورا کیا ہے اللہ تعالیٰ تمہارا نگہبان ہوگا اور تمہیں بچا لیگا دنیا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے دنیا سے متاثر ہونے کی کوشش نہ کرو بلکہ ہر عورت اور ہر بچی یہ کوشش کرے کہ اس نے دنیا کو متاثر کرنا ہے دنیا کو خدا تعالیٰ کے قدموں میں لیکے آنا ہے یہی ایک احمدی کی ذمہ داری ہے اور یہی ایک احمدی کا وہ فرض ہے جس کیلئے اس نے حضرت مسیح موعودؑ کو ماناہے پس اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہےہم نے دنیا میں انقلاب لانا ہے ہم نے دنیا کو سیدھی راہ دکھانی ہے ہم نے دنیا کو خدا کے حضور جھکنے والا بنانا ہے۔ ہم نے دنیا کو آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے لانا ہے اس کیلئے ہمیں اپنی حالتوں کو تبدیل کرناہوگا اپنی نسلوں کی حالتوں کو بھی تبدیل کرنا ہوگا اور جب یہ ہوگا تو پھر ایک انقلاب ہوگا جو ہم دنیا میں پیدا کرسکیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین‘‘
ماں کی ممتا چاند کی ٹھنڈک، شیتل شیتل موہ
اسکی چھایا میں تو جلتی دھوپ بھی ہو کافور
مالک اس چھتناور پیڑ کی صدا رہے ہریالی
اس بگیا کی خیر ہو داتا تو ہی اسکا والی
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین